رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے بدھ 25 ستمبر 2024 کی صبح مقدس دفاع اور استقامت کے شعبے میں سرگرم رہے ہزاروں افراد اور سینیئر فوجیوں سے ملاقات میں، مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے اسباب کی تشریح کرتے ہوئے نئي بات اور کشش کو دنیا پر حاکم فاسد اور باطل نظام کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ کے دو اہم عناصر قرار دیا۔
آپ دیکھیے کہ صیہونی حکومت کیا کر رہی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو جرائم کر رہے ہیں وہ بڑی ڈھٹائي سے، بغیر چھپائے ہوئے، غزہ میں کسی طرح، غرب اردن میں دوسری طرح، لبنان میں کسی اور طرح، شام میں کسی اور طرح۔
یوم ولادت باسعادت حضرت رسول اکرم اور حضرت امام جعفر صادق صلوات اللہ علیہما کے موقع پر ملک کے اعلی حکام ، اسلامی ملکوں کے سفیروں اور وحدت کانفرنس کے مندوبین سے 21 ستمبر 2024 کو اپنے خطاب میں رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای نے عالم اسلام میں وحدت کی ضرورت اور انتشار کے نقصانات کے بارے میں گفتگو کی۔ (1)
امت مسلمہ کی اندرونی طاقت، صیہونی حکومت کو، کینسر کے اس خبیث پھوڑے کو اسلامی معاشرے کے دل یعنی فلسطین سے دور کر سکتی ہے، زائل کر سکتی ہے اور اس خطے میں امریکا کے رسوخ، تسلط اور منہ زوری والی مداخلت کو ختم کر سکتی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے پیغمبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کے موقع پر سنیچر 21 ستمبر 2024 کی صبح ملک کے بعض اعلیٰ عہدیداران، تہران میں متعین اسلامی ممالک کے سفراء، وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء اور بعض عوامی طبقات سے ملاقات کی۔
پیرس اولمپکس اور پیرا لمپکس 2024 میں شرکت کرنے والے ایرانی کھلاڑیوں سے 17 ستمبر 2024 کو اپنی ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے کھیلوں سے متعلق اہم گفتگو کی اور اس شعبے میں بڑی طاقتوں کی دوہری پالیسیوں کو ہدف تنقید قرار دیا۔(1)
میرے خیال میں آج ایک حتمی فریضہ، غزہ اور فلسطین کے مظلوموں کی حمایت ہے۔ یقیناً یہ ان واجبات میں سے ایک ہے جس پر اگر ہم نے عمل نہ کیا تو اس کے بارے میں خداوند عالم ہم سے قیامت میں سوال کرے گا۔
فلسطین کے اسکول و کالج کے طلباء، ٹیچروں، اسکول اسٹاف اور یونیورسٹی کے اساتذہ پر صیہونی حکومت کے حملوں کے بارے میں فلسطین کی تعلیم و اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی رپورٹ:
ملک بھر کے مختلف علاقوں کے بزرگ اور جید علمائے اہلسنت سے پیر 16 ستمبر 2024 کو ہوئي ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے امت مسلمہ کی تشکیل، اتحاد کی ضرورت و اہمیت، صیہونی حکومت کے جرائم اور غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت سمیت کئي اہم مسائل پر گفتگو کی۔ انھوں نے غزہ کے عوام کی مدد اور حمایت کو ایک قطعی فریضہ بتایا جسے انجام نہ دینے پر خداوند عالم کی بارگاہ میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔
رہبر انقلاب کا خطاب حسب ذیل ہے: (1)
فلسطین کے اسکول و کالج کے طلباء، ٹیچروں، اسکول اسٹاف اور یونیورسٹی کے اساتذہ پر صیہونی حکومت کے حملوں کے بارے میں فلسطین کی تعلیم و اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی رپورٹ:
فلسطین کے اسکول و کالج کے طلباء، ٹیچروں، اسکول اسٹاف اور یونیورسٹی کے اساتذہ پر صیہونی حکومت کے حملوں کے بارے میں فلسطین کی تعلیم و اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی رپورٹ:
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اپنے ایک پیغام میں اربعین حسینی کے ایام میں میزبانی کے لیے عراق کے موکب داروں اور عظیم عراقی قوم کا شکریہ ادا کیا۔
