Skip to content

احکام واستفتائات

آڈیو،ویڈیو

فوٹو گیلری
آڈیو
ویڈیو
آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای پرنٹ کریں
24-01-2008
 

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
کی مختصر سوانح حیات

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے والد حجت الاسلام والمسلمین حاج سید جواد حسینی خامنہ ای مرحوم تھے۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای اٹھائیس صفر تیرہ سو اٹھاون ہجری قمری کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔آپ اپنے خاندان کے دوسرے فرزند تھے۔ آپ کے والد سید جواد خامنہ ای کی زندگي دینی علوم کے دیگر اساتذہ اور علمائے دین کی مانند انتہائی سادہ تھی۔ان کی شریک حیات اور اولاد نے بھی قناعت اور سادہ زندگي گزارنے کے گہرے معنی ان سے سیکھے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگي اور حالات کے بارے میں اپنی بچپن کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
میرے والد ایک مشہور عالم دین تھے لیکن بہت ہی پارسا اور گوشہ نشین ...
ہماری زندگي تنگ دستی میں بسر ہوتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہمارے گھر میں رات کا کھانا نہیں ہوتا تھا اور ہماری والدہ بڑی مشکل سے ہمارے لیے کھانے کا بندوبست کرتی تھیں اور ... وہ رات کا کھانا بھی کشمش اور روٹی ہوتی تھی۔
لیکن جس گھر میں سید جواد کا خاندان رہتا تھا اس کے بارے میں قائد انقلاب اسلامی کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
میرے والد صاحب کا گھر کہ جہاں میری پیدائش ہوئی اور میرے بچپن کے چار پانچ سال وہیں گزرے ، ساٹھ ستر میٹر کا ایک گھر تھا جو مشہد کے ایک غریب علاقے میں واقع تھا۔اس گھر میں صرف ایک ہی کمرہ اور ایک تنگ و تاریک سرداب(تہہ خانہ)تھا۔جب کوئی مہمان ہمارے والد سے ملنے کے لیے آتا ہمارے والد چونکہ عالم دین تھے اس لیے عام طور پر لوگ ان سے ملنے کے لیے آتے تھے تو ہم سب گھر والوں کوسرداب( تہہ خانہ ) میں جانا پڑتا اور مہمان کے جانے تک وہیں پر رہتے۔بعد میں میرے والد کے کچھ عقیدت مندوں نے ہمارے گھر کے ساتھ والی زمین خرید کر میرے والد صاحب کو دے دی اور پھر ہمارا گھر تین کمروں کا ہو گيا۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایک غریب لیکن دیندار ، پاکیزہ اور علم دوست گھرانے میں تربیت پائی اور چار سال کی عمر میں اپنے بڑے بھائي سید محمد کے ہمراہ مکتب بھیج دیے گئے تا کہ قرآن پڑھنا سیکھ لیں۔اس کے بعد دونوں بھائیوں نے تازہ قائم ہونے والے اسلامی اسکول دارالتعلیم دیانتی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔
دینی درسگاہ میں
 آپ ہائی اسکول کے بعد دینی درسگاہ میں داخل ہو گئے اور اپنے والد اور اس وقت کے دیگر اساتذہ سے عربی ادب اور مقدمات(قواعد) کی تعلیم حاصل کی ۔آپ دینی درسگاہ میں داخلے اور دینی تعلیم کے انتخاب کے محرک کے بارے میں کہتے ہیں:
اس نورانی راستے کے انتخاب میں بنیادی عنصر اور محرک میرے والد کا عالم دین ہونا تھا اور میری والدہ کی خواہش تھی۔
آپ نے جامع المقدمات ، سیوطی اور مغنی کی مانند عربی ادب کی کتابیں مدرسۂ سلیمان خان اور مدرسۂ نواب کے اساتذہ سے پڑھیں اور آپ کے والد بھی اپنے بچوں کی تعلیم پر نظر رکھتے تھے۔اسی دوران آپ نے کتاب معالم بھی پڑھی۔اس کے بعد آپ نے شرائع الاسلام اور شرح لمعہ اپنے والد سے اور ان کے بعض حصے آقا میرزا مدرس یزدی مرحوم سے پڑھے اور رسائل و مکاسب حاج شیخ ہاشم قزوینی سے اور فقہ و اصول کے دروس سطح اپنے والد سے پڑھے۔آپ نے حیرت انگیز طور پر صرف ساڑھے پانچ سال کے عرصے میں مقدمات اور سطح کے کورس مکمل کر لۓ۔آپ کے والد سید جواد مرحوم نے ان تمام مراحل میں اپنے چہیتے بیٹے کی ترقی و پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔قائد انقلاب اسلامی نے منطق اور فلسفہ میں کتاب منظومہ سبزواری پہلے آیت اللہ میرزا جواد آقا تہرانی مرحوم اور بعد میں شیخ محمد رضا ایسی سے پڑھی۔

