Skip to content

احکام واستفتائات

آڈیو،ویڈیو

فوٹو گیلری
آڈیو
ویڈیو
صوبہ تہران کے ائمہ جماعت سے خطاب (۱) پرنٹ کریں
21-08-2016
رہبر انقلاب اسلامی نےعوام کے دینی ایمان و عقیدے کی تقویت پر ضرورت دیتے ہوئے اسے اسلامی نظام اور انقلاب کی بنیاد قرار دیا اور فرمایا کہ در پیش مسائل کے بارے میں ذمہ داری کی تشخیص کے لئے ضروری ہے کہ دراز مدتی اور ثقافتی نقطہ نگاہ سے معاشرے کی مجموعی صورت حال کا تجزیہ کیا جائے اور رجحان شناسی کی جائے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے 24 اگست سنہ 2016 کو عالمی یوم مسجد کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات میں یوم مسجد کے تعین کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ بنیادی طور پر انقلابی پہلو رکھنے والے اس دن کا اعلان، مسجد الاقصی کو صیہونیوں کے ہاتھوں آگ لگائے جانے کی وجہ سے اور صیہونی حکومت سے عالم اسلام کی مقابلہ آرائی کے مقصد سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مطالبے اور اصرار پر، اسلامی تعاون تنظیم کے ذریعے عمل میں آیا، چنانچہ اسی زاوئے سے اس دن پر توجہ دینا چاہئے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مسجد کی تعمیر کو ذکر پروردگار، نماز اور اللہ کی جانب توجہ کے محور و مرکز پر عوام کے اجتماعات اور روابط کی تشکیل کے لئے اسلام کی عظیم جدت عملی سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ تاریخ اسلام میں مسجد اہم سیاسی، سماجی اور عسکری مسائل کے بارے میں مشاورت اور فیصلہ سازی کا مرکز رہی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مساجد کو استقامت و مزاحمت بالخصوص ثقافتی مزاحمت کا کلید عنصر قرار دیا اور فرمایا کہ اگر ثقافتی مورچے اور بنکر نہ ہوں تو سب کچھ ہاتھ سے چلا جائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اس وقت ثقافتی دراندازی کے لئے دشمنوں کی کوششیں اوائل انقلاب کے زمانے کی نسبت زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہیں، آپ نے فرمایا کہ اس دائمی اور تہہ در تہہ یلغار کا نشانہ عوام کا دین و ایمان یعنی وہی بنیادی عامل اور عنصر ہے جس کا اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل میں اصلی کردار رہا۔
رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛
بسم‌ الله ‌الرّحمن‌ الرّحیم‌
الحمد لله ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا محمّد و آله الطّاهرین سیّما بقیّة الله فی الارضین.
آپ تمام برادران عزیز اور محترم رفقائے کار کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ ایک کام جس پر انسان فخر کر سکتا ہے اور یہ حقیر بھی اس کام سے وابستہ ہے، وہ مسجد کے پیش نماز کا کام ہے۔ اس اعتبار سے ہم آپس میں ایک دوسرے کے رفقائے کار ہیں۔ آپ کا سب کا خیر مقدم ہے۔ یہ نشست جیسا کہ جناب الحاج علی اکبری نے بھی کہا، بڑی اہم اور مختلف انداز کی نشست ہے۔ دیگر اجلاسوں اور اس اجلاس میں بنیادی فرق ہے۔ الحاج علی اکبری صاحب کا شکر گزار ہوں ان کی جامع اور مفید تقریر کے لئے، یہ بڑی مسجع اور پرکشش تقریر تھی۔ ہمیں یہ دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے کہ علمائے کرام کی تقاریر فکری اور فصاحت و بلاغت کے زیور سے آراستہ ہیں۔ جناب نے بڑے اہم نکات بیان کئے اور بڑی اچھی خبریں بھی سنائیں، میں اتنی تفصیل سے ان کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ میں بھی انھیں مسائل کے تعلق سے چند نکات عرض کروں گا۔
سب سے پہلے مسجد کی اہمیت اور اس جدت عملی کے بارے میں کچھ باتیں جو اس کی شروعات اسلام نے ابتدائی دور میں کی اور ذکر پروردگار، دعا و مناجات اور اللہ کی جانب توجہ کے محور پر لوگوں کو جمع کرنے کی جگہ کے طور پر مسجد کو چنا۔ اگر لوگ جمع ہوتے ہیں تو تو اس کے کچھ فطری اثرات ہوتے ہیں۔ جب کچھ لوگ ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو گفت و شنید کا سلسلہ رہتا ہے، رائے بنتی ہے، فیصلہ ہوتا ہے، فکری روابط قائم ہوتے ہیں، مشاورت اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ رہتا ہے، یہ سب کچھ کہاں ہوتا ہے؟ کسی ایسی جگہ جہاں اشرافیہ طبقہ اور رؤسا اپنے گوناگوں کاموں کے لئے جمع ہوتے ہیں جیسا کہ مغرب میں رائج ہے، یا قہوہ خانوں میں، یا قدیمی روم کی طرح عمومی حمام میں، اس زمانے میں یہ چلن تھا کہ لوگ حمام جاتے تھے تو ایک ساتھ جمع ہونے کا ایک اچھا موقع ہاتھ آ جاتا تھا، وہاں گپ شپ ہوتی تھی، اجتماع ہوتا تھا، یا پھر اس اجتماع کا محور نماز ہے۔ دونوں صورتوں میں بڑا فرق ہے۔ اگر اجتماع نماز اور ذکر خدا کو محور بنا کر ہوا ہے تو پھر اس کا معنی و مفہوم بالکل الگ ہوگا، اس کا رخ الگ ہوگا، اس اجتماع میں موجود لوگوں کے دل ایک خاص سمت میں مائل ہوں گے، یہ اسلام کی جدت عملی ہے۔
بے شک عبادت خانے تو تمام ادیان میں ہوتے ہیں، جہاں لوگ جاکر عبادت کرتے ہیں، لیکن عیسائی، یہودی اور بودھسٹ عبادت خانوں اور دیگر جگہوں سے جنھیں ہم نے دیکھا ہے یا جن کے بارے میں سنا ہے، مسجد بالکل الگ ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسجد میں صرف نماز پڑھنے نہیں جاتے تھے۔ جب بھی کوئی اہم مسئلہ پیش آ جاتا اور سب کو ایک جگہ جمع کرنے کی ضرورت ہوتی تو اعلان کر دیا جاتا تھا؛ اَلصلوٰةُ جامِعَة (۲) سب لوگ نماز کی جگہ پر جمع ہوں! کس لئے؟ مثال کے طور پر جنگ کے مسئلے کے بارے میں غور و فکر کے لئے۔ کسی خبر کے اعلان کے لئے، تعاون کا طریقہ اور وسائل کو منظم کرنے کی روش طے کرنے کے لئے۔ آپ تاریخ اسلام میں دیکھئے کہ مساجد نے تعلیم کے مرکز کا کردار ادا کیا ہے۔ ہم تاریخ میں اور روایات میں پڑھتے ہیں کہ مسجد النبی میں یا مسجد الحرام میں مختلف فکری رجحان اور مسلکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا درس ہوا کرتا تھا۔ اس طرح چرچ سے اور یہودی عبادت خانوں سے مسجد کافی الگ ہے۔ یہودی اور عیسائی عبادت خانوں میں لوگ جاتے ہیں اور عبادت کرکے لوٹ آتے ہیں۔ لیکن مسجد ایک ٹھکانہ ہے اور اس کا محور ذکر خدا اور نماز ہے۔