صدر مملکت جناب ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بدھ 11 ستمبر 2024 کو اپنے دورۂ عراق کے دوران اس پیغام کے عربی متن کی شیلڈ عراقی وزیر اعظم جناب شیاع السودانی کی خدمت میں پیش کی۔
رہبر انقلاب کے اس پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
اگر امریکا کی مدد نہ ہوتی تو کیا صیہونی حکومت میں اتنی طاقت اور جراَت تھی کہ غزہ کے محدود علاقے میں مسلمان عوام، عورتوں، مردوں اور بچوں کے ساتھ اس طرح وحشیانہ سلوک کرتی؟
آج صیہونیوں کے بڑے بڑے بم اُن لوگوں پر گرائے جا رہے ہیں جنھوں نے ایک گولی تک فائر نہیں کی ہے۔ جھولے کے بچے، پانچ چھے سال کے بچے، عورتیں، اسپتالوں کے مریض انھوں نے کسی پر ایک بھی گولی نہیں چلائي ہے لیکن ان پر بم گرائے جا رہے ہیں۔ کیوں؟
اس غیر انسانی اور مجرمانہ کارروائي سے امریکا کا واحد ہدف خوفناک ایٹمی ہتھیار کے سائے میں دنیا بالخصوص اپنے دیرینہ حریف سوویت یونین کے سامنے اپنی ایسی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا جس کا کوئي جواب نہ ہو۔
یمن کی تحریک انصار اللہ کے ترجمان جناب محمد عبدالسلام نے منگل کی شام رہبر انقلاب سے ملاقات کی۔ رہبر انقلاب نے انصار اللہ کے سربراہ جناب عبدالملک بدر الدین کو سلام کا پیغام بھجوایا اور ساتھ ہی یمنی عوام کی استقامت اور ان کی جانب سے غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت کو سراہا۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے منگل 30 جولائي 2024 کی شام کو عراق کے وزیر اعظم جناب محمد شیاع السودانی اور ان کے ہمراہ آئے وفد سے ملاقات میں کروڑوں لوگوں کی شرکت سے اربعین مارچ کے پسندیدہ اور پرشکوہ انعقاد کی راہ ہموار کرنے کے لیے عراقی عوام اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور اٹھائي جانے والی زحمتوں کو سراہا۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے منگل 30 جولائي 2024 کو حماس کے پولیت بیورو کے سربراہ جناب اسماعیل ہنیہ اور جہاد اسلامی تحریک کے سیکریٹری جنرل جناب زیاد النخالہ سے ملاقات میں غزہ کے مظلوم عوام کی بے نظیر استقامت و مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج اسلام کا سب سے بلند پرچم، فلسطینی قوم اور غزہ کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور اس مزاحمت کی برکت سے اسلام کی پہلے سے زیادہ ترویج کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
انسان سمجھ سکتا ہے کہ امریکی کانگریس نے اپنی کتنی بڑی رسوائي کرائي کہ وہ اس مجرم کی باتیں سننے کے لیے بیٹھی اور اس کی باتیں سنیں۔ یہ بہت بڑی رسوائي ہے۔
(غزہ کے) اس مسئلے میں امریکا یقینی طور پر مجرمین کا شریک جرم ہے، یعنی اس جرم میں امریکا کا ہاتھ کہنیوں تک مظلوموں اور بچوں کے خون میں ڈوبا ہوا ہے، دراصل امریکا ہی (اس جرم کو) مینیج کر رہا ہے۔
امام خامنہ ای
25 اکتوبر 2023
غزہ کا مسئلہ بدستور عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی وہی پہلے دن جیسی اہمیت اب بھی ہے بلکہ اس سے زیادہ۔ مزاحمت کی طاقت روز بروز پہلے سے زیادہ خود کو نمایاں کر رہی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے 21 جولائی 2024 کو بارہویں پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اراکین سے خطاب میں قانون سازی، پارلیمنٹ کی ذمہ داریوں، مجریہ کے ساتھ تعمیری تعاون اور عالمی مسائل میں سنجیدہ کردار ادا کرنے جیسے نکات پر گفتگو کی۔ (1)
خطاب حسب ذیل ہے:
غزہ کا مسئلہ بدستور عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا کے لوگ اب درحقیقت غاصب خبیث حکومت کے خلاف فیصلہ کر رہے ہیں۔ مسئلہ ختم نہیں ہوا ہے، مسئلہ بدستور جاری ہے۔
