رہبر انقلاب اسلامی نے ایک بیان جاری کر کے سینیر اور مومن و مخلص مجاہد حاجی ہاشم امانی کے انتقال پر تعزیت پیش کی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے تعزیتی پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے:
آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بحر اطلس میں بحریہ کے 75ویں اسکواڈرن کی تاریخ ساز مشن سے وطن واپسی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس کے کمانڈر اور تمام کارکنان کی قدر دانی کی ہے۔
آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل کے نام ایک پیغام میں لبنان کے شیعوں کی سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ عبدالامیر قبلان کی وفات پر تعزیت پیش کی ہے۔
ٹوکیو پیرالمپک 2020 میں ایرانی کھلاڑیوں کے کارواں کے مقابلے مکمل ہونے پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کرکے کھلاڑیوں کے کارواں کا شکریہ ادا کیا۔
پیغام حسب ذیل ہے؛
آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کر کے نجف اشرف کے مراجع تقلید میں سے ایک آيۃ اللہ الحاج سید محمد سعید الحکیم کی وفات پر تعزیت پیش کی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے بدھ گيارہ اگست 2021 کی صبح کورونا کی بیماری کی صورتحال کے بارے میں ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے اپنے ایک پیغام میں اسے ملک کا پہلا اور فوری مسئلہ بتایا ہے۔
ٹوکیو اولمپکس 2020 میں ملک کے لئے تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کے لیے رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام: میں اولمپک میں میڈل جیتنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے ایرانی قوم کو اپنی کوششوں سے مسرور کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس سال پیغام حج میں زور دیکر فرمایا: مسلم اقوام حالیہ ڈیڑھ سو سال میں عموما جارح مغربی طاقتوں کی طمع، دخل اندازی اور شرانگیزی کی زد پر رہی ہیں، مسلم امہ کو چاہئے کہ ماضی کی بھرپائی کرے اور اس زور زبردستی کا مقابلہ کرے۔
اٹھارہ جون کے انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کے بعد رہبر انقلاب اسلامی نے ایک پیغام جاری کرکے ملت ایران کو انتخابات کی سب سے بڑی فاتح قرار دیا۔
پیغام حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مجاہد عالم دین حجت الاسلام و المسلمین سید علی اکبر محتشمی پور کے انتقال پر ایک تعزیتی پیغام جاری کیا جو حسب ذیل ہے؛
رہبر انقلاب اسلامی نے آئین کی نگراں کونسل کے آئينی عمل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے فرمایا کہ انتخابات میں عوام کے اصل مسائل کے حل کے لیے مضبوط اور قوی سیاستدانوں کی موجودگی پولنگ میں عوام کی بھرپور شرکت کا سبب بنے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تحریک حماس کے پولت بیورو چیف اسماعیل ہنیہ اور تحریک جہاد اسلامی کے سکریٹری جنرل زیاد نخالہ کے خطوط کے جواب میں لکھا کہ فلسطین کے غاصبوں کے خلاف مزاحمت ظلم و کفر و استکبار کے خلاف پیکار ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم
«وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ».
الحمد لله رب العالمين، الحمد لله الذي أمرنا بالإسلام، والصلاة والسلام على سيد المرسلين سيدنا وقائدنا محمد، وعلى آل بيته و من
والاه إلى يوم الدين.
