قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 28 مہر سنہ 1389 ہجری شمسی مطابق 20 اکتوبر سنہ 2010 عیسوی کو مقدس شہر قم کے دورے کے دوران صوبہ قم کے شہیدوں کے اہل خانہ اور اسلامی انقلاب کی حفاظت کے لئے جنگ کے دوران جسمانی طور پر معذور ہو جانے والے جانبازوں اور جنگ میں شجاعت کے جوہر دکھانے والے ایثار پیشہ افراد سے ملاقات میں شہادت پر ایمان، ایثار پر عقیدے اور اللہ تعالی سے تجارت کو ملت ایران کی حقیقی قدرت و طاقت کا راز قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ستائیس مہر سن تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق انیس اکتوبر سن دو ہزار دس عیسوی کو انیس شہر قم میں زبردست اور تاریخی عوامی استقبال اور پھر دختر رسول حضرت معصومہ کے روضہ اقدس کی زیارت کے بعد روضے سے ملحقہ وسیع و عریض میدان میں ٹھاٹھیں مارتے عوامی اجتماع میں پہنچ کر جذبہ مودت کے اظہار پر شکریہ ادا کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے دوسری تیر تیرہ سو نواسی مطابق تیئیس جون دو ہزار دس کو ملک کی یونیورسٹیوں کے بسیجی اساتذہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں بسیج کی خصوصیات کا ذکر کیا اور اسے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی حکیمانہ فکر و نظر کا نتیجہ قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای انیس شہریور تیرہ سو نواسی ہجری شمسی، دس ستمبر دو ہزار دس عیسوی مطابق پہلی شوال چودہ سو اکتیس ہجری قمری کو تہران کی مرکزی نماز عید کی امامت کی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انیس شہریور تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق دس ستمبر دو ہزار دس برابر پہلی شوال چودہ سو اکتیس ہجری قمری کو اسلامی نظام کے حکام، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف عوامی طبقات سے ملاقات میں عالم اسلام کے اتحاد کو عید فطر کا سب سے بڑا سبق قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آٹھ شہریور سنہ تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق تیس اگست سنہ دو ہزار دس عیسوی کو صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اور ان کی کابینہ کے ارکان سے خطاب کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ستائیس مرداد تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق سات رمضان المبارک چودہ سو اکتیس ہجری قمری کو ملک کے اعلی حکام سے ملاقات میں اہم داخلی و بیرونی امور میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہ رمضان کو توبہ و طہارت، اخلاص اور تقوای کے سیاسی و سماجی پہلوؤں کی جانب توجہ کا بہترین موقع قرار دیا اور باہمی اتحاد و اخوت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ حکام کا اتحاد ایک اہم فریضہ ہے جسے نقصان پہنچانے کی عمدی کوشش خلاف شریعت اقدام ہے۔
فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت اور اس موقع پر ایران میں منائے جانے والے یوم پاسدار کی مناسبت سے پہلی مرداد تیرہ سو نواسی ہجری شمی مطابق دوسری شعبان چودہ سو اکتیس ہجری قمری برابر تیئيس جولائی دو ہزار دس کو قائد انقلاب اسلامی کے دفتر اور سپاہ پاسداران انقلاب فورس کے اہلکاروں اور ارکان نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انیس تیر تیرہ سو نواسی ہجری شمسی، دس جولائی 2010 عیسوی مطابق 27 رجب چودہ سو اکتیس ہجری قمری کو عید بعثت رسول کے موقع پر ملک کے حکام کے اجتماع سے خطاب میں بعثت رسول کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔
پانچ تیر تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق تیرہ رجب المرجب چودہ سو اکتیس برابر چھبیس جون سن دو ہزار دس کو جانشین رسول حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت پر صوبہ بوشہر کے عوام کی ایک بڑی تعداد نے تہران آکر حسینیہ امام خمینی رحمت اللہ علیہ میں قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر لاری جانی اور ارکان نے اٹھارہ خرداد سن تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق آٹھ جون سن دو ہزار دس کو قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پارلیمنٹ کے اسپیکر نے تقریر کرتے ہوئے ایوان کی کارکردگی کے بارے میں بتایا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اکیس جمادی الثانی سن چودہ سو اکتیس ہجری قمری مطابق چار جون دو ہزار دس عیسوی برابر چودہ خرداد تیرہ سو نواسی ہجری شمسی کو بانی انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوری نظام کے معمار امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی رحلت کی اکیسویں برسی کے موقع پر آپ کے مزار پر دسیوں لاکھ کی تعداد میں جمع ہونے والے عقیدت مندوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بارہ آبان سنہ تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق تین جون سنہ تیرہ دو ہزار دس عیسوی کو ہزاروں طلبہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں تیرہ آبان مطابق چار نومبر کی تاریخ کو امریکا کی طمع اور توسیع پسندی، شاہ کی طاغوتی حکومت کے غیروں پر انحصار، بصیرت پر مبنی جذبہ ایمانی کی مضبوطی، میدان عمل میں نوجوان نسل کی پیش قدمی اور انقلابی نوجوان نسل کی شجاعت و ہمت کا آئینہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس وقت ملت ایران ماضی کے ہر دور سے زیادہ پرعزم ہوکر اور پوری مضبوطی کے ساتھ اعلی اہداف اور سعادت بخش بلندیوں کی جانب رواں رواں اور اس عظیم تحریک میں نوجوان نسل پیش پیش ہے۔
بنت رسول صدیقہ کبری حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کے موقع پر شعرا، خطبا اور ذاکرین اہل بیت اطہار کی ایک بڑی تعداد نے تیرہ خرداد سن تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق تین جون سن دو ہزار دس عیسوی کو حسینیہ امام خمینی میں قائد انقلاب اسلامی کی موجودگی میں بنت رسول کے فضائل و مناقب بیان کئے اور ساتھ ہی عصری سماجی و انقلابی مسائل پر روشنی ڈالی۔
تین خرداد تیرہ سو اکسٹھ ہجری شمسی مطابق چوبیس مئی انیس سو بیاسی کا دن ایران اور اس ملک کے اسلامی انقلاب کی تاریخ کا بے حد اہم دن ہے۔ یہ روحانیت و معنویت کی کرشمائی تاثیر کا آئينہ ہے۔ اس دن خرم شہر کو جارح عراقی فوج کے قبضے سے آزاد کرایا گیا۔ اس علاقے کو اپنے غاصبانہ قبضے میں رکھنے کے لئے عراق کی صدام حکومت ہی نہیں بلکہ اس کی پشتپناہی کرنے والی مشرقی و مغربی طاقتیں اور علاقائی ممالک بھی ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے لیکن ایرانی نوجوانوں نے قوت ایمانی اور توفیق الہی سے اس علاقے کو آزاد کرا لیا۔ اسی مناسبت سے قائد انقلاب اسلامی نے تین خرداد تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق چوبیس مئی دو ہزار دس کو شمال مشرقی تہران میں واقع امام حسین علیہ السلام کیڈت یونیورسٹی میں کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے خرم شہر کی آزادی کے لئے ایرانی جیالوں کے بیت المقدس نامی فوجی آپریشن کا مطالعہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تفصیلی خطاب مندرجہ ذیل ہے؛
بسماللَّهالرّحمنالرّحيم
میں آت تمام عزیز نوجوانوں اور مستقبل کی امیدوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی شروعات اور تعلیم کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کی مناسبت سے بھی اور تین خرداد (چوبیس مئی) کے عظیم دن کی مناسبت سے بھی جو انقلاب کی تاریخ ہی نہیں ہمارے ملک کی تاریخ کا بھی ایک ناقابل فراموش دن ہے۔ آج کی یہ تقریب بہت اچھی اور مناسب نیز سپاہ پاسداران انقلاب کی مانند روحانیت اور ذہنی و جسمانی توانائیوں اور فکری و عملی آمادگي کا آمیزہ اور سپاہ پاسداران انقلاب کی پیشرفت و ترقی کا آئینہ معلوم ہوئی۔
