رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کر کے حجت الاسلام و المسلمین جناب الحاج شیخ حسن صانعی کے انتقال پر تعزیت پیش کی ہے اور انھیں امام خمینی کے ثابت قدم اور سب سے پرانے ساتھیوں میں سے ایک بتایا ہے۔ انھوں نے عقلمندی اور خیر خواہی کو دکھاوے سے دور رہنے والے مرحوم کی دو نمایاں خصوصیات بتایا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک پیغام میں سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کیے جانے کو انتہائي تلخ، سازش آمیز اور خطرناک واقعہ بتایا ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو شدید ترین سزا دیے جانے پر تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے اور سویڈن کی حکومت کو چاہیے کہ یہ مجرمانہ فعل انجام دینے والے کو اسلامی ملکوں کی عدالتوں کے حوالے کرے۔
امام (خمینی) رحمت اللہ علیہ کے موقف کو بالکل صاف اور واضح انداز میں جیسا کہ خود انھوں نے کہا ہے اور جیسا کہ خود انھوں نے لکھا ہے بیان کیا جانا چاہئے، یہی امام (خمینی) کی راہ اور امام (خمینی) کے نشان قدم کا معیار اور انقلاب کا صراط مستقیم ہے، ان کی اور ان کی خوشامد کے لئے امام (خمینی) کی بعض حقیقی موقفوں کا انکار یا چھپانے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے، بعض لوگ اس طرح کی فکر رکھتے ہیں اور یہ فکر غلط ہے کہ اس طرح امام (خمینی) کے پیروکاروں کی تعداد زیادہ ہوجائے گی، وہ لوگ جو امام (خمینی) کے مخالف ہیں وہ لوگ بھی امام کے دوست بن جائیں گے، ہم کو چاہئے کہ امام کے بعض صاف و صریح موقف مخفی رکھیں یا ان کو بیان نہ کریں اور کمرنگ یا ہلکا کردیں، نہیں! امام خمینی (رح) کی پہچان ، ان کی شخصیت ان ہی موقف کے ساتھ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنے صاف و صریح بیانات اور روشن و آشکار الفاظ و کلمات میں ان کو بیان فرمایا ہے۔ یہی باتیں تھیں کہ جس نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا، امام خمینی کو صاف و صریح طور پر بیچ میدان میں لانا اور استکباری قوتوں کے خلاف ان کے موقف کو، جمود کے خلاف ان کے موقفوں کو، مغرب کی لبرل جمہوریت کے خلاف ان کے موقفوں کو اور منافقین یا دوہرے چہرے والوں کے خلاف ان کے موقفوں کو صاف و صریح بیان کرنا چاہئے، وہ لوگ جو اس عظیم شخصیت سے متاثر ہوئے ہیں انھوں نے ان پالیسیوں کو دیکھا اور ان کو قبول کیا ہے۔
امام خامنہ ای
04 / جون / 2010
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک کے دینی مدارس اور 'حوزہ علمیہ' (اعلی دینی تعلیمی و تحقیقی مراکز) سے تعلق رکھنے والے علما، طلبا اور مبلغین سے خطاب کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں تبلیغ کی موجودہ صورت حال، ضرورتوں، تقاضوں اور شرایط پر روشنی ڈالی۔ آپ نے مبلغین کو اہم ہدایات دیں۔ (1)
خطاب حسب ذیل ہے؛
وہ لوگ جو خود اسلام کی پہچان نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی تہہ دل سے اس طرح کا اسلام چاہتے تھے، مغرب کی طاغوتی حکومتوں کے خلاف پیٹھ دکھانے یا انہیں نظرانداز کرنے تک کی جراٴت نہیں رکھتے تھے، آج ادھر ادھر کہتے پھرتے ہیں کہ عوام کو 'ریفرنڈم' میں ’’اسلامیہ جمہوریہ‘‘ کی شناخت نہیں تھی! یہ لوگ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کیسے پہچان نہیں تھی؟ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ عوام اگر نہیں جانتے تھے تو کس طرح مسلط شدہ آٹھ سالہ جنگ کو قربانیاں دے کر آگے لے گئے؟ عوام خوب جانتے تھے کہ وہ کیا چاہتے ہیں! اور آج بھی خوب جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں! یہ اقدار و معیارات جو معاشرے میں رائج ہیں اور اسلامی نظام کا ستون ہیں اولاً ان کو یکجا طور پر قبول کرلینا چاہئے کیونکہ اگر ان میں سے بعض کو قبول کرنا چاہیں اور بعض کو قبول نہ کریں تو یہ کام ناقص ہوگا ثانیاً یہ کہ خود انقلاب مثبت تغیر اور آگے بڑھتے رہنے کو کہتے ہیں۔ روز بروز غلط راہ و روش کی اصلاح ضروری ہے ، ہر روز ایک نیا قدم اٹھانا چاہئے تاکہ نتیجے تک پہنچ سکیں۔
امام خامنہ ای
12 / مئی / 2000
آپ نے یہ حدیث تو بارہا سنی ہے، البتہ انسان جب احادیث کو سنے تو ضروری ہے کہ اس کے رخ کو سمجھنے کی کوشش کرے، اسے علم ہونا چاہئے کہ اس کا رخ کیا ہے، کس چیز کی جانب رخ ہے۔ ہارون حج کے سفر پر جاتا ہے۔
جب وہ مدینے پہنچتا ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حرم میں داخل ہوتا ہے تو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اس کی خلافت کی بنیاد صحیح ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخاطب کرکے کہتا ہے؛ "السلام علیک یابن عمّ" درود ہو آپ پر اے چچا زاد بھائی!
ظاہر ہے کہ چچیرے بھائی کی خلافت چچیرے بھائی کو ملے گی، دور کے رشتہ داروں کو تو نہیں ملے گی۔ یہ بالکل فطری بات ہے۔ بالکل واضح ہے۔ چچا زاد بھائی قریبی ہوتا ہے۔
مجھے نہیں پتہ کہ آپ جانتے ہیں یا نہیں کہ بنی عباس کا بھی ایک سلسلہ ہے بنی علی کی مانند۔ ہم کہتے ہیں کہ امام موسی ابن جعفر نے امام صادق سے حاصل کیا، انھوں نے امام باقر سے، انھوں نے امام سجاد سے، انھوں نے امام حسین سے، انھوں نے امام حسن سے اور انھوں نے علی ابن ابی طالب علیہم السلام سے اور انھوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے۔ بنی عباس نے بھی روایتوں کے لئے اپنا ایک سلسلہ تیار کر لیا تھا۔ کہتے تھے کہ منصور نے عبد اللہ سفاح ابو العباس سے حاصل کیا، اس نے اپنے بھائی ابراہیم امام سے، اس نے اپنے والد محمد سے اور اس نے اپنے والد علی سے اور اس نے اپنے والد عبد اللہ سے اور اس نے اپنے والد عباس سے اور عباس نے پیغمبر اکرم سے! انھوں نے اپنے لئے یہ سلسلہ تیار کر لیا تھا اور وہ خود کو امامت و خلافت کا حقدار ظاہر کرتے تھے۔
ہارون اسے ثابت کرنے کے لئے کہتا ہے؛ "السلام علیک یابن عمّ" امام موسی ابن جعفر حرم میں موجود ہیں۔ آپ نے جیسے ہی سنا کہ ہارون نے "السلام علیک یابن عمّ" کہا ہے آپ نے بلند آواز میں کہا؛ "السلام علیک یا اباہ"(بحارالانوار، علّامه محمّد باقر مجلسی، جلد 48، صفحہ 135 اور 136) سلام ہو آپ پر اے پدر! یعنی آپ نے فورا ہارون کو دنداں شکن جواب دیا کہ تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ رسول کے چچازاد بھائی ہو لہذا خلافت تمہارا حق ہے تو میں رسول کا فرزند ہوں۔ اگر معیار یہ ہے کہ چچازاد بھائی کی حلافت قربت اور رشتہ داری کی وجہ سے چچازاد بھائی کو ملتی ہے تو پھر اپنے والد کی میراث یعنی خلافت و ولایت کا زیادہ حقدار میں ہوں۔ امام خامنہ ای،
کتاب ھمرزمان حسین