"ہم غزہ کا مکمل محاصرہ کریں گے، نہ تو وہاں بجلی ہوگي، نہ کھانا، نہ پانی اور نہ ہی ایندھن۔ غزہ کے لوگوں پر ہر چیز بند ہوگي۔"(1) صیہونی حکومت کے وزیر جنگ یوآف گالانت نے غزہ پٹی کے خلاف اس حکومت کی وحشیانہ جارحیت شروع ہونے کے کچھ ہی دن بعد یہ بات کہی تھی۔ اس جارحیت کو شروع ہوئے نو مہینے سے زیادہ ہو چکے ہیں اور غزہ کے حالات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ صیہونیوں نے، غزہ پٹی کے لوگوں کے ساتھ بالکل وہی رویہ اختیار کیا ہے جو گالانت نے کہا تھا۔ بے قصور لوگوں کو جان بوجھ کر پیاسا رکھنا، غزہ کی جنگ کے ان نو مہینوں میں اس غیر انسانی اور مجرمانہ رویے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے کہ جس کے نتیجے میں غزہ کے لوگ، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، تھوڑے سے صاف پانی کے حصول کے لیے، جو ان کی ضرورتیں پورا نہیں کر پا رہا ہے، کافی لمبا راستہ پیدل طے کرنے پر مجبور ہیں۔
فلسطینیوں کے خلاف عام تباہی پھیلانے والا ایک نیا ہتھیار
اسرائيل نے اکتوبر 2023 کی جنگ کی شروعات سے غزہ پٹی میں پانی منتقل کرنے والی تمام پائپ لائنوں کو بند کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔ یہ بے قصور شہریوں کو مارنے کی ایک منظم سازش ہے۔ غزہ پٹی کے مظلوم لوگوں کے خلاف پانی کی جنگ اتنی واضح ہے کہ صیہونی میڈیا بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک صیہونی میڈیا 972+ نے "تل ابیب نے پانی کو غزہ میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار میں بدل دیا ہے" سرخی کے تحت ایک رپورٹ میں لکھا: "اسرائيل نے جنگ کی شروعات سے ہی غزہ پٹی کے فلسطینیوں کو صاف پانی سے محروم کر کے ایک ایسا بحران پیدا کر دیا ہے جس کی ہمیں کوئي نظیر نہیں ملتی۔ اسرائیل نے جنگ کے آغاز سے ہی اس اقدام کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ایک اصل حکمت عملی کے طور پر ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔"(2)
جنگ کی شروعات سے لے کر اب تک غزہ میں پانی کی سپلائي اور پانی کی نکاسی کے زیادہ تر انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر اپنے ہوائي حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ بجلی کی سپلائي کٹ جانا اور غزہ تک ایندھن نہ پہنچنے دینا بھی، پانی فلٹر کرنے والے یونٹس کے بند ہو جانے کا سبب رہا ہے۔(3) ان کارروائيوں نے غزہ کو، جو جنگ سے پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا کر رہا تھا، اب پانی کی کمی اور پانی کے خاتمے کے ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جس کی کوئي مثال نہیں ہے۔ صاف پانی کے ایک گلاس کے حصول کے لیے جنگ اور جدوجہد غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے روزمرہ کے کاموں میں سے ایک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق پانی حاصل نہیں کر سکتے اور وہ تھوڑا سا پانی جو وہ لمبی لمبی قطاروں میں لگ کر حاصل کرتے ہیں، اپنی انتہائي اہم ضرورتوں کے لیے، جن میں سب سے اوپر بچوں کی ضروریات ہیں، خرچ کرتے ہیں۔