یہیں سے نماز کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ خود ہمارے لئے بھی ضرورت ہے کہ نماز کو ایک الگ زاوئے سے بھی دیکھیں۔ بحمد اللہ آپ سب فکری توانائیوں کے مالکے ہیں، منطقی استدلال سے واقف ہیں، دینی و الوہی معارف سے آگاہ ہیں، لہذا میں یہ بات اپنےآپ کو متنبہ کرنے کے لئے کہہ رہا ہوں کہ ہم لوگ، عوام الناس جس طرح نماز کی قدر و منزلت کو سمجھنا چاہئے نہیں سمجھتے۔ نماز حقیقت میں دین کا ستون ہے۔ ستون کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو جھت نیچے گر جائے گی، عمارت اپنا وجود کھو دیگی۔ یہ ہے نماز کا مقام۔ اس طرح دین کا یہ عظیم پیکر نماز پر ٹکا ہوا ہے۔ اس عظیم پیکر کو کون سی نماز محفوظ رکھ سکتی ہے؟ وہی نماز جس میں مطلوبہ خصوصیات موجود ہوں۔ قُربانُ کُلِّ تَقیّ،(3) فحشا و منکر سے روکنے والی ہو، وہ نماز جو ذکر سے معمور ہو، وَ لَذِکرُاللهِ اَکبَر (4)، نماز میں جو ذکر ہے اس پر ہمیں عمل بھی کرنا چاہئے اور اس کی ترویج بھی ضروری ہے۔
میری نظر میں مساجد میں ائمہ جماعت کی طرف سے ایک بہت اہم کام عوام الناس کے لئے نماز کے مختلف پہلوؤں کی تشریح ہے۔ تاکہ ہم سب نماز کی قدر و منزلت کو سمجھیں۔ اگر یہ ہو جائے تو نماز کا انداز بدل جائے گا۔ امر واقعہ یہی ہے کہ بسا اوقات ہم نماز بڑی بے توجہی سے پڑھتے ہیں یا کم سے کم یہ کہ اس میں وہ ضروری روحانی کیفیت پیدا نہیں ہو پاتی۔ نماز کے 'اذکار' کے عمق تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ ہماری نماز بے توجہی اور بے اعتنائی جیسی آفتوں محفوظ رہنی چاہئے۔ یعنی نماز کے دوران غفلت کی حالت، نماز کے مفاہیم سے بے توجہی، اس بات سے بے اعتنائی کہ نماز کے دوران انسان اللہ تعالی سے ہمکلام ہوتا ہے، یہ ایک مصیبت ہے۔ جناب مشکینی مرحوم کے بقول، انھوں نے یہیں اسی حسینیہ میں یہ بات کہی تھی کہ اگر کوئی ایسی مشین ایجاد ہو جائے کہ جس سے انسان اپنے ذہن کو متصل کر سکے اور نماز کے دوران ذہن میں آنے والے خیالات شروع سے آخر تک اس میں محفوظ ہو جائیں تو بڑی حیرت انگیز چیز سامنے آئے گی۔ نماز شروع ہونے کے وقت سے لیکر آخر تک ذہن کہاں کہاں بھٹکتا ہے، کہاں کہاں جاتا ہے، کون کون سے مسائل حل کرتا ہے، کن چیزوں اور امور کے تعلق سے اپنی دلچسپی اور وابستگی ظاہر کرتا ہے؟ یہ میرے خیال میں بے اعتنائی اور عدم توجہی کی بڑی آفت ہے۔ اگر ہم خود کو اس آفت سے محفوظ کر لے جائیں، اسی طرح ریا کاری کی صورت میں جو دوسری بڑی آفت ہے«وَ ابرَأ قَلبی مِن الرِّیاءِ وَ السُّمعَةِ وَ الشَّکِّ فی دینِک»(5) یہ دعا میں کہا گيا ہے، اگر ہم اس سے خود کو نجات دینے میں کامیاب ہو جائیں تو اس وقت ہماری نماز ایک معمول کی نماز بن پائے گی، نماز کی گہرائی اور عمق تک پہنچنا تو ہنوز باقی ہی رہے گا۔
جب ہم کہتے ہیں؛ «سُبحانَ رَبِّیَ العَظیمِ وَ بِحَمدِه»، تو اس عظمت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ اس عظمت کے بارے میں ہمارے ذہن میں کیا تصور ہوتا ہے؟ یہ عظمت جس کے مد مقابل ہم سر تعظیم خم کرتے ہیں، جس کی تسبیح کرتے ہیں، تقدیس کرتے ہیں، حقیقت میں کیا ہے؟ عظمتوں کا وہ بحر بے کراں جس پر اس دعا میں توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ؛ «هَب لی کَمالَ الاِنقِطاع اِلَیک» تکہ «اِلی مَعدِنِ العَظَمَة»،(6) تک رسائی ممکن ہو سکے، وہ کہاں ہے؟ سُبحانَ رَبِّیَ العَظیم، سُبحانَ رَبِّیَ الاَعلی‌، اِیّاکَ نَعبُدُ وَ اِیّاکَ نَستَعین؛(7) ہم ان معانی اور عمیق مفاہیم پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ بندگی اور عبادت تو صرف اللہ کے لئے ہے۔ طلب نصرت صرف اللہ سے کرنا ہے۔ کیا ہم ان مفاہیم سے اپنے دل کو آشنا کرنے اور نماز کو اس کیفیت کے ساتھ ادا کرنے پر توجہ دیتے ہیں؟ ہمیں اس منزل تک پہنچنے کے لئے قدرے مشق کی ضرورت ہے۔
البتہ حاضرین میں اکثریت بحمد اللہ نوجوانوں کی ہے اور نوجوانی کے ایام میں یہ کام بہت آسانی سے انجام پا جاتے ہیں۔ ہم جیسے افراد کی عمر میں پہنچنے کے بعد یہی کام بہت مشکل ہو جاتے ہین۔ اگر ہمارے سن تک پہنچنے کے بعد آپ یہ کام شروع کرنا چاہیں گے تو بہت دشوار ہوگا۔ نوجوانی میں یہ کام بہت آسان ہوتے ہیں۔ نماز میں آپ یہ کیفیت پیدا کیجئے، اس میں یہ رنگ اور یہ خوشبو پیدا کیجئے، تب یہ نماز انسان کے باطن کو بارونق بنا دے گی۔ بلکہ یہ ساغر چھلکے گا اور ان تمام لوگوں کو سیراب کرے گا حو ہماری اس نماز پر توجہ دے رہے ہیں اور ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔ امام جماعت کے بارے میں بعض احادیث ہیں جن کے مطابق اقتدا کرنے والے مومنین کی حسنات اور برائیاں دونوں امام جماعت کے دوش پر آ جاتی ہیں۔ اس سے مراد وہ چیزیں نہیں ہیں جو نماز کو باطل کرنے والی ہیں۔ اس سے مراد یہی ملکوتی مفاہیم ہیں۔ اگر یہ کیفیات ہوئیں تو اقتدا کرنے والے مومنین بھی سیراب ہوں گے۔ بہرحال نماز تو یہی ہے۔ اگر ہمارے معاشرے کے اندر، اسلامی معاشرے کے اندر ایسے افراد ہیں جو نماز سے بیگانہ ہیں تو یہ بہت بڑی اور غیر معمولی بات ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسا ہونا چاہئے کہ نہایت مرغوب اور پسندیدہ چیز کی طرح نماز کے لئے اٹھے۔ سر سے ایک فریضے کا بوجھ اتارنے کے انداز سے نہیں، کسی شوق انگیز اور پرکشش چیز کی مانند ہونا چاہئے۔