میرے عزیزو! خرم شہر کی آزادی کا دن جو در حقیقت سن انیس سو بیاسی کے اپریل اور مئی مہینے میں بیت المقدس آپریشن کے نقطہ اوج پر پہنچ جانے کا دن ہے، ہم سب کے لئے، ہماری تاریخ کے لئے اور ہمارے مستقبل کے لئے سبق آموز اور عبرت آموز دن ہے۔ کیونکہ فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب کے جوانوں نے اس دن جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک حیرت انگیز اور قابل تعریف ہم آہنگی اور ناقابل بیان شجاعت و فداکاری کے ذریعے بڑی کاری ضرب لگائی۔ عراقی فوج کے پیکر پر ہی نہیں بلکہ عالمی سامراجی نظام کے پیکر پر جو اپنے لمبے لمبے وعدوں کے ساتھ بعثی حکومت کی جنگی مشینری کی پشت پر کھڑا ہوا تھا۔ کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ یہ چیز (خرم شہر کی آزادی) ممکن ہو سکے گی۔ لیکن ایسا ہوا۔ اس کی اصلی وجہ کیا تھی؟ اس کے لئے چند عوامل کو موثر قرار دیا جا سکتا ہے لیکن سب سے بنیادی ترین عامل تھا اللہ تعالی پر توکل اور اپنی قوت بازو پر بھروسہ۔ اگر ہم اس دن عام اور رائج اندازوں کے مطابق عمل کرتے اور سوچتے تو کسی بھی صورت میں کوئی یہ نہیں سوچ پاتا کہ یہ چیز بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ لیکن ہمارے نوجوانوں نے، ہمارے با ایمان عوام نے، ہمت و شجاعت کے ساتھ، ایمان و ایقان کے ساتھ، اللہ تعالی پر توکل کرتے ہوئے، جان ہتھیلی پر اور موت کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میدان میں قدم رکھے اور یہ عظیم کارنامہ انجام دیا۔ خرم شہر کی آزادی افتخارات کا نقطہ کمال ہے، افتخارات کا ثمرہ ہے۔ تقریبا ایک مہینے تک چلنے والے بیت المقدس آپریشن کی پوری مدت میں فداکاری و جاں نثاری کی سیکڑوں حیرت انگیز نشانیاں اور مثالیں دیکھنے کو ملیں۔
میرے عزیز نوجوانو! میرے فرزندو! میں گزارش کروں گا کہ آپ اس آپریشن کی تفصیلات کو جس کا ایک حصہ، صرف ایک گوشہ، ضبط تحریر میں آ چکا ہے بغور پڑھئے اور دیکھئے کہ کیا واقعات رونما ہوئے۔ دیکھئے کہ ہمارے جوانوں نے، ہمارے جیالوں نے، جن کے ناموں کا ذکر کرنے کے لئے ایک کتاب درکار ہوگی، کیا کارنامہ انجام دیا؟ اگر ہم نمونے کے طور کچھ نام لینا چاہیں تو شجاع و فداکار کمانڈر احمد متوسلیان جیسے افراد کا نام لے سکتے ہیں جنہوں نے اس انتہائی اہم اور بڑی لڑائی میں کیسا کارنامہ انجام دیا اور کون سی توانائی استعمال کی؟! یہ جو جملہ امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے اور آپ نے اسے بارہا سنا ہوگا کہ خرم شہر را خدا آزاد کرد اس سلسلے میں کہا جانے والا سب سے حکیمانہ اور سب سے حقیقت پسندانہ جملہ ہے۔ وما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمی (1) کی عملی تصویر ہے۔ اللہ تعالی کی قدرت جانبازوں کے دلوں میں، ان کے آہنی عزم و ارادے میں، ان کے صبر و ضبط میں، ان کے توانا بازوؤں میں، ان کی خلاقی توانائیوں میں جلوہ گر ہوئی۔ دشمن مادی طاقتوں پر تکیہ کئے بیٹھا تھا۔ ظاہر ہے کہ مادی طاقت پختہ روحانیت و انسانیت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہ چیز ہمیشہ رہے گی۔ آج بھی ایسا ہی ہے۔ میرے عزیزو! آج بھی مادی طاقتیں اپنی پوری توانائی کے ساتھ، اپنی دولت، اپنی صنعت، اپنی جدید ٹکنالوجی اور سائنسی ترقی کی مدد سے بھی ان انسانوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں جو ایمان و ایقان کو، عزم و ارادے کو، ہمت و شجاعت کو اور فداکاری و جاں نثاری کو اپنے فعل و عمل کا معیار قرار دیں۔
جو لوگ اس زمانے میں ملت ایران اور اس قوم کے سپاہیوں کے مد مقابل کھڑے ہوئے تھے یہ وہی لوگ ہیں جو آج ملت ایران کے مقابلے پر آئے ہیں۔ انہیں پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اس زمانے میں بھی امریکا، نیٹو، برطانیہ، فرانس اور جرمنی تھے۔ صدام کو کیمیاوی اسلحہ دیتے تھے، فوجی ساز و سامان فراہم کرتے تھے، طیارے دیتے تھے، جنگی نقشے دیتے تھے، جنگ کے میدان کی تازہ اطلاعات دیتے تھے، اس کی پشت پر کھڑے ہوئےتھے تاکہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام کو، توحید و روحانیت کے عظیم نظام کو، وحدانیت و انسانیت کے لہراتے اس پرچم ہو اور قوموں کی آزادی اور خود مختاری کی آواز کو شکست دے دیں۔ صدام کی پشت پر یہی لوگ کھڑے ہوئے تھے اور آج بھی یہی لوگ (مقابلے کے لئے) سامنے ہیں۔ آج بھی جو لوگ اپنی تشہیراتی مہم کے ذریعے حقائق کو برعکس شکل میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود دنیا کے بیشتر علاقوں کی بد امنی کے ذمہ دار ہیں لیکن ایران کو خطرہ بناکر پیش کرتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں، وہ لوگ جو پاکستان میں روزانہ مجرمانہ کارروائیاں کرتے ہیں، افغانستان میں برسوں سے قتل عام کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں، لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں، عراق میں کسی اور صورت میں اور فلسطین میں کسی اور انداز سے، وہ لوگ جو قدس کی غاصب حکومت کی شیطانی طاقت کی پشت پر کھڑے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں۔ انیس سو بیاسی میں یہی لوگ صدام کی حمایت و مدد کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہیں شکست ہوئی تھی اور آپ یقین رکھئے کہ اس دفعہ بھی انہیں شکست ہوگی۔
اسلامی جمہوری نظام دنیا کی دیگر جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کی مانند نہیں ہے۔ خاص پیغام کا حامل نظام ہے۔ اسلامی جمہوری نظام کا پیغام وہ پیغام ہے کہ جس کے لئے دنیا کی قومیں بیتاب ہیں۔ یہ دنیا کے جغرافیا میں کسی نقطے پر واقع عام حکومت اور سیاسی نظام سے جس میں خواہشات نفسانی میں ڈوبے افراد شامل ہوتے ہیں، مختلف ہے۔ یہاں (اسلامی جمہوری نظام میں) قدروں کا معاملہ ہے، انسانیت کا موضوع ہے، مداخلت پسند اور تسلط پسند طاقتوں کے چنگل سے قوموں کو نجات دلانے کا مسئلہ ہے۔ انسانیت اور بشریت کے لئے ہمارے نظام کے پاس ایک پیغام ہے اور اسی پیغام کی وجہ سے دنیا کی حریص طاقتیں ملت ایران کے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں۔ اگر یہ ٹکراؤ کا پہلا موقع ہوتا تو ممکن تھا کہ بعض لوگوں کے دل دہل جاتے لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ یہ ٹکراؤ تو اکتیس سال سے مختلف شکلوں میں چلا آ رہا ہے۔ سیاسی حملہ، فوجی لشکر کشی، اقتصادی ناکہ بندی اور مختلف دھمکیوں کی شکل میں۔ تسلط پسند ممالک میں مختلف حکام آئے اور چلے گئے لیکن ملت ایران ثابت قدمی کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ یہ محکم عمارت روز بروز اور مضبوط ہوئی ہے اور پروقار بن گئی ہے۔ یہ ثمربخش خدائی پودا، اس سازگار اور آمادہ سرزمین پر اگنے والا یہ شجرہ طیبہ روز بروز اپنی جڑیں اور بھی گہرائی میں اتارتا جا رہا ہے۔ اگر روحانیت، اسلامی اقدار اور ایران کے دشمنوں کے اندر کبھی امید کی رمق تھی بھی تو آج یہ رمق بھی باقی نہیں رہی ہے، وہ مایوسی کے عالم میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ وہ راستے سے واقف نہیں ہیں، وہ ملت ایران کو نہیں پہچانتے۔ وہ آج کے اندازوں اور تخمینوں کا قیاس تیس سال، چالیس سال اور پچاس سال قبل کی صورت حال سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بڑی طاقتوں کے بلا شرکت غیرے غلبے کا دور تھا۔ یہ قیاس غلط ہے۔ دنیا بدل چکی ہے۔ قومیں بھی بیدار ہو چکی ہیں۔ لہذا آج آپ ایرانی عوام، آپ نوجوان حضرات جو اس قوم کے چنندہ اور نمایاں نوجوانوں میں ہیں، آپ سپاہ پاسداران انقلاب کے نوجوان قوموں کے دلوں میں امید کی کرن جگانے والے ہیں۔ بہت سی حکومتوں کی نظریں آپ پر لگی ہوئي ہیں۔ انہیں بخوبی علم ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران مداخلت اور جارحیت پسند ملک نہیں ہے۔ یہ استقامت، یہ پیغام اور تمام شعبوں میں نمایاں یہ روحانی طاقت ان کی امیدیں بڑھا دیتی ہے، ان میں استقامت و پائیداری کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ آج بر اعظم ایشیا، بر اعظم افریقا، بر اعظم امریکا میں حتی خود یورپ میں ایسی قوموں کی کمی نہیں ہے جن کی تعریفی تحسین آمیز نگاہیں آپ پر مرکوز ہیں۔ وہ آپ کی مداح ہیں۔
میرے عزیزوں! آپ نوجوانی کے اس سنہری موقع کی، اس توانائی کی اور استعداد کی قدر جانئے۔ خود کو نکھارنے کا یہ موقع جو آپ کو فراہم کیا گیا ہے اس کی اہمیت کو سمجھئے۔ آپ بھی، فوج کے جوان بھی، پولیس فورس کے اہلکار بھی اور مقدس و پاکیزہ رضاکار فورس بھی۔ آج اس الہی ملک میں انہیں ایسے وسائل دستیاب ہیں جو کبھی بھی برگزیدہ، با ایمان اور صالح نوجوانوں کو حاصل نہیں ہوئے تھے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھائيے۔ ان مواقع کا بھرپو استعمال سب سے بڑا شکر ہے۔