غزہ شہر کے مغرب میں بے گھر لوگوں کے لیے بنائے گے ایک عارضی مرکز میں رہنے والی فلسطینی خاتون آلاء حمید، اس شہر میں صاف پانی کے بحران کی اس طرح منظر کشی کرتی ہیں: "حقیقت یہ ہے کہ میں اپنی پوری فیملی کے لیے پانی حاصل نہیں کر سکتی۔ میں صرف اپنے بچوں کے لیے تھوڑا سا پانی حاصل کر پاتی ہوں۔ بڑے لوگ وہ پانی استعمال کرتے ہیں جو صاف نہیں ہوتا۔ ہم جانتے ہیں یہ کام ایسا رسک ہے جس کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں لیکن ہمارے پاس اپنی زندگي بچانے کے لیے اس کے علاوہ کوئي آپشن نہیں ہے۔" ایک دوسری فلسطینی خاتون، آمنہ الحرتانی بھی، جو پانی کی قلت اور پانی کے خاتمے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تشویش ناک صورتحال سے تنگ آ چکی ہیں، کہتی ہیں: "ہم ہر دن پانی کے ٹینکر کے پیچھے پیچھے اس سڑک سے اس سڑک پر جاتے ہیں اور پھر بھی ہمیں صاف پانی نہیں ملتا۔ پانی کی قلت، وہ سب سے بڑا بحران ہے، جس کا ہمیں سامنا ہے۔ پینے کے صاف پانی کا حصول ہمارے لیے بہت زیادہ مشقت آمیز کام ہے۔"(4)
سمندر کے پانی کا استعمال اور ناشناس بیماریاں
غزہ کے کنوؤں، پانی کی سپلائي اور نکاسی کے مراکز اور پائپ لائنوں کی تباہی کی طے شدہ پالیسی نے اس خطے کے لوگوں کو سمندر کے پانی کے استعمال پر مجبور کر دیا ہے۔ در حقیقت انھیں پیاس اور پانی کی قلت کے بحران سے بچنے کا واحد راستہ سمندر کے پانی میں نظر آیا۔ یہ وہ کام ہے جو بے گھر افراد انجام دیتے ہیں کیونکہ ایک گیلن پانی حاصل کرنے کے لیے بھی انھیں بہت زیادہ سختیاں اٹھانی پڑتی تھیں۔ البتہ پیاس سے بچنے کے لیے سمندر کے پانی کا استعمال، غزہ کے لوگوں خاص طور پر عورتوں اور بچوں کے لیے بہت سے برے نتائج بھی لایا اور ان میں سے زیادہ تر سمندر کا پانی استعمال کرنے کی وجہ سے جلد کی نامعلوم بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔(5)
اکرم سلطان، غزہ کے ان ہزاروں بے گھروں میں سے ایک ہیں جن پر اور جن کی فیملی پر پانی کی قلت کے بحران نے عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں: "ہم غزہ میں بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، وہ بھی ایسی حالت میں جب غاصب حکومت، عام شہریوں کے لیے جان بوجھ کر بحران پیدا کرتی جا رہی ہے۔ سمندر کا پانی آج بے گھروں کے لیے پانی کے بحران سے نجات کے واحد حل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بہت سے بے گھر کوشش کرتے ہیں کہ اپنے خیمے ساحل کے قریب نصب کریں تاکہ سمندر کے پانی تک رسائي رہے۔ ہم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔" بہرحال جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا، سمندر کے پانی کے استعمال نے غزہ کے لوگوں کو ناگوار حالات میں مبتلا کیا اور اب بھی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک فلسطینی ڈاکٹر سائد محمود جو غزہ کے ایک چھوٹے سے میڈیکل سینٹر میں کام کرتے ہیں، کہتے ہیں: "آج ہمیں جس چیز کا سامنا ہے وہ غزہ میں فلسطینی بے گھروں کا بڑی تیزی سے جلدی امراض میں مبتلا ہونا ہے۔ ہمیں تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ صاف صفائي اور نہانے دھونے کے لیے ضروری مقدار میں پانی کی عدم دستیابی اور سمندر کے نمکین اور آلودہ پانی کا لگاتار استعمال، ان خطرناک جلدی امراض میں فلسطینیوں کے مبتلا ہونے کے اصل اسباب میں سے ایک ہے۔"(6)
پیاس کی جنگ، غزہ میں نسلی تصفیہ جاری رکھنے کا اسرائيل کا حربہ
جو چیز واضح طور پر دکھائي دے رہی ہے وہ یہ ہے کہ اسرائيل، غزہ میں نسل کشی جاری رکھنے کے لیے "پیاس کی جنگ" کو ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے مراکز نے بھی اس تلخ حقیقت کی تصدیق کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صیہونیوں نے جان بوجھ کر یہ حربہ اختیار کیا ہے۔(7) اس کے نتیجے میں اگر غزہ کے مظلوم عوام، آلودہ پانی استعمال کر کے موت کے چنگل سے نجات بھی پا جائیں تب بھی یقینی طور پر وہ جلد، سانس اور گردے کی مختلف قسم کی خطرناک بیماریوں سے بچ نہیں پائيں گے(8) اور ان کی مستقبل کی زندگي ان خطرناک اور ناشناس بیماریوں کی وجہ سے بہت سخت ہوگي جیسا کہ اس وقت بھی یہ چیز سامنے آ رہی ہے۔