عدل و انصاف کی برقراری کے میدان میں امیرالمؤمنین کی حکومت مظلوم کی حمایت، ظالم سے مقابلے اور ہر حالت میں حق کی طرفداری اور پشتپناہی کے لئے بہترین نمونہ عمل ہے، جس کی پیروی کرنا چاہئے، اس پر قدامت کی مہر بھی نہیں لگائی جاسکتی، دنیا کے مختلف علمی اور معاشرتی تمام حالات میں انسانوں کی سعادت و کامرانی کے لئے اس کو نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے، ہم یہ نہیں کہتے کہ اُس زمانے کے ادارہ جاتی طریقوں کی تقلید کریں اور کہیں یہ سب کچھ زمانے کے تغیرات کا حصہ ہیں، مثال کے طور پر روز بروز نئے نئے طریقے ایجاد ہوتے رہتے ہیں (بلکہ) ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس حکومت کی پالیسیاں جو تا ابد زندہ ہیں اُن کی پیروی کریں، مظلوم کی حمایت ہمیشہ باقی رہنے والی درخشاں اقدار میں ہے، ظالم کے ساتھ ہاتھ نہ ملانا زر و زور کے بندوں سے رشوت قبول نہ کرنا اور حق و حقیقت پر ڈٹے رہنا وہ معیارات ہیں جو دنیا میں کبھی بھی قدیم اور کہنہ نہیں ہوسکتے، مختلف حالات و کیفیات اور ماحول میں ہمیشہ یہ خصوصیات قدر و قیمت کے حامل رہے ہیں، ہم کو ان کی پیروی کرنا چاہئے، اصول یہ چیزیں ہیں۔ یہ جو ہم کہتے ہیں اصول پسند حکومت، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے جاوداں اقدار جو کبھی کہنہ نہیں ہوتے اس کے پیرو اور پابند رہیں۔
امام خامنہ ای
07 / دسمبر / 2001
عید قربان سے لیکر عید غدیر تک کا وقت در اصل ایک ایسا دورانیہ ہے جو امامت کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ خداوند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: «و اذ ابتلى ابراهيم ربّه بكلمات فأتمّهنّ قال انّى جاعلك للنّاس اماما» (اور جب ابراہیم کا ان کے پروردگار نے کچھ کلمات کے ذریعے امتحان لیا اور انہوں نے اس آزمائش کو مکمل کیا تو ان سے کہا: میں تمہيں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں-بقرہ 124) ابراہیم کو خداوند عالم نے امامت کے منصب پر فائز کیا۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے سخت امتحان کامیابی سے مکمل کیا تھا۔ اس کی ابتداء، عید الاضحی کے دن کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ غدیر کا دن آن پہنچا کہ جو امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کی امامت کا دن ہے۔ یہ بھی سخت امتحانات کے بعد ممکن ہوا ہے۔ امیر المومنین علیہ السلام نے اپنی پوری با برکت زندگی امتحانوں میں گزاری ہے اور ان سب امتحانوں میں کامیاب رہے ہيں۔ تیرہ یا پندرہ برس کی عمر سے، نبوت کی تصدیق سے لیکر، لیلۃ المبیت تک کہ جب آپ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خاطر اپنی جان کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور قربانی کے اس جذبے کی عملی شکل آپ نے پیغمبر اعظم کی ہجرت کے موقع پر پیش کی اور اس کے بعد بدر و احد و حنین و خیبر اور دیگر مواقع پر آپ نے بڑے بڑے مراحلے سر کئے۔ یہ عظيم عہدہ، انہی امتحانوں میں کامیابی کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید الاضحی اور عید غدیر کے درمیان ایک قسم کا رابطہ سا محسوس ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اسے عشرہ امامت کا نام دیتے ہيں اور یہ مناسب بھی ہے۔
امام خامنہ ای
25 نومبر 2009
مسئلۂ مہدویت کے سلسلے میں ایک بات یہ ہے کہ اسلامی آثار میں شیعہ کتابوں میں حضرت مہدی موعود (عج) کے ظہور کے انتظار کو انتظار فرج سے تعبیر کیا گيا ہے، اس فرج کا کیا مطلب ہے؟ فرج یعنی گرہیں کھولنے والا۔ انسان کب کسی گرہ کھولنے والے کا انتظار کرتا ہے؟ کب کسی فرج کا منتظر ہوتا ہے؟ جب کوئی چیز الجھی ہوئی ہو، کہیں کوئی گرہ پڑ گئی ہو، جب کوئی مشکل پھنسی ہوئی ہو، کسی مشکل کی موجودگي میں انسان کو فرج یعنی گرہ کھولنے والے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اپنے ناخن تدبیر کے ذریعے الجھی ہوئی گرہ کھول دے۔ کوئی ہو جو مشکلوں اور مصیبتوں کے عقدے باز کر دے۔ یہ ایک بڑا ہی اہم نکتہ ہے۔
انتظار فرج کا مطلب یا دوسرے الفاظ میں ظہور کا انتظار یہ ہے کہ مذہب اسلام پر ایمان اور اہلبیت علیہم السلام کے مکتب پر یقین رکھنے والا حقیقی دنیا میں موجود صورتحال سے واقف ہو، انسانی زندگي کی الجھی ہوئی گرہ اور مشکل کو جانتا ہو، حقیقت واقعہ بھی یہی ہے۔ اس کو انتظار ہے کہ انسان کے کام میں جو گرہ پڑی ہوئي ہے، جو پریشانی اور رکاوٹ ہے وہ گرہ کھل جائے اور رکاوٹ برطرف ہو جائے، مسئلہ ہمارے اور آپ کے ذاتی کاموں میں رکاوٹ اور گرہ پڑجانے کا نہیں ہے امام زمانہ علیہ الصلوۃ و السلام پوری بشریت کی گرہ کھولنے اور مشکلات برطرف کرنے کے لئے ظہور کریں گے اور تمام انسانوں کو پریشانی سے نجات دیں گے، انسانی معاشرے کو رہائی عطا کریں گے بلکہ انسان کی آئندہ تاریخ کو نجات بخشیں گے۔
امام خامنہ ای
17 / اگست / 2008
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ہفتہ عدلیہ کے موقع پر اس ادارے کے سربراہ، ججوں، عہدیداروں اور کارکنان سے ملاقات میں اس ادارے کی ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کی۔ 27 جون 2023 کو اپنے خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی نے کرپشن کے موضوع پر عدلیہ کی طرف سے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ (1)
خطاب حسب ذیل ہے:
طاغوتی نظام اور اُس سے قبل کی حکومتیں بھی ایران میں عوامی حکومتیں نہیں تھیں، عوام کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے، ایک شخص انگریزوں کی مدد سے (اقتدار میں) آگیا تھا، تہران میں فوجی بغاوت کردی تھی اور خود کو بادشاہ کا نام دے دیا تھا، بعد میں بھی جب وہ ایران سے جارہا تھا یعنی جب اس کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ وہ بوڑھا ہوچکا تھا اور ان کے کام کا نہیں رہ گیا تھا، اس نےاپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنا دیا، آخر یہ بیٹا کون ہے؟ اور کیا ہے؟ پھر عوام کس کام کے ہیں؟ اور ان کی رائے کا کیا ہوا؟ سرے سےاس کا کوئی ذکر نہیں تھا، اس سے پہلے بھی قاجاری حکمراں تھے، ایک فاسق شخص مرتا تھا، دوسرا فاسق شخص اس کی جگہ لے لیتا تھا، عوام الناس حکومت کے تعین اور انتظام میں کوئی دخل نہیں رکھتے تھے، پوری طرح عضو معطل تھے، عوام ان کو پسند نہیں کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ حکومت ان کےاختیار میں ہو، حکومت ان کے ذریعے اقتدار میں آئے، ان کی رائے اس میں موثر ہے۔
امام خامنہ ای
12 / مئی /2000
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے 25 جون 2023 کو بعض شہدا کے لواحقین سے ملاقات میں ملک کی حفاظت و پیشرفت میں شہدا کے کردار پر روشنی ڈالی اور شہیدوں کے لواحقین کے مقام و مرتبے کو بیان کیا۔
خطاب حسب ذیل ہے۔
کبھی کچھ مذاق اڑایا جانا اور توہین کیا جانا بڑے بڑے آدمیوں کو لاچار بنادیتا ہے اور اس طرح وہ نہ چاہتے ہوئے بھی جماعت کے ہمرنگ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت بڑی طاقتیں اپنے ہاتھ ان کے دلوں پر رکھ دیتی ہیں، چھپ کر قہقہہ لگاتی ہیں کہ ان کا کام ہو گيا اور انھوں نے راستے کی رکاوٹوں کو ہٹادیا۔ فلاں انقلابی تحریک کا اس قدر مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ صاف صاف لفظوں میں اپنے انقلابی نعروں اور اہداف و مقاصد سے دستبردار ہوجائے، ان میں شک کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ یہ وہ منزل ہے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ماننے والے ایک شیعہ کو آپ کی شجاعت سے سبق لینا چاہئے۔ "لاتستوحشوا فی طریق الھدی لقلۃ اھلہ" راہ ہدایت میں افراد کی کمی سے وحشت زدہ نہ ہوں، گھبرائیں نہیں، دشمن منھ پھیر لے اور روگرداں ہوجائے تو تنہائی کا احساس نہ کیجئے، جو کچھ آپ کے پاس ہے اس پر دشمن کے مذاق اڑانے سے آپ کا ایمان کمزور نہ ہو کیونکہ وہ بڑا ہی قیمتی گوہر ہے، کبھی تمام نہ ہونے والے اس خزانے کو خود اپنے ملک کے اندر آپ نے کشف کیا ہے اور اسلام تک پہنچے ہیں، آزادی و خود مختاری حاصل کی ہے اور خود کو بیرونی قوتوں کے پنجوں سے آزاد کیا ہے۔