نجف اشرف کی دینی درسگاہ میں

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ، کہ جنہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں مشہد میں عظیم مرجع آیت اللہ العظمی میلانی مرحوم سے فقہ اور اصول کا درس خارج پڑھنا شروع کیا تھا، سن 1957 میں مقدس مقامات کی زيارت کے لیے نجف اشرف تشریف لے گئے اور سید محسن حکیم مرحوم،سید محمود شاہرودی ، میرزا باقر زنجانی ، سید یحیی ، یزدی اور میرزا حسن بجنوردی سمیت نجف اشرف کے عظیم مجتہدین کے دروس میں شرکت کی۔آپ کو یہاں درس و تدریس اور تحقیق کا معیار پسند آیا اور نجف میں تعلیم جاری رکھنے کے اپنے فیصلے سے اپنے والد کو آگاہ کیا لیکن وہ راضی نہ ہوئے چنانچہ آپ کچھ عرصے کے بعد مشہد واپس لوٹ آئے۔
 قم کی دینی درسگاہ میں
حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ سن 1958 سے لے کر سن 1964 تک قم کی دینی درسگاہ میں فقہ، اصول اور فلسفہ کی اعلی تعلیم میں مشغول رہے اور آیت اللہ العظمی بروجردی، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ، شیخ مرتضی حائری یزدی اور علامہ طباطبائی جیسے عظیم اساتذہ سے کسب فیض کیا۔1964 میں قائد انقلاب اسلامی کو اپنے والد سے خط و کتابت کے بعد پتہ چلا ان کے والد کی ایک آنکھ کی بینائی موتیا کے مرض کی وجہ سے جا چکی ہے آپ کو یہ خبر سن کر بہت دکھ پہنچا۔آپ قم کی عظیم درسگاہ میں رہ کر اپنی تعلیم کو جاری رکھنے اور مشہد واپس جا کر اپنے والد کی دیکھ بھال کرنے کے سلسلے میں شش و پنج کا شکار ہو گئے۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں اللہ کی رضا کیلۓ مشہد واپس جانا چاہیے اور اپنے والد کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں:
میں مشہد گیا اور خدا نے مجھے بہت زیادہ توفیقات عنایت فرمائیں۔بہرحال میں اپنے کام اور ذمہ داریوں میں مشغول ہوگيا۔اگر مجھے زندگی میں کوئی توفیق حاصل ہوئی ہے تو میرا یہ خیال ہے کہ وہ اس نیکی کا صلہ ہے جو میں نے اپنے والد اور والدہ کے ساتھ کی تھی۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس دو راہے پر صحیح راستے کا انتخاب کیا۔آپ کے بعض اساتذہ اور ساتھی افسوس کرتے تھے کہ کیوں آپ نے اتنی جلدی قم کو چھوڑ دیا اگر وہ وہاں رہ جاتے تو آئندہ یہ بن جاتے وہ بن جاتے... لیکن مستقبل نے ظاہر کر دیا کہ ان کا فیصلہ صحیح تھا اور الہی فیصلے نے لوگوں کے اندازوں سے کہیں بہتر ان کی تقدیر لکھی تھی۔ کیا کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ یہ پچیس سالہ باصلاحیت عالم دین جو اپنے والدین کی خدمت کے لیے قم چھوڑ کر مشہد واپس چلا گيا تھا، پچیس سال بعد ولایت امر مسلمین کے اعلی مقام و مرتبے پر پہنچ جائے گا؟
آپ نے مشہد میں بھی اپنی اعلی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور تعطیلات،جدوجہد،جیل اور سفر کے علاوہ 1968 تک مشہد کے عظیم اساتذہ خصوصا" آیت اللہ میلانی سے با قاعدہ طور پر تعلیم حاصل کی۔اسی طرح سن 1964 سے کہ جب آپ مشہد میں مقیم تھے ، تعلیم حاصل کرنے اور بوڑھے اور بیمار والد کی دیکھ بھال اور خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نوجوان طلبہ کو فقہ و اصول اور دینی علوم کی دیگر کتابیں بھی پڑھاتے تھے۔
سیاسی جدوجہد
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای بقول خود ان کے، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے فقہی ، اصولی ،سیاسی اور انقلابی شاگردوں میں سے ہیں لیکن ان کے ذہن میں طاغوت کے خلاف دشمنی اور سیاست و جدوحہد کی پہلی کرن عظیم مجاہد اور شہید راہ اسلام سید مجتبی نواب صفوی نے ڈالی۔جب نواب صفوی چند فدائیان اسلام کے ساتھ سن 1952 میں مشہد گئے تو انہوں نے مدرسہ سلیمان خان میں احیائے اسلام اور احکام الہی کی حاکمیت کے موضوع پر ایک ولولہ انگیز تقریر کی اور شاہ اور برطانیہ کے مکر و فریب اور ملت ایران سے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ان دنوں مدرسہ سلیمان خان کے نوجوان طالب علم تھے، نواب صفوی کی جوشیلی تقریر سے آپ بہت متاثر ہوئے ۔آپ کہتے ہیں:اسی وقت نواب صفوی کے ذریعے میرے اندر انقلاب اسلامی کا جھماکہ ہوا چنانچہ مجھے اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ پہلی آگ نواب صفوی مرحوم نے میرے اندر روشن کی۔

