Skip to content

احکام واستفتائات

آڈیو،ویڈیو

فوٹو گیلری
آڈیو
ویڈیو
تو صیہونی حکومت کا وجود خارجی پچیس سال تک باقی نہیں رہے گا، پرنٹ کریں
14-12-2016
Imam Khamenei meets with the head of the Palestinian Islamic Jihad movementرہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فلسطین کی جہاد اسلامی تنطیم کے سکریٹری جنرل رمضان عبد اللہ سے ملاقات میں فرمایا کہ صیہونی حکومت کے حامیوں کی طرف سے مسئلہ فلسطین کو ذہنوں سے دور کر دینے کے لئے دائمی بحران آفرینی کے باوجود یہ باشرف سرزمین، فلسطینی قوم اور تنظیموں کی مجاہدت و استقامت کی برکت سے آزاد ہوکر رہے گی۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فلسطینیوں کے اندر موجزن جذبہ استقامت و ایمانی قوت کی قدردانی کی اور فرمایا کہ قدس شریف کو نجات دلانے کا واحد راستہ استقامت و جدوجہد ہے، دوسرے راستے بے نتیجہ اور بے سود ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے صیہونیوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کے اتحاد و استقامت کے لئے جہاد اسلامی تنظیم کے دس نکاتی پروگرام کی تعریف کی اور فرمایا کہ جدوجہد پر تاکید، (صیہونی حکومت سے) مفاہمت کی تمام تجاویز کی نفی، فلسطینی تنظیموں کے اتحاد پر زور اور دشمن کے ساتھ ساز باز کی بعض رجعت پسند ملکوں کی مساعی کی مذمت اس پروگرام کے اہم نکات ہیں۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنائے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ بلا شبہ کچھ عناصر اس بات پر مامور کئے گئے ہیں کہ جہاد اسلامی تنظیم کے دس نکاتی پروگرام کے نفاذ میں رکاوٹ بنیں، بنابریں اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ پرگرام کاغذ تک محدود نہ رہے اور ابتدائی منصوبہ بند تعریف و قدردانی کے بعد اسے بتدریج فراموش نہ کر دیا جائے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے مطابق علاقے کی بے شمار مشکلات کی اصلی وجہ شیطان اکبر اور سب سے بڑی استکباری قوت یعنی امریکا ہے۔ آپ نے موجودہ بحرانوں کی آگ بھڑکانے میں علاقے کے چھوٹے شیطانوں کی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ان سب کا ہدف یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین علاقے کی رائے عامہ کے نزدیک غیر اہم ہو جائے اور قومیں اسے بھول جائیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے کے مسائل میں الجھے ہونے کے باوجود ہمیشہ صریحی طور پر اعلان کرتا رہا ہے کہ فلسطین دنیائے اسلام کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے اور ایران نے اس سلسلے میں اپنے فرائض پر عمل بھی کیا ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ نے رائے عامہ کی سطح پر مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے کے سلسلے میں، فلسطینی تنظیموں اور عرب علما، مفکرین اور قلمکاروں کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مسئلہ فلسطین کی ترجیحی حییثیت کے بارے میں عالم اسلام میں ذہن سازی اور ماحول سازی کے لئے مزید کوشش کی جانی چاہئے تاکہ (اسرائیل سے مفاہمت کے لئے آمادہ) بعض ملکوں کے حکام قوموں کے رد عمل کی طرف سے خوفزدہ رہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امریکا اور اس کے علاقائی ہمنواؤں کی جانب سے گوناگوں مسائل پیدا کئے جانے اور بحرانوں میں مسلکی پہلو کو ہوا دینے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ان تشہیرات کے بالکل برخلاف حلب، موصل اور دیگر شہروں کے سنی عوام کا جرائم پیشہ تکفیری عناصر کے ہاتھوں قتل عام ہوا اور ہو رہا ہے، بنابریں ان بحرانوں کا شیعہ سنی اختلاف سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تکفیری گروہوں کے سرغنوں کو 'ائمہ کفر' کی مانند قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ علاقے کی ایک اہم ضرورت داعش، النصرہ فرنٹ اور دیگر تکفیری گروہوں کے خلاف ہمہ گیر مقابلہ آرائی