ایسے گوہر کو محور قرار دیکر مسجد وجود میں آتی ہے۔ اجتماع اگر ہوتا ہے تو اس درخشاں حقیقت کے محور پر ہوتا ہے۔ اس طرح مسجد کی اہمیت ہے، مسجد ایک مرکز ہے، اسے اسی نام سے شہرت ملی ہے جو بالکل بجا ہے۔ کسی خاص سماجی مسئلے کا مرکز نہیں بلکہ مسجد تمام نیک اعمال کا مرکز بن سکتی ہے۔ خود سازی کا مرکز بن سکتی ہے، دل کی تعمیر کا مرکز بن سکتی ہے، دنیا کو سنوارنے کا مرکز قرار پا سکتی ہے، دشمن سے مقابلے کا مرکز بن سکتی ہے، اسلامی تمدن کی تشکیل اور لوگوں کی بصیرت افروزی کا مرکز بن سکتی ہے۔ اسی طرح آپ اس فہرست کو آگے بڑھاتے جائیے۔ مسجد اس قسم کا مرکز ہے۔
بنابریں مسجد کے پیش نماز کا فریضہ صرف نماز پڑھا دینا نہیں ہے۔ پیش نمازی ان گوناگوں فرائض میں سے ایک ہے۔ نماز قائم کرنا، حق و انصاف قائم کرنا، دین کی ترویج کرنا، دینی احکام کی تبلیغ کرنا، یہ سب پیش نماز اور امام جماعت ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داریاں ہیں۔ یعنی مسجد کا محور امام جماعت ہے، مسجد امام جماعت کے محور پر کام کرے۔ اگر یہ ہدف حاصل ہو گیا تو پھر انسان کے اندر ذمہ داری کا احساس بڑھے گا۔
میری رائے یہ ہے کہ کسی مسجد کا امام جماعت ہونا باقاعدہ ایک بنیادی کام ہے۔ یہ بڑا اہم کام ہے۔ اسے ذیلی اور پارٹ ٹائم کام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ اگر یہ صورت حال ہے کہ ہم اپنے روز مرہ کے کام انجام دے رہے ہیں، گوناگوں مصروفیتیں ہیں، جب ظہر یا مغرب کا وقت ہوتا ہے تو بھاگتے دوڑتے، ٹریفک میں، کسی صورت سے خود کو مسجد تک پہنچاتے ہیں، ممکن ہے کہ آدھا گھنٹا یا پینتالیس منٹ کی تاخیر بھی ہو چکی ہو، جاکر جلدی سے نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں، تو یہ مسجد کا حق ادا کرنے میں کوتاہی سے کام لینا ہے۔ اسے بنیادی اور اساسی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اگر کوئی امام جماعت ہو گیا ہے تو دوسرے تمام کاموں سے دست بردار ہو جائے۔ ایسا نہیں ہے، انسان اپنی توانائی بھر دوسرے علمی و غیر علمی کام بھی انجام دے سکتا ہے، لیکن مسجد کا حق ادا ہونا چاہئے۔ نماز کا وقت ہونے سے پہلے انسان مسجد میں پہنچ جائے، سکون و طمانیت کے ساتھ نماز کے لئے آمادہ ہو اور نماز کو بہترین کیفیت میں ادا کرے۔ اب اگر تقریر کا پروگرام ہے تو مامومین کی جانب پلٹے اور لوگوں سے ہمکلام ہو، اپنے معروضات پیش کرے۔ مساجد میں بحمد اللہ آپ مختلف اقسام کے پروگرام رکھتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں، اس زمانے میں جب میں مشہد میں امام جماعت تھا اور مسجد جایا کرتا تھا، تو بہت سے کام ہنوز رائج نہیں ہوئے تھے۔ یا تو لوگ نا آگاہ تھے یا ہم نا بلد تھے۔ اگر ہم کوئی کرنا چاہتے تو اسے بالکل نیا کام تصور کیا جاتا تھا۔ آج بحمد اللہ بہت سے پروگرام رائج ہو چکے ہیں۔ نماز کے بعد یا دو نمازوں کے درمیان امام جماعت منبر پر جائے، حاضرین سے خطاب کرے، یا مسجد میں بلیک بورڈ لایا جائے، اس پر حدیث لکھی جائے۔ عوام الناس کے لئے ان چیزوں کی تشریح کی جائے۔ یا مسجد میں آنے والے نوجوانوں کے ساتھ نشست ہو اور اہم باتیں بیان کی جائیں، ان کے سوالات کے جواب دئے جائیں، اس طرح کی چیزیں جو رپورٹوں اور لوگوں کی زبانی معلوم پڑتی ہیں، ماضی میں رائج نہیں تھیں۔ اس زمانے میں عام طور پر اتنا ہی ہوتا تھا کہ امام جماعت مسجد میں جاتے تھے اور نماز پڑھنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو جاتے تھے۔ ممکن ہے کبھی ایک دو فقہی مسئلہ بیان کردیا جائے یا کسی شرعی سوال کا جواب دے دیا جائے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ مگر آج بحمد اللہ یہ ساری چیزیں رائج ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ان امور میں کیفیت پیدا کی جائے۔
تو ایک اہم مسئلہ اسلام کی نظر میں نماز کے محور پر ہونے والا عوامی اجتماع اور ذکر پروردگار کے محور پر لوگوں کا اکٹھا ہونا ہے۔ یہ بہت اہم ہے۔ بنابریں اگر یہاں کوئی سماجی کام بھی انجام دیا جا رہا ہے، مثلا کوئی کوآپریٹیو سوسائٹی بنانا چاہتے ہیں محتاج افراد کے لئے، یا کسی کار خیر میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو یہ کام نماز کے سائے میں، ذکر پروردگار کے سائے میں اور اللہ کے لئے انجام دیا جائے گا۔ نماز کے محور پر انجام پائے گا۔ اگر دشمن کے مقابلے پر روانہ ہونے کے لئے رضاکار مسجد میں جمع ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب جہاد فی سبیل اللہ کے لئے روانہ ہونا ہے، یہ اللہ کی بنیاد پر اور ذکر پروردگار کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے۔ اگر انھیں شہری امور اور محلے کے امور سونپے جاتے ہیں، حفاظتی ذمہ داری اور دیگر ضروری فرائض سونپے جاتے ہیں یہ تو سب ذکر خدا کے محور پر انجام پا رہا ہے۔