بخدمت اقدس رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید علی خامنہ ای دام ظلکم و برکاتکم
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
اپنی طرف سے، اعلی کمان میں اپنے بھائیوں کی طرف سے، جہاد اسلامی کے مجاہدین اور قدس کے فوجی دستوں کی طرف سے ملت فلسطین، سرفراز مزاحمتی فورس اور ان کے بہادروں کو صیہونی دشمن اور اس حکومت کی سرکشی و استکبار کے خلاف ملنے والی فتح کی آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
تمام میدانوں میں آپ کی دائمی، مستقل اور اعلانیہ پشت پناہی کا سیف القدس آپریشن اور اس کے نتیجے میں ملنے والی کامیابیوں میں بہت بڑا اور نمایاں رول رہا۔ مزاحمتی محاذ کے مجاہدین نے دشمن کی فوجی برتری کے باوجود اپنی پوری قوت، اقتدار اور شجاعت و بہادری سے اس جنگ میں قدم رکھے۔ ملت فلسطین کی استقامت و فتح نصرت پروردگار کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ نصرت خداوندی کے نتیجے میں ہمارے معمولی وسائل طاقتور بن گئے اور عوام جنہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں ان کا صفایا نہ کر دیا جائے دشمن کی نگاہ میں بہت بڑے اور طاقتور ظاہر ہوئے۔
فلسطین کے عوام اور مزاحمت نے اس معرکے میں جس نے دنیا بھر کے مومنین کو خوشنودی عطا کی، دشمن کی ناک زمین پر رگڑ دی اور صیہونی حکومت کو ایک بار پھر مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ثابت کر دیا۔ ان تاریخی لمحات میں آپ کا اور قدس فورس کے اندر اپنے بھائیوں کا شکریہ و قدردانی کرتا ہوں جو ایک طویل عرصے سے ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہے اور جو بھی توانائی، ٹیکنالوجی اور مدد ان کے لئے میسر تھی بے مثال خلوص کے ساتھ ہمیں دے دی تاکہ آج جیسا اہم اور با برکت دن دیکھنا نصیب ہو۔
ضروری ہے کہ شہید عزیز اور ہمارے ہر دل عزیز کمانڈر الحاج قاسم سلیمانی کو یاد کروں جنہوں نے اپنی شہادت سے بڑا عظیم مرتبہ حاصل کیا، واقعی ان تاریخی لمحات میں ان کی کمی کا ہمیں شدت کے ساتھ احساس ہے۔
شہید سلیمانی کے دوست اور بھائي خاص طور پر الحاج اسماعیل قاآنی اور ان کے رفقائے کار اس جنگ کی کمان سنبھالنے کے عمل میں ہر لمحہ ہمارے ساتھ رہے اور واقعی ان کی موجودگی ہمارے لئے بڑی با برکت اور ثمر بخش رہی۔
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ آپ کی حفاظت فرمائے، ہمارے سروں پر آپ کے بابرکت وجود کا سایہ قائم رکھے۔ ہم اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے بہادر مجاہدین کی حفاظت کی دعا کرتے ہیں۔
و الحمد لله رب العالمين.
آپ کا مخلص
زیاد رشدي النخاله
سیکریٹری جنرل
جہاد اسلامی فلسطين
جمعه ۳۱ اردیبهشت ۱۴۰۰
(مطابق 21 مئی 2021)
فلسطین کی تحریک حماس کے پولت بیورو چیف اسماعیل ہنیہ نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو ایک خط ارسال کرکے فلسطین کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی قدردانی کی اور عالم اسلام کی طرف سے قدس کے باسیوں کی حمایت اور غاصب صیہونیوں کے جرائم پر روک لگانے کے لئے دو ٹوک موقف اختیار کرنے پر زور دیا۔ حماس کے رہنما کا خط حسب ذیل ہے:
فلسطین کی تحریک حماس کے پولت بیورو چیف اسماعیل ہنیہ نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو ایک خط ارسال کرکے فلسطین کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی قدردانی کی اور عالم اسلام کی طرف سے قدس کے باسیوں کی حمایت اور غاصب صیہونیوں کے جرائم پر روک لگانے کے لئے دو ٹوک موقف اختیار کرنے پر زور دیا۔
حماس کے رہنما کا خط حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ اور فلسطین تنظیم تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے نام الگ الگ پیغامات مجاہد کمانڈر جنرل سید محمد حجازی کے انتقال کے دونوں رہنماؤں کے تعزیتی پیغامات کا شکریہ ادا کیا اور حزب اللہ اور حماس کے مجاہدین نیز ملت فلسطین کے لئے کامیابی و سلامتی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلی عہدیدار سردار حجازی کے انتقال پر تعزیتی پیغام جاری کیا اور سوگوار خاندان کو تعزیت پیش کی۔
رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام حسب ذیل ہے؛
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے یوم مسلح افواج کی مناسبت سے اپنے پیغام میں فرمایا کہ فوج میدان میں ڈٹی ہوئی ہے اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جتنی ضرورت ہو آمادگی کو مسلسل بڑھایا جائے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ہجری شمسی کیلنڈر کے نئے سال کے آغاز کی مناسبت سے اپنے پیغام میں 1399 ہجری شمسی (21 مارچ 2020 الی 20 مارچ 2021) کو کورونا وائرس کی وبا اور امریکہ کے سخت ترین دباؤ دونوں کے مقابلے میں ملت ایران کی توانائيوں کے اجاگر کا سال قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ آج خود دشمن صریحی طور پر کہہ رہے ہیں کہ شدید ترین دباؤ کی پالیسی شکست سے دوچار ہوئی۔
سنہ 1400 ہجری شمسی کے آغاز کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام حسب ذیل ہے؛
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت اور یوم پاسباں کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا۔ یہ پیغام پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈر انچیف کے نام جاری کیا گیا۔
پیغام حسب ذیل ہے؛
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 17 ہزار شہید، جنگی قیدی اور دفاع وطن میں زخمی ہونے والی خواتین پر نیشنل سیمینار کے نام اپنے پیغام میں فرمایا کہ دفاع وطن میں شہید، زخمی اور جنگی قیدی کے طور پر دشمن کی جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والی خواتین اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کے عظیم افتخارات کی اعلی ترین مثالیں ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینی کے معتمد تجار میں شمار ہونے والے نہایت دیندار تاجر الحاج محسن آقا قلہکی کے انتقال پر تعزیتی پیغام جاری کیا جو حسب ذیل ہے؛
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سید حسن نصر اللہ کے نام ایک پیغام جاری کرکے لبنان کے مجاہد عالم دین اور لبنان کے مسلم اسکالرز کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاضی شیخ احمد الزین کے انتقال کی تعزیت پیش کی۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یورپ میں طلبہ کی اسلامی انجمنوں کی یونین کے 55 ویں اجلاس کے نام پیغام میں فرمایا کہ ملک کے نوجوانوں کے اندر کلیدی مسائل میں اپنا کردار نبھانے کے تعلق سے احساس ذمہ داری بیدار کرنا اسلامی انقلاب کے عظیم افتخارات میں ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے ایک فرمان جاری کرتے ہوئے حجت الاسلام و المسلمین احمد واعظی کو یورپ میں طلبہ کی اسلامی انجمن اور ایرانی طلبہ کے امور میں اپنا نیا نمائندہ منصوب کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی کا فرمان حسب ذیل ہے؛
"تمہارا کیا نام ہے؟
قاسم!
فیملی نیم؟
سلیمانی!
پڑھائی نہیں کرتے؟
کیوں نہیں، لیکن کام بھی کرنا چاہتا ہوں۔
چند منٹ بعد ایک پلیٹ چاول اور سالن آ گیا۔ میں اسے پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اسے قورمہ سبزی کہتے ہیں۔"
یہ 14 سال کے قاسم سلیمانی کی سرگزشت ہے تقریبا 1972 کے آس پاس کے دور کی۔ جب انہوں نے اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑا اور صوبے کے مرکزی شہر پہنچ گئے، جہاں وہ اپنے خیال کے مطابق کام کرکے والد کا قرضہ اتارنا چاہتے تھے۔ آپ خود کو اس زمانے کے اہل کرمان کی جگہ پر رکھئے! ایک قبائلی دیہات کے نو عمر اور ناتجربہ کار بچے کو جو زندگی میں پہلی دفعہ قورمہ سبزی کھا رہا تھا، کون کام دینے پر تیار ہوتا؟! قاسم نے لیکن عہد کیا تھا کہ والد کا قرض ادا کرنا ہے۔ وہ اپنے عہد پر قائم رہا۔