پالنے والے! اس گروہ پر اپنا لطف و کرم نازل فرما۔ پروردگارا! ہمارے عزیز امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) پر جنہوں نے یہ درخشاں راہ ہمارے لئے کھولی اپنی رحمتیں نازل فرما۔ پالنے والے! ہمارے عزیز شہداء کو جو تیرے فضل و کرم سے زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے بلندی درجات عطا فرما۔ ہمیں انہی عزیزوں کی صف میں شامل کر اور اس گروہ کا سلام امام زمانہ (ارواحنا فداہ) کی بارگاہ میں پہنچا۔
والسّلام عليكم و رحمةاللَّه و بركاته
1) انفال، 17
آٹھ اردیبشہت سن تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق اٹھائيس اپریل سن دو ہزار دس عیسوی کویوم محنت کشاں کے موقع پر ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 1389/1/22 ہجری شمسی مطابق 2010/4/11 عیسوی کو فوج اور پولیس کے اعلی کمانڈروں اور افسران سے ملاقات میں مسلح فورسز کو ملک اور معاشرے کا حفاظتی حصار قرار دیا اور اس حصار کے ہمیشہ مضبوط اور مستحکم بنے رہنے کی ضرورت پر تاکید فرمائی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 1389/1/17 ہجری شمسی مطابق 2010/4/6 عیسوی کو ملک کے حکام، سیاسی شخصیات اور دانشوروں سے ملاقات میں ہجری شمسی سال کی آمد کی مبارکباد پیش کی اور اسے عوام کے لئے بابرکت بنانے کے لئے حکام سے محنت و تندہی سے کام کرنے کی سفارش کی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے16/1/1389 ہجری شمسی مطابق 5/4/2010 عیسوی کو ایران کی مجریہ، عدلیہ اور مقننہ کے عہدہ داروں سے ملاقات میں فرائض منصبی کی اہمیت اور ان کی ادائیگی میں لازمی دقت نظر کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے امور کی انجام دہی اور محکوموں کے مابین اتحاد و ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گیارہ فروردین سن تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق اکتیس مارچ دو ہزار دس کو جنوبی علاقے دشت عباس میں مقدس دفاع سے متعلق ایرانی جوانوں کے فوجی آپریشن فتح المبین کی یادگار کا دورہ کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ نے پہلی فروردین سن تیرہ سو نواسی ہجری شمسی مطابق اکیس مارچ دو ہزار دس کو مشہد مقدس میں فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ اقدس میں زائرین اور خدام کے عظیم الشان سے اجتماع سے خطاب کیا۔
فضائیہ کے کمانڈروں اور اہلکاروں نے 19 / 11 / 1388 ہجری شمسی مطابق 8 / 1 / 2010 عیسوی کو قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ یہ سالانہ ملاقات انیس بہمن تیرہ سو ستاون ہجری شمسی کو بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے ہاتھوں پر فضائيہ کے کمانڈروں اور اہلکاروں کی بیعت کی مناسبت سے ہوتی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بائيس آذر تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق تیرہ دسمبر دو ہزار نو کو طلبا اور علمائے کرام کے اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں عید مباہلہ، ماہ محرم اور دینی تعلیمی مرکز اور یونیورسٹیوں کے اتحاد کے قومی دن کی مناسبتوں کا ذکر کیا اور ان کے تعلق سے انتہائی اہم نکات بیان فرمائے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پندرہ آذر سن تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق چھے دسمبر سن دو ہزار نو عیسوی کو عید غدیر کے دن مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے عظیم الشان اجتماع سے اپنے خطاب میں واقعہ غدیر کو تاریخ اسلام کا انتہائی اہم اور فیصلہ کن واقعہ قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چار آذر تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق پچیس نومبر دو ہزار نو کو ہفتہ رضاکار کے موقع پر ملک کے مختلف علاقوں سے تہران آکر آپ سے ملاقات کرنے والے ہزاروں رضاکاروں کے اجتماع سے خطاب میں رضاکاروں کی تاریخ اور گراں قدر خدمات کی جانب اشارہ کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چھے آبان تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق اٹھائیس اکتوبر دو ہزار نو کو ملک کے دانشوروں اور یونیورسٹی طلبا کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے انتہائی بصیرت افروز نکات بیان فرمائے۔
