مراد یہ ہے کہ ہم نے رمضان کے مہینے کو، اس الہی قانون کو اس لئے قرار دیا ہے کہ ایک زمین ہموار ہو، سازگار حالات بنیں تقوی کی ترویج کے لئے۔
تفسیر قرآن بزبان آیت اللہ العظمی خامنہ ای
مورخہ 14 مئی 2019
1979 میں اسلامی انقلاب کی کامیابی ایران کے اندر عظیم تبدیلیوں کا سرآغاز ثابت ہوئی۔ دنیا پر حکمفرما 'مین اسٹریم میڈیا' کا دعوی تھا کہ انقلاب کے بعد ایران کی پیشرفت کا سلسلہ رک جائے گا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا شعبہ ان شعبوں میں ہے جن کے بارے میں ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ تنزلی ہوئی۔ مگر موجودہ اعداد و شمار ان دعوؤں پر خط بطلان کھینچتے ہوئے بعد انقلاب ایران کی زبردست پیشرفت کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
جہاں بھی کوئی قوم یا کوئی تنظیم صیہونی حکومت سے مقابلہ کرے گی ہم اس کا ساتھ دیں گے، اس کی مدد کریں گے اور یہ کہنے میں ہم کو کوئی پس و پیش بھی نہیں ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای
ہمیں کوئي اصرار نہیں، کوئي جلدبازی نہیں کہ امریکا ایٹمی معاہدے میں لوٹے۔ ہمارا تو یہ مسئلہ ہی نہیں کہ امریکا ایٹمی معاہدے میں لوٹے یا نہ لوٹے۔ ہمارا جو منطقی مطالبہ ہے، ہمارا جو معقول مطالبہ ہے، وہ پابندیوں کا خاتمہ ہے۔
8 جنوری کے قیام کو، بڑے بت پر ابراہیمی کلہاڑی کی پہلی ضرب سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ اس کلہاڑی کا پہلا وار تھا جو قم کے عوام نے امریکا کے بڑے بت پر لگایا۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور آج آپ امریکا کی حالت دیکھ رہے ہیں۔ بڑے بت کی آج کی حالت اور صورتحال آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس کی ڈیموکریسی ہے، یہ اس کی انتخابی فضحیت ہے۔
ہمارے عظیم قائد امام خمینی نے جنگ کے ایک اہم واقعے پر ایک فوجی آپریشن کے معاملے میں جس میں ہمارے جوانوں کو فتح نصیب ہوئی تھی، ایک پیغام دیا۔ اس پیغام میں یہ نکتہ تھا کہاسلامی انقلاب کی سب سے فیصلہ کن فتح ان جوانوں کی تربیت ہے۔ وہ اسلام اور مکتب امام خمینی کے پروردہ افراد کا ممتاز نمونہ تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ میں گزاری۔ شہادت ان طویل برسوں پر محیط ان کی جدوجہد کا انعام تھا۔
شہید سلیمانی شجاع بھی تھے۔ یہ صرف ان دنوں کے واقعات کی بات نہیں ہے، بلکہ مقدس دفاع کے دور میں بھی جب وہ ثار اللہ ڈویژن کے کمانڈر تھے، ایسے ہی تھے۔ بڑے مدبر انسان تھے۔ ان کی بات میں بڑا اثر تھا، قائل کر دینے والی بات ہوتی تھی۔ ان ساری چیزوں سے زیادہ اہم ان کا اخلاص تھا، با اخلاص تھے۔ وہ اپنی شجاعت اور اپنی مدبرانہ صلاحیت کو اللہ کے لئے استعمال کرتے تھے، دکھاوے اور ریا والے انسان نہیں تھے۔ میدان جنگ میں، کبھی لوگ حدود الہی کو بھول جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ اس قسم کی باتوں کا وقت نہیں ہے۔ مگر وہ نہیں، وہ بہت محتاط تھے۔
مقدس دفاع کے دور میں عوامی شراکت کا ایک نیا ماڈل وجود میں آیا۔ عوامی شراکت کا انداز حیرت انگیز انداز ہے۔ سارے عوام، جو بھی اس میدان میں دلچسپی رکھتے تھے، جو کوئی بھی تھا، جو بھی تھا، ایک زندہ اور کارآمد نیٹ ورک کے اندر رضاکارانہ طور پر، جوش و جذبے کے ساتھ اپنی جگہ پا گیا۔
ایران میں جو جلوس جنازہ نکلا وہ واقعی عجیب اور نا قابل فراموش تھا۔ اسی طرح عراق میں دسیوں لاکھ لوگوں کی شرکت سے جو تشییع جنازہ ہوئی، در حقیقت یہ جلوس جنازہ اور اس کے بعد ان کی یاد میں جو پروگرام ہوئے انھیں دیکھ کر استکبار کے سافٹ وار کے ماہرین ششدر رہ گئے۔ ان کی شہادت کے واقعے سے جو صورت حال رونما ہوئی وہ امریکہ پر پڑنے والا پہلا طمانچہ تھا۔
سنہ 2009 میں ایران میں بھی دیگر ممالک کی طرح صدارتی انتخابات ہوئے۔ مگر استعماری طاقتوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ملک کے اندر کچھ عناصر کو ورغلایا اور اپنے مشن پر کام شروع کر دیا۔ لیکن پھر جب ملت ایران نے بیرونی سازشوں کو محسوس کرکے جواب دیا تو ایک تاریخ رقم ہو گئی۔
بہت ذہین انسان تھے۔ اس سلسلے میں بہت سے نکات ہیں۔ یہ جو ایک بظاہر مذہبی تنظیم کے ابھرنے کا مسئلہ ہے، جو خاص مسلک کی جانب مائل ہے جو مزاحمتی محاذ کے خلاف ہے، انھوں نے اس کی پیش بینی پہلے ہی کر دی تھی اور مجھے بتایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں دنیائے اسلام کے حالات میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں۔ انھوں نے کچھ ملکوں کا نام بھی لیا تھا، اس سے لگتا ہے کہ ایک تنظیم معرض وجود میں آ رہی ہے۔ کچھ عرصہ بعد داعش سامنے آ گئی۔
دشمن پر اعتماد نہ کیجئے۔ یہ تاکید کے ساتھ میری نصیحت ہے۔ دشمن پر بھروسہ نہ کیجئے۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ٹرمپ کے امریکہ نے اور اوباما کے امریکہ نے آپ کے ساتھ کیا کیا۔ البتہ یہ صرف ٹرمپ تک محدود نہیں ہے کہ مثلا یہ فرض کر لیجئے کہ ٹرمپ کا دور ختم ہوا تو یہ کہا جائے کہ دشمنی ختم ہو گئی۔ نہیں، اوباما کے امریکہ نے بھی آپ کے ساتھ بدی کی، ملت ایران کے ساتھ بدی کی، تین یورپی ممالک کا بھی وہی حال ہے۔
حقیر کے لئے اس پوری مدت میں عوام سے ملاقات بڑی مسرت بخش رہی ہے اور عوام الناس سے ملاقات میرے لئے بڑی پرکشش ہوتی ہے کہ لوگوں کی باتیں سنوں، اپنی بات کہوں۔ مختلف عوامی طبقات سے ملاقات کروں۔ یہ حقیر اور خطرناک دشمن، یعنی کورونا وائرس جو بہت حقیر اور چھوٹا بھی ہے لیکن بہت خطرناک بھی ہے، اس نے رکاوٹ ڈال دی ہے۔ دوسری بہت سی دلچسپی کی چیزوں کی مانند یہ موقع بھی ہم سے سلب کر لیا۔
ہماری امریکہ پالیسی طے شدہ اور واضح پالیسی ہے۔ افراد کے آنے جانے سے یہ پالیسی تبدیل نہیں ہوتی۔ آج امریکہ میں الیکشن ہے۔ کچھ لوگ یونہی بات کرتے ہیں کہ کون آئے گا، کون نہیں آئے گا۔ اگر فلاں آیا تو کیا ہوگا اور فلاں آ گیا تب کیا ہوگا۔ ہاں، ممکن ہے کہ کچھ تغیرات ہوں، لیکن ہم سے کوئی مطلب نہیں ہوگا۔ یعنی ہماری پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہماری پالیسی طے شدہ اور واضح ہے۔ افراد کے آنے جانے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن آپ خود ان کی حالت پر ذرا غور کیجئے، قابل دید صورت حال ہے۔ جو صدر اقتدار میں ہے اور جسے الیکشن کروانا ہے۔ وہی کہہ رہا ہے کہ یہ امریکہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ دھاندلی والے انتخابات ہیں۔
آج اسلام کے دشمن، اصلی دشمن، "وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ" کے مصداق یہی استکبار اور صیہونزم ہیں۔ در اصل یہی طاقتیں ہیں جو اپنی پوری توانائی سے اسلام کا مقابلہ کر رہی ہیں، مخالفت کر رہی ہیں۔ اس دشمنی کی تازہ مثال وہ ڈراما ہے جو گزشتہ ہفتے پیرس میں نظر آیا۔ یہ ڈراما جو پیرس میں دکھایا گيا، بہت قابل توجہ اور قابل غور ہے۔ ایک کارٹونسٹ کوئی حماقت کرتا ہے، کارٹون کی زبان میں پیغمبر کو ناسزا کہتا ہے۔ صرف اتنی بات نہیں ہے کہ کوئی آرٹسٹ بہک گیا ہے، منحرف ہو گیا ہے اور کوئی حماقت کر بیٹھا ہے، صرف یہ نہیں ہے۔ اس واقعے کی پشت پر کچھ لوگ ہیں۔ ثبوت کیا ہے؟ ثبوت یہی ہے کہ یکبارگی ہم دیکھتے ہیں کہ آرٹسٹ کے دفاع میں ایک صدر یا ایک حکومت آ جاتی ہے، کچھ دوسری حکومتیں بھی حمایت کرتی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ میں اس ہفتے کو، یعنی بارہ سے سترہ ربیع الاول تک کے ایام کو ہم نے 'اتحاد کے ہفتے' سے موسوم کیا ہے۔ یہ صرف نام کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی عمل اور داؤں ہے۔ یہ قلبی اعتقاد و ایمان ہے۔
یہ خبیثانہ (امریکی) پابندیاں مجرمانہ عمل ہے۔ خیر ہم تو مزاحمت کریں گے، ہم استقامت کا مظاہرہ کریں گے۔ ان شاء اللہ امریکہ کا یہ شدید دباؤ اس کی شدید بدنامی میں تبدیل ہو جائے گا۔