ہمارے عظیم قائد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی نہایت اہم جدت عملی اور آپ کا ایک اہم کارنامہ یہ تھا کہ انقلاب کے آغاز میں مسجد کو محور قرار دیا۔ انقلاب کامیاب ہون کے بعد شروع کے دنوں میں، جنھیں وہ زمانہ یاد ہے وہ جانتے ہیں کہ حالات درہم برہم تھے۔ ہتھیار لائے جا رہے ہیں، واپس لئے جا رہے ہیں، ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ پہنچایا جا رہا ہے کہ کہیں کسی غلط ہاتھ میں نہ پڑ جائیں۔ ایسے میں ایک مرکز کی ضرورت تھی، مرکزی مقام کی ضرورت تھی۔ امام خمینی نے فورا اس مرکز کا تعین کر دیا، یہاں تک کہ انقلاب کی کامیابی کا اعلان ہونے سے پہلے ہی امام خمینی نے اس کا تعین کر دیا تھا۔ مساجد کا تعین کر دیا تھا۔ اگر کسی کو کہیں کوئی ہتھیار مل جائے تو اسے فورا مسجد میں پہنچائے۔ اس کے بعد مساجدکے لئے ایک منظم نیٹ ورک بنایا گيا جو انقلاب کی کمیٹیوں پر مشتمل تھا۔ انقلاب کی کمیٹیوں نے ایک مدت تک انقلاب کے سارے کام انجام دئے۔ بلکہ ان کمیٹیوں نے پورے ملک کے کام انجام دئے۔ تو مسجد کی یہ خصوصیت ہے۔ ذکر پروردگار اور اللہ کی جانب توجہ کے محور پر یہاں کام انجام دئے جاتے ہیں۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ عوام کے اجتماع کا محور ذکر خدا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مسجد گوناگوں سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ یعنی جب ہم نے عوام کو اس محور پر جمع کر لیا ہے تو اب ہمیں ان سے کیا چاہئے۔ ہم یہ چاہیں گے کہ وہ سماجی سرگرمیاں انجام دیں۔ اسلامی معاشرے میں تمام افراد کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ سب کو اپنا کام انجام دینا چاہئے، سماج کی پیشرفت کے لئے کام کریں، قوم کی سربلندی کے لئے کام کریں۔ یعنی یہ فکر کا سرچشمہ، فرائض کی تقسیم کا مرکز اور گوناگوں کاموں کے لئے عوام کو میدان میں اتارنے کی جگہ ہے۔ مسجد کو سماجی سرگرمیوں کی انجام دہی کے لئے اور سماجی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر رکھا گيا ہے۔
مسجد کے سلسلے میں ایک اور اہم پہلو اس کا استقامت و مزاحمت کا سرچشمہ ہونا ہے۔ جیسے ہی مزاحمت کا لفظ آتا ہے ذہن عسکری اور سیکورٹی مزاحمت کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے۔ بے شک یہ مزاحمت کا ایک طریقہ ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر ثقافتی مزاحمت ہے۔ ملک کا ثقافتی حصار اور ثقافتی محاذ اگر کمزور پڑ گیا تو سب کچھ ہاتھ سے چلا جائے گا۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا کہ آج 37 سال 38 سال انقلاب کی کامیابی کو ہو رہے ہیں، ثقافتی حصار توڑنے کی دشمنوں کی کوششیں اس وقت ماضی سے زیادہ تیز ہو گئی ہیں۔ ان میں کمی آنا تو در کنار، زیادہ شدت پیدا ہو گئی ہے۔ روشیں تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔ سائیبر اسپیس، سیٹیلائٹ چینل اور دیگر تشہیراتی ذرائع ظاہر کرتے ہیں کہ ان عزائم میں اور شدت پیدا ہوئی ہے۔ ان سرگرمیوں کا نشانہ وہی بنیادی عنصر ہے جو اسلامی نظام کی تشکیل کا مرکزی عنصر ہے، یعنی ایمان، حملوں کی آماجگاہ یہی ہے۔ وہ اسلامی حکومت، اسلامی جمہوریت اور اسلامی جمہوریہ کی پالیسیوں کے دشمن اس لئے ہیں کہ وہ دین و ایمان کے دشمن ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ اگر یہ دینی عقیدہ نہ ہوتا تو یہ انقلاب کامیاب نہ ہو پاتا، یہ نظام حکومت تشکیل نہ پاتا، تسلط پسندانہ نظام کو زلزلے کے جھٹکے نہ لگتے۔ اسلامی تحریک اور اسلامی انقلاب نے دنیا کے سامراجی نظام میں زلزلہ لا دیا۔ دنیا دو بلاکوں میں تقسیم تھی۔ دونوں بلاک ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ آج بھی وہی صورت حال ہے۔ بڑی طاقتیں خونخوار بھیڑیوں کی مانند ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتی ہیں کہ اپنے حریفوں کو پھاڑ کھائيں، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ لیکن ایک چیز پر ان کا اتفاق ہے، یہ اتفاق آج بھی ہے کہ کمزور قوموں، عوام، حکومتوں اور سماجوں پر دھونس جمانا ہے، ان کے مالیاتی و اقتصادی وسائل کو لوٹنا ہے اور اپنی قوت و توانائی میں روز افزوں اضافہ کرنا ہے۔ یہ ہدف ہے۔ یہ ہدف جو تسلط پسندانہ نظام کا نصب العین تھا اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مخدوش ہو گیا۔
آج آپ مغربی ایشیا کے علاقے پر نظر ڈالئے، جس کا نام مشرق وسطی رکھ دیا گيا ہے، اس علاقے میں دنیا کی بڑی طادی طاقتیں ڈھیر ہو چکی ہیں۔ آج مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکا زمیں بوس دکھائی دیتا ہے۔ اس علاقے میں ان طاقتوں کے کچھ اہداف و مقاصد ہیں، وہ کچھ کام انجام دینا چاہتی ہیں، ان کے اہداف میں علاقے میں استکبار کی چھاونی یعنی صیہونی حکومت کو تقویت پہنچانا شامل ہے، ان اہداف میں یہ بھی شامل ہے کہ علاقے میں طاقت و نفوذ کے جو وسائل ہیں ان پر اس طرح غلبہ حاصل کر لیا جائے کہ ساری حکومتیں اسی کے سائے میں آکر پناہ لیں اور پھر یہ بڑی طاقتیں تمام دستیاب وسائل سے استفادہ کریں، علاقے پر فرمانروائی کریں۔ مگر اس وقت وہ اپنے اس مشن میں ناکام ہو گئی ہیں۔ ان کے اہداف کی تکمیل میں کیا چیز رکاوٹ بنی؟ انقلابی اسلام یا اسلامی انقالب، دونوں ہی اصطلاحیں صحیح ہیں۔ انقلابی اسلام کہنا بھی بھی درست ہے اور اسلامی انقلاب کہنا بھی صحیح ہے اور یہ آج اسلامی جمہوری نظام کی صورت میں جلوہ فگن ہے۔ اسی نے راستہ روکا ہے۔ اگر اسلام نہ ہوتا، اگر اللہ کی ذات پر ایمان نہ ہوتا، اگر اسلامی تعلیمات پر عقیدہ نہ ہوتا، اگر دینی فرائض کے تئیں التزام کا جذبہ نہ ہوتا تو اسلامی جمہوری نظام بھی دوسروں کی طرح اسی تسلط پسندانہ نظام اور امریکا اور دیگر حکومتوں کی استکباری قوت کے سائے میں جاکر پناہ لے لیتا، جس طرح دیگر ممالک نے پناہ لے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حملوں کی آماجگاہ بھی وہی قوت ہے جس نے یہ اسلامی عمارت تعمیر کی ہے، وہ قوت ایمان کی قوت ہے۔ اگر اسلامی ایمان نہ ہوتا تو جو ملک ہم نے دیکھا تھا اور جس نظام کا اپنے پورے وجود سے تجربہ کیا تھا، وہ ہرگز بدلنے والا نہیں تھا۔ اسے اسلامی ایمان کو عقیدے کی قوت نے بدلا۔ ایک مرجع تقلید، تائید خداوندی سے، ہدایت الہیہ کی روشنی میں، جدوجہد اور پیکار کی روشوں سے اپنی آگاہی کی بنیاد پر میدان عمل میں قدم رکھتا ہے اور ایمان کا جذبہ عوام کو اس بلند ہدف کی جانب کھینچ لاتا ہے، نتیجتا عوام بھی میدان میں اتر پڑتے ہیں۔ جب عوام میدان میں اتر پڑتے ہیں تو پھر ہر مادی قوت بے دست و پا ہو جاتی ہے۔ یہ عوام کی موجودگی و شراکت ہی کا نتیجہ تھا کہ ہمارے عظیم قائد (امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ) نے عوام کے ایمان کی برکت سے اور عوام کی قوت ایمانی پر تکیہ کرکے، یہ عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ایمان کو اور نوجوانوں کے جذبہ ایمانی کو اس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ جو میں بار بار کہتا ہوں کہ آج کا نوجوان اوائل انقلاب کے نوجوانوں سے، (آٹھ سالہ) جنگ کے زمانے کے نوجوانوں سے اگر آگے اور بہتر نہیں تو پیچھے اور کمتر بھی نہیں ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج کا نوجوان زیادہ آگے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج لا تعداد تشہیراتی ذرائع کام کر رہے ہیں اور ایمان کے ستونوں کو منہدم کر دینے والے گوناگوں حربے استعمال کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انقلابی نوجوان ثابت قدمی سے ڈٹا ہوا ہے۔ ہم ثقافت کے میدان میں، سیاست کے میدان میں، سماجی میدانوں میں، فن و ہنر کے میدانوں میں کثیر تعداد میں مومن نوجوانوں کو سرگرم دیکھ رہے ہیں۔ بے شک ایک تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو دیندار نہیں ہیں، دینی احکام کے پابندی نہیں ہیں۔ ہمیں اس کی بھی خبر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم ان سے غافل ہیں۔ مگر مومن نوجوانوں کا یہ سیلاب انقلاب کی کرشماتی تاثیر کا ایک نمونہ ہے۔ یہ آج کا نوجوان ہے جو مجھے خط لکھتا ہے، ان خطوط کی تعداد دو چار دس نہیں بہت زیادہ ہے، اس خط میں التجا کرتا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ مجھے حرم اہل بیت کے دفاع کے لئے جانے کی اجازت دے دیجئے۔ آرام دہ زندگی اور گھربار چھوڑ کر جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ نوجوان خطوط لکھتے ہیں۔ واقعی یہ خطوط اشکبار آنکھوں کے ساتھ لکھے گئے ہیں کہ ہم نے اپنے والدین کو رضامند کر لیا ہے، اب آپ بھی اجازت دے دیجئے تو ہم جنگ کے لئے روانہ ہو جائیں۔ یہ حالت ہے ہمارے آج کے نوجوان کی۔ دشمن ان نوجوانوں کے ایمان کو ختم کر دینا چاہتے ہیں اور اسی ایمان کی حفاظت کے لئے ثقافتی حصار کی ضروری ہے۔
مسجد مسجد ثقافتی رضاکاری اور ثقافتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے۔ طریقہ کار مسجد میں سیکھایا جانا چاہئے۔ پہلے تو میں آپ سے یہ عرض کروں گا کہ آپ جو کچھ مسجد میں مومنین کے سامنے حاضرین کے سامنے بیان کرتے ہیں وہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطابات سے کئی گںا زیادہ موثر ہے۔ میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کی جانے والی گفتگو، کسی بھی سخنور کا سامعین کے قریب بیٹھ کر اپنے معروضات پیش کرنا بالکل الگ چیز ہے۔ یہ چیز ہمارے اجتماعات میں بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ البتہ اسلام میں، نماز جمعہ وغیرہ کے اجتماعات میں یہ سلسلہ ہے لیکن شیعہ فرقے کے اندر یہ چیز زیادہ نمایاں رہی ہے۔ یہ مجالس، وعظ و نصیحت کی نشستیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ سائیبر اسپیس سے بھی زیادہ موثر ہے اور نشریاتی ادارے سے بھی زیادہ اثر انگیز ہے، تاہم اس کا دائرہ محدود ہے۔ اگر اس سلسلے کو بڑے پیمانے پر اختیار کیا جائے اور اس سے بخوبی استفادہ کیا جائے، ہر جگہ اسے بروئے کار لایا جائے تو اس کی تاثیر دوسرے تمام ذرائع پر غالب آ جائے گی اور آپ ان نوجوانوں کو، اپنے مخاطب افراد کو حقیقت میں میکروب اور وائس کے اس سیلاب سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو تواتر کے ساتھ اس ملک اور اس نظام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تو مسجد مزاحمت کا مرکز ہے، گوناگوں مزاحتموں کا مرکز ہے۔ ثقافتی مزاحمت، سیاسی مزاحمت اور موقع و محل ہو تو سیکورٹی اور عسکری مزاحمت۔ مسجد کا یہی رول رہا ہے۔
جو اعداد و شمار جناب الحاج علی اکبری صاحب نے بیان کئے، یہ بہت اہم اعداد و شمار ہیں۔ آپ نے بیان کیا کہ ہمارے شہیدوں میں 97 فیصدی افراد مساجد میں پابندی سے جانے والے نمازی تھے۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے، اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔ ہر صنف کے لوگ ہوتے ہیں۔ طالب علم ہے لیکن مسجد جانے کا پابند ہے، تاجر ہے لیکن مسجد جانے کا پابند ہے۔ ہائی اسکول کا طالب علم ہے مگر مسجد میں پابندی سے جاتا ہے۔ مسجد سے چل پڑنا، روانہ ہو جانا میدان جنگ کی طرف اور جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھنا، یہ کہنے میں تو آسان ہے، جان ہتھیلی پر رکھنا اور جان قربان کر دینا، کہنے میں آسان لگتا ہے؛ وَ لَقَد کُنتُم تَمَنَّونَ المَوتَ مِن قَبلِ اَن تَلقَوهُ فَقَد رَاَیتُموهُ وَ اَنتُم تَنظُرون،(8) انسان زبان سے کہتا ہے کہ ہاں میں اپنی جان دے دوں گا، لیکن جب عملی میدان میں موت کا سامنا ہوتا ہے تو صورت حال بالکل الگ ہوتی ہے۔ یہ بہت دشوار ہے۔ یہ نوجوان مسجد سے روانہ ہوئے اور راہ خدا میں انھوں نے اپنی جان نثار کر دی۔ روانگی کی جگہ مسجد ہے، یہ بہت بڑی بات ہے، اس کی خاص اہمیت ہے۔