1 https://www.aljazeera.net/politics/2024/1/18/%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84%D9%8A%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84-%D8%AD%D9%88%D9%84%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%8A%D8%A7%D9%87
2 https://www.aljazeera.net/politics/2024/1/18/%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84%D9%8A%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84-%D8%AD%D9%88%D9%84%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%8A%D8%A7%D9%87
3 https://www.aljazeera.net/politics/2024/7/5/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D9%84-%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D9%83%D9%81%D8%A7%D8%AD-%D9%8A%D9%88%D9%85%D9%8A-%D9%84%D9%84%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84-%D8%B9%D9%84%D9%89-%D9%83%D9%88%D8%A8-%D9%85%D8%A7%D8%A1
4 https://www.aljazeera.net/politics/2024/7/5/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D9%84-%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D9%83%D9%81%D8%A7%D8%AD-%D9%8A%D9%88%D9%85%D9%8A-%D9%84%D9%84%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84-%D8%B9%D9%84%D9%89-%D9%83%D9%88%D8%A8-%D9%85%D8%A7%D8%A1
5 https://www.alquds.co.uk/%D8%B3%D9%83%D8%A7%D9%86-%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D9%8A%D9%84%D8%AC%D8%A3%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%84%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%AA%D8%AF%D9%85%D9%8A%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D9%84/
6 https://www.alquds.co.uk/%D8%B3%D9%83%D8%A7%D9%86-%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D9%8A%D9%84%D8%AC%D8%A3%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%84%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%AA%D8%AF%D9%85%D9%8A%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D9%84/
7 https://euromedmonitor.org/ar/article/6392/%D8%BA%D8%B2%D8%A9:-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B9%D8%B7%D9%8A%D8%B4-%D9%85%D9%86-%D8%A3%D8%B3%D9%84%D8%AD%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84-%D9%81%D9%8A-%D8%AC%D8%B1%D9%8A%D9%85%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A9-%D9%88%D9%81%D8%B1%D8%B6-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B9%D8%A9
8 https://www.wafa.ps/pages/details/81895
رہبر انقلاب اسلامی نے حجاج کرام کے نام پیغام میں پوری معاصر تاریخ میں غزہ میں ہونے والے سب سے وحشیانہ جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں بالخصوص امریکہ سے اظہار برائت اس سال موسم و میقات حج سے آگے بڑھ کر مسلمان نشین ملکوں اور شہروں میں اور ساری دنیا میں جاری رہنا چاہئے اور ہر فرد تک اسے پہنچنا چاہئے۔"
رہبر انقلاب نے اس حج کو برائت از مشرکین کی مناسبت سے ایک خاص اہتمام کے ساتھ دیکھا ہے۔ اور اس کے لئے اللہ تبارک و تعالی کی کتاب اور خصوصا سورہ ممتحنہ میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کی سیرت اور ان کے عمل کو جس طرح سے اللہ نے اسوہ بناکر پیش کیا ہے، اس سے استدلال بھی کیا ہے اور اس سے پیغام بھی لیا ہے۔
بسم اللّہ الرّحمن الرّحیم
و الحمد للّہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی خیر البریّۃ سیّدنا محمّدٍ المصطفی و آلہ الطّیّبین و صحبہ المنتجبین و من تبعھم باحسان الی یوم الدّین.