ایران کے ادارہ حج کے عہدہ داروں اور اہلکاروں نے حج پر روانگی سے قبل چار آبان تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق چھبیس مئی دو ہزار نو کو قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے قرآن کے سلسلے میں تحقیق و تصنیف میں مصروف خواتین کے اجتماع سے خطاب میں اس عالمانہ تحریک کی قدردانی کی اور اسے بقیہ اسلامی ممالک اور مسلم معاشروں کے لئے نمونہ عمل قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے انتیس شہریور تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق 20 ستمبر دو ہزار نو کو تہران کی مرکزی نماز عید الفطر کی امامت کی۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اکیس رمضان المبارک سن چودہ سو تیس ہجری قمری برابر بیس شہریور سن تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق گیارہ ستمبر سن دو ہزار نو عیسوی کو تہران یونیورسٹی میں مرکزی نماز جمعہ پڑھائی۔
پندرہ رمضان المبارک سن چودہ سو تیس ہجری قمری، چودہ شہریور سن تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق پانچ ستمبر دو ہزار نو عیسوی کو قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں شعرا کی ایک نشست منعقد ہوئی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 4-6-1388 ہجری شمسی مطابق 26-8- 2009 عیسوی کو ملک کے طلبہ اور علمی شخصیات کے ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں ملک کے داخلی حالات پر تفصیل سے گفتگو کی۔
بارہ مرداد تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق تین اگست دو ہزار نو کو ڈاکٹر احمدی نژاد کے صدارتی حکم کی توثیق کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب سے ڈاکٹر احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں اپنے دوسرے دور صدارت کی ترجیحات بیان کیں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے پانچ مرداد تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق ستائیس جولائی دو ہزار نو کو اپنے دفتر کے کارکنان اور دفتر کی حفاظت پر مامور اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ سے اپنی سالانہ ملاقات میں کچھ دلچسپ باتیں بیان کیں اور اہم ہدایات دیں۔
تہران میں منعقدہ تلاوت کلام پاک کے عالمی مقابلے کے شرکاء سے تین مرداد تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق پچیس جولائی دو ہزآر نو کو اپنے اہم خطاب میں قائد انقلاب اسلامی نے قرآن کو صرف محفل قرآن اور آنکھوں اور کانوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے متن زندگی اور قلب کی گہرائیوں میں اتارے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بعثت پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مناسبت سے قائد انقلاب اسلامی نے انتیس تیر تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق بیس جولائی دو ہزار نو کو ایک اجتماع سے خطاب کیا۔
سات تیر تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق اٹھائيس جون دو ہزار نو کو قائد انقلاب اسلامی سے عدلیہ کے سربراہ اور دیگر عہدہ داروں نیز اسی دن رونما ہونے والے سانحے کے شہدا کے پسماندگان نے قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ اس سالانہ ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے ملک میں عدلیہ کی اہمیت اور اس ادارے کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے جج صاحبان کے لئے خاص ہدایات دیں۔
بارہ جون دو ہزار نو کو ملک میں ہونے والے دسویں صدارتی انتخابات کے بعد جب دارالحکومت تہران میں انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے اور مغربی سیاسی و تشہیراتی حلقوں نے اپنی منصوبہ بند چالیں تیز کر دیں تو غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہونے لگی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے چودہ خرداد تیرہ سو اٹھاسی ہجری شمسی مطابق چار جون دو ہزار نو عیسوی کو بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی برسی کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