بچپن اور نوجوانی کے ایام کے بارے میں الحاج قاسم کی ڈائری کے مطالعے سے ایک چیز بہت اچھی طرح قاری کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے کہ بڑے کارنامے انجام دینے کے لئے بہت زیادہ وسائل، رئیس زادہ ہونے اور لاؤ لشکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس اتنا کافی ہے کہ اللہ کے نیک بندے بنئے۔ جہاں مرضی پروردگار کا علم ہے آگاہانہ اس راہ پر چلئے اور جہاں اس کی مرضی کا علم نہیں وہاں اپنی پاکیزہ فطرت کی آواز سنئے اور کسی چیز سے نہ ڈرئے۔ اگر ایسا ہو گیا تو اللہ آپ کو سعہ صدر عطا کرے گا کہ آپ بڑے سے بڑا غم بھی بخوشی قبول کر لیں گے اور آپ کے بازوؤں کو ایسی قوت عطا کرے گا کہ وہ اس کی امانت کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائیں گے۔ آپ کا نام بڑا ہو جائے گا کیونکہ آپ ایک عظیم راستے کے مسافر بن گئے ہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو عمر کے پانچویں اور چھٹے عشرے میں بھی آپ کی زندگی اسی پاک و پاکیزہ انداز میں جاری رہے گی جو پاکیزگی بارہ تیرہ سال کی عمر میں آپ کے اندر ہوتی ہے۔
خواہ وہ 1976 کا سال ہو، شہر کرمان ہو، قبائلی والدین کے سائے سے آپ دور ہوں لیکن وہی پاکیزگی و طہارت رہے گی جو گاؤں کی زندگی میں ہوتی ہے، پوری عمر پاکیزہ فطرت کی رہنمائی کے مطابق گزرتی ہے، کبھی غلط سمت میں قدم نہیں بڑھتے۔
بعد کے برسوں کی بہت سی خصوصیات و اوصاف اور حاج قاسم کی شخصیت کے شکوہ و وقار کی نشانیاں ان کے بچپن اور لڑکپن کے دور میں ہی دیکھی جا سکتی ہیں۔ سارے انسان ایسے ہی ہوتے ہیں لیکن فن تو یہ ہے کہ زندگی کے اندر، نفسانی خواہشات و معصیت کے طوفانوں کے ہجوم میں، انسانی فطرت کے پاکیزہ پودے کا خیال رکھا جائے۔ دوسرے بہت سے افراد اور حاج قاسم کا فرق یہیں پر واضح ہوتا ہے۔ ان کی انسانی فطرت کے پاکیزہ پودے کی بخوبی آبیاری ہوئی۔ اس قدر اچھے انداز میں کہ برسوں بعد ایک با عظمت درخت، عزت و شکوہ و پائیداری و استقامت نیز بندگی پروردگار سے متبرک درخت اپنے پھل دینے لگتا ہے۔
حاج قاسم نے اسی انداز میں اپنی سادہ، ہر آلودگی سے پاک، غربت و محرومیت میں ڈوبی ہوئی زندگی کے حالات اسلامی انقلاب کی تحریک اور جدوجہد کے وسطی بروسوں تک بیان کئے ہیں۔ خواہ وہ بچپن کا دور ہو جب وہ اپنے خاندان اور والدین کے ساتھ ٹھنڈے اور گرم علاقوں کے درمیان آمد و رفت میں مصروف رہے، خواہ وہ دور ہو جب نوعمر لڑکے کے طور پر کرمان نام کی بڑی جگہ پر قدم رکھتے ہیں، خواہ وہ دور ہو جب انھوں نے 1974 میں شاہ ایران کے خلاف باتیں سنیں جو ان کے بقول اس وقت تک ان کے ذہن میں بہت اہم شخص تھا، خواہ وہ دور ہو جب 1977میں وہ امام رضا علیہ السلام کے حرم کی زیارت کے طفیل میں اور اس سورج کی روشنی کی برکت سے اس سرچشمے سے متصل ہوئے۔ قاسم کی زندگی کی ساری داستان یہی ہے۔
وہ پاکیزہ فطرت کی آواز پر عمل آوری نیز اپنے سادہ زیست اور گاؤں میں خیموں میں زندگی گزارنے والے والدین کی پاکیزہ و پر خلوص تربیت کے نتیجے میں نفسانی وسوسے اور معصیت سے محفوظ رہے۔ اللہ بھی ان کی حفاظت کرتا رہا اور زمانے کے حوادث و فتنوں کے طوفان میں انھیں اکیلا اور بے سہارا نہیں چھوڑا۔ گویا قاسم کی ساری زندگی بس یہی تھی کہ بعد کے برسوں کے ان کے دوست صیاد شیرازی کے بقول «من کان لله کان الله له» جو بھی اللہ کے ساتھ ہو اللہ اس کے ہمراہ ہوتا ہے۔ خود خداوند عالم کے بقول «وَالَّذينَ جاهَدوا فينا لَنَهدِيَنَّهُم سُبُلَنا»۔ آج کل کے لوگوں کے بقول جو لوگ میری راہ پر قدم بڑھاتے ہیں، ان کے لئے میں ہدایت کا راستہ واضح اور '4 لین' (کشادہ) کر دیتا ہوں۔ اسی کو الگ عبارت میں صدیوں پہلے عطار نیشاپوری نے بیان کیا ہے:
«تو پای به راه در نِه و هیچ مپرس؛ خود راه بگویدت که چون باید رفت...»