دلنواز ابراہیمی آہنگ نے، جو حکم خدا سے ہر دور کے تمام انسانوں کو موسم حج میں کعبے کی جانب بلاتا ہے، اس سال بھی پوری دنیا کے بہت سے مسلمانوں کے دلوں کو توحید و اتحاد کے اس مرکز کی جانب مجذوب کر دیا ہے، انسانوں کے اس پرشکوہ اور متنوع اجتماع کو وجود میں لے آيا ہے اور اسلام کے انسانی وسائل کی وسعت اور اس کے روحانی پہلو کی طاقت کو اپنوں اور غیروں کے سامنے نمایاں کر دیا ہے۔
حج کے عظیم اجتماع اور اس کے پیچیدہ مناسک کو جب بھی تدبر کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ مسلمانوں کے لیے قوت قلب اور اطمینان کا سرچشمہ ہیں اور دشمن اور بدخواہ کے لیے خوف و ہراس اور ہیبت کا سبب ہیں۔
اگر امت مسلمہ کے دشمن اور بدخواہ، فریضۂ حج کے ان دونوں پہلوؤں کو بگاڑنے اور انھیں مشکوک بنانے کی کوشش کریں، چاہے مذہبی اور سیاسی اختلافات کو بڑا بنا کر اور چاہے ان کے مقدس اور روحانی پہلوؤں کو کم کر کے، تو تعجب کی بات نہیں ہے۔
قرآن مجید، حج کو بندگي، ذکر اور خشوع کا آئینہ، انسانوں کے یکساں وقار کا مظہر، انسان کی مادی اور روحانی زندگي کی بہبودی کا نمونہ، برکت اور ہدایت کی علامت، اخلاقی سکون اور بھائيوں کے درمیان عملی اتحاد کی مثال اور دشمنوں کے مقابلے میں برائت و بیزاری اور مقتدرانہ محاذ آرائی کا مظہر بتاتا ہے۔
حج سے متعلق قرآنی آيات پر غوروخوض اور اس بے نظیر فریضے کے اعمال و مناسک میں تدبر ان چیزوں اور حج کے پیچیدہ اعمال کی باہمی ترکیب کے ان جیسے دیگر رموز کو ہم پر منکشف کر دیتا ہے۔
حج ادا کرنے والے آپ بھائي اور بہن اس وقت ان پرفروغ حقائق و تعلیمات کی مشق کے میدان میں ہیں۔ اپنی سوچ اور اپنے عمل کو اس کے قریب سے قریب تر کیجیے اور ان اعلی مفاہیم سے آمیختہ اور از سر نو حاصل ہونے والے تشخص کے ساتھ گھر لوٹیے۔ یہی آپ کے سفر حج کی گرانقدر اور حقیقی سوغات ہے۔
اس سال برائت کا مسئلہ، ماضی سے زیادہ نمایاں ہے۔ غزہ کا المیہ، جو ہماری معاصر تاریخ میں بے مثال ہے اور بے رحم اور سنگ دلی و درندگي کی مظہر اور ساتھ ہی زوال کی جانب گامزن صیہونی حکومت کی گستاخی نے کسی بھی مسلمان شخص، جماعت، حکومت اور فرقے کے لیے کسی بھی طرح کی رواداری کی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔ اس سال کی برائت، حج کے موسم اور میقات سے آگے بڑھ کر پوری دنیا کے تمام مسلمان ملکوں اور شہروں میں جاری رہنی چاہیے اور حاجیوں سے آگے بڑھتے ہوئے ہر ایک شخص کی جانب سے انجام پانی چاہیے۔
صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں خاص طور پر امریکی حکومت سے یہ برائت اقوام اور حکومتوں کے قول و فعل میں نظر آنی چاہیے اور اسے جلادوں کا عرصۂ حیات تنگ کر دینا چاہیے۔
فلسطین اور غزہ کے صابر اور مظلوم عوام کی آہنی مزاحمت کی، جن کے صبر و استقامت نے دنیا کو ان کی تعریف و احترام پر مجبور کر دیا ہے، ہر طرف سے پشت پناہی ہونی چاہیے۔
خداوند عالم سے ان کے لیے مکمل اور فوری فتح کی دعا کرتا ہوں اور آپ حجاج محترم کے لیے، مقبول حج کی دعا کرتا ہوں۔ حضرت بقیۃ اللہ (روحی فداہ) کی مستجاب دعا آپ کی پشت پناہ رہے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید علی خامنہ ای
4 ذی الحجہ 1445
22 خرداد 1403
11 جون 2024