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کے ہمراہ
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سن 1962 سے کہ جب آپ قم میں تھے اور محمد رضا شاہ پہلوی کی اسلام مخالف اور امریکہ نواز پالیسیوں کے خلاف امام خمینی کی انقلابی اور احتجاجی تحریک شروع ہوئي ، سیاسی جدوجہد میں شامل ہو گئے اور بے پناہ نشیب و فراز ، جلاوطنی ، قید و بند اور ایذاؤں کے باوجود سولہ سال تک جدوجہد کرتے رہے اور کسی مقام پر بھی نہیں گھبراۓ ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں پہلی ذمہ داری یہ سونپی کہ وہ ماہ محرم میں علمائے کرام کے تبلیغی مشن اور شاہ کی امریکی پالیسیوں کو آشکارہ کریں، ایران کے حالات اور قم کے واقعات کے بارے میں ان کا پیغام آیت اللہ میلانی اور خراسان کے علماء تک پہنچائيں ۔آپ نے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائي اور خود بھی تبلیغ کے لیے بیرجند شہر گئے اور وہاں تبلیغ کے ضمن میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے پیغام کے تناظر میں پہلوی حکومت اور امریکہ کا پردہ چاک کیا چنانچہ آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور ایک رات قید رکھنے کے بعد اگلے دن آپ کو اس شرط پر رہا کیا گيا کہ آپ منبر پر نہیں جائيں گے اور پولیس کی نگرانی میں رہیں گے۔پندرہ خرداد کے واقعے کے بعد آپ کو بیرجند سے مشہد لاکر فوجی جیل میں ڈال دیا گيا اور وہاں دس روز تک کڑی نگرانی میں رکھا گیا اور سخت ایذائيں دی گئيں۔
دوسری گرفتاری
جنوری سن 1963 مطابق رمضان تیرہ سو تراسی ہجری قمری کو حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت کرمان گئے۔کرمان میں دو تین دن ٹھہرنے ،تقریریں کرنے اور اس شہر کے علماء اور طلبہ سے ملاقات کرنے کے بعد زاہدان چلے گئے۔آپ کی جوشیلی اور ولولہ انگیز تقریروں خصوصا" چھ بہمن کو شاہ کے جعلی ریفرنڈم اور انتخاب کی سالگرہ کے دن آپ کی تقریر کو عوام نے بے حد پسند کیا۔ پندرہ رمضان کو امام حسن علیہ السلام کی ولادت کے روز پہلوی حکومت کی شیطانی اور امریکی پالیسیوں کا پردہ چاک کرنے والی آپ کی جوشیلی اور ولولہ انگيز تقریریں اپنے عروج پر پہنچ گئيں چنانچہ شاہ کی خفیہ ایجنسی ساواک نے آپ کو راتوں و رات گرفتار کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے تہران روانہ کر دیا۔رہبر بزرگوار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو تقریبا" دو ماہ تک قزل قلعہ نامی جیل میں قید تنہائی میں رکھا گيا۔ دوران قید آپ نے مختلف قسم کی ایذائیں اور توہین آمیز سلوک برداشت کیا۔
تیسری اور چوتھی گرفتاریاں
مشہد اور تہران میں آپ کے تفسیر و حدیث کے دروس اور اسلامی افکار و نظریات کا انقلابی نوجوانوں نے زبردست خیرمقدم کیا۔آپ کی ان سرگرمیوں سے شاہ کی خفیہ ایجنسی ساواک بھڑک اٹھی اور آپ کو گرفتار کرنا چاہا لہذا آپ نے سن 1966 میں تہران میں روپوشی کی زندگي اختیارکرلی تاہم ایک سال بعد یعنی 1967 میں آپ گرفتار کر لیے گئے ۔ رہائی کے بعد آپ کی انقلابی سرگرمیوں کے باعث ساواک نے آپ کو ایک بار پھر سن 1970میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔
پانچویں گرفتاری
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای مدظلہ العالی ساواک کے ہاتھوں اپنی پانچویں گرفتاری کے بارے میں لکھتے ہیں:
سن 1969 سے ایران میں مسلح تحریک کے آثار محسوس کیے جا رہے تھے۔ خفیہ اداروں کی میرے بارے میں حساسیت بھی بڑھ گئي تھی انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس قسم کی تحریک کا مجھ جیسے افراد سے تعلق نہ ہو۔ سن 1971 میں ایک بار پھر مجھے جیل میں ڈال دیا گيا۔جیل میں ساواک کے تشدد آمیز سلوک سے واضح طور پر ظاہر ہوتا تھا کہ اسے مسلح تحریک کے اسلامی فکر کے مراکز سے جڑے ہونے پر سخت تشویش ہے اور وہ اس بات کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے کہ مشہد اور تہران میں میرے نظریاتی اور تبلیغی مشن کا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رہائی کے بعد میرے تفسیر کے عام دروس اور خفیہ کلاسوں کا دائرہ مزید بڑھ گيا۔
 چھٹی گرفتاری
1971 اور 1974 کے برسوں کے دوران حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے تفسیر اور انقلابی نظریات کے دروس اور تقاریر مشہد مقدس میں واقع مسجد کرامت ، مسجد امام حسین اور مسجد میرزا جعفر میں انجام پاتی تھیں جن میں انقلابی اور روشن فکر نوجوانوں اور طلبہ سمیت ہزاروں لوگ جوق در جوق شرکت کرتے تھے اور اسلام کے حقیقی نظریات سے آگاہ ہوتے تھے۔آپ کے نہج البلاغہ کے درس کا رنگ ہی کچھ اور تھا آپ کے نہج البلاغہ کے دروس فوٹو کاپی ہو کر لوگوں میں تقسیم ہوتے تھے۔ نوجوان اور انقلابی طلبہ جو آپ سے درس حقیقت اور جدوجہد کا سبق لیتے تھے ، ایران کے دور و نزدیک کے شہروں میں جا کر لوگوں کو ان نورانی حقائق سے آشنا کرکے عظیم اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار کرتے۔ان سرگرمیوں کے باعث 1974عیسوی میں ساواک نے مشہد میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے گھر پر دھاوا بول دیا اور آپ کو گرفتار کر کے آپ کی بہت سی تحریروں اور نوٹس کو ضبط کر لیا۔یہ آپ کی چھٹی اور سخت ترین گرفتاری تھی۔آپ کو 1975 کے موسم خزاں تک قید میں رکھا گيا۔ اس عرصے کے دوران آپ کو ایک کوٹھڑی میں سخت ترین حالات میں رکھا گيا اور خود آپ کے بقول صرف وہی ان حالات کو سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے ان حالات کو دیکھا ہے۔جیل سے رہائي کے بعد آپ مشہد مقدس واپس آ گئے اور ماضی کی طرح علمی ، تحقیقی اور انقلابی عمل کو آگے بڑھایا۔ البتہ آپ کو پہلے کی طرح کلاسوں کی تشکیل کا موقع نہیں دیا گيا۔
شہر بدری
ظالم پہلوی حکومت نے سن 1977 کے اواخر میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو گرفتار کر کے تین سال کے لیے ایرانشہر شہر بدر کر دیا۔ سن 1978 کے وسط میں ایران کے مسلمان اور انقلابی عوام کی جدوجہد کے عروج پر پہنچنے کے بعد آپ شہر بدری سے آزاد ہو کر مشہد مقدس واپس آ گئے اورسفاک پہلوی حکومت کے خلاف عوام کی جدوجہد کی اگلی صفوں میں شامل ہو گئے ۔
راہ خدا میں انتھک جدوجہداور سختیاں برداشت کرنے کا نتیجہ یعنی ایران کے عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ظالم پہلوی حکومت کا سقوط اور اس سرزمین میں اسلام کی حاکمیت کے قیام کا مشادہ آپ نے اپنی آنکھوں سے کیا۔
کامیابی سے قبل
اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی پیرس سے تہران واپسی سے پہلے ان کی طرف سے شہید مطہری، شہید بہشتی، ہاشمی رفسنجانی وغیرہ کی مانند مجاہد علما اور افراد پر مشتمل کمیٹی شورائ انقلاب اسلامی قائم کی گئی۔ حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای بھی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر اس کمیٹی کے رکن بنے۔ شہید مطہری نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام آپ تک پہنچایا ۔ رہبر کبیر انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام ملتے ہی آپ مشہد سے تہران آ گئے۔