امام خامنہ ای
14 / ستمبر / 1984
وہ تمام چھوٹے بڑے ادارے جو دنیا میں مختلف عنوانوں سے پائے جاتے ہیں اور کمین میں بیٹھے ہیں کہ کسی گوشے میں ان ممالک میں کہ جن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کسی بھی سبب اچھے نہیں ہیں، کبھی کوئی مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے تو فورا بھونپو بجانا شروع کر دیتے ہیں کہ وہاں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں، آخر کیوں اپنے ہونٹ سیے، خاموش بیٹھے ہیں، بشریت کے دشمن خبیث صہیونیوں کی غاصب حکومت دسیوں افراد کو مار ڈالتی ہے اور سیکڑوں افراد کو مجروح کر دیتی ہے اور انسانی حقوق کے جو محافظ ادارے ہیں گلا گھونٹے خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کہتے!! زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ کہہ دیا جاتا ہے فلاں ادارے نے اس کی مذمت کی ہے؛ ’’مذمت کی ہے‘‘ کا کیا مطلب؟ یہ جملہ جو مذمت میں کہہ دیا فلسطینیوں کے کس کام کا ہے؟ یہ ادارے جو انسانی حقوق کی بحالی کے دعویدار ہیں اگر سچ کہہ رہے ہیں تو ان کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے تھا، پوری دنیا میں شور و ہنگامہ مچانا چاہئے تھا۔ یقینا ہماری باوقار ملت نے ہمیشہ اپنے موقف کا اعلان کیا ہے اور کوئی یہ نہ کہے کہ اس کا کیا فائدہ ہے؟! ان مواقف (اور مخالفتوں) کا اعلان بہت اہم دباؤ ہے، جو غاصب حکومت پر پڑتا ہے، دنیا کے کسی بھی کونے سے یہ آواز کیوں نہ بلند ہوئی ہو غاصب دہل اٹھتا ہے۔
امام خامنہ ای
04 / مارچ / 1994
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے محکمہ ایٹمی صنعت کے اعلی عہدیداروں، سائنسدانوں اور ماہرین سے خطاب میں ایٹمی صنعت کے گوناگوں ثمرات و فوائد، ملک کے اندر اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ 11 جون 2023 کو اپنے اس خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاہدے اور آئی اے ای اے سے تعاون کے سلسلے میں اہم نکات پر تاکید کی۔ (1)
خطاب حسب ذیل ہے۔
(جناب) جابر نے (حدیث کا یہ حصہ) امام باقر علیہ السلام سے روایت کیا ہے ’’وَالزَّکاۃُ تزیدُ فی الرِّزقِ‘‘ مسئلہ بظاہر ہماری مادی نگاہ میں یہ ہے کہ جس وقت ہم زکات نکالتے ہیں، یعنی صدقہ کے طور پر ایک رقم الگ کرتے ہیں در اصل اپنی چیز میں کچھ کمی کرتے ہیں، لیکن مسئلے کا باطنی پہلو یہ نہیں ہے بلکہ حقیقت مسئلہ یہ ہے کہ زکات رزق میں اضافہ کرتی ہے اور یہ بھی اس معنی میں ہے کہ زکات نکالنے کا قدرتی اثر یہ ہوتا ہے کہ خداوند متعال اس کا بدلا انسان کو بھلائی کی صورت میں دیتا ہے اور رزق کو بڑھا دیتا ہے، اس سے زیادہ وسیع نگاہ سے جب انسان دیکھتا ہے، ذرا وسیع معنی میں جس وقت معاشرے میں زکات نکالنے کے لوگ عادی ہو جاتے ہیں تو اقتصاد میں رونق آ جاتی ہے اور جب اقتصاد میں رونق پیدا ہو جائے عوام کے تمام طبقے، ہر طرح کے لوگ اس سے بہرہ مند ہوتے ہیں، دوسرے لفظوں میں عبادت کا اصل مضمون یہ بھی ہو سکتا ہے، اس کے بعد فرمایا ہے کہ روزہ بھی اور حج بھی سکون دل کا سرچشمہ ہے، دل کا سکون خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، ’’سکینہ‘‘ یعنی دل کا سکون و آرام، یہ آرام جاں وہی چیز ہے جس کے اولیائے خدا حامل تھے اور بے شمار سختیوں اور مشکلات میں ان کی روح و جان کو آرام و سکون حاصل رہتا ہے۔
امام خامنہ ای
03 / فروری/ 2019
اسلامی انقلاب کے بانی اور اسلامی جمہوریہ کے معمار امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی چونتیسویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ 4 جون 2023 کو اس مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینی کے روضے میں عقیدتمندوں کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں امام خمینی کو پوری تاریخ ایران کی سب سے عظیم شخصیت قرار دیا اور آپ کے ذریعے ایران، عالم اسلام اور دنیا کی سطح پر پیدا کی جانے والی تبدیلیوں کی تشریح کی۔ آپ نے ایمان اور امید کو امام خمینی کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔ (1)
خطاب حسب ذیل ہے۔
اعلی ترین شکل اور کامل ترین طریقہ زندگی پر گامزن وہ انسان ہے جو خدا کی راہ پر چل سکے اور اپنے خدا کو خود سے راضی رکھ سکے، خواہشیں اس کو اپنا اسیر نہ بنا سکیں، مادی انسان جو خواہشات، غضب نفسانی، ہوا ؤ ہوس اور اپنے جذبات و احساسات کا قیدی بن جائے ایک حقیر انسان ہے، چاہے وہ ظاہر میں کتنا ہی بڑا نظر آتا ہو اور صاحب مقام و منصب ہو۔ استغفار آپ کو اس حقارت سے نجات دلا سکتا ہے، استغفار آپ کے دل کی سیاپہوں کو ہٹا کر وہ نورانیت جو اللہ نے آپ کو عطا کی تھی دل کو صاف و منور کر دیتا ہے، ہر انسان نورانی ہے حتی وہ انسان جو خدا سے کوئی رشتہ اور آشنائی نہیں رکھتا، اپنی حقیقت اور جوہر میں نورانیت رکھتا ہے، البتہ معرفت نہ ہونے کے سبب گناہ اور خواہشات نے صفحہ دل کو زنگ آلود کر دیا ہے۔ استغفار اس زنگ کو صاف کر دیتا ہے اور پھر سے نورانیت بخش دیتا ہے۔
امام خامنہ ای
31/جنوری/1997
فلسطین کا مسئلہ اسلامی لحاظ سے تمام مسلمانوں کے لئے ایک بنیادی مسئلہ اور ایک فریضہ ہے، تمام شیعہ، سنی علماء اور زمانہ ماضی کے قدماء نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ اگر کوئی اسلامی علاقہ اسلام دشمنوں کے تصرف (اور غاصبانہ قبضے) میں آجائے تو اس منزل میں سبھی کا فریضہ ہے کہ دفاع کریں کہ غاصبانہ قبضے میں جانے والی سرزمینوں کو واپس لے سکیں، ہر کوئی جس سے جو بھی بن پڑے ، جیسے بھی ممکن ہو دفاع کرے، فلسطین کے مسئلے میں ہر کسی کا فریضہ ہے، اسلامی سرزمین ہونے کے لحاظ سے فریضہ عائد ہوتا ہے، زمین اسلامی ہے جو اسلام دشمنوں کے قبضے میں ہے اور وہ واپس ہونا چاہئے، دوسرے یہ کہ اسّی لاکھ مسلمان جن میں کچھ آوارہ وطن ہیں اور کچھ مقبوضہ سرزمینوں میں آوارہ وطنوں سے ابتر زندگی گزار رہے ہیں، ان لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ فلسطین کا نام فراموشی کی نذر ہو جائے، لیکن آپ ایسا نہیں ہونے دیں گے، یوم قدس ایسا نہیں ہونے دے گا، امام خمینی نے اپنی فراست و تدبیر سے اس بات کی اجازت نہیں دی، یہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔
امام خامنہ ای
31/دسمبر/1999
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 24 مئی 2023 کو ارکان پارلیمنٹ سے خطاب میں مقننہ کی اہمیت، فرائض، طریقہ کار سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ آپ نے قانون سازی سے متعلق کلیدی نکات پر روشنی ڈالی اور چند اہم سفارشات کیں۔(1)
رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب حسب ذیل ہے۔
