یوم استاد پرملک کے ممتاز اساتذہ اور وزیر تعلیم و تربیت نے قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلام میں استاد کے بلند مقام کا تذکرہ کیا اور مغربی تہذیب میں استاد کے تعلق سے جاری روئے پر نکتہ چینی کی۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے انسانوں کے لئے استاد کے سلسلے میں استثنائي حکم دیا ہے کہ خود کو استاد کے سامنے چھوٹا اور حقیر خیال کریں۔
خطاب کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عزیز بہنو اور بھائیو! نیز ملک کے مثالی معلمین و معلمات' خوش آمدید۔ ہم نے معلم کے اعلی مقام و مرتبے کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ملک کے تمام معلمین سے اظہار خلوص کے لئے، اس ملاقات اور آپ بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ اس بے تکلفانہ جلسے کا اہتمام کیا ہے۔ آج ملک کی اس ثقافتی فضا میں عوام کے ذہنوں میں معلمین کے احترام و تکریم میں اضافے کا سب کو احساس ہونا چاہئے کیونکہ معلمین کی حقیقی تکریم و احترام کے معاشرے کی ثقافت اور تعلیم و تربیت پر بہت اہم اثرات مرتب ہوں گے۔
البتہ ممکن ہے کہ دنیا میں مختلف مناسبتوں پر مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہوں۔ وہ بھی اپنی جگہ پر ضروری ہیں لیکن وہ تکریم نہیں ہے۔ تکریم یہ ہے کہ معاشرے کا ماحول ایسا ہوکہ ہر ایک یہ احساس کرے کہ اپنے معلم اور تمام معلمین کا دل اور روح کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہے اور ان کی عظمت کا قائل ہے۔ یہ تعلیم و تربیت کی سب سے بڑی حوصلہ افزائی ہوگی۔ یہ وہی چیز ہے جو اسلام میں ہے۔ اسلام میں معلم کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ کون ہے کہ معاشرے میں اس کا کوئی معلم نہ ہو؟ اسلام کا یہ حکم اس لئے ہے کہ تعلیم و تربیت کا بازار گرم ہو، اس میں کمی نہ ہو۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ پورے ملک میں معلمین کو اس کی ضرورت ہے۔
اسلامی ثقافت و تعلیمات میں آپ نے دیکھا ہے کہ معلم کا کتنا خیال رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ شاگرد اپنے معلم سے جھک کے ملتا ہے اور خود کو اس سے چھوٹا سمجھتا ہے۔ یہ پسندیدہ بات ہے جبکہ آپ جانتے ہیں کہ اسلام میں کسی بھی انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں خود کو حقیر اور چھوٹا نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن معلم کے سلسلے میں استثناء ہے۔ والدین کا احترام و تکریم بھی استثنائی ہے۔ انسان کو والدین سے جھک کے ملنا چاہئے، ان کے سامنے خود کو چھوٹا بناکے پیش کرنا چاہئے۔ واخفض لھما جناح الذل (1) خود کو ماں باپ کے سامنے حقیر اور چھوٹا کرو۔ جبکہ کسی بھی مسلمان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ کسی کے سامنے بھی خود کو حقیر اور چھوٹا بناکے پیش کرے لیکن ماں باپ کا معاملہ استثنائی ہے۔ معلم بھی اسی طرح ہے۔
روایتوں میں ہے کہ جب معلم کے ساتھ چلو تو اگر تاریک رات ہو تو معلم کے آگے چلو تاکہ اگر راستے میں گڈھا ہو تو تم گر جاؤ معلم محفوظ رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معلم کی تکریم کیا ہے۔ اگر معاشرے میں یہ جذبہ عام ہو جائے اور ہر ایک یہ احساس کرے کہ معلم کے لئے اس کے اندر خضوع پایا جاتا ہے تو معلمین کے لئے فضا سازگار ہو جائے گی۔ اگر معاشرے میں معلمین کے دل خوش ہوں گے تو تعلیم عام ہوگی۔ یہ تکریم ہے۔ البتہ میں نے عرض کیا کہ بعض دیگر مادی و معنوی امور بھی ضروری ہیں لیکن اصل قضیہ یہی ہے جو انجام پانا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ مادی سوغات کی دنیا میں معاملہ اس کے برعکس ہے اور احترام و تکریم کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ یعنی اس ثقافت میں جو ہم نے یورپ سے لی ہے، معلم کا احترام نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ معلمین کی بے احترامی کریں۔ لیکن مغربی تہذیب میں معلم کے احترام کی تعلیم مد نظر نہیں رکھی گئی ہے۔ میں نے کسی تقریر میں عرض کیا ہے کہ برسوں بلکہ صدیوں اسلامی ماحول میں شاگرد معلمین کا احترام کرتے رہے ہیں، لیکن چند عشروں سے جب سے ملک میں یورپی تہذیب آئی ہے اور علمی ماحول میں دین کو علم سے الگ کر دیا گیا، کتنے اساتذہ آدھے نمبر کے لئے، یا کلاس میں کسی نامناسب طرز عمل کے سبب شاگردوں کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے۔ یہ یورپی ثقافت ہے۔
البتہ آج خوش قسمتی سے اسی اسلامی اصل کی طرف واپسی ہو رہی ہے۔ آپ معلمین کو بھی اپنی قدر معلوم ہونی چاہئے۔ یعنی اپنے معلم ہونے کو اہمیت دیں۔ معلم ہونے پر فخر کریں ۔ معلم ہونا فخر کی بات ہے۔ یہ سب سے بالاتر ہے۔ یہ بات کہ کوئی معلم ہونے پر فخر کرے، معلم ہونے کی قدر کو سمجھے، تعلیم و تربیت کے لئے کوشش کرے ، اسلامی نظام کی اہم اقدار میں سے ہے۔
امید ہے کہ خداوند عالم نصرت و توفیق عطا کرے کہ ہماے ملک میں تعلیم و تربیت میں روز بروز زیادہ فروغ آئے اور وزارت تعلیم و تربیت کی کوششوں سے ملک میں کہیں بھی تعلیم و تربیت کا خلاء نہ باقی نہ رہے۔ حالیہ برسوں میں، اس میدان میں ہم نے زیادہ کوششوں کا مشاہدہ کیا ہے لیکن اب بھی کافی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہماری مملکت کے اچھے نوجوانوں کو چاہئے کہ تعلیم و تربیت کے میدان میں زیادہ سے زیادہ سرگرم ہوں اور اپنے سے پہلے کی نسل کے ساتھ مل کے، خود ان کو تعلیم سے آراستہ کرکے ، ملک سے ناخواندگی اور جہالت کو جڑ سے ختم کر دیں۔ طویل برسوں کے دوران یورپی تربیت کے نتیجے میں ہم نے کافی نقصان اٹھایا ہے جس کی تلافی طویل المیعاد مجاہدت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
خدا وند عالم انشاء اللہ آپ کو توفیق عطا کرے، آپ کی نصرت کرے کہ یہ عظیم فرائض انجام دے سکیں۔ میں تعلیم و تربیت کے وزیرجناب نجفی اور اس وزارت کے محترم حکام پر بھی جو واقعی محنت اور کوشش کر رہے ہیں، درود بھیجتا ہوں اور ان زحمتوں پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایک بار پھر آپ تمام بہنوں اور بھائیوں کا جو ملک کے مختلف علاقوں سے تشریف لائے ہیں ، خیر مقدم کرتا ہوں۔
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
1- اسراء 24
ملک کے ممتاز اساتذہ اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے 11 اردیبہشت سن 1370 ہجری شمسی مطابق پہلی مئی 1991 عیسوی کو قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے محنت کش طبقے اور اساتذہ کے بارے میں اسلامی نقطہ نگاہ پر روشنی ڈالی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر ان دونوں طبقات کی اہمیت کو بیان کیا۔ آپ نے دونوں ہی طبقات کو مخلصانہ جذبے کے تحت عمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ ان کا عمل عبادت کا درجہ بھی حاصل کر لے۔ قائد انقلاب اسلامی نے علاقائي حالات اور عالمی سامراج کی پالیسیوں اور ریشہ دوانیوں پر بھی تبصرہ کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی ثقافت و ہدایت کے وزیر سید محمد خاتمی اور بیرونی ممالک میں ایران کے ثقافتی نمائندوں (ایرانی کلچر ہاؤس کے سربراہوں ) سے ملاقات میں اس شعبے کی اہم ترین ذمہ داریوں اور کام کرنے کے لئے قوموں کی سطح پر فراہم سازگار ماحول پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے ایران کے خلاف سامراجی طاقتوں کی تشہیراتی مہم کا بھی ذکر کیا اور ایران کے نمائندوں کو ایران کی اعلان شدہ پالیسیوں پر پوری پابندی کے ساتھ عمل کرنے کی ہدایت دی۔
قائد انقلاب اسلامی کے اس خطاب کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میں آپ تمام حضرات کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ سلامت رہیں۔ جیسا کہ جناب خاتمی صاحب نے اشارہ کیا ہے، یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ثقافتی امور میں سرگرم افراد کی حیثیت سے آپ غیر مانوس اور ناسازگار حالات سے روبرو ہیں اور یقینا عالمی سامراج کی نمایاں اور خفیہ پالیسیاں آپ کے سامنے ہیں اور کہا جا سکتا ہے کہ بہت کم جگہیں ایسی ہوں گی یا کوئی جگہ ایسی نہیں ہوگی جہاں اسلامی جمہوریہ ایران کی موثر کوششوں پر عالمی سامراج اور کفر کا کیمپ حساس نہ ہو اور اپنی توانائی بھر ان کے سد باب کے لئے کوشش نہ کرے۔ آپ جو ان حالات میں سرگرم ہیں، درحقیقت آپ کا کام بذات خود قابل تعریف و ستائش ہے۔
ثقافتی کام اور اس کی اہمیت کے بارے میں جو بھی کہا جائے وہ پہلے کہی گئی باتوں کی تکرار ہی ہوگی۔ یہ وہی ایک نکتہ ہے جو پیغام انقلاب اور اس کی ترویج سے عبارت ہے۔ یہ کام مسلمہ اسلامی اصولوں میں سے ہے۔ تبلیغ یعنی پہنچانا۔ الذین یبلغون رسالات اللہ (40) یعنی پردوں اور رکاوٹوں کو ہٹانا اور حق بات اس مرکز تک پہنچانا جہاں اس کو پہنچنا چاہئے۔ جو بھی کہا جائے اسی نکتے کے بارے میں ہوگا اور اس سلسلے میں ساری باتیں کہی اور لکھی جا چکی ہیں۔
میں جو عرض کر سکتا ہوں یہ ہے کہ آپ اس صورتحال کا جو متوقع ہے، اس صورتحال سے موازنہ کریں جس میں اسلامی جمہوریہ ایران آج ہے۔ اس موازنے کا نتیجہ ہمیں نئے طریقہ کار، نہ انجام پانے والے کاموں یا جو کام ہوئے ہیں ان کی تصحیح کی طرف رہنمائی کرے گا۔ یہاں از سر نو جائزہ، اپنے آپ کو دیکھنا اور اپنے نفس کا محاسبہ ضروری ہے۔
میرے خیال میں جو متوقع ہے، اس کا صحیح تجزیہ بہت اہم ہے۔ اس ماحول میں جس میں تمام عوامل ایمانی اور دینی بالخصوص اسلامی رجحان کے خلاف ہوں، اقوام ان مخالف عوامل کے باوجود روحانی اور معنوی باتیں سننے کی مشتاق ہیں۔ اس عالم میں ایک قوی، صادقانہ اور مستحکم آواز بلند ہوئی اوربولنے والی کی صداقت، اخلاص اور قول سے عمل کی ہم آہنگی کے باعث کہ جس نے ثابت کر دیا کہ یہ صرف بات نہیں ہے اور دنیا کے بد نما چہروں یعنی سامراجیوں، رجعت پسندوں، زراندوزوں اور ایسے ہی دیگر گوناگوں عوامل کی جانب سے اس کی دشمنی کے سبب، اس آواز نے اقوام بالخصوص مسلم قوموں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی اور حقیقی نیز بہت گہرے اثرات مرتب کئے۔ چنانچہ اوائل انقلاب سے اب تک ہم اور آپ جیسے انقلابی عناصر نے جہاں بھی قدم رکھا ہے، دیکھا کہ ان سے پہلے وہ آواز اور اس آواز کو بلند کرنے والا وہاں پہنچ چکا ہے۔
اوائل انقلاب میں، میں خود ہندوستان گیا اور اس ملک کے تقریبا تمام سیاسی و ثقافتی مراکز میں گیا۔ جہاں بھی میں نے قدم رکھا دیکھا کہ انقلاب اور امام پہلے سے وہاں موجود ہیں۔ ہم گئے تو لوگوں نے ہمارا زبردست استقبال کیا کیونکہ ہم اس مرکز کے نمائندے تھے۔ ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں ہم جاتے اور وہاں کے لوگ بے خبر ہوتے اور ہم ان کو بتاتے کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔
اب بھی ایسا ہی ہے۔ جن ملکوں میں ہمارے نمائندہ دفاتر نہیں ہیں، آپ ان ملکوں میں جائیں، اگر ممکن ہو تو عوامی حلقوں میں جائیں۔ ان گروہوں کی بات میں نہیں کرتا جو ان مسائل سے دور ہیں۔ اگر آپ یونیورسٹی طلبا، روشنفکر حضرات، مومن اور مخلص لوگوں کے درمیان جائیں تو دیکھیں گے کہ پیغام انقلاب آپ سے پہلے وہاں پہنچ چکا ہے۔ میں نے مختلف جگہوں کے جو دورے کئے ہیں، بلا استثنا تمام ملکوں میں چاہے وہ اسلامی ہوں یا غیر اسلامی حتی کمیونسٹ ملکوں میں یہی عالم دیکھا ہے۔
بنابریں ملاحظہ فرمائیں کہ اس چشمے کا نفوذ اور اثر اتنا زیادہ ہے کہ بغیر اس کے کہ کوئی مبلغ کہیں جائے، لوگوں کو بھیجا جائے، جیسے عیسائی، کمیونسٹ جماعتیں اور انجمنیں، اپنے عوامل اور مبلغین کی فوج بھیجتی ہیں، حتی بغیر اس کے کوئی رسالہ کوئی تحریر روانہ کی جائے یہ پیغام باد بہاری کی طرح، نسیم سحر کی مانند، بوئے گل کی شان سے سرحدوں کو عبورکرکے ہر جگہ پہنچ گیا۔
جب اوائل میں یہ چیزیں دیکھتا تھا تو درحقیقت میرے ذہن میں یہ تصور مجسم ہو جاتا تھا کہ جیسے کسی باغ میں کسی پر برکت پھول کی خوشبو پھیل گئی ہے۔ پھول کی خوشبو یہ نہیں کہتی کہ باغ بند ہے اور مجھے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے یا یہاں اس باغ کے خاردار تار ہیں اور مجھے حق نہیں ہے کہ اس کو پار کروں بلکہ فضا کو معطر کر دیتی ہے۔ واقعی ہمیشہ میرے ذہن میں یہی تصویر مجسم ہوتی تھی۔ یہ حقیقت کا نقش تھا۔
آپ دنیا میں کس نظریئے ، مکتب، فکر، سلوگن اور دعوت سے واقف ہیں جو اتنی رسا اور سازگار فضا رکھتی ہو جتنی ہماری فکر کی تھی؟ ہمارے انقلاب، ہمارے امام ، ان کی فریاد، ان کے عمل اور ان کی قوم کی تاثیر تھی؟ اب ایک نظام کی حیثیت سے ہمیں کیا کرنا چاہئے تھا؟ ایسی سازگار فضا میں ہمیں کیا کرنا چاہئے تھا؟ ضروری تھا کہ بلا تاخیر کار آمد لوگ جاتے اور جو کچھ ہوا تھا اس میں نظم اورگہرائی و گیرائی پیدا کرتے۔ ہمیں اس کی ضرورت تھی۔ یعنی ہمیں وہاں پیغام لے جانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ایسا کام کرنے کی ضرورت تھی کہ جو کچھ خود سے وہاں پہنچا تھا وہ عمیق تر ہو۔ اس کے لئے کام ضروری تھا۔ گہرائی ایسے ہی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے کام ، ظرافت اور دقت نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس میدان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے تبلیغی اداروں نے بارہ سال کام کیا۔ آپ خود ان مسائل کے ماہر ہیں۔ ہم جیسے لوگ حقائق سے واقفیت کے لئے آپ جیسے لوگوں سے رجوع کرتے ہیں تاکہ آپ ہمیں بتائیں کہ حقیقت کیا ہے۔ اب آپ فیصلہ کریں کہ کیا ان بارہ برسوں میں ہم اس فیض بخش، ہمہ گیر، پرکشش اور ولولہ انگیز میدان کے ہموار ہونے کے باوجود، اپنے متاع گراں کے لئے کوئی جگہ بنا سکے؟ اور اس میں گہرائی و گیرائی لا سکے یا نہیں؟ حقائق کا تجزیہ آپ کے ذمے ہے۔
جہاں تک میں معاملات اور امور سے واقفیت رکھتا ہوں، میرا تجزیہ یہ ہے کہ ہماری کارکردگی سازگار زمین کے مطابق نہیں تھی۔ یہ نہیں ہے کہ اس میں کسی کا قصور ہو۔ بحث یہ نہیں ہے۔ جب کسی کمپنی کے اختیار میں کوئی سرمایہ دیا جاتا ہے مثلا دس ملین تومان اس کو دیئے جاتے ہیں کہ تجارت اور کاروبار کرے۔ اگر اچانک اس کو دس ارب تومان دے دئے جائیں تو ظاہر ہے کہ وہ کام نہیں کر سکتی۔ اس میں کسی کا قصور نہیں ہے۔ لیکن جو ہے اور جو ہونا چاہئے، ان کا موازنہ ضروری ہے جس میں ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ کمیاں کہاں ہیں۔
ضروری ہے کہ کمیوں کو تلاش کیا جائے اور بغیر کسی چشم پوشی کے ان کا جائزہ لیا جائے اور دیکھا جائے کہ ہمارے کام میں نقص کیا تھا۔ آیا تبلیغ میں متوازی خطوط پر کام کیا گیا اور کسی ایک مرکز کا فقدان موثر رہا ہے؟ آیا ذمہ داروں کی ناواقفیت موثر رہی ہے؟ آیا اس کے ذمہ دار دو اداروں کا ٹکراؤ موثر واقع ہوا ہے؟ آیا ترجیحی بنیادوں پر کاموں کی شناخت کا نہ ہونا موثر رہا ہے؟ آیا جس کام کو تیسرے درجے کی ترجیح دینا چاہئے تھا اس کو پہلی ترجیح دینا یا جس کو پہلی ترجیح دینا چاہئے تھا اس کو تیسری ترجیح دینا، اور ترجیحی سلسلے کی پابندی نہ کرنا موثر رہا ہے؟ آیا مالی بجٹ اور وسائل کی کمی موثر رہی ہے؟ آیا دشمنوں کا وجود اور ان کے کارآمد اور وسائل سے لیس تشہیراتی ادارے جنہیں عالمی سامراج کی پشت پناہی بھی حاصل ہے ، یہ ادارے موثر رہے ہیں؟ ان سب کا امکان ہے۔
آسان ترین کام یہ ہے کہ ہم یہ کہیں کہ یہ سب ایک ساتھ موثر رہے ہیں۔ پیسے کی کمی تھی، افراد کی کمی تھی، مثال کے طور پر اس وقت بیرون ممالک ہمارے جو نمائندہ دفاتر ہیں، یہ اتنے تو نہیں ہیں جتنے کی ضرورت ہے۔ اس سے کئی گنا کی ضرورت ہے۔ اصولا افرادی قوت اور مادی وسائل کی کمی ہے۔ ہمیں ایک حساب کتاب کرنے والے اور ایک دانشور مفکر کی طرح بیٹھ کے ایک چارٹ بنانا چاہئے۔ چارٹ میں ان کمیوں کو لکھیں اور دیکھیں کہ ان میں سے کیا ہمارے اختیار سے باہر ہے اور کیا ہمارے اختیار میں ہے۔ محنت کریں اور مشکلات کو دور کریں۔ اس کام میں غفلت جائز نہیں ہے۔
ہم نے شروع سے کہا ہے کہ انقلاب کا چہرہ، انقلاب کی علامت، انقلاب کا بیرونی منظر، اس کا ثقافتی پہلو ہے۔ ہماری سیاست بھی ثقافت کی پابند ہے۔ ہم یہ تو نہیں چاہتے کہ اپنی دیانت کو سیاست سے الگ کر دیں۔ ہماری ثقافت ہمارے انقلاب ہمارے مکتب اور ہماری تاریخ کی تیار کردہ ہے۔ اس بڑے دعوے کے ساتھ عوام کو ہم سے توقعات ہیں۔ ان چند برسوں میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ ہمارے راسخ العقیدہ اور اسلامی جمہوریہ کے وفادار روشن فکر حضرات مختلف عرب اور ایشیائی ملکوں سے آئیں اور مجھ سے ملاقات کریں الا یہ کہ ان میں سے ہر ایک نے آکر ثقافتی تبلیغ کے میدان میں موجود نقائص کی نشاندہی کی ہے۔
ہمیں ان نقائص کو سنجیدگی سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جن لوگوں کو ہم اس کام کے لئے بھیجتے ہیں، ان میں، ان کے انقلابی نظریئے، ثقافتی صلاحیت، عقل اور سب سے بڑھ کر تقوا کو نظر میں رکھیں کہ وہ اپنے فریضے کو محسوس کریں۔ ایسے لوگوں کو بھیجا جائے جو خدا کو حاضر و ناظر جان کر ان وسائل اور سہولتوں سے کام لیں جو انہیں فراہم کرائی جاتی ہیں۔
دنیا کے عوام مشتاق ہیں۔ اسلامی جمہوریہ کی جو مخالفتیں کی گئی ہیں اور استکباری و سامراجی کیمپ نے اسلام کی دشمنی میں اسلامی جمہوریہ کے خلاف جو زہریلے پروپیگنڈے کئے ہیں (بحث اسلام کی ہے، ایران کا مسئلہ درپیش نہیں ہے، ان کے باوجود) ان کی وجہ سے ممکن تھا کہ لوگوں کے افکار زیادہ متاثر ہو جاتے لیکن اس کے باوجود اب بھی ہم سے اقوام کی وفاداری زیادہ ہے۔
اپنی صدارت کے دور میں، میں چند ملکوں کے دورے پر جانے والا تھا۔ میرا دورہ شروع ہونے سے پہلے عالمی اور بین الاقوامی سطح پر ہمارے لئے ایک حادثہ رونما ہوا جس کو صیہونی، امریکی اور سامراجی تشہیراتی ادارے کافی ہوا دے رہے تھے۔ میں امام (خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ) سے رخصت ہونے اور ہدایات و رہنمائی لینے کے لئے، جو ہر سفر سے پہلے عموما امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) دیا کرتے تھے، ان کی خدمت میں گیا۔ میں نے کہا کہ اتفاق سے ہمارے سفر کے موقع پر یہ حادثہ رونما ہو گیا اور ہمارے دشمن اور حکومتیں اس مسئلے میں کافی حساس ہیں۔ امام نے فرمایا ہاں لیکن اقوام آپ کے ساتھ ہیں اسی سفر میں، میں نے اس بات کا واضح طور پر مشاہدہ کیا جو سو دلیلوں سے بھی اتنی وضاحت کے ساتھ میرے لئے ثابت نہیں ہو سکتی تھی۔
ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے۔ اقوام ہمارے ساتھ ہیں۔ اقوام کے دل یہاں ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ہماری طرف سے انہیں جواب ملے۔ اگر انہیں احساس ہو کہ ہم ان کی بات سن رہے ہیں، ہمارا دل ان کے بارے میں سوچتا ہے اور ہمارے مختلف شعبوں سے انہیں جواب ملے تو ان کی امید بڑھ جائے گی۔
کام کا خیال رکھیں۔ ملک سے باہر اسلامی جمہوریہ کی اعلان شدہ پالیسیوں کی پابندی بہت اہم امور میں سے ہے۔ آپ جہاں بھی رہیں، یہ کبھی نہ ہو کہ آپ کی فکر، عمل اور گفتار میں، اسلامی جمہوریہ کی اختیار کردہ پالیسیوں پر ذاتی اور انفرادی پسند اور صواب دید غالب آ جائے۔ بالفرض کوئی پالیسی غلط ہو تو بھی اس غلطی کو دور کرنے کا راستہ ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ سے وابستہ کوئی رکن عوام یا خواص کی محفلوں میں اس کی مخالفت کا اعلان کرے۔ یہ عمل اس بات کا مظہر ہوگا کہ اسلامی جمہوریہ غلط پالیسی اختیار کرنے کے ساتھ ہی تنظیمی لحاظ سے بھی دیوالیہ ہو چکی ہے۔ یہ دو عیب ہوئے۔
ہر تنظیم میں چاہے وہ خاندان کی ہی تنطیم کیوں نہ ہو، اتحاد ہونا چاہئے تاکہ اس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ہمیں ایک دوسرے سے منسلک رہنا چاہئے۔ جس نظام نے اتنا سنگین فریضہ اپنے کندھوں پر لیا ہے، اس کو اتحاد و یک جہتی کا مظہر ہونا چاہئے۔ عوام میں ممکن ہے کوئی ہو جو سرکاری نظریات کا مخالف ہو۔ لیکن جو نظام کا رکن ہے اس کو وہاں نظام کا سرکاری نظریہ ہی بیان کرنا چاہئے اور عملا سسٹم کی تنظیمی یک جہتی کا ثبوت پیش کرنا چاہئے۔ یہ بہت اہم ہے۔ ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ باہر کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ ان چند برسوں میں ملک میں گوناگوں پالیسیاں رہی ہیں۔ جو بھی ملک سے باہر ڈیوٹی پر جاتا رہا، وہ ممکن ہے کہ کسی زمانے میں کسی پالیسی کا مخالف رہا ہو۔ آپ کو یاد ہے کہ سن انسٹھ ( انیس سو اسی عیسوی ) میں حکومت کی اختیار کردہ سرکاری پالیسیوں کے لحاظ سے کیا صورتحال تھی۔ جن برسوں میں انقلابی عناصر بیرونی ممالک کے دورے کرتے تھے انہیں برسوں میں، میں نے خود تجربہ کیا ہے اور نزدیک سے دیکھا ہے۔ باہر والوں کی نظر میں جو چیز اہم ہے یہ نہیں ہے کہ جو شخص وہاں گیا ہے اور نظام کے کسی اعلی عہدیدار سے اس کے روابط اچھے نہیں ہیں، مثال کے طور پر وہاں وہ کہے کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے یا اس کی بات بہت معتبر نہیں ہے یا اس نے جو پالیسی اختیار کی ہے وہ غلط ہے، ہمیں قبول نہیں ہے یا کچھ لوگوں کو قبول نہیں ہے۔ اگر وہ پالیسی غلط بھی ہو تو اس کا علاج یہ نہیں ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ اس زمانےمیں غلط پالیسیوں کا بازار گرم تھا۔ ایک طرف تو نظام کے ظاہر و باطن پر مسلط لبرل عناصر کی غلط پالیسی تھی اور دوسری طرف انقلابی عناصر جاتے تھے اور جانتے تھے کہ کیا روش اختیار کریں کہ تنظیمی لحاظ سے نظام پر حرف نہ آئے ۔ یہ بہت بنیادی اور اساسی نکتہ ہے جس پر توجہ ضروری ہے۔
البتہ میں نے وہاں سنا کہ خارجہ پالیسی اور تبلیغات کے نظام میں ٹکراؤ ہے۔ اس سے چند سال پہلے صدارت کے زمانے میں بھی یہ مسئلہ پیش آیا تھا اور شاید اب بھی ہے۔ اس تضاد اور ٹکراؤ کو دور کریں۔اس کو باقی نہیں رہنا چاہئے۔ کبھی مسائل کا تعلق کام سے اور سیاست سے ہوتا ہے اور کبھی مسائل کا تعلق ذات سے ہوتا ہے۔ اس بات کی اجازت نہ دیں کہ یہ اختلاف باہر دکھائی دے۔ اگر یہ اختلاف باہر نظر آیا تو یقین جانیں کہ اسلامی جمہوری نظام کو نقصان پہنچے گا۔ اس نکتے پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
خدا وند عالم انشاء اللہ آپ کو تفیق عطا کرے ، آپ کی نصرت کرے۔ یہ بہت سنگین ذمہ داری ہے۔ اسی کے ساتھ بہت بافضیلت بھی ہے۔ آپ نے بہت باشرف اور بافضیلت کام کا انتخاب کیا ہے۔ انشاء اللہ توفیقات و رضائے الہی آپ کو حاصل ہو اور جو اسلام، مسلمین اور انقلاب کے فائدے میں ہے وہ کام آپ کے ہاتھوں انجام پائے۔
میں آپ تمام برادران عزیز، محترم وزیر اسلامی ثقافت و ہدایت جناب آقائے خاتمی اور ان تمام ذمہ دار عہدیداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو دنیا کی سطح پر اس کام میں مصروف ہیں ۔انشاء اللہ یہ کام زیادہ تیزی کے ساتھ، زیادہ بہتر اور زیادہ کارآمدانداز میں اور زیادہ حکمت آمیز طریقے سے آگے بڑھے گا۔
میں نے چند سال قبل، دو تین گھنٹوں پر مشتمل ایک خصوصی میٹنگ میں، پتہ نہیں اس جلسے میں موجود حضرات میں سے کوئی وہاں تھا یا نہیں ، بعض سفارشات کی تھیں۔ اس وقت بھی میرے پیش نظر وہ سفارشات ہیں لیکن میں ان کو دہرانا نہیں چاہتا۔ بہرحال وہ سفارشات بہت زیادہ اہم ہیں۔ انشاء اللہ کامیاب و کامران رہیں۔
والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
احزاب ؛ 39 و 40
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 29 فروردین 1370 مطابق 18اپریل 1991 کو مقدس شہر مشہد میں فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ اقدس میں زائرین کے ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں ملکی مسائل میں قوم کے بھرپور تعاون کی قدردانی کی اور اسلام اور اسلامی نظام کے نقطہ نگاہ سے حیات طیبہ کا تعارف کرایا۔ آپ نے بعض علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو فرمائی۔ (1)
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 27 فروردین 1370 ہجری شمسی مطابق 16 اپریل 1991 عیسوی کو عید الفطر کے دن پولیس افسروں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں پولیس افسران کے اچھے کردار کے حلقے کے عوام پر پڑنے والے اچھے اثرات کی جانب اشارہ کیا اور فرائض کی انجام دہی کے تعلق سے اہم ہدایات دیں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اکیس مارچ انیس سو اکانوے کو نئے ہجری شمسی سال تیرہ سو ستر کے آغاز پر حسب معمول پیغام نوروز جاری فرمایا۔ آپ نے اس پیغام میں بیتے سال کے اہم واقعات و حوادث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے سبق اور تجربہ حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے عوام کی جانب سے حکومت کے ساتھ تعاون کے جاری رہنے کی ضرورت پر تاکید کی اور نئے سال میں سرعت کے ساتھ منصوبوں پر عمل آوری کی امید ظاہر کی۔پیغام نوروز مندرجہ ذیل ہے:بسم اللہ الرحمن الرحیم یا مقلب القلوب والابصار، یا مدبر اللیل و النھار، یا محول الحول والاحوال ، حول حالنا الی احسن الحالاپنے تمام ہموطنوں، بالخصوص شہیدوں کے اہل خاندان، اپنے اعضائے بدن کا نذرانہ پیش کرنے والے جانبازوں اور ان کے کنبے والوں کو عید نوروز کی جو اس سال رمضان المبارک کے ساتھ آئی ہے، مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ الحمد للہ کہ خداوند عالم نے ہم پر احسان کیا کہ ہمارے جنگی قیدیوں کو ان کے خاندان کے آغوش میں لوٹا کے ہماری عظیم الشان قوم کو عیدی دی ہے۔ خدا وند عالم سے عاجزانہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے بقیہ جنگی قیدیوں کو بھی جو عراقی جیلوں میں ہیں، صحیح و سلامت وطن واپس لوٹائے اور بقیہ خاندانوں کے دلوں کو بھی ان کے عزیزوں کی واپسی کی خبر سے شاد کرے اور ہمارے معذور جانبازوں کو صحت و تندرستی عطا فرمائے۔گذشتہ سال پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں جو امت اسلامیہ کے لئے حادثات سے پر تھا۔ خلیج فارس اور ہمارے علاقے میں بھی اور دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی متعدد حادثات رونما ہوئے، خاص طورپر عراقی قوم کے لئے یہ سال بہت سخت تھا۔ ان حادثات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تیسری دنیا کی دیگر اقوام کی طرح مسلم اقوام کو بھی آزادی و خود مختاری اور اس بات کی کتنی ضرورت ہے کہ ان کی تقدیر جاہ طلب طاقتوں اور ان لوگوں کے اختیار میں نہ رہے جو اپنے فائدے کے علاوہ کسی اور چیز کی فکر میں نہیں رہتے۔ یہ حوادث تلخ تھے۔ لیکن ہماری قوم اور دیگر اسلامی اقوام کو ان سے بڑے تجربات ہوئے۔ ہمیں ان تجربات سے ہمیشہ فائدہ اٹھانا چاہئے اور ان حادثات سے جو درس ملے ہیں انہیں کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔چو باتیں ایرانی قوم دس برسوں سے کہہ رہی تھی، پروردگار کی عنایت سے گذشتہ سال کے دوران، ان کی حقانیت دنیا والوں پر عیاں ہوگئی اور دنیا کے لوگوں کی نگاہ میں ایرانی قوم کو وہ عزت اور مقام مل گیا جس کی یہ قوم مستحق تھی۔گذشتہ سال، ہماری قوم ملک کے اندر بھی حادثات سے دوچار رہی۔ سب سے المناک اور غم انگیز حادثہ ملک کے شمالی حصے میں آنے والا زلزلہ تھا۔ اسی طرح سیستان کا سیلاب، اسی قسم کے دیگر حوادث سے ہماری قوم دوچار رہی۔ یہ حوادث ناگوار اور سخت تھے لیکن یہی حوادث ہماری قوم کے لئے آزمائش اور تجربے کا میدان بھی تھے کہ دیکھیں کہ یہ قوم کتنی مدد کرنے والی ہے، حکومت کے ساتھ کتنا تعاون کرتی ہے اور کتنی ہمدرد اور زخموں پر مرہم رکھنے والی ہے۔ان حوادث میں ہماری عزیز قوم نے حکومت اور مصیبتوں میں گرفتار لوگوں کی ایسی مدد کی جو تاریخ میں بے نظیر ہے۔ ہم نے بہت سے زلزلے دیکھے ہیں، ماضی قریب اور بعید میں قدرتی بلاؤں اور حوادث کا بہت مشاہدہ کیا ہے۔ ملک کے شمالی علاقے میں جو زلزلہ آیا ہے اس طرح کے حوادث اس سے پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں لیکن کبھی بھی، ناگوار حوادث کے منفی اثرات اتنی تیزی کے ساتھ زائل نہیں ہوئے ہیں جس طرح اس بار ہوا ہے۔ البتہ ان علاقوں میں ابھی بہت سی چیزوں کی کمی ہے لیکن زلزلے کے متاثرین کی مدد اور انہیں رہائش وغیرہ فراہم کرنے میں جوکچھ کام ہوا ہے وہ حکومت کے ساتھ عوام کے بھر پور تعاون اور حکومت اور قوم کی کوششوں سے انجام پایا ہے۔الحمدللہ گذشتہ سال حکومت نے اپنے منصوبوں اور اپنی پالیسیوں میں پیشرفت کے لئے کافی کوششیں کی ہیں جس کے عوام کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور مزید مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن ہمارے سامنے بہت لمبا راستہ ہے اور ہمیں کافی مجاہدت اور سعی و کوشش کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے کہ حکومت اور عوام متحد ہوکے ایک دوسرے کے شانے سے شانہ ملا کے، ملک اور انقلاب کے اعلی اہداف کی طرف بڑھیں اور مشکلات کو دور کریں۔ایک نظر (ایرانی کیلنڈر کے ہجری شمسی سال) تیرہ سو ستر پر بھی جس کا آغاز ہوا ہے، ڈالتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مبارک سال ہوگا۔ یہ سال آغاز رمضان المبارک کے ساتھ شروع ہوا اور خدا وند عالم نے اس سال کے آغاز میں ہی بارش کی نعمت کی شکل میں اپنا لطف و کرم تقریبا ملک کے ہر حصے میں نازل فرمایا، اس کے پیش نظر ہمیں امید ہے کہ یہ سرسبز و شاداب سال ہوگا، اس سال پیداوار اچھی ہوگی، یہ ہماری قوم کے لئے عزت و عظمت اور تمام خاندانوں اور عوام کے لئے خوشیوں کا سال ہوگا۔ ہم روشن صبح کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم محسوس کررہ ہیں کہ ایرانی قوم مرضی پروردگار سے پیشرفت کر رہی ہے۔ اس قوم کی آزادی، خودمختاری اور تمام میدانوں میں نظر آنے والی اس کی دلیری وشجاعت، اخلاص و تندہی، ہمدردی و ہمدلی، انقلابی جذبے اور دلچسپی کے ساتھ خدمت انجام دینے والے حکام کا وجود، اس قوم کے رشد و بالیدگی کا نتیجہ ہے۔ یہ اس قوم کی غنی تاریخ کا نتیجہ ہے۔ ہم جانتے ہیں۔ البتہ عوام کا تقوائے الہی، پرہیزگاری، خوف خدا اور اہداف الہی کی جانب ان کی پیشرفت ان کی مدد کرے گی کہ یہ راستہ آسانی اور تیزی کے ساتھ طے کریں اور بفضل الہی اعلی اہداف تک پہنچیں۔ماہ رمضان، دعا اور پرہیزگاری کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہمیں عبادت اور اپنے پروردگار پر توجہ کی برکت سے روحانی و معنوی طاقت حاصل کرنی چاہئے اور اس روحانی و معنوی طاقت سے صعب العبور پتھریلے راستوں کو آسانی اور تیزی کے ساتھ طے کرنا چاہئے۔امید ہے کہ ایرانی عوام ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے درمیان، برادری، تعاون اور ہمدلی کو بڑھائیں گے اور ان کی قدر کریں گے۔ عوام ایکدوسرے کے ساتھ مہربان رہیں، ایک دوسرے کی مدد کریں، خاص طور پر ان ایام میں حاجتمندوں کی مدد کریں۔ جن کے پاس استطاعت ہے اور وہ دوسروں کی مدد کرسکتے ہیں، وہ ناداروں اور حاجتمندوں کی ضرور مدد کریں۔ ہماری قوم کے اندر تعاون اور امداد باہمی کا یہ جذبہ جو ہماری قدیم روایت اور اسلام کے اعلی احکام میں سے ہے، بہت اہم ہے۔ اس کو محفوظ رکھیں۔ خاص طور پر عید نوروز اور رمضان المبارک کے ان ایام میں اس کو زیاہ اہمیت دیں۔ عوام کی محبت، ایثار و فداکاری کا جذبہ دوسروں کی فکر اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ، وہ جذبہ ہے جو ہماری قوم کو اس تحریک کے نتائج و اہداف تک پہنچائے گا۔جس طرح اب تک آپ حکومت اور حکام کے ساتھ رہیں ہیں اسی طرح اس ہم دلی کو باقی رکھیں، مدد کریں۔ دشمن آپ کے سامنے ہے، سب ایک مورچے پر رہیں۔ سن تیرہ سو ستر میں انشاء اللہ ملک کی تعمیر کے لئے اس مجاہدت میں زیادہ رشد اور سرعت آئے گی اور ہم اس سال کے اختتام تک کافی پیشرفت کا مشاہدہ کریں گے۔ خدا کی توفیق اور نصرت آپ سب کے شامل حال رہے۔میں ایک بار پھر ملت ایران، ایرانی کنبوں، گرانقدر حکام، شہیدوں کے اہل خاندان، معذور جانبازوں، آزاد ہوکر آنے والے جنگی قیدیوں، جو لوگ وطن سے دور ہیں اور ملک سے باہر ہیں ان سب کو پرخلوص مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ سب کے لئے خدا وند عالم سے توفیقات کی دعا کرتا ہوں۔ والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 12 دی سن 1370ہجری شمسی مطابق 2 جنوری 1992 عیسوی کو بوشہر میں بحری فوج کے دوسرے علاقائی مرکز میں صبح کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں مسلح افواج کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے جہاد اور دفاعی سرگرمیوں میں مسلح فورسز کے کلیدی کردار کے ساتھ ہی ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی ان کی موثر سرگرمیوں اور شراکت کی اہمیت پر زور دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مسلح افواج نے جہاد اور ملک کی حفاظت کے مرحلے میں اپنا کردار بخوبی نبھایا اور اب ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی انہیں اسی انداز سے اپنا کردار نبھانا چاہئے۔ آپ نے اس موقع پر فرمایا کہ ملک کی پوزیشن ماضی کی بنسبت بہت بہتر ہو چکی ہے لیکن پھر بھی مسلح فورسز کو اپنی محنت و مشقت اور دلجمعی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہئے۔ قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں خلیج فارس کے علاقے میں بیرونی افواج کی موجودگی کو نا قابل تحمل قرار دیا اور فرمایا کہ ان افواج کو ایک نہ ایک دن اس علاقے سے باہر نکلنا ہوگا کیونکہ یہ خلیج فارس کا علاقہ اس خلیج کے ساحل پر بسنے والے ممالک کا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں یہ یاددہانی کرائی کہ تاریخ میں ان قوموں کا ذکر دائمی ہو جاتا ہے جو شجاعت سے کام لیتے ہوئے اپنے دین و ایمان اور اقدار کی حفاظت کرتی ہیں جبکہ صرف آسائشوں اور آرام دہ ماحول میں زندگی بسر کرکے ختم ہو جانے والی قوموں کو کوئی یاد نہیں رکھتا۔
خطاب حسب ذیل ہے:
قائد انقلاب اسلامی نے بے مثال شخصیت کے حامل حزب اللہ لبنان کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید عباس موسوی کی صیہونی حکومت کے ہاتھوں مظلومانہ شہادت پر 28-11-1370 ہجری شمسی مطابق 17-2-1992 عیسوی کوتعزیتی پیغام جاری کیا۔ پیغام میں قائد انقلاب اسلامی نے شہید کی خصوصیات کا ذکر کیا اور ساتھ ہی امریکا اور اسرائيل کو خبردار کیا کہ وہ ان مجرمانہ حرکتوں سے اپنے مظالم کے لئے زمین ہموار نہیں کر پائیں گے کیونکہ عباس موسوی شہید کی تحریک جانباز جوانوں کے ہاتھوں آگے بڑھتی رہے گی۔ پیغام کے متن کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛بسم اللہ الرحمن الرحیم من المومنین رجال صدقوا ما عاھدو اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدّلوا تبدیلا (1) کبھی نہ تھکنے والے مجاہد عالم اور حزب اللہ لبنان کے فداکار رہبر حجت الاسلام والمسلمین آقائے سید عباس موسوی، ان کی اہلیہ اور ان کے کمسن بچے کی، صیہونی حکومت کے مجرمانہ ہاتھوں سے مظلومانہ شہادت کی خبر نہایت غم و اندوہ کے ساتھ سنی ۔(2) اس مخلص، ذہین، دلیر اور عالی قدر سید پر خدا کی رحمتیں نازل ہوں اور جلاد اور خوں آشام صیہونیوں پر جو اپنے گھناونے اور جارحانہ مقاصد کے لئے کسی بھی جرم سے دریغ نہیں کرتے اور ان کے خبیث سامراجی حامیوں پرجو اس حکومت کے بڑے جرائم کو نظر انداز کرکے اور اس کے دوام میں مدد کرکے اپنی خباثت آمیز غیر انسانی ماہیت پہلے سے زیادہ آشکارا کرتے ہیں اورحق پسند مسلمانوں کے خلاف کسی بھی سازش اور خیانت سے پس و پیش نہیں کرتے، خدا اور اس کے بندوں کی لعنتیں ہوں۔ اس عظیم شہید اور اس کے مظلوم ساتھیوں کا خون ناحق غاصب صیہونیوں کے خلاف لبنان اور فلسطین کے عوام کی حق طلبی کی جدوجہد میں شدت اور وسعت لائے گا۔ یہ عالی قدر سید جس نے علم کو عمل سے، گفتار کو صداقت سے اور فداکاری کو ذہانت و ادراک سے آمیختہ کیا تھا، مقدس اور خدائی اہداف یعنی اسلام کے دفاع اور ظلم و جارحیت کے مقابلے کی راہ میں درجہ شہادت پر فائز ہوا اور ابدی سعادت حاصل کی۔ اس عظیم ہستی کی تحریک کو اس کے ساتھی، اس کے مورچے کے سپاہی اور لبنان نیز فلسطین کے مظلوم مسلمان آگے بڑھائیں گے۔اسرائیل اور امریکا جان لیں کہ اس قسم کے جرائم سے ان کے ظالمانہ تسلط کی راہ ہموار نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ اس طرح، ان اقوام کو جو طولانی برسوں سے ان کی شرپسندیوں اور اور مظالم کا سامنا کر رہی ہیں، خوفزدہ کر سکتے ہیں۔ میں اس افتخار شہادت کی جو اس فداکار اور مخلص انسان کے جہاد مسلسل پر خدا کا انعام تھی، لبنانی قوم، حزب اللہ کے پاکیزہ جوانوں اور اس کے رہنماؤں بالخصوص شہید کے پسماندگان ان کے دوستوں اور مخلصین کو مبارکباد اور تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان کے لئے خدا کے فضل و رحمت کا طالب ہوں۔ والسلام وعلیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ سید علی خامنہ ایتیرہ شعبان ایک ہزار چار سو بارہ مطابق اٹھائیس بہمن ایک ہزار تین سو ستر 1- احزاب 23 2- شہید عباس موسوی تیرہ سو اکتیس ہجری شمسی ( مطابق انیس سو باون عیسوی) میں لبنان کے شہر بعلبک کے مضافاتی قصبے نبی شیت میں پیدا ہوئے۔ تیرہ سو چھیالیس ہجری شمسی ( مطابق انیس سوسڑسٹھ عیسوی) میں دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے حوزہ علمیہ نجف اشرف گئے اور آیت اللہ العظمی خوئی اور آیت اللہ العظمی سید باقر الصدر شہید جیسے بزرگ اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ تیرہ سو ستاون ( مطابق انیس سو اٹھہتر عیسوی) میں لبنان واپس گئے اور اسی سال بعلبک میں دینی مدرسہ قائم کیا۔ وہ لبنان بالخصوص جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی دشمن کے خلاف مجاہدت کے سخت ترین حامیوں اور انقلابی تحریک حزب اللہ لبنان کے بانیوں میں تھے۔ تیرہ سو انہتر ( مطابق انیس سو نوے عیسوی ) میں شیخ طفیلی کے بعد حزب اللہ لبنان کے دوسرے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے اور ستائیس بہمن تیرہ سو ستر مطابق سولہ فروری انیس سو بانوے کو جبشیت میں شیخ راغب حرب کی شہادت کی آٹھویں برسی میں تقریر کے بعد ایک کار میں بیروت جا رہے تھے کہ جنوبی لبنان کے تفاحتا نامی علاقے میں صیہونی حکومت کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نےحملہ کرکے انہیں، ان کی اہلیہ اور ان کے کمسن بچے کو شہید کر دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے حسینیہ امام خمینی میں مختلف عوامی طبقات سے خطاب میں دنیا میں اسلام کے نمو اور عالمی استکباری قوتوں کی معاندانہ سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے 22 نومبر 1989 کے اپنے اس خطاب میں ملت ایران کے انقلاب اور اس انقلاب سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔
رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب حسب ذیل ہے:
آیت اللہ خامنہ ای نے 10 مارچ 1986 کو تہران یونیورسٹی میں علامہ اقبال پر منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کیا جس میں آپ نے علامہ اقبال کے فلسلفے، طرز فکر، اہداف طرز سخن جیسے گوناگوں پہلوؤں پر بڑی معرکۃ الآرا گفتگو کی۔ (1)
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 18 مرداد سنہ 1363 ہجری شمسی مطابق 9 اگست سنہ 1984 عیسوی کو امام ہشتم فرزند رسول حضرت علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی شخصیت پر منعقدہ بین الاقوامی سمینار کے لئے اپنے پیغام میں حضرت کی مدبرانہ روش کے اہم نکات اور آپ کے خلاف عباسی خلیفہ مامون کے شاطرانہ حربوں کا جائزہ لیا۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای اس وقت ایران کے صدر جمہوریہ تھے۔
پیغام کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے؛
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ہفتم تیر سنہ 1360 ہجری شمسی مطابق 28 جون 1981 کو پیش آنے والے سانحے اور اس سانحے میں انتہائی اہم شخصیات کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے شہدا اور ان کے اہل خانہ کی قدردانی کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں بحرین میں بزرگ عالم دین شیخ عیسی قاسم سے اس ملک کے حکام کے تعرض کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ان حکام کی حماقت کی علامت قرار دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 31 مارچ 1977 کو ایک عقد کے موقع پر شادی، ازدواجی زندگی، اولاد کی تربیت جیسے موضوعات پر قرآن و سیرت کی روشنی میں بصیرت افروز گفتگو کی جو پیش خدمت ہے۔