Skip to content

احکام واستفتائات

آڈیو،ویڈیو

فوٹو گیلری
آڈیو
ویڈیو
تکالیف شرعیہ کے سن تک رسائی کا جشن، بچوں سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب پرنٹ کریں
13-12-2016
Takleef ceremony held for students with Imam Khamenei in attendancتہران میں حسینیہ امام خمینی رضوان اللہ علیہ میں 'جشن تکلیف شرعی' منایا گیا جس میں اسکولی طلبہ نے شرکت کی۔ یہ جشن منگل کی شب منعقد ہوا۔ (سن تکلیف شرعی یا سن بلوغ کو پہنچنے والے بچوں کا جشن، بڑی اہم تقریب ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر عید اور خوشی کے موقع پر جشن منایا جاتا ہے۔ اس طرح اللہ سے ملنے والی اس نعمت کا انسان شکر بجا لاتا ہے۔ سن تکلیف شرعی کو پہنچنا بھی ایک عید ہے کیونکہ اس سن تک پہنچنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عقلی و جسمانی اعتبار سے انسان اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اللہ تعالی کے احکامات شرعیہ کا اطلاق اس پر ہونے لگا ہے اور وہ اللہ کے فرامین کی اطاعت کرنے والوں کے زمرے میں شامل ہو رہا ہے۔)
حسینیہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ میں منعقدہ جشن میں شریک بچوں نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی امامت میں نماز مغربین ادا کی جس کے بعد رہبر انقلاب اسلامی نے دو ہزار سے زائد اسکولی طلبہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے تکلیف شرعی کے جشن کو لطف و توجہ پروردگار کی وادی میں قدم رکھنے کا جشن قرار دیا۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ یہ سعادت و کامرانی کی سمت رواں دواں ہونے کے لئے اللہ کی جانب سے معین کردہ احکامات وصول کرنے کی اہلیت حاصل ہونے کا جشن ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ انسان زندگی کے مختلف مراحل میں گوناگوں واقعات سے گزرتا ہے، ان واقعات کا شجاعانہ انداز میں سامنا کرنے اور دنیاوی افتخار اور ملکوتی وقار حاصل کرنے کے لئے روحانی بنیادوں کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تکلیف شرعی کے اطلاق کے لمحے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انفرادی اور اجتماعی ارتقاء کا راز اللہ سے رابطہ قائم رکھنا ہے اور آج مغرب کے زوال پذیر تمدن کی سب سے بڑی خامی اللہ سے رابطہ منقطع کر لیا جانا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اللہ سے رابطے کا بہترین طریقہ نماز اور قرآن کی تلاوت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس حقیقت پر توجہ کہ نماز میں انسان کی گفتگو خدائے قدیر سے ہوتی ہے، انسان کے اندر توکل، شجاعت اور خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کرے گی۔ لہذا آپ نماز کو اول وقت اور پوری توجہ سے پڑھئے اور قرآن نیز اس کے نورانی و رہنما معانی سے خود کو مانوس بنائیے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے وطن عزیز پر اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی غلبہ حاصل کرنے کے لئے دشمنوں کی طرف سے جاری کوششوں کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ دشمن کی دراندازی کا ایک اہم نشانہ نوجوان اور بچے ہیں۔ آپ نے فرمایا: "عزیز بچے جو آج ملت ایران کے فرزند ہیں اور کل اس ملک کے عہدیداران ہوں گے، انھیں چاہئے کہ اجتماعات میں اپنی سرگرم اور شاداب شراکت کے ذریعے دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں حفاظتی حصار قائم کرنے میں موثر رول ادا کریں۔"
رہبر انقلاب اسلامی نے سن تکالیف شرعیہ کو پہنچنے والے بچوں سے خطاب میں مطالعہ کرنے، خود کو زیور علم سے آراستہ کرنے اور جسمانی، فکری و روحانی سلامتی کو یقینی بنانے کی سفارش کی۔ آپ کا کہنا تھا کہ جسمانی صحت و سلامتی مناسب غذا اور ورزش سے حاصل کی جا سکتی ہے اور روحانی سلامتی اللہ پر توجہ مرکوز کرنے، نماز، دعا، توسل اور شہیدوں کو یاد کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ فکری سلامتی کے لئے اچھے مفکرین اور مصنفین کی رہنما کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حصول علم اور خود سازی کو بہتر مستقبل کی لازمی شرط قرار دیا اور فرمایا کہ میرے عزیزو! یہ ملک آپ کا ہے، آپ اس ملک کو چلانے والے اور اس کی تاریخ رقم کرنے والے بنیں گے، بنابریں موقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے خود کو اس دن کے لئے آمادہ کیجئے۔

 

 
< پچھلا   اگلا >

^