بنابریں مسجد اسقتامت کا مرکز ہے۔ ثقافتی سرگرمیوں، ثقافتی بصیرت اور ثقافتی ہدایت کا مرکز ہے۔ ثقافت کے اندر سیاست بھی جاگزین ہوتی ہے۔ میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ سیاست کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ انسان کسی رہنما کا حامی ہو یا کسی کا مخالف ہو۔ سیاست کا مطلب ہے اس بات پر نظر رکھنا کہ سماج کی پیش قدمی کس سمت میں ہو رہی ہے۔ کیا ہم مطلوبہ اہداف کی جانب بڑھ رہے ہیں یا ہم منحرف ہو گئے ہیں اور اپنے ہدف سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟ سیاست کا اصلی مطلب یہ ہے۔ جب یہ زاویہ نگاہ اختیار کیا جائے گا تو لوگوں، گروہوں، جماعتوں اور حلقوں کا قضیہ بھی واضح ہو جائے گا کہ ہم سماجی انصاف کی جانب بڑھ رہے ہیں یا نہیں؟ حقیقی دینی خود مختاری کی جانب بڑھ رہے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم اسلامی تمدن کی تشکیل کی سمت بڑھ رہے ہیں یا مغرب کی گود میں بیٹھنے جا رہے ہیں امریکا پر اپنا انحصار بڑھانا اہل مغرب کے احمقانہ تجربات اور طور طریقوں کے اسیر ہونا چاہتے ہیں؟ یہ بہت اہم مسئلہ ہے کہ ہمارا طرز زندگی ہمیں کس سمت میں لے جا رہا ہے۔ یہ نظر سیاسی نظر ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا سرچشمہ ثقافت ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ثقافت کے اندر سیاست بھی ضرور ہوتی ہے۔ سماج کی سطح پر رونما ہونے والے تغیرات و واقعات کو اس نظر سے پرکھنا چاہئے۔ بعض لوگ کوتاہ بینی کا ثبوت دیتے ہیں، کوتاہ فکری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ تمام چیزوں کسی شخص سے دوستی یا دشمنی تک محدود مان لیتے ہیں۔ اب وہ ایک شخص ہو یا ایک رجحان، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ بغور جائزہ لینا چاہئے، رجحان شناسی کرنا چاہئے، جن لوگوں کے پاشں لڑکھڑاتے ہیں ان میں اکثریت اسی طرح کے ہوتے ہیں۔
سنہ 2009 میں آشوب کے ایام میں میں نے فتنے کے عمائدین میں سے ایک کو بلایا اور ان سے کہا کہ جناب یہ کام جو آپ نے شروع کیا ہے اور انجام دے رہے ہیں، اغیار کے ہاتھ بھی اس میں شامل ہو جائیں گے اور دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ آپ بظاہر اسلامی نظام کے اندر ہیں، اسلامی نظام کے ساتھ بھی ہیں اور بقول خویش آپ ایک سول اعتراض کر رہے ہیں، مثلا انتخابات کے خلاف آپ کا احتجاج ہے، مگر آپ جو یہ کام کر رہے ہیں اسے اسلامی نظام کے دشمن اپنے مقصد کے لئے استعمال کریں گے۔ مگر انھوں نے سنا نہیں۔ یعنی وہ نہیں سمجھے کہ ہم ان سے کہا کہہ رہے ہیں۔ البتہ میں فراخدلانہ سوچ کے تحت یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ سمجھے نہیں، ورنہ دوسرے لوگ ممکن ہے کہ اس بارے میں کسی اور نہج پر سوچیں۔ یہ لوگ میدان میں اتر گئے اور پھر آپ نے دیکھا کہ اس کے اندر سے کیا چیز نکل کر آئی؟ نعرہ لگایا گيا؛ «انتخابات بهانه است، اصل نظام نشانه است» (انتخابات تو بس بہانہ خود اسلامی نظام ہمارا نشانہ ہے)، اب ہو سکتا ہے کہ اس کا ہم یہ عذر پیش کر دیں کہ صاحب یہ تو مٹھی بھر نوجوان تھے، کسی نے یہ فضول اور بکواس نعرہ لگا دیا ہوگا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ اگر میرے ساتھ کے کسی شخص نے کوئی ایسی بات کہہ دی جس کا میں مخالف ہوں تو مجھے اس شخص کو اپنے سے الگ کر دینا چاہئے۔ مجھے چاہئے کہ فورا اپنی لا تعلقی کا اعلان کر دوں، ورنہ وہ بات میرے حساب میں لکھی جائے گی۔ آپ کی جو بھاری بھرکم شخصیت ہے اسے بھی اس بات کا حامی مانا جائے گا۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ معروضی حالات پر اس طرح نظر رکھنا چاہئے۔ سیاسی بصیرت کا مطلب یہی ہے جس پر ہم اتنی تاکید کرتے ہیں۔ ہمیں اس کا ادراک ہو جانا چاہئے کہ کون ہمیں کس سمت میں لے جا رہا ہے، کہاں بلا رہا ہے، کس طرح کھینچ رہا ہے؟ کیا ہم اسلامی اہداف کی جانب بڑھ رہے ہیں؟ معاشرے کے روز افزوں تدین کی جانب بڑھ رہے ہیں؟ یا دشمنی کی منشا کے مطابق لا ابالی پن کی طرح گامزن ہیں؟ دین مخالف محوروں کے شیدائی ہوئے جا رہے ہیں؟ سیاسی بصیرت یہ سمجھاتی ہے۔ اگر ہم نے یہ سمجھ لیا تو پھر ہم بآسانی یہ فیصلہ بھی کر لیں گے کہ ہمیں کس کا ساتھ دینا ہے اور کس کا ساتھ نہیں دینا ہے، کسی کی حمایت کرنی ہے اور کس کی حمایت نہیں کرنی ہے؟ اس وسیع نگاہ کے تحت ہمیں ان چیزوں کو سمجھنا چاہئے۔ یہ بھی اہم مسئلہ ہے۔
ایک اور نکتہ جو میں اس سے پہلے بھی بارہا بیان کر چکا ہوں، یہ ہے کہ مسجد ہمیشہ آباد رہنا چاہئے۔ ابھی جو اعداد و شمار پیش کئے گئے اس کے مطابق بحمد اللہ کسی حد تک اس پر عمل ہوا ہے، لیکن اس پر مکمل طور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ نماز کے وقت مسجد کھلی رہنا چاہئے۔ تینوں وقت مسجد میں جماعت سے نماز ہونی چاہئے، بنیادی طور پر یہی اصول ہونا چاہئے، البتہ ممکن ہے کہ مثلا میرے لئے تینوں وقت مسجد جانا ممکن نہیں ہے تو مجھے چاہئے کہ اپنی جگہ کسی کو معین کروں تاکہ تینوں وقت مسجد میں جماعت سے نماز ہو۔ مسجد کا دروازہ ظہرین کی نماز سے قبل کھلے تو اسے عشا کی نماز کے بعد رات تک کھلا رہنا چاہئے۔ مسجد کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہئے۔ میں نے کچھ لوگوں سے سنا کہ کہہ رہے تھے ہم عصر کے وقت تہران پہنچے سوچا کہ کسی مسجد میں جاکر نماز ظہرین ادا کر لیں، لیکن جس مسجد میں بھی گئے بند ملی۔ البتہ یہ چند سال پہلے کی بات ہے۔ مسجد کھلی رہنی چاہئے۔