اس مذہبی جذبے نے اس انقلاب میں وہ کام کیا ہے کہ انقلاب کے دوران کمترین نقصان پیش آیا۔ وہ لوگ جنھوں نے دنیا کے مادی انقلابات خاص طور پر انقلاب اکتوبر کا مطالعہ کیا ہو اس چیز کو بہ خوبی سمجھ سکیں گے۔ انقلاب کامیاب ہو جانے کے بعد بھی جو حکومت انقلاب کی بنیاد پر وجود میں آئی ایک اسلامی حکومت تھی، ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ دائیں بازو اور بائیں بازو کی طرف نہیں مڑی بلکہ دین کی سیدھی راہ پر گامزن رہی اور اسلامی جمہوریہ بھی جب تشکیل پا گئی تو وقت گزرنے کے ساتھ اس نے دین کی راہ کو نہیں چھوڑا بلکہ آئین کی تدوین، حکام کے انتخابات اور نظام کے کارگزاروں مثلا پارلمانی اراکین اور دیگر نمائندے عوام کے ذریعے اسلامی معیارات پر کئے گئے انتخاب کی بنیاد پر چنے گئے۔ دین انقلاب کی خصوصیت تھی اور ہے، یہ خصوصیت کسی بھی انقلاب میں نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی دل میں اسلام کے لئے دھڑکنیں پائی جاتی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ اسلام پر گامزن ہے، اور کلمۂ اسلام کی سربلندی کی فکر میں ہے۔
امام خامنہ ای
09/ فروری / 1990
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایک فرمان جاری کرکے جناب علی شمخانی کو تشخیص مصلحت نظام کونسل کا رکن اور رہبر انقلاب کا سیاسی مشیر منصوب کیا۔ فرمان حسب ذیل ہے؛
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آئین کے آرٹیکل 176 کے تحت ایک فرمان جاری کرکے جناب علی اکبر احمدیان کو قومی سلامتی کی سپریم کونسل میں اپنا نمائندہ منصوب کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی کا فرمان حسب ذیل ہے؛
رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایرانی بحریہ کے فلوٹیلا86 کی بڑے مشن کی انجام دہی کے بعد کامیاب واپسی پر، اس فلوٹیلا کے بہادر کارکنوں کو مبارکباد پیش کی۔
رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام:
عازمین حج کی سرزمین وحی کے لئے روانگی سے قبل ادارہ حج کے عہدیداروں، کارکنوں اور بعض عازمین حج نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ 17 مئی 2023 کو ہونے والی اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے حج میں مضمر عمیق معانی و تعلیمات اور منفعتوں پر روشنی ڈالی اور ذمہ داریوں کے سلسلے میں ہدایات دیں۔ (1)
خطاب حسب ذیل ہے۔
آج ہم علاقوں میں امریکی پالیسیوں کی شکست کی نمایاں علامتیں اور نشانیاں دیکھ سکتے ہیں، ایک ملت ہماری ملت کی طرح جس کے پاس نہ ایٹم بم ہیں نہ علمی لحاظ سے اس کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ سو سال کی تاریخ میں علمی قافلوں کی طرح اگلی صفوں میں چلنے والوں کے قدم سے قدم ملاکر چل سکے اور بہت سے مواقع پر پسماندگی کا شکار رہی ہے، دولت و ثروت کے لحاظ سے بھی سرمایہ دار ملکوں تک نہیں پہنچتی لیکن ان سب باتوں کے باوجود یہ ملک؛ یہ قوم بڑی طاقتوں پر مشتمل ان ملکوں کی مجموعی سازشوں کو جو اسلحوں ٹکنالوجیوں، مادی دولت و ثروت اور ذرائع ابلاغ کے مالک ہیں اہم ترین میدانوں میں پسپائی پر مجبور کرنے اور ناکام بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کا سبب کیا ہے؟ یہ نکتہ غور و فکر اور توجہ کا طالب ہے، اس مسئلے کا سیاسی اور معاشرتی علوم کے دانشوروں کو جائزہ لینا اور تجزیہ کرنا چاہئے؛ دیکھیں ان معنویتوں کے کردار کس طرح جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہ چیز آج ایمان میں نمایاں ہے، لہذا اس پر اٹھنے والی نگاہ عبرت انگیز و سبق آموز ہے، یہ منظر امریکہ کی استکباری قوت کی شکست و ریخت کا منظر ہے۔
امام خامنہ ای
14/ ستمبر /2007
امام جعفر صادق علیہ السلام زندگی کے آخری لمحات میں اپنے وصی سے فرماتے ہیں کہ 'لیس منی من استخف الصلاۃ' جو نماز کو غیر اہم قرار دے اس کا ہم سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ 'استخفاف' کا مطلب ہے کم اہمیت سمجھنا، ہلکا تصور کرنا۔ اتنی خصوصیات اور اثرات والی نماز میں انسان کا کتنا وقت صرف ہوتا ہے؟ واجب نمازیں، یہ سترہ رکعتیں اگر انسان پوری توجہ اورغور و فکر کے ساتھ پڑھے تو زیادہ سے زیادہ چونتیس منٹ درکار ہوں گے اور ممکن ہے کہ اس سے کم ہی وقت صرف ہو۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم ٹیلی ویزن دیکھنے بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی دلچسپ پروگرام آنے والا ہے لیکن اس سے پہلے ایڈ اور اشتہارات آتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا، پندرہ بیس منٹ تک، اور یہ پورے کے پورے بے فائدہ نظر آتے ہے لیکن ہم بیس منٹ صرف کر دیتے ہیں اپنے اس پسندیدہ پروگرام کو دیکھنے کے لئے۔ تو ہماری زندگی میں بیس منٹ کی وقعت یہ ہے۔ ٹیکسی کا انتظار کر رہے ہیں، بس کے انتظار میں کھڑے ہیں، کہیں جانا ہے اور کسی دوست کا انتظار کر رہے ہیں، کبھی کلاس میں استاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں، کبھی خطیب تاخیر کر دیتا ہے اور ہم مجلس میں اس کا انتظار کرتے ہیں، اس انتظار میں دس، پندرہ، بیس منٹ گزر جاتے ہیں۔ تو پھر نماز جیسے عظیم عمل کے لئے اگر ہم بیس، پچیس یا تیس منٹ صرف کریں تو کون سا ضیاع وقت ہے؟!
امام خامنہ ای
19 نومبر 2008
امام صادق علیہ الصلاۃ و السلام نے اپنے شاگرد سے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس بیش قیمتی ہیرا ہو تو ساری دنیا کہتی رہے کہ یہ پتھر ہے، مگر چونکہ تمہیں علم ہے کہ یہ ہیرا ہے تم دنیا والوں کی بات کا اعتبار نہیں کروگے۔ اسی طرح اگر تمہارے ہاتھ میں پتھر ہے اور ساری دنیا کہتی رہے کہ یہ قیمتی ہیرا ہے تو تم دنیا کی بات نہیں سنوگے کیونکہ تمہیں علم ہے کہ وہ پتھر ہے۔
جب بیش قیمتی جواہرات آپ کے پاس ہیں تو ساری دنیا کہتی رہے کہ یہ تو بے وقعت شئے ہے، آپ کا علم یہی کہے گا کہ نہیں یہ بہت قیمتی شئے ہے۔ ہماری قوم کو علم ہے، وہ سمجھ چکی ہے، اسی لئے ثابت قدمی سے ڈٹی ہوئی ہے۔
امام خامنہ ای
13 فروری 2004
آئی آر آئی بی نامہ نگار: سلام عرض ہے۔ مزاج گرامی
آپ اقتصادی مسائل کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک عملی اقدام کے طور پر آپ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی تہران بک فیئر میں تشریف لائے۔
اگر ممکن ہو تو یہ فرمائيں کہ ہماری ثقافت میں کتاب کا مقام کیا ہے؟ اور کتاب ثفافت کے ارتقا میں کیا مدد کر سکتی ہے؟
میرے عزیز جوانو! اور بچو! آپ سب کے سب اپنے ملکوں میں ایک کردار کے حامل بن سکتے ہیں۔۔۔ دینی مسائل، ثقافتی مسائل، سیاسی مسائل یا اخلاقی مسائل کے موضوع پر اپنے ارد گرد کے ماحول میں اچھے مستقبل کی فکر سرور و نشاط اور امید و اطمینان کی فضا ایجاد کرنے نیز اطاعت و بندگی اور شریعت اسلامی کی پابندی کی راہ میں جو افراد اور معاشرے کی سربلندی کا بہت بڑا سرمایہ ہے، مجاہدت کر سکتے ہیں، آپ سب مدرسوں میں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں، اپنے دفتروں اور کاروباری مرکزوں میں کردار ادا کر سکتے ہیں، ایک بیدار و آگاہ، پر نشاط و پر امید، پاکیزہ دامن جوان، ایک تاریخ کا پاسباں بن سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صیہونیوں ، سامراجی طاقتوں اور دنیا پر مسلط کمپنیوں نے دنیا کے مختلف ملکوں کے جوانوں پر برسوں کام کیا ہے اور تلاش و کوشش کی ہے کہ شاید وہ جوان نسلوں کو خراب کرنے میں کامیاب ہو جائیں، اُن کے عزم و ہمت اور امید و اطمینان کو ان سے سلب کر لیں، اُن کے مستقبل کو ان کی نگاہوں میں تیرہ ؤ تار کردیں وہ سب اپنے مستقبل کی طرف سے مایوس ہوجائیں اور ان کو اخلاقی اور اعصابی مشکلات سے دوچار کر دیں جو کچھ آپ دنیا میں دیکھ رہے ہیں کوئی اتفاقی چیز نہیں ہے۔