میں یہ خط ان جوانوں کو لکھ رہا ہوں جن کے بیدار ضمیر نے انھیں غزہ کے مظلوم بچوں اور عورتوں کے دفاع کی ترغیب دلائي ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا کے جوانوں اور اسٹوڈنٹس کے نام
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے خط سے اقتباس
25/05/2024
ریاستہائے متحدہ امریکا کے عزیز نوجوان اسٹوڈنٹس! یہ آپ سے ہماری ہمدلی اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ اس وقت آپ تاریخ کی صحیح سمت میں، جو اپنا ورق پلٹ رہی ہے، کھڑے ہوئے ہیں۔
امام خامنہ ای
25 مئي 2024
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میں یہ خط ان جوانوں کو لکھ رہا ہوں جن کے بیدار ضمیر نے انھیں غزہ کے مظلوم بچوں اور عورتوں کے دفاع کی ترغیب دلائي ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا کے عزیز نوجوان اسٹوڈنٹس! یہ آپ سے ہماری ہمدلی اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ اس وقت آپ تاریخ کی صحیح سمت میں، جو اپنا ورق پلٹ رہی ہے، کھڑے ہوئے ہیں۔
آج آپ نے مزاحمتی محاذ کا ایک حصہ تشکیل دیا ہے اور اپنی حکومت کے بے رحمانہ دباؤ کے باوجود، جو کھل کر غاصب اور بے رحم صیہونی حکومت کا دفاع کر رہی ہے، ایک شرافت مندانہ جدوجہد شروع کی ہے۔
مزاحمت کا بڑا محاذ آپ سے دور ایک علاقے میں، آپ کے آج کے انہی احساسات و جذبات کے ساتھ، برسوں سے جدوجہد کر رہا ہے۔ اس جدوجہد کا ہدف اُس کھلے ہوئے ظلم کو رکوانا ہے جو صیہونی کہے جانے والے ایک دہشت گرد اور سفاک نیٹ ورک نے برسوں پہلے فلسطینی قوم پر شروع کیا اور اُس کے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد اُسے سخت ترین دباؤ اور ایذا رسانیوں کا شکار بنا دیا۔
آج اپارتھائيڈ صیہونی حکومت کے ہاتھوں جاری نسل کشی، پچھلے دسیوں سال سے چلے آ رہے شدید ظالمانہ برتاؤ کا ہی تسلسل ہے۔
فلسطین ایک خود مختار سرزمین ہے جو طویل تاریخ رکھنے والی اس قوم کی ہے جس میں مسلمان، عیسائي اور یہودی سب شامل ہیں۔
صیہونی نیٹ ورک کے سرمایہ داروں نے عالمی جنگ کے بعد برطانوی حکومت کی مدد سے کئي ہزار دہشت گردوں کو تدریجی طور پر اس سرزمین میں پہنچا دیا، جنھوں نے فلسطین کے شہروں اور دیہاتوں پر حملے کیے، دسیوں ہزار لوگوں کو قتل کر دیا یا انھیں پڑوسی ممالک کی طرف بھگا دیا، ان کے گھروں، بازاروں اور کھیتوں کو ان سے چھین لیا اور غصب کی گئي فلسطین کی سرزمین پر اسرائيل نام کی ایک حکومت تشکیل دے دی۔
اس غاصب حکومت کی سب سے بڑی حامی، انگریزوں کی ابتدائي مدد کے بعد، ریاستہائے متحدہ امریکا کی حکومت ہے جس نے اس حکومت کی سیاسی، معاشی اور اسلحہ جاتی مدد لگاتار جاری رکھی ہے، یہاں تک کہ ناقابل معافی بے احتیاطی کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ بھی اس کے لیے کھول دی اور اس سلسلے میں اس کی مدد کی ہے۔
صیہونی حکومت نے پہلے ہی دن سے نہتے فلسطینی عوام کے خلاف جابرانہ روش اختیار کی اور تمام انسانی و دینی اقدار اور قلبی احساس کو پامال کرتے ہوئے اس نے روز بروز اپنی سفاکیت، قاتلانہ حملوں اور سرکوبی میں شدت پیدا کی۔
امریکی حکومت اور اس کے حلیفوں نے اس ریاستی دہشت گردی اور لگاتار جاری ظلم پر معمولی سی ناگواری تک کا اظہار نہیں کیا۔ آج بھی غزہ کے ہولناک جرائم کے سلسلے میں امریکی حکومت کے بعض بیانات، حقیقت سے زیادہ ریاکارانہ ہوتے ہیں۔
مزاحمتی محاذ نے اس تاریک اور مایوس کن ماحول میں سر بلند کیا اور ایران میں اسلامی جمہوری حکومت کی تشکیل نے اسے فروغ اور طاقت عطا کی۔
