قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے چھبیس تیر تیرہ سو بہتر ہجری شمسی مطابق سولہ جولائی انیس سو ترانوے عیسوی کو پولیس کیڈٹ یونیورسٹی میں جلسہ تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب میں اسلامی جمہوری نظام میں پولیس فورس کے کردار پر روشنی ڈالی۔ آپ نے پولیس فورس کو امین قرار دیا اور فرائض کی درست انجام دہی کی ضرورت پر تاکید کی۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 23 تیر سنہ 1372 ہجری شمسی مطابق 14 جولائی سنہ 1993 عیسوی کو وزارت تعلیم و تربیت، معذور افراد کی نگہداشت کرنے والے ادارے اور سوشل سیکورٹی کے محکمے کے کارکنوں سے خطاب میں اسلامی انقلاب سے رونما ہونے والے تغیرات کا ذکر کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 23 تیر سنہ 1372 ہجری شمسی مطابق 14 جولائی سنہ 1993 عیسوی کو وزارت تعلیم و تربیت، معذور افراد کی نگہداشت کرنے والے ادارے اور سوشل سیکورٹی کے محکمے کے کارکنوں سے خطاب میں اسلامی انقلاب سے رونما ہونے والے تغیرات کا ذکر کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے انیس خرداد تیرہ سو بہتر ہجری شمسی مطابق آٹھ جون انیس سو ترانوے عیسوی کو عید غدیر کے موقع پر ملک کے سول اور دفاعی شعبوں کے اعلی حکام سے ملاقات میں عید غدیر کی اہمیت کو بیان کیا اور اس عید سے ملنے والے درس کا ادراک اور اس پر عمل کرنے کی سفارش کی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اٹھارہ اردیبہشت تیرہ سو بہتر ہجری شمسی مطابق آٹھ مئی انیس سو ترانوے عیسوی کو شمالی ایران کے نوشہر نامی علاقے میں عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں ملک اور اسلامی انقلاب کے لئے اس خطے کے عوام کی خدمات اور ایثار کی تعریف کی۔ قائد انقلاب اسلامی نے حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بوسنیا ہرزے گووینا کا موضوع اٹھایا اور اس مسئلے میں بوسنیائی مسلمانوں کی مظلومیت اور بڑی طاقتوں کی فریبی چالوں کا ذکر کیا۔ آپ نے اس تعلق سے امریکا سمیت بڑی طاقتوں کی پالسیوں کی مذمت کی۔ قائد انقلاب اسلامی نے مسئلہ فلسطین کا بھی ذکر کیا اور فلسطینیوں کی حمایت پر تاکید فرمائی۔ آپ نے اتحاد بین المسلمین کی ضرورت پر زور دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اٹھارہ اردیبہشت تیرہ سو بہتر ہجری شمسی مطابق سات مئی انیس سو ترانوے عیسوی کو نوشہر کے دورے کے دوران بحریہ کے مرکز میں فوجیوں سے خطاب کیا۔ آپ نے ملک و قوم کی توقعات بیان کیں اور عقیدہ و عمل کے سلسلے میں نہایت اہم نصیحتیں فرمائیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے پندرہ اردیبہشت تیرہ سو بہتر ہجری شمسی مطابق چار مئی انیس سو ترانوے عیسوی کو یوم محنت کشاں اور یوم استاد کی مناسبت سے اپنے خطاب میں معاشرے میں دونوں ہی طبقات کی اہمیت اور موثر کردار پر روشنی ڈالی۔ آپ نے اقتصادی خود مختاری کے حصول میں محنت کش طبقے اور ثقافتی خود مختاری کے سلسلے میں اساتذہ کی ذمہ داریوں کو بہت سنگین قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آٹھ اردیبہشت تیرہ سو بہتر ہجری شمسی مطابق ستائیس اپریل انیس سو ترانوے عیسوی کو حج کمیٹی کے عہدہ داروں اور کارکنوں سے ملاقات میں فلسفہ حج پر روشنی ڈالی اور اتحاد بین المسلمین نیز دیگر امور کے تعلق سے حج کی اہمیت اور افادیت کو بیان کیا۔ آپ نے حالات حاضرہ پر تصبرہ کرتے ہوئے فلسطین کے سلسلے میں جاری مغربی ممالک کی سازشوں اور کچھ عرب حکومتوں کی مغرب سے ساز باز پر تنقید کی۔ آپ نے امریکا میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی جانب اشارہ کیا اور بوسنیا ہرزےگوویان کے سلسلے میں مغربی ممالک کے عیارانہ روئے کا پردہ فاش کیا۔