امام خامنہ ای
30/ اکتوبر /1998
معروف مفکر و مصنف اور عظیم دانشور و عالم دین شہید مرتضی مطہری کے یوم شہادت کی مناسبت سے ایران میں منائے جانے والے یوم استاد کے موقع پر ملک کے اساتذہ اور ٹیچروں نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ 2 مئی 2023 کو ہونے والی اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے استاد، تعلیم، تربیت، ادارہ تعلیم و تربیت اور تعلیمی شعبے میں اصلاحات کی دستاویز جیسے موضوعات پر اہم گفتگو کی۔ (1)
خطاب حسب ذیل ہے :
سالہا سال کی مسلسل شخصی اور استبدادی حکومتوں نے ہماری قوم کو ایک لات زبوں حال اور نکمی قوم میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ قوم جو خداداد صلاحیتوں اور ممتاز قسم کی غیر معمولی اجتماعی عادتوں کی حامل ہے، ایک ایسی قوم جس کو اسلام کے بعد تاریخ کے طویل دور میں اس قدر سیاسی افتخارات کے ساتھ اس قدر علمی افتخارات حاصل رہے، ایک کمزور و ناتواں رسوا قوم میں تبدیل ہوگئی، بیرونی طاقتوں نے ایک مدت تک انگریزوں نے، ایک مدت روسیوں نے اور ایک مدت امریکیوں نے اور بعض مقامات ان کے گوشہ ؤ کنار میں بعض دوسری یورپی حکومتوں نے ہماری قوم کو ذلیل و خوار کر رکھا تھا۔۔۔ ہمارے عزیز ( و ناقابل شکست) امام (خمینی) رضوان اللہ تعالی علیہ نے ملت ایران کی خوابیدہ غیرت اور قومی غرور و افتخار کو بیدار کردیا۔۔۔، ہمارے عوام اب محسوس کرتے ہیں کہ وہ اتنی قوت و توانائی رکھتے ہیں کہ مشرق و مغرب کی مسلط کردہ پالیسیوں اور زبردستیوں کے مقابلے میں کھڑے رہ سکتے ہیں، یہ عزت و خود اعتمادی کی روح، قومی غرور، حقیقی اور اصلی افتخارات کی روح ہمارے امام نے ہماری ملت کے اندر بیدار کردی ہے۔
امام خامنہ ای (دام ظلہ)
14/ جولائی /1989
بسم اللہ الرّحمن الرّحیم. و الحمد للہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابیالقاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الطّیّبین الطّاھرین المعصومین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین.(1)
آپ سب کو بہت بہت خوش آمدید عرض کرتا ہوں۔ ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ ہماری لیبر سوسائٹی، جس کا چھوٹا سا نمونہ آپ لوگ ہیں، اس گلستان کا گلدستہ ہیں، ہمیشہ خدا کے لطف و کرم آپ کے شامل حال رہے اور آپ ملک کو روز بروز فیضیاب کرتے رہیں۔ اگر لیبر سوسائٹی پیشرفت کرے، اس کے مسائل حل ہو جائيں، وہ علمی، فکری اور روزگاری پیشرفت حاصل کر لے تو یقینا ملک کو ترقی حاصل ہوگي اور قوم کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملے گي۔
محترم وزیر کی باتیں اہم تھیں، ان کے بیان میں، بعد میں کیے جانے والے کاموں سے متعلق جو حصہ تھا، ان شاء اللہ اس کے بارے میں کوشش کریں، انھیں دیکھتے رہیں، یقینا نتیجہ خیز ہوں گے، ان شاء اللہ۔ جس حصے میں انھوں نے کہا کہ کام انجام پا چکے ہیں، اس میں اہم نکات تھے میں نے توجہ سے سنا۔ میں مرتضوی صاحب سے جس چیز کی درخواست کرنا چاہتا ہوں – چونکہ ان کے کام کا ریکارڈ اچھا ہے، پہلے جن جگہوں پر انھوں نے کام کیا تھا، وہاں اچھا کام کیا تھا – یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار پر گہری توجہ رکھیں، خاص طور پر بعض اہم شعبوں پر، جیسے روزگار کی فراہمی کا مسئلہ۔ مختلف حکومتوں میں کچھ کام ہوتے تھے، اعداد و شمار پیش کیے جاتے تھے، پھر جب انسان ان پر غور کرتا تھا تو ان میں تساہلی نظر آتی تھی، یہ کوشش کریں کہ ایسا نہ ہو، جیسے انشورنس کا مسئلہ، روزگار کا مسئلہ، ہاؤسنگ کا مسئلہ، جن چیزوں کا انھوں نے ذکر کیا وہ واقعی بہت اہم ہیں، کافی اہم ہیں۔ دھیان رکھیں کہ اعداد و شمار ایک دم صحیح ہوں، کیونکہ خود عہدیدار، خود وزیر تو ایک ایک کام نہیں دیکھ سکتا بلکہ اسے رپورٹ دی جاتی ہے۔ توجہ رکھیں کہ اعداد و شمار بالکل صحیح ہوں۔ جن کاموں کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ انجام پائے ہیں، اگر وہ واقعی انجام پائے ہیں تو بڑے قدم اٹھائے گئے ہیں اور واقعی یہ غنیمت ہے۔ ایسا کام کیجیے کہ ملک کے مزدوروں کی یہ بڑی تعداد، یہ ہمارے عزیز بھائي اور عزیز بہنیں، خوش ہو جائیں، ان کی حوصلہ افزائي ہو۔
اب آتے ہیں اس چیز کی طرف جو میں نے عرض کرنے کے لیے تیار کی ہے۔ یہ نشست جو ہر سال تشکیل پاتی ہے، اول تو یہ اس لیے ہے کہ سماج میں مزدور کی قدر و قیمت کو اونچی آواز سے بتایا جائے، جس چز کا ہمارا دل چاہتا ہے، وہ یہ ہے کہ مزدور کی قدر و قیمت کا پتہ چل جائے۔ البتہ مزدور کا مفہوم ایک بہت ہی وسیع مفہوم ہے، اس وقت میری مراد صنعتی، زرعی اور سروس کمنپیوں وغیرہ میں کام کرنے والے یہی مزدور ہیں – مجھے محققین اور یونیورسٹی کے پروفیسروں کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہنا ہے، وہ بھی ایک طرح سے مزدور ہیں لیکن فی الحال وہ میرے مدنظر نہیں ہین – یہی آپ لوگ اور ملک کی لیبر سوسائٹی میرے مدنظر ہے۔ اس سوسائٹی کی قدر سمجھی جانی چاہیے۔ میرا اصرار ہے کہ یہ کام ہونا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ ہمارے ذہن میں کچھ باتیں اور نصیحتیں آتی ہیں جنھیں ہم عہدیداران سے بھی اور خود عزیز مزدوروں سے بھی عرض کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان شاء اللہ لیبر سوسائٹی کو آگے لے جا سکیں۔
روزگار، مزدور اور مزدوروں کے سلسلے میں ہم سب کی جو ذمہ داریاں ہیں، ان کے بارے میں کچھ باتیں میں عرض کروں گا۔
سب سے پہلے تو یہ کہ ہم مزدور کی اہمیت کس طرح سے سمجھیں؟ کام کی اہمیت سے۔ معاشرے میں کام کی کیا اہمیت ہے؟ کام کی اہمیت سے مزدور کی اہمیت بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ کام، معاشرے کی حیات ہے، کام، لوگوں کی زندگي کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کام نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کھانا ہم کھاتے ہیں، جو لباس ہم پہنتے ہیں، وہ وسائل جنھیں ہم اپنی زندگي میں استعمال کرتے ہیں اور ہماری زندگي ان سے وابستہ ہے، ان سب کا سرچشمہ کام ہے۔ کام کون کرتا ہے؟ مزدور۔ تو مزدور کی اہمیت کیا ہے؟ مزدور کی اہمیت، معاشرے کی حیات کی اہمیت جتنی ہے، لوگوں کی زندگي جتنی ہے، یہ بات سبھی جان لیں، یہ بات سبھی سمجھ لیں۔ خود مزدور بھی اس نکتے پر توجہ دیں، اپنی قدر و قیمت سمجھیے میں اپنی گفتگو کے آخر میں اس قدردانی کے بارے میں بھی کچھ عرض کروں گا۔
اگر معاشرے میں کام نہ ہو تو یہ پورے کا پورا قومی سرمایہ ٹھپ پڑا رہے گا۔ ہمارے یہاں کانیں ہیں، وسائل ہیں، زمین ہے، پانی ہے، اگر کام ہو تو یہ ساری چیزیں برکت کا سر چشمہ ہوں گي، کانوں سے معدنیات نکالی جائيں گي، پانی اور مٹی کو استعمال کیا جائے گا، زندگي آگے بڑھتی رہے گي۔ اگر کام نہ ہوا تو یہ ساری صلاحتیں مردہ اور بےکار رہ جائيں گي۔ کام، صلاحیتوں کو نکھارتا ہے، یہ کام کی اہمیت ہے۔ جب ہم نے کام کی اہمیت کو سمجھ لیا تو یہ واضح ہو جائے گا کہ مزدور کی کتنی اہمیت ہے۔ یہ ایک بات ہوئي۔ پہلے مرحلے میں ہم سب کو اپنے بارے میں، مزدور کے بارے میں اور لیبر سوسائٹی کے بارے میں یہ شناخت ہونی چاہیے۔
جب ہم کام پیدا کرنے اور روزگار پیدا کرنے کی اہمیت کو سمجھ گئے، جسے روزگار کہا جاتا ہے، یعنی واقعی کام، بعض روزگار ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر واقعی کام نہیں ہوتا، جب اسے صرف کیا جاتا ہے تو مفید کام سامنے نہیں آتا، وہ مدنظر نہیں ہے، اگر ہم آٹھ گھنٹے، سات گھنٹے، پانچ گھنٹے، کچھ کم یا کچھ زیادہ فلاں مرکز میں جاتے اور آتے ہیں تو واقعی پانچ گھنٹے کام ہونا چاہیے، سات گھنٹے کام ہونا چاہیے، ہمیں کام پیدا کرنا چاہیے۔ کام کی پیداوار مختلف پہلوؤں سے اہم ہے: سب سے پہلے تو یہ کہ ملک کو کام کی ضرورت ہے، معاشرے کو کام کی ضرورت ہے اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا، اگر کام نہ ہو تو زندگي نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ مزدور کو اپنی زندگي چلانے کے لیے کام کی ضرورت ہے۔ تیسرے یہ کہ مزدور کو کام کی ایک روحانی اور نفسیاتی ضرورت ہے، خداوند عالم نے انسان کو اس طرح خلق کیا ہے کہ بے روزگاری اسے کاہل بنا دیتی ہے اور کام اسے نشاط عطا کرتا ہے۔ابریں کام کی ضرورت صرف زندگي گزارنے کے لیے نہیں ہے، روحانی لحاظ سے بھی ہمیں کام کی ضرورت ہے، انسان کو کام کی ضرورت ہے۔ چوتھے یہ کہ کام، بدعنوانی کو روکتا ہے، بے روزگاری بدعنوانی کی جڑ ہے۔
بہت سی بدعنوانیاں، بے روزگاری کی وجہ سے سامنے آتی ہیں۔
ہم نے آج سے کچھ سال پہلے، تین چار سال پہلے، اس وقت کی حکومت کے ساتھ سماجی مسائل کی شناخت کے لیے ایک کام شروع کیا تھا۔ یہاں تک کہ میں خود نشستوں میں شرکت کرتا تھا – کئي کئي گھنٹے کی نشستیں ہوتی تھیں – تاکہ سماجی مسائل کے بارے میں کام ہو سکے، سوچا جا سکے۔ میں خود جس نتیجے پر پہنچا، وہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے مسائل، بے روزگاری کی وجہ سے ہیں؛ نشے کی لت بے روزگاری کی وجہ سے ہے، بدعنوانی کی وجہ بے روزگاری ہے، چوری، بے روزگاری کی وجہ سے ہوتی ہے، طلاق اور گھرانے کے بکھراؤ کی وجہ بے روزگاری ہے۔ دیکھیے، وہ ادارے، جن پر کام پیدا کرنے کی ذمہ داری ہے – لیبر منسٹری پر کام پیدا کرنے کی ذمہ داری نہیں ہے، زیادہ تر دوسری وزارتوں پر کام پیدا کرنے کی ذمہ داری ہے – جان لیں کہ کام پیدا کرنا، روزگار پیدا کرنا، حقیقی معنی میں معاشرے کے لیے کتنا اہم ہے، وہ سرمایہ کاری کریں۔ یہ ایک بات ہوئي۔
ایک دوسری بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں، یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ آمدنی اور کام کے درمیان ایک براہ راست رابطہ ہو، یعنی ہمارے اس عزیز قاری نے جو یہ آیت پڑھی اس کے مطابق: لَیسَ لِلاِنسانِ اِلّا ما سَعیٰ(2) آمدنی، کوشش اور محنت سے ہونی چاہیے، کام سے ہونی چاہیے، سعی و جدوجہد سے ہونی چاہیے۔ معاشرے کو اس طرح پروان چڑھانا چاہیے، یہ بہت سخت کام ہے، اس کا کیا مطلب؟ مطلب یہ کہ بہت سی بے حساب ثروت و مال و دولت کے حصول کا طریقہ غلط ہے۔ ہمیں ملک میں بغیر محنت کے حاصل ہونے والی کثیر رقم کے کلچر کو روکنا ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ یہ کام طویل المدت اور سخت ہے لیکن اسے انجام پانا چاہیے۔ بہت سے یہ واسطے، بہت سے یہ معاملات، بہت سی یہ دلالیاں، بعض جگہوں پر یہ رشوت دینا اور رشوت لینا، ملک کے بعض معاشی شعبوں میں یہ سود خوری، یہ وی آئي پی سسٹم کہ فلاں شخص سے تعلق اس بات کا سبب بنے کہ ایک بہت ہی آسان اور بغیر کام کیے ہوئے آمدنی انسان کو حاصل ہونے لگے، یہ سب معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ آمدنی کا کام کے ساتھ سیدھا رابطہ ہونا چاہیے۔ میں نے جو کہا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کل آپ، یا سرکاری ادارے یا میں خود، یہ کام انجام دے سکیں، میں چاہتا ہوں کہ سماج میں یہ کلچر فروغ پائے: کام سے آمدنی کے رابطے کا کلچر۔ بہت سے امتیازی سلوک، بہت سے تعیش پسندانہ کام، بہت سی یہ مضر دولت و ثروت – جس کی برائي کے اثرات انسان سماج میں دیکھتا ہے اور جو لوگ سماج میں مترفین(3) کا مصداق ہیں، جس کا قرآن میں ذکر ہوا ہے(4) – ان میں سے بہت سی چیزیں اس وجہ سے ہیں کہ کام سے آمدنی اور فائدے کا رابطہ کٹ گيا ہے، کام نہیں ہے لیکن آمدنی ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔ آمدنی، کام کے سبب ہونی چاہیے۔
اگر ہم نے بدعنوانی سے جنگ کی تو ہم اس کلچر کو پھیلا سکیں گے۔ بدعنوانی سے جنگ کا مسئلہ اہم ہے۔ بدعنوانی کیا ہے؟ بدعنوانی، رشوت ہے، بدعنوانی، وی آئي پی کے نام پر کھانا ہے، بدعنوانی، سود ہے، یہ سب بدعنوانیاں ہیں، برائياں ہیں۔ ان سے جنگ میں جو بھی قدم اٹھایا جائے گا، وہ اس کلچر کے فروغ کی راہ میں ایک حقیقی قدم ہوگا، جسے میں نے عرض کیا۔ البتہ میں نے تقریبا بیس سال پہلے، بدعنوانی سے مقابلے کے سلسلے میں ایک تفصیلی تحریر لکھی تھی، سنہ دو ہزار یا دو ہزار ایک کی بات ہوگي(5) اس میں بھی میں نے کہا تھا کہ بدعنوانی سے مقابلے میں تسلسل چاہیے، ان قصے کہانیوں کے الفاظ میں کہیں تو بدعنوانی سات سروں والے ایک اژدہےکی طرح ہے کہ اگر آپ نے اس کا ایک سر کاٹ دیا تب بھی اس کے چھے سر زندہ باقی رہتے ہیں، حککام کرتے رہتے ہیں۔ یہ مقابلہ ہمہ گير ہونا چاہیے۔ اگر اسی وقت، محترم حکومتوں اور محترم عہدیداران نے اس سلسلے میں سنجیدگي سے کام کیا ہوتا تو بلاشبہہ آج ہماری پوزیشن بہتر ہوتی۔ بحمد اللہ اس بات کی امید ہے کہ عوامی حکومت اور انقلابی پارلیمنٹ، بدعنوانی سے مقابلے کے اس کام کو سنجیدگي سے آگے بڑھائے گي۔
میری عرض ہے کہ اگر ایک عہدیدار میں، داخلی بدعنوانی سے مقابلے کی ہمت نہیں ہوگي تو پھر اس میں غیر ملکی بدعنوانی سے مقابلے کی ہمت تو بالکل ہی نہیں ہوگي۔ مثال کے طور پر فلاں شخص، اجارہ داری والی تجارت سے غلط فائدہ اٹھا رہا ہے، تو اسے روکا جانا چاہیے، سخت ہے۔ فلاں شخص، بینک کے کریڈٹ سے غلط فائدہ حاصل کر رہا ہے، فلاں شخص بینک کے قرضے نہیں لوٹا رہا ہے، اس سے مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ اگر آپ یہاں مقابلہ نہیں کر سکے تو، وہاں جہاں امریکا جیسی یا کوئي دوسری منہ زور حکومت، جب اس بات پر اَڑ جائے گي کہ ایٹمی توانائي کے معاملے میں آپ کو ایسا کرنا ہوگا اور ویسا نہیں کرنا ہوگا تو آپ مقابلہ نہیں کر پائيں گے۔ جب آپ کے پاس یہاں مقابلے کی طاقت نہیں ہے تو وہاں بھی مقابلے کی طاقت نہیں ہوگي۔ بات یہ ہے۔
ایک دوسری بات، مزدور کے سلسلے میں ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔ میں ایک بار پھر کہتا ہوں: یہ باتیں جو وزیر صاحب نے یہاں کہی ہیں، بہت اچھی ہیں، یہ بڑے اہم کام ہیں لیکن اس بات پر پوری توجہ رہے کہ یہ کام تمام تر جزئيات اور تفصیلات کے ساتھ انجام پانے چاہیے۔ مزدور کے سلسلے میں ذمہ داریاں، اکثر یہی ہیں جن کا ذکر کیا گيا۔ میں ایک اشارہ کرتا چلوں۔ ہم سبھی مزدوروں کی تعریف کرتے ہیں۔ مزدور کی تعریف اچھی بات ہے اور یہ لوگوں کو مزدور کے مرتبے سے آگاہ کرتی ہے لیکن زبانی تعریف کافی نہیں ہے۔ بقول شاعر: "قربان تعارف زبانیت شوم"(6) کام کرنا چاہیے، کوشش کرنی چاہیے، مدد کرنی چاہیے۔
ایک بات جسے سبھی کو جاننا چاہیے، سرکاری عہدیداروں کو بھی، انٹرپرینیورز اور سرمایہ کاروں کو بھی کہ بہت سے کام ان کے پیسے اور ان کے وسائل پر منحصر ہیں، سبھی کو جان لینا چاہیے کہ اگر اس بات کی کوشش کی گئي کہ مزدور کی زندگي کی سطح بہتر ہو تو ملک کی صورتحال بہتر ہوگي۔ جب مزدور کو ذہنی فکر لاحق نہیں ہوگي، وہ اپنے کام کی طرف سے آسودہ خاطر ہوگا، اسے سکون حاصل ہوگا اور اس کی زندگي آرام سے گزر رہی ہوگي تو کام کا معیار اوپر جائے گا، پروڈکٹ کی کوالٹی اوپر جائے گی۔ عالمی تجارت بلکہ داخلی تجارت میں بھی ہماری ایک مشکل، پروڈکٹ کی کوالٹی ہے۔ اگر مزدور خوش ہوگا اور وہ یہ جان لے گا کہ اس کی زندگي آسانی سے گزرے گي، وہ یہ جان لے گا کہ اسے کام کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، اسے سکون حاصل ہوگا تو ا س کا کام بہتر ہوگا، کام کا معیار بہتر ہوگا، کام کی سطح اوپر جائے گي، یہ بات سبھی کو جان لینی چاہیے۔ بنابریں مزدور کی زندگي کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش دراصل، کام کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، پروڈکٹ کی کوالٹی بہتر بنانے کی کوشش ہے، ملک کی ترقی کے لیے کی جانے والی کوشش ہے، یعنی سرمایہ کاری ہے۔ اگر ہم لیبر سوسائٹی کے مسائل کو دور کرنے کے لیے کوشش کریں تو درحقیقت ہم نے سرمایہ کاری کی ہے، یہ خرچ نہیں ہے، یہ سرمایہ کاری ہے۔ یہ بات سبھی جان لیں، عہدیداران بھی جان لیں ان کاموں کے بارے میں جو ملک سے متعلق ہیں چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری اور اسی طرح کارخانوں کے مالکان، سرمایہ کار، انٹرپرینیورز وغیرہ بھی جان لیں۔
خیر، پیداوار ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے یعنی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی پروڈکشن ہے اور پروڈکشن کی ریڑھ کی ہڈی مزدور ہے۔ ہمیں مزدور یعنی اس ریڑھ کی ہڈی کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہم نے اس سال، سال کے نعرے میں کہا: پیداوار میں پیشرفت۔ تو پروڈکشن میں پیشرفت کیسے ہوتی ہے؟ پروڈکشن میں پیشرفت کا ایک اہم حصہ، مزدوروں سے متعلق ہے۔ اگر وہ خوشی اور دلچسپی کے ساتھ کام کریں تو ایسا ہوتا ہے۔ بنابریں اس نکتے پر توجہ دیں، محترم عہدیداران بھی اور سرمایہ کاری کرنے والے، روزگار پیدا کرنے والے اور ورکشاپس وغیرہ بنانے والے بھی توجہ دیں کہ پروڈکشن میں پیشرفت کے لیے، صورتحال بہتر بنانے کے لیے انھیں مزدور کی زندگي کو بہتر بنانے کو ایک اہم اور بنیادی اصول سمجھنا چاہیے۔
ایک دوسری بات کام کی آمدنی کی منصفانہ تقسیم ہے کہ ہم نے مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں میں اس سلسلے میں ایک شق رکھی تھی اور اس پر بحث کی تھی، کافی پہلے اس بات پر بحث و تمحیص ہو چکی ہے۔ انسانی سرمائے کی حیثیت سے مزدور کے حصے پر، جو کہ ایک انسانی ذخیرہ ہے، انسانی سرمایہ ہے جس کا اثر مادی سرمائے سے زیادہ ہے، کام کے نتیجے یعنی پروڈکٹ کی قدر و قیمت طے کرنے میں، توجہ دی جانی چاہیے۔ میں یہیں پر اس بات سے ایک نتیجہ نکالنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پروڈکٹ کی قدر و قیمت میں مزدور کا حصہ زیادہ ہو تو ہمیں مزدور کی تعلیم، مہارت اور تجربے کو بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور یہ بات وزیر محترم کی گفتگو میں بھی تھی، اسے بہت سنجیدگي سے لینا چاہیے۔ کسی کام کے نتیجے کی قدر و قیمت طے کرنے میں ماہر، تجربہ کار، تعلیم یافتہ اور خلاقیت رکھنے والے مزدور کا حصہ، کافی زیادہ ہوتا ہے، اسی تناسب سے آمدنی میں اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اب اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم سرمایہ کار وغیرہ کے مقابلے میں محاذ کھڑا کرنا چاہتے ہیں، نہیں، میں کسی بھی صورت میں اس کی سفارش نہیں کروں گا۔ سرمایہ کار، انٹرپرینیور اور مزدور، ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، اگر یہ نہ ہو تو وہ کچھ نہیں کر سکتا، وہ نہ ہو تو یہ کچھ نہیں کر سکتا، دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ جو چیز اس منصفانہ حصے کو یقینی بنا سکتی ہے وہ انصاف اور انصاف کا ماحول ہے، اس چیز کے برخلاف جس کا نعرہ کمیونسٹ لگاتے تھے لیکن اس پر عمل نہیں کرتے تھے، وہ جھوٹ بولتے تھے۔ وہ جنگ کے ماحول، ٹکراؤ کے ماحول اور ایسی ہی باتوں کی ترویج کرتے تھے، عملی طور پر یہ ثابت ہو گيا کہ انھیں غلط فہمی تھی، بہت بڑی غلطی تھی، انھیں کوئي نتیجہ بھی حاصل نہیں ہوا، عملی طور پر وہ اپنے نعروں کے پابند بھی نہیں تھے۔ انصاف کے ماحول، تعاون کے ماحول، یکجہتی کے ماحول، خدا کو حاضر و ناظر سمجھنے کے ماحول کی حکمرانی ہونی چاہیے تاکہ کامیاب ہو سکیں۔ البتہ بعض مقامات پر سرمائے کا وسیلہ، ایک طرف مزدور کا حق پامال ہونے کا سبب بنتا ہے، اسے روکا جانا چاہیے۔ دوسری طرف بھی ممکن ہے کہ اس کے لیے کچھ محدودیت پائي جاتی ہو، اس پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ یہ بھی ایک نکتہ ہوا۔
ایک دوسری بات یہ ہے کہ یہ بات جو میں نے کہی، اس سے میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ مزدور کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی راہ ہموار کرنا، ایک فریضہ ہے۔ ایک حدیث ہے جسے میں نے نوٹ کیا ہے، حدیث میں کہا گيا ہے: "مَن ظَلَمَ اَجیراً اَجرَہُ اَحبَطَ اللہُ عَمَلَہُ وَ حَرَّمَ عَلَیہِ ریحَ الجَنَّۃ" اگر کوئي کسی مزدور پر ظلم کرے، اس کی اجرت اور مزدوری کے سلسلے میں ظلم کرے تو اس کے سبھی نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں، حبط ہو جاتے ہیں – حبط یعنی تباہ ہو جانا، ختم ہو جانا – وَ حَرَّمَ عَلَیہِ ریحَ الجَنَّۃ اور خداوند عالم ایسے شخص کے لیے جنت کی خوشبو کو حرام کر دیتا ہے! مطلب یہ کام ایسا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ظلم ہے کیا؟ کیا ظلم یہ ہے کہ صرف اس کی مزدوری نہ دیں؟ ہاں ٹھیک ہے، یہ ایک بڑا ظلم ہے لیکن صرف یہی نہیں ہے، مجھے لگتا ہے کہ انشورینس، علاج معالجے، مہارت کی سطح کو اونچا اٹھانے، تعلیم، جدت عمل کا موقع نہ دینا وغیرہ جیسے یہ سبھی مسائل ظلم ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مزدور پر ظلم نہ ہو تو اس کی مہارت کی سطح کو اوپر اٹھانے کے وسائل فراہم کیجیے، راہ ہموار کیجیے، انشورینس کے مسئلے کو حل کیجیے، علاج معالجے کے مسئلے کو، فیملی کی صحت و سلامتی کے مسئلے کو، روزگار کی سیکورٹی کے مسئلے کو حل کیجیے، ان چیزوں کا نہ ہونا بھی ظلم ہے۔ خیر تو یہ بھی ایک بات ہوئي۔
ایک دوسرا نکتہ جو شاید ہمارے معروضات کی آخری بات ہو، یہ ہے کہ ہماری لیبر سوسائٹی آج تک انقلاب اور نظام کی وفادار رہی ہے۔ دیکھیے (لیبر سوسائٹی کے) یہ چودہ ہزار شہید، در حقیقت مزدوروں کے ہاتھ افتخار کے چودہ ہزار پرچم ہیں۔ یہ لوگ جو شہید ہوئے – چونکہ میں شہیدوں کے حالات زندگي کا مطالعہ کرتا ہوں، اس لیے جانتا ہوں کہ – ان میں سے بعض مزدور تھے، فیملی والے بھی تھے، ان کے دو، تین، چار بچے بھی تھے لیکن انھوں نے ذمہ داری محسوس کی، دیکھا کہ دشمن نے ملک، انقلاب اور نظام پر حملہ کیا ہے، انھوں نے اپنا فرض سمجھا اور بچوں کو خدا کی امید پر چھوڑ کر میدان جنگ میں گئے اور شہید ہو گئے۔ الحمد للہ ان سے کئي گنا زیادہ لوگ گئے تھے لیکن بحمد اللہ زندہ ہیں، شہید نہیں ہوئے لیکن بہرحال چودہ ہزار شہید! کوئي مذاق نہیں ہے۔