کامیابی کے بعد
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی اپنی انقلابی اور اسلامی سرگرمیاں بدستور جاری رکھیں اس دوران آپ مختلف عہدوں پر فائز رہے اور متعدد اہم کارنامے انجام دینے میں کامیاب ہوئے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
٭ فروری 1979 میں اپنے ہم خیال مجاہد علماء اور ساتھیوں کے تعاون سے جمہوری اسلامی پارٹی کی بنیاد رکھی۔
٭ 1979 میں نا‏ئب وزیردفاع بنے۔
٭ 1979میں ہی پاسداران انقلاب اسلامی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے۔
٭ 1979میں ہی بانی انقلاب اسلامی کی جانب سے دارالحکومت تہران کے امام جمعہ منصوب ہوئے
٭ 1980 میں اعلی دفاعی کونسل میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نمائندےمقرر ہوئے
٭ 1979 میں پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی میں تہران کے نمائندے بنے
٭ 1970 میں امریکہ اور سابق سوویت یونین سمیت شیطانی اور بڑی طاقتوں کے اکسانے اور ان کی فوجی مدد سے ایران کی سرحدوں پر صدام کی جارحیت اور ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ شروع ہوتے ہی دفاع مقدس کے محاذوں پر فوجی لباس میں دشمن کے خلاف نبرد آزما ہوئے
٭ 1981 میں تہران میں واقع مسجد ابوذر میں انقلاب دشمن منافقین کےناکام قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے
صدر مملکت
ایران کے دوسرے صدر محمد علی رجائي کی شہادت کے بعد 1981 میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر کے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی طرح 1985 میں آپ دوسری بار صدر منتخب ہوئے۔
1981 میں ثقافتی انقلابی انجمن کے سربراہ بنے
1987 میں تشخیص مصلحت نظام کونسل کی سر براہی سنبھالی
1989 میں آئین پر نظر ثانی کرنے والی کونسل کے سربراہ مقرر ہوئے
امت کی قیادت و ولایت
رہبر کبیر انقلاب امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد جون 1989 میں ماہرین کی کونسل نے اس اعلی عہدے اور عظیم ذمہ داری کے لیے آپ کو منتخب کیا۔ یہ انتخاب انتہائی مبارک اور صحیح تھا چنانچہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد آپ نے نہایت مہارت سے ملت ایران بلکہ مسلمانان عالم کی قیادت و راہنمائی کی اور یہ عظیم اور الہی فریضہ آج بھی بخوبی نبھا رہے ہیں۔
تصنیف و تالیف
1- طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن
2- از ژرفای نماز
3- گفتاری در باب صبر
4- چہار کتاب اصلی علم رجال
5- ولایت
6- گزارش از سابقہ تاریخی و اوضاع کنونی حوزہ علمیہ مشہد
7- زندگینامہ ائمہ تشیع(غیر مطبوعہ)
8- پیشوای صادق
9- وحدت و تحزب
10- ہنر از دیدگاہ آیت اللہ خامنہ ای
11- درست فہمیدن دین
12- عنصر مبارزہ در زندگی ائمہ علیہم السلام
13- روح توحید، نفی عبودیت غیر خدا
14- ضرورت بازگشت بہ قرآن
15- سیرت امام سجاد علیہ السلام
16- امام رضا علیہ السلام و ولایت عہدی
17- تہاجم فرہنگی(قائد انقلاب کے پیغامات اور تقریروں پر مشتمل کتاب)
18- حدیث ولایت(آپ کے پیغامات اور تقریروں پر مشتمل مجموعہ، اس کی اب تک نو جلدیں چھپ چکی ہیں)
19 اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ترجمے
1- صلح امام حسن [ع] ،تصنیف آل یاسین۔
2- آیندہ در قلمرو اسلام، تصنیف سید قطب۔
3- مسلمانان در نہضت آزادی ہندوستان، تصنیف عبدالرحیم نمری نصری۔
4- ادعا نامہ علیہ تمدن غرب، تصنیف سید قطب۔
5- اور ۔ ۔ ۔ ۔

 

 

^