ہے، اس لئے کہ اگر یہ نہ کیا گيا تو تکفیریوں کی جانب سے دائمی طور پر بحران پیدا کرنے کی کوششوں کی وجہ سے مسئلہ فلسطین حاشئے پر چلا جائے گا۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مقبوضہ فلسطین میں تکفیری عناصر کے اثر و رسوخ کا سختی سے مقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ ان گروہوں کو فتنہ پیدا کرنے پر مامور کیا گيا ہے، لہذا پوری ہوشیاری اور قطعیت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا جانا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی گفتگو میں جدوجہد جاری رہنے کی صورت میں فتح و کامرانی کو اللہ کا حتمی وعدہ قرار دیا اور فرمایا کہ حق کے محاذ سے دشمنی استکباری قوتوں کی فطرت کا حصہ ہے، بنابریں مخاصمتوں کے جاری رہنے پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ جدوجہد جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آنکھیں کھلی رکھی جائیں اور واقعات کا صحیح تجزیہ کیا جائے، آپ نے فرمایا کہ یہ عقلا کی روش ہے اور ہمیشہ پوری ہوشیاری کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف استعماری قوتوں کی مسلسل جاری سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم اللہ تعالی کے وعدہ نصرت پر قلبی اطمینان کے ساتھ تمام میدانوں میں اپنے فرائض پر عمل کرتے ہیں اور کسی بھی استبدادی قوت کی مخالفت سے نہیں ڈرتے۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق فلسطین کی ‏‏آبادی کا جواں سال ہونا بہت اہم خصوصیت ہے۔ آپ نے غرب اردن کے علاقے میں سرگرمیاں جاری رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے صیہونیوں کے خلاف فلسطینیوں اور تمام مسلمانوں کی متحدہ اور عمومی استقامت و جدوجہد جاری رہنے کی صورت میں صیہونی حکومت کا وجود خارجی پيس سال تک باقی نہیں رہے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے جہاد اسلامی تنظیم کے اندر تفرقہ اور داخلی مشکلات پیدا کرنے کی دشمنوں کی کوششوں کی طرف سے بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ اس وقت جہاد اسلامی کی اہمیت ماضی سے زیادہ ہے۔
اس ملاقات مین جہاد اسلامی تنظیم کے سربراہ رمضان عبد اللہ نے رہبر انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے شجاعانہ اور خردمندانہ موقف پر اظہار تشکر کیا اور حزب اللہ لبنان کی جانب سے فلسطین کے مظلوم عوام اور امنگوں کی حمایت و پشت پناہی کی قدردانی کرتے ہوئے علاقے کے آشفتہ حالات کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ بعض عرب حکومتوں نے مسئلہ فلسطین سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ہے اور صیہونی حکومت سے ہاتھ ملانے کے لئے ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
رمضان عبد اللہ نے فلسطینی عوام کے خلاف مظالم میں شدت آنے اور فلسطینی زمینوں بالخصوص غرب اردن کے علاقوں پر صیہونیوں کا قبضہ بڑھتے جانے کو انھیں آشفتہ حالات کا نتیجہ قرار دیا اور صیہونی حکومت سے فلسطینی انتظامیہ کے تعاون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے اس وقت فلسطینی نوجوان پوری طرح بیدار ہیں اور انھوں نے امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور تحریک انتفاضہ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
جہاد اسلامی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ غزہ کے بیس لاکھ عوام کے گرد محاصرے کا جاری رہنا اور انھیں زندگی کے ابتدائی ترین وسائل سے محروم رکھا جانا دوسری اہم مشکلات ہیں۔ رمضان عبد اللہ نے کہا کہ جہاد اسلامی، حال ہی میں جاری کئے جانے والے دس نکاتی پروگرام کی بنیاد پر جسے دنیائے عرب کے دانشوروں اور قلمکاروں کی وسیع پذیرائی ملی، یہ سمجھتی ہے کہ فتح و کامرانی کا واحدہ راستہ غزہ میں جدوجہد اور غرب اردن میں تحریک انتفاضہ کی حمایت ہے اور فلسطینی انتظامیہ کو چاہئے کہ اوسلو معاہدے کو منسوخ کرے۔
 
< پچھلا   اگلا >

^