کرمان رابر قنات ملک کے پہاڑوں اور ٹیلوں کا پاکیزہ اور ہر آلودگی سے دور قاسم اپنی عمر کے آخری لمحے اور بغداد ایئرپورٹ پر اپنی معراج تک فوق الذکر عبارت کے کامل و اتم مصداق تھے۔
انقلاب سے ٹھیک ایک سال قبل خمینی سے آشنائی کے نتیجے میں قاسم کی زندگی بدل گئی اور بندگی پروردگار کی رفتار میں کئی گںا اضافہ ہو گیا۔ نوجوان قاسم کی زںدگی کو برق رفتاری عطا کرنے والے خمینی تھے۔ وہ انھیں خصوصیات، سیرت اور طرز زندگی کا عملی نمونہ اور تصویر تھے جس کی تعلیم برسوں تک انھیں اپنے والدین اور اپنی پاکیزہ فطرت سے ملی تھی اور قاسم نے جسے بغور سنا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے عہد کر لیا کہ زندگی کے آخری لمحے تک خمینی کے سپاہی بنے رہیں گے۔ زندگی کی آخری سانس تک وہ اپنے عہد پر قائم رہے۔ آپ نے ضرب المثل سنی ہے کہ سر چلا گیا لیکن عہد کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹا۔ قاسم کا سر واقعی چلا گیا لیکن عہد کا دامن نہیں چھوٹا۔۔۔۔
'میں کسی چیز سے نہیں ڈرتا تھا' وہ سوانح زندگی ہے جسے حاج قاسم نے اپنے زخمی ہاتھ سے رقم کیا ہے۔ کرمان کے دور افتادہ گاؤں کے اندر سے نکلنے والے مرد کی زندگی کا تذکرہ جس میں اس نے اپنی سادہ اور پرکشش زندگی کے کچھ حالات آپ کے لئے بیان کئے ہیں۔ یہ اس مرد کی شخصیت کی تعمیر کا قصہ ہے جو چرواہے سے اس مقام پر پہنچا جو آسمانوں کی وسعتوں کی بلندی کا مقابلہ کرے۔
***
اس کتاب کا پہلا نسخہ بدھ 16 دسمبر 2020 کو رہبر انقلاب اسلامی سے شہید سلیمانی کے اہل خانہ کی ملاقات کے اختتام پر رہبر انقلاب اسلامی کی خدمت میں پیش کیا گيا۔ شہید سلیمانی کی بیٹی نے کتاب کے مقدمے میں ذکر کیا ہے:
میں حاج قاسم کی نمائندگی میں آپ کے لئے ایک تحفہ لیکر گئی تھی۔ یہ تحفہ حاج قاسم کا خود نوشت زندگی نامہ تھا جسے ہم شہید کی برسی کے موقع پر کتاب کی شکل میں شائع کرنا چاہتے تھے۔ میرے ہاتھ میں اسی کتاب کا ابتدائی نسخہ تھا۔
ملاقات ختم ہونے کے بعد اسے میں نے رہبر انقلاب کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے اس کے بارے میں چند سوالات کئے اور اس چھوٹے سے تحفے کو بڑی محبت سے قبول کر لیا۔
ملاقات کے چند دن بعد ان لمحات میں جب کتاب کو حتمی شکل دی جا رہی تھی رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے ایک عبارت مجھے موصول ہوئی۔ آپ نے کرم فرمائی کی اور مطالعے سے قبل ایک نوٹ اپنے وفادار سپاہی کی یاد میں تحریر فرمایا تھا۔ محبت و شفقت میں ڈوبی یہ عبارت اس کتاب کے پیکر کے لئے روح بن گئی۔:
جو بھی شئے ہمارے عزیز شہید کے ذکر کو نمایاں کرے بصارت نواز اور دلنواز ہے۔ ان کی یاد کو اگرچہ خداوند عالم نے بام ثریا پر پہنچا دیا اور اس طرح ان کے اخلاص و عمل صالح کا دنیوی اجر بھی انھیں عطا فرمایا لیکن ہم سب کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ اس کتاب کو ابھی میں نے پڑھا نہیں ہے لیکن بظاہر یہ اسی راہ میں اٹھایا گیا ایک قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
سید علی خامنہ ای
27 دسمبر 2020
جید عالم دین، ممتاز مفکر اور مجاہد قلمکار آیت اللہ مصباح یزدی کے انتقال پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تعزیتی پیغام جاری فرمایا۔ 1 جنوری 2021 کو آیت اللہ مصباح یزدی کا انتقال ہو گیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی جانب سے سائنسداں محسن فخری زادہ شہید کو نشان نصر (فارسی میں فتح کو نصر بھی کہتے ہیں) ایوارڈ سے نوازا گیا۔
رہبر انقلاب اسلامی ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حجت الاسلام الحاج شیخ یوسف علی شکری کو شہید فاؤنڈیشن میں اپنا نیا نمائندہ منصوب فرمایا۔ تقرری کا حکم نامہ حسب ذیل ہے؛
بسم الله الرحمن الرحیم
ملک کے ممتاز اور نمایاں ایٹمی و دفاعی سائنسداں جناب محسن فخری زادہ جرائم پیشہ اور سفاک ایجنٹوں کے ہاتھوں شہید کر دئے گئے۔
اس کم نظیر علمی ہستی نے اپنی قیمتی زندگی عظیم اور پائيدار علمی کاوشوں کی خاطر راہ خدا کے لئے وقف کر دی اور شہادت کا عظیم مرتبہ انھیں حاصل ہونے والا الہی انعام ہے۔
متعلقہ افراد دو باتوں کو پوری سنجیدگی سے اپنے ایجنڈے میں شامل کریں۔ ایک ہے اس مجرمانہ کارروائی کی تحقیقات اور گنہگاروں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا اور دوسرے یہ شہید جن جن شعبوں میں مصروف خدمت تھے ان میں ان کے سائنسی و تکنیکی منصوبوں کو آگے لے جانا۔
میں ان کے عزت مآب خاندان، ملک کی علمی و سائنسی برادری، گوناگوں شعبوں میں ان کے رفقائے کار اور شاگردوں کو اس شہادت کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، ان کی جدائی کی تعزیت دیتا ہوں اور اللہ تعالی سے ان کے لئے بلندی درجات کی دعا کرتا ہوں۔
سیّدعلی خامنه ای
۸ آذر ماه ۹۹ (ہجری شمسی مطابق 28 نومبر2020)
رہبر انقلاب اسلامی نے ایران میں رضاکار فورس کی تشکیل کی سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں رضاکار فورس کو ملت ایران کے لئے اللہ کا عطا کردہ سرمایہ قرار دیا۔
فرانس کے صدر امینوئل میکراں کی جانب سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی پر مبنی خاکوں کی حمایت میں بیان دئے جانے اور اس واقعے پر پورے عالم اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر پھیل جانے کے بعد رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرانس کے نوجوانوں کو مخاطب کرکے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام حسب ذیل ہے؛