بین الاقوامی صیہونزم کے سرغناؤں نے، جو امریکا اور یورپ کے زیادہ تر ذرائع ابلاغ کے یا تو مالک ہیں یا یہ میڈیا ہاؤسز ان کے پیسوں اور رشوت کے زیر اثر ہیں، اس انسانی اور شجاعانہ مزاحمت کو دہشت گردی بتا دیا۔ کیا وہ قوم، جو غاصب صیہونیوں کے جرائم کے مقابلے اپنی سرزمین میں اپنا دفاع کر رہی ہے، دہشت گرد ہے؟ کیا اس قوم کی انسانی مدد اور اس کے بازوؤں کی تقویت، دہشت گردی کی مدد ہے؟
جابرانہ عالمی تسلط کے سرغنا، انسانی اقدار تک پر رحم نہیں کرتے۔ وہ اسرائيل کی دہشت گرد اور سفاک حکومت کو، اپنا دفاع کرنے والا ظاہر کرتے ہیں اور فلسطین کی مزاحمت کو جو اپنی آزادی، سلامتی اور مستقبل کے تعین کے حق کا دفاع کر رہی ہے، دہشت گرد بتاتے ہیں۔
میں آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آج صورتحال بدل رہی ہے۔ ایک دوسرا مستقبل، مغربی ایشیا کے حساس خطے کے انتظار میں ہے۔ عالمی سطح پر بہت سے ضمیر بیدار ہو چکے ہیں اور حقیقت، آشکار ہو رہی ہے۔
مزاحمتی محاذ بھی طاقتور ہو گيا اور مزید طاقتور ہوگا۔
تاریخ بھی اپنا ورق پلٹ رہی ہے۔
ریاستہائے متحدہ کی دسیوں یونیورسٹیوں کے آپ اسٹوڈنٹس کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی یونیورسٹیاں اور عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پروفیسروں کی جانب سے آپ اسٹوڈنٹس کا ساتھ اور آپ کی پشت پناہی ایک اہم اور فیصلہ کن واقعہ ہے۔ یہ چیز، حکومت کے جابرانہ رویے اور آپ پر ڈالے جانے والے دباؤ کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔ میں بھی آپ جوانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور آپ کی استقامت کی قدردانی کرتا ہوں۔
ہم مسلمانوں اور دنیا کے تمام لوگوں کو قرآن مجید کا درس ہے، حق کی راہ میں استقامت: فاستقم کما اُمرت۔ اور انسانی روابط کے بارے میں قرآن کا درس یہ ہے: نہ ظلم کرو اور نہ ظلم سہو: لاتَظلمون و لاتُظلمون۔
مزاحمتی محاذ ان احکام اور ایسی ہی سیکڑوں تعلیمات کو سیکھ کر اور ان پر عمل کر کے آگے بڑھ رہا ہے اور اللہ کے اذن سے فتحیاب ہوگا۔
میں سفارش کرتا ہوں کہ قرآن سے آشنائي حاصل کیجیے۔
حج "امت مسلمہ کے عقیدے کے اظہار اور موقف کے اعلان کی ایک جگہ" ہے اور امت مسلمہ اپنے صحیح اور قابل قبول اور قابل اتفاق رائے موقف کو بیان کر سکتی ہے، قابل قبول اور قابل اتفاق رائے... اقوام، مسالک۔ ممکن ہے حکومتیں کسی اور طرح سوچیں، کسی اور طرح کام کریں لیکن اقوام کا دل، الگ چیز ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اقوام مختلف معاملات میں اپنے موقف کا اظہار کر سکتی ہیں۔ اگرچہ برائت، ابتدائے انقلاب سے ہی حج میں موجود رہی ہے لیکن غزہ کے بڑے اور عجیب واقعات کے پیش نظر خاص طور پر اس سال کا حج، حج برائت ہے۔ اور مومن حجاج کو اس قرآنی منطق کو پوری اسلامی دنیا میں منتقل کرنا چاہیے۔ آج فلسطین کو اسلامی دنیا کی پشت پناہی کی ضرورت ہے۔
مجلس خبرگان رہبری (رہبر کا انتخاب کرنے والی ماہرین کی اسمبلی) کا چھٹا دور 21 مئي 2024 کو رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے پیغام کے ساتھ شروع ہوا۔ پیغام ان کے دفتر کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین محمدی گلپایگانی نے ماہرین اسمبلی کے اجلاس کے مقام پر پڑھا۔ پیغام حسب ذیل ہے: