نزول قرآن کے مہینے، ماہ مبارک رمضان کے پہلے دن بدھ کو قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شرکت کے ساتھ 'محفل انس با قرآن' کا انعقاد کیا گیا۔ یہ نورانی محفل ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہی۔
عدلیہ کے عہدیداروں، کارکنوں اور جج حضرات نے 1392/04/05 ہجری شمسی مطابق 26 جون 2013 عیسوی بدھ کے روز قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چودہ جون کے انتخابات کے موقعے پر قانون کی بالادستی پر عمومی تاکید کو قابل تعریف قرار دیا اور انتخابات میں شرکت کے تعلق سے عوام کے جوش و جذبے کی قدردانی کرتے ہوئے فرمایا کہ پولنگ مراکز پر عوام کی کثیر تعداد میں شرکت سب سے بڑھ کر ملک کے لئے اہم ہے اور اس کے ذریعے عوام جمعے کے دن اپنے مقتدرانہ اقدام سے اسلامی نظام سے اپنے مستحکم رابطے اور رشتے کو ثابت کرتے ہوئے دشمنوں کو ایک بار پھر مایوس کر دیں گے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چودہ جون کے انتخابات کے موقعے پر قانون کی بالادستی پر عمومی تاکید کو قابل تعریف قرار دیا اور انتخابات میں شرکت کے تعلق سے عوام کے جوش و جذبے کی قدردانی کرتے ہوئے فرمایا کہ پولنگ مراکز پر عوام کی کثیر تعداد میں شرکت سب سے بڑھ کر ملک کے لئے اہم ہے اور اس کے ذریعے عوام جمعے کے دن اپنے مقتدرانہ اقدام سے اسلامی نظام سے اپنے مستحکم رابطے اور رشتے کو ثابت کرتے ہوئے دشمنوں کو ایک بار پھر مایوس کر دیں گے۔
چود خرداد سنہ 1392 ہجری شمسی مطابق 4 جون سنہ 2013 عیسوی کو ملک کے باایمان اور انقلابی عوام نے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے روضے میں عظیم الشان اجتماع کرکے امام خمینی سے اپنی وفاداری کو قوم اور حکام کی سربلندی و یکجہتی کی حبل متین میں تبدیل کر دیا اور اپنے عزیز قائد سے عہد و میثاق کی تجدید کی۔ اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اللہ تعالی، عوام الناس اور خود اپنی ذات پر امام خمینی کے بھرپور اعتماد کو اسلامی انقلاب کی مقتدرانہ پیشرفت، تسلسل اور فتح و کامرانی کا مقدمہ قرار دیا، آپ نے انتخابات کے سلسلے میں اہم ہدایات دیتے ہوئے عوام اور انتخابی امیدواروں سے فرمایا کہ اللہ کی نصرت و مدد سے ملت ایران دس دن بعد ایک اور تاریخ رقم کرے گي اور چودہ جون کے عظیم امتحان سے سرخرو اور سربلند ہوکر باہر نکلے گی۔
قائد انقلاب اسلامی نے آئندہ چودہ جون کے انتخابات کے سلسلے میں ملت ایران کے پرجوش اور شجاعانہ طرز عمل کو اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کے لئے عظیم کامیابیوں کا ضامن قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے عوام کو سفارش کی کہ صدارتی انتخابات کے امیدواروں کے نعروں اور بیانوں کا دقت نظری سے جائزہ لیں تا کہ اصلح یعنی موزوں ترین فرد کا انتخاب کر سکیں۔
معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے بدھ 15 مئی کو تہران میں قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے عوام اور خاص طور پر نوجوان طبقے کو ماہ رجب کے پاکیزہ مہینے کی عظیم تربیتی خصوصیات سے بہرہ مند ہونے کی سفارش کی اور چودہ جون کے انتخابات کو ملت ایران کے لئے ایک اور افتخار آمیز امتحان قرار دیا۔
بنت رسول صدیقہ طاہرہ خاتون دو عالم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت با سعادت اور رہبر کبیر امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے یوم پیدائش کی مناسبت سے تہران میں حسینیہ امام خمینی فضائل و مناقب فاطمی سے معطر ہو گیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی سیدنا محمد المصطفی و آلہ الاطیبین و صحبہ المنتجبین و من تبعھم باحسان الی یوم الدین
آپ معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں اور خدائے عزیز و رحیم کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اس اجتماعی سعی و کوشش میں برکت عطا کرے اور اسے مسلمانوں کے حالات کی بہتری کی سمت موثر قدم میں تبدیل کر دے۔
قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے امريکي رہنماؤں کے قول و فعل ميں واضح تضاد اور ان کے غير منطقي طرز عمل پر سخت تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ايراني قوم ايٹمي اسلحہ بناناچاہتي تو امريکي ہر گز اس کو روک نہيں سکتے تھے-
قائد انقلاب اسلامی نے اتوار 22 بہمن مطابق دس فروری کو جشن انقلاب میں عوام کی پرشکوہ شرکت کی قدردانی کی اور فرمایا کہ عین اس وقت جب ملت ایران کے وقار اور خود مختاری کے دشمن اس آس میں تھے کہ عوام انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کی آواز پر لبیک کہنے سے گریز کریں گے، پوری قوم نے صدائے لبیک بلند کرکے دشمن کو مایوس کر دیا۔
قائد انقلاب اسلامی نے امریکا کی جانب سے چونتیس سال سے جاری گوناگوں سختیوں اور دھمکیوں کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کے مذاکرات پر آمادگی کے بیانات کو ان کی بدنیتی کی علامت قرار دیا۔
اسلامي جمہوريہ ايران کے اعلي حکام تہران ميں متعين اسلامي ملکوں کے سفيروں اور وحدت اسلامي عالمي کانفرنس ميں شريک مہمانوں نے منگل 10 بہمن 1391 ہجری شمسی مطابق 29 جنوری سنہ 2013 عیسوی کو قائد انقلاب اسلامي سے ملاقات کي۔ اس ملاقات ميں قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے اپنے خطاب ميں پيغمبر اسلام صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام کے يوم ولادت باسعادت کي مبارکباد پيش کرتے ہوئے اسلامي دنيا بالخصوص شمالي افريقا کي اسلامي بيداري کو وعدہ الہي کے ایک حصے کي تکميل سے تعبير کيا۔
قائد انقلاب اسلامی کی نظر میں امریکا کی تسلط پسندانہ کارروائیوں کے خلاف ملت ایران کی جد و جہد کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ یہ مقابلہ 19 اگست سنہ 1953 سے شروع ہوا اور اسی سال 7 دسمبر کو طلبہ کے امریکا مخالف مظاہروں کی سرکوبی سے اس میں مزید شدت پیدا ہوئی۔ مندرجہ ذیل متن امریکی حکومت کے خلاف ملت ایران کی جدو جہد کے سلسلے میں قائد انقلاب اسلامی کے نقطہ نگاہ اور موقف کا خلاصہ ہے۔ جسے ویب سائٹ KHAMENEI.IR نے سوال و جواب کی شکل میں شائع کیا ہے۔
قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے قم سے ملاقات کے لئے آنے والے ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب ميں فرمايا کہ ايراني قوم کی بصیرت اور اس کا شعور دشمن کے مکر و فریب کی رسائی سے بالاتر ہے۔
قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا ہے کہ دشمن اسلامي بيداري سے خوفزدہ ہے اور اس کي کوشش ہے کہ يہ اصطلاح بروئے کار نہ لائی جائے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایرانی قوم اسلامی تعلیمات کو ملحوظ رکھنے کے باعث جارحیت پسند اور لشکر کشی کرنے والی قوم نہیں ہے لیکن دشمن کی کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں پیچھے بھی نہیں ہٹے گی اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیگی۔
قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کي تمام ترقي و پيشرفت سامراجي طاقتوں کی عائد کردہ پابنديوں اور دباؤ کے عالم ميں حاصل ہوئي ہے-
قائد انقلاب اسلامي نے شمال مشرقی صوبے شمالي خراسان کے دورے کے پہلے دن ميں علمائے دين اور طلبا سے خطاب ميں اسلامی نظام کي تقويت کے راستے پر چلنے کي ضرورت پر تاکيد فرمائی ہے-
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد سے تا حال ملت ایران کا اصلی اور کلیدی ہدف ہمہ جہتی مادی و روحانی پیشرفت رہی ہے اور یہ پیشرفت اسلامی تعلیمات پر استوار اور مغرب کی مادہ پرستانہ پیشرفت سے مختلف ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیغمبر اعظم کی شان میں انجام دی جانے والی گستاخانہ حرکت اور عقیدتمندوں اور معاندین دونوں کی نگاہوں میں آنحضرت کی عظمت و جلالت کے انعکاس کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس سال کا حج خاص اہمیت کا حامل ہے جو گزشتہ برسوں سے مختلف ہے۔
آپ معزز مہمانوں کو، ناوابستہ تحریک کے ملکوں کے سربراہوں، نمائندہ وفود اور اس عالمی اجلاس کے دیگر شرکاء کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ہم یہاں اس مقصد سے جمع ہوئے ہیں کہ پروردگار کی نصرت و ہدایت سے اس مہم اور تحریک کو، کہ چھے عشرے قبل چند دلسوز اور فرض شناس سیاسی رہنماؤں کی دانشمندی، حالات کے ادراک اور بیباکی کے نتیجے میں جس کی داغ بیل پڑی تھی، دنیا کے عصری تقاضوں اور حالات کے مطابق آگے بڑھائيں، بلکہ اس میں نئی جان ڈالیں اور ایک نئی حرکت پیدا کریں۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے منگل 24 جولائی 2012 عیسوی کی شام اسلامی نظام کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات میں حقیقت پسندی کے ساتھ ساتھ بلند امنگوں کے لئے سعی و کوشش کو گزشتہ بتیس سال کے دوران ملت ایران اور اسلامی نظام کی کامیابیوں کا راز قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ وحی الہی اور روحانیت و اخلاقیات پر استوار تمدن کے زیر سایہ ہی امت اسلامیہ سعادت و کامرانی کی منزل پر پہنچ سکتی ہے۔
قائد انقلاب اسلامي نے اسلامي بيداري کي عظيم تحريک ميں خواتين کے کردار کي اہميت پر زور ديا- خواتين اور اسلامي بيداري کي عالمي کانفرنس ميں شريک ايراني اور غير ملکي نمائندہ خواتين نے بدھ 21 تیر سنہ 1391 ہجری شمسی مطابق 11 جولائی سنہ 2012 عیسوی کو تہران ميں قائد انقلاب اسلامي سے ملاقات کي-
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لئے عدلیہ کی پیشرفت کو اہم ترین ہدف قرار دیا اور اس ہدف کے حصول کے تناظر میں بعض اہم نکات کا ذکر کرتے ہوئے تمام شعبوں بالخصوص عدلیہ، مقننہ اور مجریہ کے باہمی تعاون کو موجودہ حالات میں لازمی اور واجب قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 1391/03/29 ہجری شمسی مطابق 18-06-2012 عیسوی کو عید بعثت پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے موقع پر فرمایا کہ نور بعثت کی بے شمار کرنوں میں سے دو کی آج انسانی معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔ ایک ہے فکر و تدبر کا برانگیختہ ہونا اور دوسرے تہذیب اخلاق۔
قائد انقلاب اسلامی نے 1391/03/24 ہجری شمسی مطابق 13 جون سنہ 2012 عیسوی کو بدھ کی صبح نویں پارلیمنٹ کے نو منتخب ارکان سے ملاقات میں فرمایا کہ اپنے بنیادی اور انتہائی اہمیت کے حامل فرائض پر عمل آوری میں پارلیمنٹ کو چاہئے کہ ایک زندہ، متحرک اور نشاط انگیز پارلیمنٹ کی خصوصیات سے آراستہ ہوکر سیاسی، اخلاقی اور مالیاتی شعبوں میں صحتمند پارلیمنٹ کا کردار ادا کرے۔
پہلی رجب اور خرم شہر کی آزادی کی تاریخ تین خرداد کے موقعے پر امام حسین علیہ السلام کیڈٹ یونیورسٹی میں قائد انقلاب اسلامی کی موجودگی میں کیڈٹس کی ایک تقریب منعقد ہوئی۔
صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کے مبارک و مسعود دن کی مناسبت سے تہران کے حسینیہ امام خمینی میں برپا جشن، کوثر نبوی کے مناقب و فضائل سے معطر ہو گیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ملک کے ہزاروں اساتذہ سے خطاب میں علم و دانش اور انسانی کمالات پر استوار ایک نمایاں معاشرے کی تشکیل میں استاد کے اہم مقام اور عدیم المثال کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، تعلیم و تربیت کے شعبے میں بنیادی تبدیلی کے منصوبے پر عملدرآمد کے لئے دقیق برنامہ ریزی کی ضرورت پر زور دیا۔
22 اپریل سنہ 2012 کو اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج کے سربراہ کل ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ نے ایران کی بری افواج کی کارکردگی اور پیش رفت کا قریب سے معائنہ کیا
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے منگل بیس مارچ کو نئے ہجری شمسی سال تیرہ سو اکانوے کے موسم بہار کے پہلے دن اپنے خطاب میں گزرے سال تیرہ سو نوے ہجری شمسی کے دوران دشمن کی سیاسی، فوجی اور سیکورٹی کے شعبے کی رجز خوانی کے مقابل ملت ایران کو حاصل ہونے والے کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور تیل کے ذخائر کے غیرت مندانہ تحفظ کو اسلامی نظام سے عالمی استکبار کی خصومت و دشمنی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ کسی شیر کی مانند ملت ایران کے حقوق کا دفاع کر رہی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 18/12/1390ہجری شمسی مطابق 8 مارچ سنہ 2012 عیسوی کو ماہرین کی کونسل (مجلس خبرگان) کے سربراہ اور ارکان سے ملاقات میں دو مارچ سنہ 2012 کے پارلیمانی انتخابات میں بھرپور شرکت کے ملک کے عوام کے بروقت، دانشمندانہ اور بصیرت آمیز اقدام کی قدردانی کی اور اس عظیم الشان شرکت کے نتائج اور اثرات کا جائزہ لیا۔