میرے خیال میں نظام سے لیبر سوسائٹی کی وفاداری کی سب سے اہم نشانی، ان عشروں کے دوران ان کا رویہ اور عمل رہا ہے۔ انقلاب کے اوائل میں کچھ گروپس کی کوشش تھی، ملک کے اندر کچھ گروپس کوشش کر رہے تھے اور ان کا ہدف تھا کہ مزدوروں کو سڑک پر لے آئیں، ورکشاپس اور کارخانے بند ہو جائيں اور انقلاب شکست سے دوچار ہو جائے، یہ ان گروہوں کی کوشش تھی۔ پھر رفتہ رفتہ وہ گروہ کنارے چلے گئے اور اس معاملے میں زیادہ تر غیر ملکی بدخواہ شامل ہو گئے، یہ سلسلہ آج تک جاری رہے، انھوں نے ورغلایا بھی اور لیبر سوسائٹی کو نظام کے سامنے لا کھڑا کرنے کے لیے سطحی اور غیر حقیقی نعروں کے ذریعے اقدامات بھی کیے۔ لیبر سوسائٹی نے ذہانت کا مظاہرہ کیا، ڈٹ گئي، یہ بہت اہم ہے۔ یہ کہ لیبر سوسائٹی ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ پر کیے جانے والے اتنے زیادہ پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہو، وہ کام نہ کرے جو دشمن چاہتے ہیں اور اسے پتہ ہو کہ وہ کیا کر رہی ہے، میرے خیال میں یہ لیبر سوسائٹی کا بڑا جہاد ہے، یہ بہت گرانقدر ہے، مزدوروں نے دشمن کی چالوں کے مقابلے میں ذہانت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ لیبر سوسائٹی کو نظام کے مقابلے پر لانے کی بہت کوشش کی گئي لیکن اللہ کی مدد و نصرت سے دشمن ایسا نہ کر سکے، اس کے بعد بھی وہ کوشش کر رہے ہیں، اس وقت بھی کوشش کر رہے ہیں، اس وقت بھی اور مستقبل میں بھی اللہ کی مدد و نصرت سے وہ ایسا نہیں کر پائيں گے۔ البتہ مزدوروں کے کچھ اعتراضات تھے، جن میں سے کچھ، جہاں تک میری معلومات ہیں، صحیح اور بجا تھے۔ تنخواہ دیر سے ملنے پر اعتراض، غلط طریقے سے کام اور جگہ سپرد کیے جانے پر اعتراض۔ کبھی کسی جگہ کو، کسی اہم کام کے مقام کو غلط طریقے سے، برے طریقے اور بدعنوانی سے کسی کے حوالے کر دیتے ہیں، مزدور وہاں موجود ہے، وہ سب کچھ قریب سے دیکھ رہا ہے، اعتراض کرتا ہے، یہ حکومت کی مدد ہے، یہ سسٹم کی مدد ہے، یہ نظام کو مطلع کرنا ہے۔ اس طرح کے جس معاملے میں بھی عدلیہ جیسے ذمہ دار اداروں نے چھان بین کی تو انھوں نے پایا کہ مزدور صحیح کہہ رہے ہیں، ان حالیہ معاملوں میں – مجھے ان میں سے بعض معاملوں کے بارے میں قریب سے اطلاع تھی – لیبر سوسائٹی نے دشمن سے حدبندی کر لی تھی، مزدوروں نے فلاں معاملے اور فلاں جگہ کے اعتراض سے دشمن کو فائدہ نہیں اٹھانے دیا، انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کام پر اعتراض ہے لیکن ہم دشمن سے بھی بیزار ہیں، نظام کے دوست ہیں، ہمراہ ہیں۔ مزدوروں کا اقدام یہ ہے۔
ایک اور بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں، جس کی طرف میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا – کام پیدا کرنے کے مسئلے کے بارے میں، وہ یہ ہے کہ ملک کے عہدیداران کو تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں کچھ سوچنا چاہیے۔ ہمارے یہاں بڑی تعداد میں جوان ہیں، دو طرح کے نوجوان ہیں جن کے بارے میں سنجیدگي سے سوچنے کی ضرورت ہے: ایک وہ تعلیم یافتہ بے روزگار جوان ہیں جن کے پاس اپنی تعلیم کے لحاظ سے کام نہیں ہے، عوام سے رابطے کا ہمارا شعبہ کبھی کبھی فیمیلیز سے ملاقات کرتا ہے اور اس کی رپورٹ مجھے دی جاتی ہے، مجھے معلوم پڑتا ہے کہ مثال کے طور پر ایک سبجیکٹ کا تعلیم یافتہ جوان ہے، اس نے ڈپلومہ بھی کیا ہے لیکن اس وقت ایک بہت ہی معمولی کام کر رہا ہے، یعنی اپنے شایان شان کام نہیں کر رہا ہے، اس طرح کے بہت سے نوجوان ہیں، ان کے بارے میں سوچا جانا چاہیے، یہ بہت اہم کام ہے۔ یہ نوجوان، ملک کا سرمایہ ہیں، انھیں یوں ہی بے کار نہیں رہنا چاہیے۔ کچھ ایسے بھی نوجوان ہیں جو نہ پڑھنا چاہتے ہیں، نہ کام کرنا چاہتے ہیں، واقعی سیاسی، سماجی اور معاشی ماہرین اور صاحب رائے افراد کو بیٹھ کر ان کے بارے میں کچھ سوچنا چاہیے، حکومت کی مدد کریں تاکہ ان کے لیے کچھ سوچا جا سکے۔ افسوس کہ ملک میں اس طرح کے نوجوان بھی ہیں، ایسے نوجوان جن کے پاس کام نہیں ہے اور وہ کام کے متلاشی بھی نہیں ہیں، تعلیم حاصل نہیں کرتے اور تعلیم حاصل کرنا بھی نہیں چاہتے۔ ملک میں اس طرح کے نوجوانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔ یہ بھی سرمایہ ہے، اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ واقعی ان کے لیے بھی ضرور کچھ سوچا جانا چاہیے۔ یہ وہ کام ہے جسے معاشی اور انسانی امور کے ماہرین اور صاحب رائے افراد کو ضرور انجام دینا چاہیے۔
بہرحال لیبر سوسائٹی کے سلسلے میں میری رائے ایک طرف تحسین اور تعظیم کی ہے – ہم حقیقی معنی میں دل کی گہرائيوں سے آپ کا احترام کرتے ہیں اور آپ کی عظمت کو سمجھتے ہیں – ایک طرف ہمارا ماننا ہے کہ ملک میں مزدوروں کی زندگي کی سطح میں ایک زبردست تبدیلی آنی چاہیے، ان شاء اللہ جو کوششیں ہو رہی ہیں، ان سے ضرور پیشرفت ہوگي، دوسری طرف دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہنے اور دشمن کے بہکاوے میں نہ آنے کی وجہ سے طرف لیبر سوسائٹی کو ہم دل سے سراہتے ہیں اور آپ کے لیے خیر و برکت کی امید اور آرزو رکھتے ہیں۔ خداوند عالم ان شاء اللہ آپ کو محفوظ رکھے، سلامت رکھے اور حضرت ولی عصر (عج) کے قلب مقدس اور امام خمینی کی پاکیزہ روح کو آپ سب سے راضی و خوشنود رکھے۔
و السّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
(1) اس ملاقات کے آغاز میں کوآپریٹو، لیبر اور سوشل ویلفیئر کے امور کے وزیر جناب سید صولت مرتضوی نے ایک رپورٹ پیش کی۔
(2) سورۂ نجم، آيت 39، اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
(3) ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جنھیں نعمت کی کثرت، غافل، مغرور اور عیش و عشرت مست بنا کر بغاوت کے لیے ورغلاتی ہے۔
(4) منجملہ سورۂ واقعہ، آيت 45
(5) انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں کے نام، معاشی بدعنوانیوں کے سلسلے میں آٹھ نکاتی فرمان (30/4/2001)
(6) ہر چند بہ دل دوست نداری ما را قربان محبت زبانیت شوم (اگرچہ تو ہمیں دل سے پسند نہیں کرتا لیکن میں تیری زبانی محبت پر ہی قربان ہو جاؤں۔)
شہید حجت الاسلام سلیمانی ہمیشہ نظام کی خدمت کرنے والی شخصیت
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایک جان لیوا حملے میں حجت الاسلام عباس علی سلیمانی کی شہادت پر ایک تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔
رہبر انقلاب کے تعزیتی پیغام کا متن حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے 22 اپریل 2023 کو عید فطر کے دن اسلامی نظام کے اعلی عہدیداروں اور ایران میں متعین اسلامی ملکوں کے سفیروں نے ملاقات کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی نے عالم اسلام کے مسائل، توانائیوں اور ذمہ داریوں کے بارے میں بات کی۔
خطاب حسب ذیل ہے؛
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی امامت میں تہران میں نماز عید الفطر ادا کی گئي۔ 22 اپریل 2023 کو لاکھوں کی تعداد میں اہل تہران نے بھرپور دینی جوش و جذبے کے ساتھ اس روحانی پروگرام میں شرکت کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے نماز کے بعد خطبے دئے۔
یہ بصیرت افروز خطاب حسب ذیل ہے؛