غزہ کا مسئلہ بدستور عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی وہی پہلے دن جیسی اہمیت اب بھی ہے بلکہ اس سے زیادہ۔ مزاحمت کی طاقت روز بروز پہلے سے زیادہ خود کو نمایاں کر رہی ہے۔
حکومتوں کے ساتھ جو مختلف چیلنجز ہوتے ہیں، فطری طور پر حکومت کے سامنے مختلف مسائل میں کچھ چیلنجز ہو سکتے ہیں، ایسے میں پارلیمنٹ حکومت کو بھرپور سہارا دے سکتی ہے۔
غزہ کا مسئلہ بدستور عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا کے لوگ اب درحقیقت غاصب خبیث حکومت کے خلاف فیصلہ کر رہے ہیں۔ مسئلہ ختم نہیں ہوا ہے، مسئلہ بدستور جاری ہے۔
اگر منتخب صدر ملک کا انتظام چلانے میں کامیابی حاصل کریں تو ہم سب نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی کامیابی، ہم سب کی کامیابی ہے۔ اس بات پر ہمیں دل کی گہرائي سے یقین رکھنا چاہیے۔
یہ ایک واضح اور روشن راستہ ہے، جو امیر المومنین علیہ السلام نے ترسیم کیا ہے۔ رئيسی صاحب اسی راہ پر چلتے تھے، اسی پر گامزن تھے، یہ بہت گرانقدر ہے، واقعی آئيڈیل ہے۔
ان شاء اللہ ہمارے عزیز عوام ووٹ دینے اور بہترین امیدوار کا انتخاب کرنے میں کامیاب ہوں گے اور اس راؤنڈ میں عوام کا عزم و حوصلہ زیادہ ہونا چاہیے تاکہ وہ اس کام کو مکمل کر سکیں اور ان شاء اللہ کل ملک کو ایک نیا صدر ملے۔
الحاج قاسم سلیمانی نے قوموں کو مزاحمت کی نئی فکر اور جدوجہد کا نیا آئیڈیل دیا اور اسی لیے وہ حقیقی معنی میں ایک نمایاں ہستی اور اسلامی ہیرو کا ایک چہرہ ہیں۔
امامت کو پیغمبر اکرم فرمان الہی کے مطابق تسلسل عطا کرتے ہیں، البتہ اس امامت کے لئے ضروری ہے کہ حاکمیت اور فرمانروائی کے ہمراہ ہو۔ اسی لئے خلافت کا اعلان فرماتے ہیں، ولایت کا اعلان فرماتے ہیں: "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔"
امام خامنہ ای
ان انتخابات سے ملک کے آئندہ چند سال کا تعین ہوتا ہے۔ لیکن میری نظر میں اس کے ساتھ ہی ایک اور اہم موضوع ہے اور وہ عوام کی پرجوش شرکت اور رائے دہندگان کی کثرت اور تعداد میں اضافہ ہے۔
امام خامنہ ای
18 ذی الحجہ سنہ 10 ہجری کا دن، اعلان غدیر اور امیر المومنین کی جانشینی کے اعلان کا دن وہ دن ہے جب کفار مایوس ہو گئے۔اس بارے میں کہ وہ دین مبین اسلام کا کبھی قلع قمع کر سکیں گے۔ اس دن سے پہلے تک انہیں یہ امید تھی کہ ایسا کر لے جائیں گے۔ لیکن اس دن ان کی امید مر گئی۔
امام خامنہ ای
آج جو غزہ اور فلسطین میں رونما ہو رہا ہے اس کے بارے میں ہمارا فریضہ کیا ہے؟ ان لوگوں کے ساتھ جو تمھیں قتل کرتے ہیں، تم سے جنگ کرتے ہیں، تمھیں تمھارے دیار سے باہر نکالتے ہیں یا ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو تمھیں تمھارے گھر اور دیار سے باہر نکالتے ہیں، رابطہ رکھنے اور ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا تمھیں حق نہیں ہے۔
امام خامنہ ای
طوفان الاقصیٰ آپریشن صیہونی حکومت پر ایک فیصلہ کن وار تھا، ایک ایسا وار جس کا کوئي علاج نہیں ہے۔ صیہونی حکومت کو اس وار سے ایسے نقصانات پہنچے ہیں جن سے وہ کبھی نجات حاصل نہیں کر پائے گي۔
امام خامنہ ای
عزیز صدر نے ایران کو دنیا کی سیاسی شخصیات کی نظر میں زیادہ بڑا اور زیادہ نمایاں کر دیا۔ اسی لیے آج سیاسی شخصیات جو ان کے بارے میں بات کرتی ہیں، انھیں ایک نمایاں شخصیت بتاتی ہیں۔
امام خامنہ ای
امام خمینی کا ماننا تھا کہ خود فلسطینی عوام کو دشمن کو یعنی صیہونی حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دینا چاہیے، اسے کمزور بنا دینا چاہیے۔ آج یہ کام ہو گيا ہے۔
امام خامنہ ای
3
ریاستہائے متحدہ امریکا کے عزیز نوجوان اسٹوڈنٹس! یہ آپ سے ہماری ہمدلی اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ اس وقت آپ تاریخ کی صحیح سمت میں، جو اپنا ورق پلٹ رہی ہے، کھڑے ہوئے ہیں۔
امام خامنہ ای
25 مئي 2024
شہید صدر مملکت آیت اللہ رئیسی کی شہادت پر پاکستان کے رہنماؤں نے تعزیت پیش کی اور کہا کہ یہ ایران نہیں امت اسلامیہ کا نقصان ہے، ہم نے بہترین دوست کھو دیا۔ صدر رئیسی نے حال ہی میں پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا تھا اور بڑی اہم ملاقاتیں اور گفتگو ہوئی تھی۔
امام خامنہ ای
ملک کی سلامتی بھی، سرحدوں کی سلامتی بھی، ملکی سطح کے دوسرے کام بھی، انتظامیہ کے ذریعے انجام پاتے ہیں، صحیح طریقے سے انجام پائيں گے۔ لوگ فکرمند نہ ہوں، گھبرائيں نہیں، ان شاء اللہ صدر مملکت لوگوں کے درمیان اور لوگوں کی آغوش میں لوٹ آئيں گے۔
امام خامنہ ای
رہبر انقلاب اسلامی نے تہران کے بین الاقوامی کتب میلے کا تین گھنٹے تک معائنہ کیا اور کتابوں کے مختلف اسٹالز پر گئے، کتابیں بھی دیکھیں اور اسٹال مالکوں سے بات چیت بھی کی۔
حج کے مناسک کے رموز کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے لیکن ہنوز بیان کرنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ غزہ اور فلسطین کے سلسلے میں مسلمانوں کا فریضہ حضرت ابراہیم کی سنت کی روشنی میں۔
06/05/2024