تیئیس مارچ انیس سو ترانوے کو عیدالفطر پر ملک کے حکام اوراعلی عہدیداروں سے ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے الہی تعلیمات پر حکام کی خاص توجہ کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے اس موقع پر عالم اسلام کے مسائل کا ذکر کیا اور مشکلات سے نمٹنے کے لئے اتحاد بین المسلمین کی ضرورت پر تاکید فرمائی۔
کا خطاب ۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے 23 فروری 1993 پہلی رمضان المبارک کو اپنے خطاب میں خود سازی کے ذیل میں بڑے اہم نکات پیش کئے۔ آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے قرآنی آیات اور روایات کی روشنی میں اخلاص عمل کی اہمیت بیان کی اور رمضان المبارک کے مہینے سے بھرپور استفادہ کرنے کی سفارش کی۔
امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پاسداران انقلاب اور پولیس کے اہلکاروں سے خطاب کیا جس کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چھبیس مرداد تیرہ سو اکہتر ہجری شمسی مطابق سترہ اگست انیس سو بانوے عیسوی کو عراق کی بعثی حکومت کی قید سے آزاد ہونے والے ایرانی جنگی قیدیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے قیدیوں کی رہائی پر دلی مسرت کا اظہار کیا اور ان کی جیل کی صعوبتوں اور سختیوں کو اہم ترین تجربات سے تعبیر کیا۔ آپ نے آزاد شدہ جنگی قیدیوں کو اسلامی نظام اور اسلامی انقلاب کی بہترین اور فرض شناس افرادی قوت قرار دیا اور ان سے ہمیشہ میدان میں موجود رہنے کی سفارش کی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اکیس مرداد تیرہ سو اکتہر ہجری شمسی مطابق بارہ اگست انیس سو بانوے عیسوی کو وزیر تعلیم اور تعلیم و تربیت کے شعبے کے مختلف عہدہ داروں اور تعلیمی مراکز کے ذمہ دار افراد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم و تربیت اور ثقافتی شعبے کی اہمیت اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے ثقافتی یلغار اور ثقافتی لین دینے کے فرق کو واضح کیا اور ثقافتی یلغار کو سامراجی طاقتوں کا ایک اہم حربہ قرار دیا۔ آپ نے اس سلسلے میں اہم احتیاطی تدابیر کی نشاندہی بھی فرمائی۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید الفطر کے موقع پر مقدس شہر مشہد میں فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہما السلام کے روضہ اقدس میں زائرین اور خدام کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں زندگی کے مادی و معنوی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اسلام میں ان دونوں پہلوؤں پر بھرپور توجہ اور مغربی معاشرے میں معنوی پہلو کو نظر انداز کئے جانے کے فرق کے اثرات و نتائج پر روشنی ڈالی۔
حزب اللہ لبنان کے نو منتخب سیکریٹری جنرل حجت الاسلام سید حسن نصر اللہ سمیت تنظیم کی مرکزی کمیٹی کے ارکان پر مشتمل وفد نے 13-12-1370 ہجری شمسی مطابق 4-3-1992 عیسوی کو قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے تہران میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے حزب اللہ کے جام شہادت نوش کرنے والے سربراہ سید عباس موسوی کو خراج تحسین پیش کیا اور تنظیم کے نئے سربراہ کو مخاطب کرکے انتہائی اہم نکات بیان کئے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 2-12-1370 ہجری شمسی مطابق 21-2-1992عیسوی کو مقدس شہر قم کے اپنے دورے میں ممتاز مراجع کرام سے ملاقاتیں کیں۔ آپ آیت اللہ العظمی گلپائگانی اور آیت اللہ العظمی اراکی سے بھی ملے اور قم کے دینی تعلیمی مرکز کے تعلق سے بعض نکات بیان کی۔ دونوں ممتاز علمائے کرام سے ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی کی گفتگو بالترتیب پیش خدمت ہے؛
