Skip to content

احکام واستفتائات

آڈیو،ویڈیو

فوٹو گیلری
آڈیو
ویڈیو
داعش کے سلسلے میں امریکی یا تو بے بس ہو چکے ہیں یا وہ اس قضیئے کو حل ہی نہیں کرنا چاہتے، پرنٹ کریں
22-11-2016
Slovanian president meets with Leaderرہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ہفتہ 22 نومبر کو سلووینیا کے صدر بورٹ پاہور سے ملاقات میں علاقے کے تلخ اور اندوہناک واقعات اور قوموں پر جنگ و بدامنی مسلط کرنے میں بعض طاقتوں کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ خود مختار ملکوں کو قوموں پر ڈالے جانے والے دباؤ کے مقابلے میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ خاموش تماشائی نہ بنے رہیں۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مغربی ایشیا کے ملکوں میں تشدد آمیز جھڑپوں اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو بعض طاقتوں کی دخل اندازی اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ تمام ملکوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس جنگ کی آگ کو بجھانے کے لئے کوشش کریں، چنانچہ اسلامی جمہوریہ ایران بھی زہریلے پروپیگنڈوں کے برخلاف، یہ آگ خاموش کرنے کے مقصد سے موثر کردار ادا کر رہا ہے، ساتھ ہی دیگر ممالک کے امور میں مداخلت سے اجتناب کرتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف تشکیل پانے والا امریکی اتحاد ناکام ہو چکا ہے۔ آپ نے اس ناکامی کی وجہ کی تشریح کرتے ہوئے دو نظریات کا ذکر کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ پہلے نظرئے کے مطابق امریکیوں کے پاس داعش کی بیخ کنی کے لئے کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے، اور جس طرح برطانوی حکام نے نوآبادیاتی دور میں ہندوستان پر اپنے قبضے کے دوران کشمیر کے مسئلے کو لا ینحل بنا کر چھوڑ دیا اور جس کے نتیجے میں ہندوستان و پاکستان آج تک ہمیشہ اختلاف اور تصادم سے دوچار رہے ہیں، اسی طرح امریکی بھی داعش کے سلسلے میں اس انداز سے کام کر رہے ہیں کہ یہ بحران عراق یا شام میں لا ینحل باقی رہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ امریکی چاہتے ہیں کہ داعش کا قضیہ حل ہو جائے لیکن حالات ایسے بن گئے ہیں کہ وہ اس بحران کو ختم نہیں کر پا رہے ہیں، البتہ دونوں ہی نظریات کا نتیجہ تا حال یکساں رہا ہے، چنانچہ آج عراق اور خاص طور پر شام حد درجہ تلخ حالات سے روبرو ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مغربی ایشیا کے ملکوں میں بدامنی پھیلانے کے عواقب منجملہ پناہ گزینوں کے بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یورپی ممالک چند ہزار پناہ گزینوں کو پناہ نہ دے سکے جبکہ ایران برسوں سے تقریب تیس لاکھ افغان عوام کی میزبانی کر رہا ہے، ان کے لئے تعلیم اور زندگی بسر کرنے کے سازگار حالات فراہم کئے ہوئے ہے اور مہاجرین کے سلسلے میں شرح صدر اور انسان دوستی کے جذبے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے یمن کے عوام پر سعودی عرب کی جانب سے بیس مہینے سے جاری بمباری اور اس ملک کی بنیادی تنصیبات کی پوری طرح نابودی کو بھی علاقے کے تلخ تغیرات میں شمار کرتے ہوئے فرمایا کہ خود مختار حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان واقعات کی مخالفت کرے، کیونکہ کسی بھی قوم پر سختیاں کرنا در حقیقت ساری انسانیت کو درد و رنج پہنچانے کے مترادف ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی گفتگو میں ایران اور سلووینیا کے اندر باہمی تعاون کے فروغ کے لئے موجود بے پناہ گنجائشوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل کے حالات آج کی گفتگو کے لئے محکم سند ثابت ہوں گے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسی طرح کہا کہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ایران نے اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے۔ انھوں نے فریق مقابل پر اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کی۔
اس ملاقات میں صدر محترم ڈاکٹر حسن روحانی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سلووینیا کے صدر بورٹ پاہور نے کہا کہ ایران کے حکام سے ان کی ملاقاتیں بہت اچھی رہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم تمام میدانوں میں ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بورٹ پاہور نے کہا کہ ایران علاقے میں امن و ثبات کا ستون اور قابل احترام ملک ہے۔ انھوں نے ایٹمی مذاکرات میں ایران کے موقف اور طرز عمل نیز حالیہ برسوں کے دوران ایران کی ترقی کی تعریف کی اور کہا کہ سلووینیا اور ایران کے پاس مشترکہ تجربات اور باہمی تعاون کے گوناگوں میدان ہیں۔
سلووینیا کے صدر نے اپنے اس سفر کے دوران تہران میں اپنے ملک کا سفارت خانہ کھولنے کے پروگرام کا ذکر کیا اور کہا کہ ایران سلووینیا کا اچھا دوست ملک ہے اور ہم ایران میں اپنے ملک کے سفارت خانے کے افتتاح کو مدبرانہ اور ملی اجماع پر استوار قدم مانتے ہیں۔
 
< پچھلا   اگلا >

^