ایک اور نکتہ یہ ہے کہ بعض لوگ مساجد کو ہم نے جو ابھی عرض کیا اس کے برخلاف سیاسی مسائل سے پوری طرح دور کر دینا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ سیاست میں دخل نہ دیجئے، صرف اپنا کام انجام دیجئے۔ اپنے کام سے کیا مراد ہے؟ یعنی آئیے اپنی نماز پڑھئے اور چلے جائیے۔ صرف پیش نمازی کیجئے۔ یہی سیکولرزم ہے۔ سیکولرزم کے معنی بے دینی کے نہیں ہیں۔ سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی امور کے علاوہ دیگر مسائل میں کہیں نظر نہیں آنا چاہئے۔ سماجی نظام کا دین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مغرب و مشرق کے رنگارنگ سماجی نظام میں ہر انسان اپنے طور پر، اپنی قلبی دنیا کی سطح پر، اپنے اعمال کی سطح پر اللہ سے رابطہ رکھے، یہ سیکولرزم ہے۔ دشمن یہی چاہتے ہیں، دشمنوں کی یہی مرضی ہے۔ وہ جس دین کے مخالف ہیں، جس دین کے خلاف وہ بر سر پیکار رہتے ہیں، وہ در حقیقت ایسا دین و ایمان ہے جو اسلامی نظام کی تشکیل پر منتج ہوتا ہے اور اسلام کو تقویت پہنچاتا ہے، وہ ایسے دین کے مخالف ہین۔ وہ اسلام سے ڈرتے ہیں، لیکن کس اسلام سے؟ اس اسلام سے جس کے پاس طاقت ہے، جس کے پاس نظام ہے، جس کے پاس سیاست ہے، جس کے پاس حکومت ہے، جس کے پاس فوج ہے، جس کے پاس مسلح فورسز ہیں، جس کے پاس علمی و سائنسی توانائیاں ہیں، جس کے پاس بین الاقوامی سطح کی قوت ہے۔ وہ اس طرح کے اسلام سے ڈرتے ہیں۔ ورنہ وہ اسلام جس کے طرفداروں کی تعداد دس لاکھ سے بھی زیادہ کیوں نہ ہو، مگر وہ ملک کے کسی گوشے میں یا عالمی سطح پر موجود ہو مگر اس کے پاس کوئی توانائی نہ ہو، ایسے اسلام سے انھیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ایسے دین کے خلاف وہ کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ جس اسلام کی وہ مخالفت ہیں، اس کے خلاف بر سر پیکار رہتے ہیں، جس سے دشمنی برتتے ہیں، جس کے خلاف کینہ توزی کرتے ہیں، مقتدر اسلام ہے۔ اس سب کے بعد ہم آکر اسلام کو اس کے اصلی مراکز یعنی مساجد سے، سماجی مسائل سے، سیاسی مسائل سے، سماج کے اصلی دھارے سے، ملک کے مستقبل کے مسئلے سے بالکل ہٹا دیں، تو یہ مسجد کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہوگی۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ مسجد میں نوجوانوں کا خاص رول ہونا چاہئے۔ یعنی واقعی نوجوانوں کی مسجد کی جانب راغب کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرنا چاہئے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم مسجد میں سن رسیدہ اور میانہ سال افراد کی موجودگی کے مخالف ہیں۔ نہیں، ہر عمر کے مومنین کے مسجد میں آنا اور کسب فیض کرنا چاہئے، لیکن نوجوانوں کو مسجد کی جانب راغب کرنے پر محنت کرنا چاہئے۔ اگر نوجوان مسجد کو اپنا آشیانہ تصور کرنے لگیں، اپنے اہم مقام کو سمجھیں، مسجد سے مانوس ہوں، وہاں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ رہے تو اس کی بڑی برکتیں ہیں۔ سماج میں نوجوانوں کے ہاتھ سے اہم کام انجام پاتے ہیں، سماجی تحریکوں کا ہراول دستہ نوجوانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہی لوگ کام کرتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں۔ نوجوان کو راغب کرنے کا طریقہ جیسا کہ بعض لوگوں کا تصور ہے، پنگ پانگ کی میز لاکر رکھ دینا نہیں ہے۔ بعض افراد نوجوانوں کو مساجد میں لانے کے لئے کھیل کود کا سامان لاکر وہاں رکھ دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکا میں ایک چرچ میں ہوتا تھا، جس کے بارے میں مصری مصنف نے لکھا کہ میں نے جاکر دیکھا کہ چرچ کی دیوار پر پروگراموں کی فہرست آویزاں ہے کہ مثلا آج کی شب چرچ سے متصل فلاں ہال میں، محراب کے اس جانب یہ پروگرام ہوں گے؛ رقص کا دور ہے، پھر گلوکاری ہوگی، پھر موسیقی کا دور چلے گا، ایک بڑی ہلکی پھلکی شام ہوگی، موج مستی ہوگی، اس طرح کے پروگرام ہوں گے۔ مصنف نے لکھا کہ یہ دیکھ کر میں چونک گیا۔ نزدیک سے جاکر دیکھا تو واقعی یہی سارے انتظامات تھے۔ ایک ہال چرچ کا ہے اور اس سے متصل کیبرے کا ہال بھی ہے، جہاں لڑکے لڑکیاں آتے ہیں، الگ الگ عمر کے لوگ آتے ہیں، نظارہ کرتے ہیں اور پروگرام نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ موسیقی ہے، رقص ہے، گانا ہے، آخر میں پادری آتا ہے اور آکر لائٹ کم کر دیتا ہے تاکہ ایک حد تک تاریکی ہو جائے اور خاص ماحول بن جائے (9)۔ مصنف کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ دیکھا تو فورا باہر نکل آيا۔ اگلے دن پھر اسی چرچ میں گیا اور جاکر پادری سے ملا۔ میں نے کہا کہ کل رات کی آپ کی نشست میں، میں بھی تھا۔ یہ جو سب کچھ ہوا اس کا کیا مطلب ہے؟ پادری نے جواب دیا کہ بھائی ہم نوجوانوں کی چرچ کی جانب مائل کرنا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں کی اس طرف لانا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر موسیقی، رقص اور اس طرح کی چیزوں سے نوجوان کو راغب کرنا ہے تو یہاں یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے، سیدے نائٹ کلب میں ہی کیوں نہیں چلے جاتے؟!
