Skip to content

احکام واستفتائات

آڈیو،ویڈیو

فوٹو گیلری
آڈیو
ویڈیو
عراق کے شیعہ نیشنل الائنس کے عہدیداروں سے گفتگو؛ امریکا پر ہرگز اعتماد نہ کیجئے! پرنٹ کریں
11-12-2016
Sayyed Ammar Al-Hakim and Ayatollah Khameneiرہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق کے شیعہ نیشنل الائنس کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین سید عمار حکیم اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات میں عراق کی شیعہ تنظیموں اور جماعتوں کی شمولیت سے اس الائنس کی تشکیل پر اظہار مسرت کیا اور اسے ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس اتحاد کی حفاظت کی جانی چاہئے اور اس کی بنیادوں کو تقویت پہنچانا چاہئے اور عراق کی مختلف قومیتوں اور جماعتوں کے ساتھ شفقت آمیز اور فراخدلانہ برتاؤ کیا جانا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور ساتھ ہی موصل میں ملنے والی کامیابیوں کی تہنیت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ عراق میں شیعہ نیشنل الائنس میں شامل تمام جماعتوں، ارکان اور اس الائنس کے سربراہ کے دوش پر بہت سنگین ذمہ داری ہے اور ان کے ہر فیصلے اور عمل کا عراق، علاقے اور اسلام پر اثر پڑے گا۔ آپ نے فرمایا کہ نیشنل الائنس کے اہداف کا حصول اتحاد و یکجہتی کی حفاظت کی صورت میں ہی امکان پذیر ہوگا اور اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے دائمی نگرانی کی ضرورت ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ نیشنل الائنس کی ایک اہم ذمہ داری عراق کی حکومتوں کی حمایت کرنا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی حکومت کے اقدامات اور خاص طور پر رضاکار فورس حشد الشعبی کے ساتھ اس حکومت کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ حشد الشعبی یا عوامی فورس عراق کے حال و مستقبل کے لئے بڑا عظیم سرمایہ ہے، اس کی حمایت کی جانی چاہئے اور اسے تقویت پہنچانا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق کی پیشرفت اور استحکام کے لئے علم و تحقیق کے موضوع کو بہت کلیدی قرار دیا اور فرمایا کہ یونیورسٹیوں کو فروغ دینا اور ملک کے اندر سائنس اور ریسرچ کی بنیادوں کو مستحکم بنانا سنجیدگی کے ساتھ مورد توجہ قرار پانا چاہئے، خاص طور پر اس لئے بھی کہ امریکیوں اور ملت عراق کے دوسرے دشمنوں نے عراق کے بہت سے سائنسدانوں کو قتل کر دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے نیشنل شیعہ الائنس کو ایک اہم سفارش یہ کی کہ ہرگز امریکیوں پر اعتماد نہ کیجئے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس سلسلے میں فرمایا کہ امریکی ہمیشہ سے اس بات کے مخالف رہے ہیں کہ عراق سمیت کسی بھی اسلامی ملک کی طاقت بڑھے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ کبھی بھی امریکیوں کی ریاکاری اور مسکراہٹوں کے فریب میں نہیں آنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی ہمارے لئے دائمی نصیحت یہ ہے کہ امریکا پر اعتماد نہ کیا جائے۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ کے اندر ہم نے جب بھی اس نصیحت پر عمل کیا ہے ہمیں فائدہ پہنچا ہے اور جب بھی ہم نے اس نصیحت کو فراموش کیا ہمیں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
امریکا پر اعتماد نہ کرنے کے سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ امریکی اپنے ظاہری دعوؤں کے برخلاف حقیقت میں تکفیری دہشت گردی کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ ان کی کوشش یہ ہے کہ ان میں سے کچھ دہشست گرد ان کے آئندہ مقاصد کی تکمیل کے لئے بچے رہ جائیں۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق اس وقت موصل اور اسی طرح شام میں امریکیوں کو تکفیری دہشت گردوں کو شکست دینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے داعش کے ہاتھوں عراق کا تیل فروخت کئے جانے کے قضیئے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس زمانے میں امریکی داعش کے تیل ٹینکروں کی قطاروں کے خاموش تماشائی تھے، ان تیل ٹینکروں پر انھوں نے کبھی حملہ نہیں کیا، بنابریں امریکیوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ عراق کا مستقبل بہت روشن اور موجودہ دور سے بہت بہتر ہوگا۔ آپ نے فرمایا کہ عراق کی پیشرفت اسلامی جمہوریہ ایران کے بھی فائدے میں ہے اور پہلے سے زیادہ ہم آہنگی سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں اربعین حسینی کے زائرین کی عراق کے عوام اور عہدیداران کی جانب سے خدمت و پذیرائی کا شکریہ ادا کیا اور امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر زائرین کے پیدل سفر کو بڑا عظیم اور عدیم المثال عمل قرار دیا۔
اس ملاقات کے آغاز میں عراق کے شیعہ نیشنل الائنس کے سربراہ حجت الاسلام عمار حکیم نے رہبر انقلاب اسلامی کی رہنما سفارشات اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کی قدردانی کی اور نیشنل الائنس کی تشکیل کے عمل اور انجام دئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات بتائیں۔ حجت الاسلام سید عمار حکیم نے عراق، شام اور یمن میں ملنے والی حالیہ کامیابیوں کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں شیعہ نشنل الائنس کی تشکیل کا ایک اہم نتیجہ حشد الشعبی سے متعلق قانون کی منظوری تھی اور الائنس کے ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ دیگر جماعتوں اور دھڑوں کے کچھ ارکان پارلیمنٹ نے بھی اس قانون کی حمایت کی۔
 
< پچھلا   اگلا >

^