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دو بہمن سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق بائیس جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو انتظامی فورس (پولیس) کے سیاسی اور عقیدتی ادارے کے عہدیداروں اور کمانڈروں سے ملاقات میں اس محکمے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور محکمے کے فرائض بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ایک شہری کو دل سے انتظامی فورس پر اطمینان اور اعتماد حاصل ہونا چاہئے۔ یعنی جب دکان بند کرتے وقت اس کو تشویش ہو تو کہے کہ انتظامی فورس کا اہلکار ہے۔ سفر پر گھر چھوڑ کے جائے تو کہے کہ انتظامی فورس ہے۔ اگر گاڑی پر بیٹھے تاکہ کسی جگہ سے روانہ ہو اور کسی دوسری جگہ بیابانوں میں پہنچے اور سلامتی سے متعلق کوئی مشکل پیش آئے، اگر کہیں کہ مشکل ہے، مجرمین سڑک پر آگئے ہیں اگر کہیں کہ کچھ لوگ، لوگوں کی عزت و آبرو کے لئے خطرہ پیدا کر رہے ہیں، اگرکہیں کچھ لوگ لوگوں کی عزت و ناموس پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے دل میں امید کی شمع روشن ہو کہ انتظامی فورس ہے۔ ایسا ہونا چاہئے کہ لوگ انتظامی فورس کو امن و امان برقرار کرنے والے اور سلامتی کے مرکز کی حیثیت سے دیکھیں۔ آپ کو یہ حالت وجود میں لانی چاہئے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے انتیس دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق انیس جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت پر عوام کے مختلف طبقات کے اجتماع سے خطاب میں حضرت علی علیہ السلام کی بعض صفات کا تذکرہ کیا۔ آپ نے اہل بیت سے قلبی رشتے کے سلسلے میں فرمایا کہ امیر المومنین ( علیہ السلام ) سے ہماری قوم کا رابطہ، ایک عاشقانہ رابطہ ہے۔ یہ مسئلہ آپ کی ولایت اور امامت پر اعتقاد سے بالاتر ہے۔ ولایت و امامت پر اعتقاد ہے اور ہماری زندگی کا جز ہے۔ گہوارے میں ہمیں پڑھائے جانے والے اولین سبقوں میں سے ہے اور انشاء اللہ یہ اعتقاد ہم اپنے ساتھ قبر میں بھی لے جائیں گے لیکن امیرالمومنین (علیہ الصلاۃ و السلام) سے ہماری قوم کے رابطے کا ایک اور عنصر آپ سے محبت اور عشق کا عنصر ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پچیس دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پندرہ جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو وزیر تعلیم ان کے نائبین، مشیروں اور محکمہ تعلیم کے اعلا عہدہ داروں سے خطاب میں تعلیم و تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تعلیم و تربیت کی اہمیت کے بارے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آپ نہ جانتے ہوں اور میں عرض کروں۔ امر واقعہ وہی ہے جو ہم سب جانتے ہیں۔ یعنی ملک کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ملک کا مستقبل ملک کے محکمۂ تعلیم و تربیت اور معلمین کے ہاتھوں میں ہے۔ بہترین افراد اور آمادہ ترین لوگ اسلامی تعلیم وتربیت کے لئے آپ کے اختیار میں ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے انیس دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق نو جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو قم کے مختلف عوامی طبقات سے خطاب کیا۔ انیس دی کی تاریخ اہل قم کے اہم ترین قیام سے منسوب ہے۔ اس قیام کی اسلامی انقلاب کے تعلق سے خاص اہمیت ہے اور اسی مناسبت سے ہر سال انیس دی کے موقعہ پر اہل قم قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے اس قیام کی خصوصیات اور مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے تیرہ دی سن تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق تین جنوری انیس سو بانوے عیسی کو جنوبی ایران کے بوشہر کے نزدیک واقع دلوار اور اس کے اطراف کے دیہی علاقوں کے عوام کے اجتماع سے خطاب۔ اس خطاب میں قائد انقلاب نے انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے اس علاقے کی خدمات اور قربانیوں کی قدردانی کی۔ آپ نے علاقے میں تعلیمی قابلیت کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے پر زور دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بارہ دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق دو جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو بوشہر میں بحری فوج کے دوسرے علاقائی مرکز میں صبح کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے افواج کی اہم ترین ذمہ داریوں اور ان کی ادائیگی کے ثمرات کا ذکر کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ برادران عزیز ' مسلح افواج کے سپاہیو' تاریخ کے تجربے کے مطابق جو چیز تمام اقوام کے لئے باعث افتخار ہے، وہ دفاعی توانائی اور تعمیر کی صلاحیت ہے۔ اقوام کی تقدیر اور اہمیت کے معیار میں جو چیز سب سے اوپر ہے، وہ یہی دونوں توانائیاں ہیں۔ تاریخ میں، سطحی باتوں تک رسائی رکھنے والے دماغوں اور سطحی باتیں کرنے والی زبانوں کے علاوہ کوئی بھی، کسی بھی ملک کی اس کی تجارت کی وسعت، یا تجملات زندگی، یا اشیائے صرف کے زیادہ استعمال اور اس طرح کی دوسری چیزوں پر تعریف نہیں کرتا لیکن ان اقوام کی جنہوں نے اہم مواقع پر اپنا دفاع کیا ہے، تاریخ تعریف کرتی ہے اور گہری نظر رکھنےوالے، ان کو تحسین آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے جنوبی علاقے بوشہر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر آپ نے مختلف اجتماعات اور تقاریب سے خطاب کیا۔ قائد انقلاب اسلامی کے اس دورے کے موقع پر ان اسکولی طالبات کے اعزاز میں جشن عبادت منایا گیا جن پر سن بلوغ کو پہنچنے پر اسلامی فرائض عائد ہوئے۔ ایران میں یہ رواج ہے کہ جب لڑکے اور لڑکیاں سن بلوغ کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کے اعزاز میں جشن عبادت منایا جاتا ہے اور اس بات کی خوشی منائی جاتی ہے کہ یہ بچے اس سن کو پہنچے ہیں جس میں اللہ تعالی دینی فرائض، واجبات و محرمات کے توسط سے اپنے بندوں سے مخاطب ہوتا ہے اور یہ بچے اللہ تعالی کی جانب سے معین کردہ احکامات کے فریق قرار پاتے ہیں۔ بو شہر میں بھی طالبات کے اعزاز میں ایسا ہی ایک جشن منایا گيا جس سے قائد انقلاب اسلامی نے خطاب فرمایا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اس جشن کے انعقاد اور اس میں اپنی شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کے احکامات کی فریق قرار پانے والی طالبات کو دینی احکام پر بحسن و خوبی عمل کرنے کی سفارش کی۔ آپ نے نماز کو اللہ تعالی سے ہم کلام ہونے کا موقع قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بارہ دی تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق دو جنوری انیس سو بانوے عیسوی کو صوبہ شہر کی محکمہ جاتی کونسل کے ارکان سے ملاقات میں عوام کی خدمت کو بہترین موقع قرار دیا۔ آپ نے بوشہر کے عوام کو سابق شاہی نظام کی بے اعتنائی اور اس کے نتیجے میں محرومیوں کا شکار قرار دیا آپ نے فرمایا کہ حکام اس علاقے کے عوام کی خدمت پر خاص توجہ دیں۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گیارہ دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پہلی جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو صوبہ بوشہر کے صدر مقام بوشہر میں عظیم عوامی اجتماع سے خطاب میں آپ نے مختلف ادوار میں بوشہر کے عوام کی نمایاں کارکردگی کا ذکر کیا اور اسلامی انقلاب سے قبل اور بعد کے ادوار کا اقتصادی، سیاسی، سماجی اور علمی ترقی کے لحاظ سے موازنہ کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا ذکر کیا اور اسلام کے خلاف ان کی سازشوں کی وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ بڑی طاقتیں اسلام کی دشمن ہیں۔ اس لئے کہ جانتی ہیں کہ یہ ان کی تسلط پسندیوں کے مقابلے پر اٹھے گا۔ جہاں اسلام کی حکمرانی ہو وہاں امریکا اور دیگر بدمعاش طاقتوں کی حکومت نہیں ہو سکتی۔ اس کو وہ جانتے ہیں اس لئے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے گيارہ دی تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پہلی جنوری انیس سو بانوے عیسوی کو صوبہ بوشہر کے آئمہ جمعہ و جماعت، علمائے کرام اور دینی طلبا کے اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں معاشرے کی ہدایت و رہنمائی کے تعلق سے علماء کی اہم ذمہ داریوں کی جانب اشارہ کیا اور ماضی میں علماء کے موثر کردار اور جانفشانیوں کے طویل سلسلے پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے علمائے دین کی رفتار و گفتار اور قول و فعل کے سلسلے میں خاص احتیاط کی ضرورت پر تاکید فرمائی۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوری نظام کو انتہائی مستحکم قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس استحکام کی بقاء اور تسلسل کے لئے مسلسل مجاہدت اور مساعی کو لازمی قرار دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 11-10-1370 ہجری شمسی مطابق 1-1-1992 ہجری شمسی کو بوشہر کے شہیدوں اور جنگ میں لاپتہ ہوجانے والے سپاہیوں کے اہل خاندان، دشمن کی قید سے آزاد ہونے والے جنگی قیدیوں اور معذور جانبازوں کی ایک جماعت سے ملاقات میں شہدا کے عظیم مقام و مرتبے پر روشنی ڈالی۔ آپ نے عصر حاضر میں پرچم اسلام کی سربلندی کو شہدا کی کاوشوں اور جانفشانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ آپ نے شہدا کے اہل خانہ کے بھی صبر و ضبط اور ایثار و فداکاری کے جذبات کی قدردانی کی۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 8-10-70 ہجری شمسی مطابق 29-12-1991 عیسوی کو یونیورسٹیوں کے مختلف درجات میں فارغ التحیصل ہونے والے فرزندان شہداء کی ایک جماعت سے ملاقات میں اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے شہدا کے بے مثال قربانیوں کی اہمیت پر زور دیا اور فرندان شہدا سے اس پاکیزہ راستے پر گامزن رہنے کی سفارش کی جس کی نشاندہی شہدا نے کی ہے۔ آپ نے علم و عمل کے میدان میں ہمیشہ محتاط رہنے اور تقوا و پرہیزگاری پر ہمیشہ توجہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پانچ دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق چھبیس دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو حضرت صدیقہ کبری فاطمۂ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت با سعادت پر مداحان اہل بیت علیہم السلام سے خطاب کیا۔ ایران میں مداح ان خوش الحان افراد کو کہا جاتا ہے جو منبر پر فضائل و مصائب اہل بیت رسول بیان کرتے ہیں۔ آپ نے اہل بیت اطہار سے حقیقی محبت کے تقاضے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم حضرت فاطمہ زہرا ( سلام اللہ علیہا) کی محبت کا دم بھریں جبکہ آپ نے بھوکوں کے لئے، اپنے سامنے، اپنے عزیزوں، حسن اور حسین ( علیہما السلام ) اور ان کے والد ماجد، ( علی علیہ السلام ) کے سامنے کی روٹی اٹھا کے فقیر کو دیدی اور وہ بھی ایک دن نہیں دو دن نہیں بلکہ مسلسل تین دن۔ ہم خود کو ایسی ہستی کا پیرو بتاتے ہیں لیکن نہ صرف یہ کہ ہم اپنے سامنے کی روٹی فقیروں کو دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ اگر ممکن ہو تو فقیروں کی روٹی چھیننے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چار دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پچیس دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو خواتین کی سماجی و ثقا فتی کونسل کی اراکین اور پہلی حجاب اسلامی کانفرنس کی مہتممین سے خطاب کیا۔ آپ نے ماضی اور حال میں عورتوں کے اہم ترین مسائل کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں اسلامی حل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مسائل اور مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ علاج کیا ہے؟ علاج یہ ہے کہ ہم خدائی راہ حل تلاش کریں۔ کیونکہ عورت اور مرد کے بارے میں، پیام وحی اہم مسائل پر محیط ہے۔ دیکھیں کہ وحی اس بارے میں کیا کہتی ہے۔ وحی نے صرف وعظ کرنے پر اکتفا نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس نے نمونہ بھی پیش کیا ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تیس آذر تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق اکیس دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر پانچ سو اٹھانوے کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کی۔ قائد انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں کمیٹی کے ارکان کی کاوشوں کی تعریف کی۔ آپ نے فوجی محاذ کے ساتھ ہی سیاسی اور سفارتی محاذوں پر کامیابی کو بھی انتہائی اہم قرار دیا اور اس سلسلے میں اس کمیٹی کی کارکردگی کو قابل تعریف بتایا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ستائیس آذر تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق اٹھارہ دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو ملک کے وزیر داخلہ، گورنروں اور وزارت داخلہ کے عہدہ داروں سے ملاقات میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں اہم ہدایات دیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے رضا و خوشنودی خداوندی کو اعمال کا معیار اور پیمانہ قرار دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ خطاب کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ثقافتی انقلاب کی اعلا کونسل کی تشکیل کی ساتویں سالگرہ پر اس کونسل کے اراکین سے خطاب کیا۔ آپ نے اسلامی انقلاب کے تعلق سے خاص اہمیت کے حامل اس ادارے کے افراد میں انقلابی جوش و خروش باقی رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے اہم فرائض پر روشنی ڈالتے ہوئے طالب علموں میں تحصیل علم اور تحقیق و مطالعے کا جذبہ بیدار رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر دینداری اور مذہبی رجحان کی تقویت کی ضرورت پر زور دیا۔ قائد انقلاب اسلامی کے بقول اگر یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اعلی تعلیم سے تو آراستہ کیا جائے لیکن ان میں دینداری اور قومی حمیت نہ ہو تو ایسے افراد کو باہر کے لوگ بڑی آسانی سے ورغلا سکتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بارہ آذر سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق تین دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو پٹرولیم کے وزیر، اس محکمے کے اعلا عہدیداروں، ماہرین اور کویت کے تیل کے کنؤں میں لگی آگ بجھانے کا کام انجام دینے والے ماہرین سے ملاقات کی۔ آپ نے پیٹرولیم ٹکنالوجی کے شعبے میں حاصل ہونے والی پیشرفت کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ الحمد للہ وزرات پٹرولیم کی فنی صلاحیت بہت اعلا ہے۔ ماضی میں غیر ملکیوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ صلاحیت ابھر کے سامنے نہ آ سکی۔ ماضی میں تیل کے اس عظیم علاقے میں اس سے متعلق تمام شعبوں میں غیر ملکی ماہرین، اسپیشلسٹ اور منتظمین پھیلے ہوئے تھے۔ ہر کام میں ان کی موجودگی نمایاں تھی۔ لیکن آج الحمد للہ آپ خود سارے کام کر رہے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 13-9-1370 ہجری شمسی مطابق 4-12-1991 عیسوی کو پولیس کے کمانڈروں کے ساتھ، عوام کے مختلف طبقات کے لوگوں اور شہیدوں کے اہل خاندان کی ایک جماعت سے ملاقات میں شہدا کی فداکاریوں کو سامراج کے مقابلے میں ایرانی قوم کی فتح کی ضمانت قرار دیا۔ آپ نے پولیس فورس میں دینداری، طاقت و قوت اور ذہانت کو بہت ضروری قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے ملک کے اندر مختلف شعبوں میں خود انحصاری کے لئے انجام دی جانے والی کامیاب خدمات کی تعریف کی اور ساتھ ہی اس عمل کے مسلسل جاری رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قائد انقلاب اسلامی نے تیس آبان تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق اکیس نومبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو عوامی رضاکار فورس بسیج کے کمانڈروں اور یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے بسیجی طلبا سے خطاب فرمایا۔ آپ نے ایران میں رضاکار فورس کو جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں مصروف کار دیندار اور بے لوث انقلابی افراد پر مشتمل ہے ملک کے لئے بہت بڑی نعمت قرار دیا۔ آپ نے رضاکاروں کے جذبہ اخلاص کے باقی رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی حفاظت کے تعلق سے رضاکاروں کے وجود کو بہت اہمیت کا حامل بتایا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام کی نواسی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت با سعادت اور یوم تیماردار پر ملک کی نرسوں اور تیمارداروں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں نرسوں اور تیمارداروں کے اہم ترین پیشے کی قدردانی کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے عظیم ترین کارنامے کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے مغربی تہذیب اور اسلام میں عورتوں کے سلسلے میں پائے جانے والے نظریات کی جانب بھی اشارہ کیا۔ آپ نے مغرب میں عورتوں کی تحقیر پر نکتہ چینی کرتے ہوئے فرمایا کہ آج یورپی اور مغربی آئیڈیل قدیم یونانی اور رومی آئیڈیل کی دین ہے۔ اس دور میں بھی عورت، مرد کے فریضے کی ادائيگی اور اس کے لطف اندوز ہونے کا وسیلہ تھی اور ہر چیز اسی (طرز فکر) کے زیر اثر تھی اور آج بھی وہ یہی چاہتے ہیں۔ مغرب والوں کی اصل بات یہ ہے۔
وہ مسلم خاتون کی کس چیز کے زیادہ مخالف ہیں؟ اس کے حجاب کے۔ وہ آپ کی چادر اور صحیح حجاب کے سب سے زیادہ مخالف ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کی تہذیب اس کو قبول نہیں کرتی۔ یورپ والے ایسے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے سمجھا ہے، دنیا کو ہماری پیروی کرنی چاہئے۔ وہ معرفت عالم پر اپنی جاہلیت کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پندرہ آبان سن تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق چھے نومبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کی مناسبت سے یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے طلبا کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں معاشرے کی کامیابی و ترقی میں نوجوانوں کے اہم اور کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے نوجوانوں کو امر المعروف اور نہی عن المنکر پر توجہ دینے کی سفارش کی اور ساتھ ہی اس کے لئے مناسب اور موثر راستے کی نشاندہی فرمائی۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں فلسطین کے سلسلے میں منعقدہ میڈرڈ کانفرنس کو خیانت کانفرنس سے تعبیر کیا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آٹھ آبان تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق تیس اکتوبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو امام علی کیڈٹ یونیورسٹی میں نووارد اور فارغ الحصیل ہونے والے طلبہ سے خطاب کیا آپ نے اپنے اس خطاب میں اہم قومی، علاقائی اور عالمی امور پر بحث کی۔ تفصیلی خطاب مندرجہ ذیل ہے؛