نوجوانوں کو راغب کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کا دل جیتا جائے۔ نوجوان کا دل ایک قیامت ہوتا ہے، بالکل الگ قسم کے حالات میں ہوتا ہے۔ روحانیت کی جانب نوجوان کی رغبت اسرار الہیہ میں سے ایک اہم راز ہے۔ اگر مجھ جیسے افراد کے سامنے کوئی روحانی نکتہ بیان کیا جائے تو میں سنوں گا اور زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کا کچھ اثر مجھ پر پڑے گا۔ لیکن اگر یہی بات کسی نوجوان کے سامنے بیان کی جائے تو اس کے اندر انقلاب آ سکتا ہے۔ اس کا کایاپلٹ ہو سکتا ہے۔ نوجوان دل حقیقت کو پوری طرح قبول کر لیتا ہے، نوجوان کا دل فطرت الہیہ سے قریب ہوتا ہے، فِطرَتَ اللهِ الَّتی فَطَرَ النّاسَ عَلَیها (10)، نوجوان کا دل نصیحتیں، روحانی باتیں، سیر و سلوک کی وارداتیں اور عرفانی دنیا کے حقائق کے بارے میں سنتا ہے تو اپنے اندر خاص انسیت محسوس کرتا ہے۔ بہت جلدی وہ شیدائی ہو جاتا ہے، نوجوانوں کو راغب کرنے کے یہی طریقے ہیں۔ آپ اپنی بات، اپنا پیغام اور اپنا اقدام کسی حد تک حقیقی عرفان سے آغشتہ کر لیجئے، مگر توہماتی اور ظاہری عرفان سے نہیں، تو آپ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ نوجوان کس اشتیاق سے مائل ہو رہے ہیں، آ رہے ہیں۔ مسجد میں نوجوانوں کی کشش کی چیزیں یہی ہیں۔ ورنہ اگر مسجد میں آپ نے کھیل کود کا سامان رکھوا دیا تو سوال یہ ہے کہ اگر اسے کھیلنے کے لئے آنا ہے تو پھر مسجد میں کیوں سیدھے میدان میں اور ورزش گاہ میں کیوں نہ جائے؟!
ایک نکتہ اور بھی عرض کرتا چلوں۔ ہماری مساجد یعنی یہی مسجدیں جو آج اسلامی جمہوری نظام کے اندر ہمارے ملک میں ہیں اور جو تیس سال، چالیس سے موجود ہیں، ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی پرکشش داستان بھی وابستہ ہے۔ اکثر مساجد ایسی ہی ہیں۔ ان مساجد میں کچھ علماء آتے رہے ہیں، ائمہ جماعت آتے رہے ہیں، ان کا خاص طرز عمل تھا، خاص برتاؤ اور سلوک تھا، یہاں مومنین آتے رہے ہیں، یہاں نوجوانوں کی تربیت ہوئی ہے۔ یہاں سے رضاکاروں کی صفیں منظم ہوئی ہیں، شہدا کا نذرانہ پیش کیا گيا ہے، شہدا کے پاکیزہ جنازے لوٹ کر انھیں مساجد میں آتے تھے۔ یہ سب تاریخ ہے۔ یہ کسی بھی مسجد کا اہم سرگزشت ہے۔ اس سرگزشت کو محفوظ رکھنا چاہئے۔ ان میں سے کسی بھی ایک مسجد کی سرگزشت ان لوگوں کے لئے سبق آموز داستان ہو سکتی ہے جو آج مسجد میں آتے ہیں یا ان لوگوں کے لئے جو آئندہ ان مساجد میں آئیں گے۔ اس سرگزشت اور ان واقعات کو الگ الگ شکلوں میں، کتاب کی شکل میں، میگزین کے مقالوں کی شکل میں، تصویر یا ویڈیو کلپ کی شکل میں منعکس کیا جا سکتا ہے، انھیں بیان کیا جا سکتا ہے۔ کتنی ایسی مسجد ہیں جہاں نامور شہیدوں نے تربیت پائی اور پھر انھیں مساجد سے وہ باہر نکلے اور راہ خدا میں شہید ہوئے، ہمیں اس تاریخ کو محفوظ رکھنا چاہئے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ 'یوم مسجد' ایک انقلابی دن ہے۔ یعنی اس دن کا تعین جو اسلامی جمہوریہ کی منشا سے اور اس کے مطلبے پر انجام پایا اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے اسی کی بنیاد پر یوم مسجد کو منظوری دی، وہ مسجد الاقصی کو آگ لگائے جانے کی مناسبت تھا۔ صیہونی دشمن کا مقابلہ کرنے کی غرض سے تھا۔ اس دن کی اساس اور بنیاد یہ بنیادی ہدف ہے۔ لہذا یوم مسجد کو اس نظر سے دیکھنے اور اسی سمت میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج وسیع پیمانے پر جو دشمنی برتی جا رہی ہے، ظاہر ہے ہمیں آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں وسیع اطلاعات ہیں، سخت جنگ کی سطح پر بھی اور نرم جنگ کی سطح پر بھی، خفیہ طور پر بھی اور آشکارا طور پر بھی، بہت کچھ ہو رہا اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف الگ الگ شکلوں میں بڑی ریشہ دوانیاں ہو ر ہی ہیں، لیکن اس سب کے باوجود یہ 'کلمہ طیبہ' واقعی یہ «کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصلُها ثابِتٌ وَ فَرعُها فِی السَّمآء»،(11) یعنی اسلامی جمہوری نظام روز بروز زیادہ مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ بحمد اللہ خدائے تعالی نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ نعمت الہیہ کی ہمیں قدر کرنا چاہئے اور جذبہ امید کے ساتھ اس راستے پر چلنا چاہئے۔ یہاں تشریف لانے والے آپ عزیز بھائیوں کو جب میں دیکھتا ہوں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہماری مساجد کا مستقبل ماضی سے بدرجہا بہتر ہوگا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ پر اپنے لطف و کرم اور ہدایت و عنایت کا سایہ کرے۔
و السّلام علیکم و رحمة الله و برکاته

۱) اس ملاقات کے آغاز میں جو عالمی یوم مسجد کی مناسبت سے انجام پائی مساجد کے امور کی دیکھ بھال کرنے والے مرکز کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین محمد جواد حاج علی اکبری نے ایک رپورٹ پیش کی۔
۲) منجملہ وسائل الشّیعه، جلد ۲۳، کتاب الایمان، صفحہ ۲۴۳
3) کافی، جلد ۳، صفحہ ۲۶۵؛ « نماز ہر متقی کو اللہ سے قریب کرنے والی ہے۔
4) سوره‌ عنکبوت، آیت نمبر ۴۵ کا ایک حصہ «...اور یقینا ذکر خدا سب سے بڑا ہے۔..»
5) کافی، جلد ۲، صفحہ ۵۸۶، کتاب الدّعاء
6) اقبال الاعمال، جلد ۲، صفحہ ۶۸۷، باب نهم‌
7) سوره‌ حمد، آیت ۵؛ «ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔ »
8) سوره‌ آل‌عمران، آیت ۱۴۳؛ «موت کا سامنا ہونے سے پہلے تک تم اس کی آرزو کرتے تھے، جب موت کو دیکھا تو بس دیکھتے ہی رہ گئے۔»
9) حاضرین کی ہنسی
10) سوره‌ روم، آیت نمبر ۳۰ کا ایک حصہ؛ «... وہی فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ »
11) سوره‌ ابراهیم، آیت نمبر ۲۴ کا ایک حصہ؛ «... شجریہ طیبہ کی مانند ہے جس کی جڑیں پائیدار اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں۔»

 
< پچھلا   اگلا >

^