انتخابات میدان میں عوام کی موجودگی کی علامت اور عوام کے ارادے اور فیصلہ سازی کی علامت ہے۔ لہذا ہر اس انسان کا قومی فریضہ ہے جو چاہتا ہے کہ ملک ترقی کرے، کام کرے اور بڑے اہداف تک پہنچے، کہ انتخابات میں شریک ہو۔
امام خامنہ ای
حضرت ابراہیم نے ہمیں جو تعلیمات دی ہیں ان کے مطابق اس سال کا حج، اعلان برائت کا حج ہے۔ مغربی تمدن سے نکلنے والے خوں آشام وجود سے اعلان برائت جس نے غزہ میں جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
امام خامنہ ای
اگر امریکا کی مدد نہ ہوتی تو کیا صیہونی حکومت میں اتنی طاقت تھی، ہمت تھی کہ مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ اس چھوٹے سے علاقے میں ایسا حیوانیت والا برتاؤ کرے؟
امام خامنہ ای
غزہ کا مسئلہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر دنیا کے لوگوں کی عمومی نظروں سے ہٹنے نہیں دینا چاہیے، اسے سب سے بڑے مسئلے کی حیثیت سے باہر نہیں آنے دینا چاہیے۔
امام خامنہ ای
ایران نے سخت پابندیوں کے دوران بھی پیشرفتہ ہتھیار وہ بھی اتنی تعداد میں تیار کر لیے! وہ اس سے زیادہ بھی تیار کر سکتا ہے، اس سے بہتر بھی تیار کر سکتا ہے۔
امام خامنہ ای
اگر آج اقبال زندہ ہوتے تو وہ ایک ایسی قوم کو اپنی آنکھوں کے سامنے پاتے جو اپنے قدموں پر کھڑی ہے اور اپنے قیمتی اسلامی سرمائے سے مالامال ہو کر اور خود پر اعتماد کر کے مغرب کے فریبی زرق و برق اور مغربی اقدار کو خاطر میں لائے بغیر زندگی گزار رہی ہے۔
اس سال ماہ رمضان میں غزہ کے خونریز واقعات نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو سوگوار کر دیا اللہ کی لعنت ہو غاصب صیہونی حکومت پر۔ صیہونی حکومت نے اپنی حماقتوں کی فہرست میں ایک اور حماقت بڑھا لی اور وہ شام میں ایران کے قونصل خانے پر حملہ تھا۔ خبیث حکومت کو سزا ملے گي۔
امام خامنہ ای
مغربی حکومتوں نے اپنے فریضے پر عمل نہیں کیا۔ بعض نے زبانی کوئي بات کہہ دی۔ لوگوں کی حمایت میں لیکن عمل میں نہ صرف یہ کہ انھوں نے روکا نہیں بلکہ ان میں سے اکثر نے مدد بھی کی۔
امام خامنہ ای
اور خود خبیث حکومت نے جو سر سے پیر تک خباثت، شر انگيزی اور حماقتوں سے بھری ہوئي ہے ایک اور حماقت اپنی حماقتوں کی فہرست میں بڑھا لی اور وہ شام میں ایران کے قونصل خانے پر حملہ تھا۔
امام خامنہ ای
رحمٰن، وہ عام رحمت الہی ہے جس کا دائرہ تمام موجودات تک پھیلا ہوا ہے لیکن کم عرصے کے لیے۔ رحیم یعنی اللہ کی وہ رحمت جو مومنوں سے مختص ہے اور کسی خاص وقت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہے۔
امام خامنہ ای
دعا عمل کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اس میں کوئي شک نہیں ہے۔ توحید افعالی یہ ہے کہ ہر کام اللہ کرتا ہے لیکن ہمیں ارادہ کرنا چاہیے، ہمیں کام شروع کرنا چاہیے تاکہ اللہ کا یہ ارادہ عملی جامہ پہنے۔
میں تمام لوگوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ چوکنا رہیے کہ آپ کا دل ٹیڑھا نہ ہو جائے، اگر ہم عملی طور پر ٹیڑھے ہو گئے تو خداوند عالم بھی ہمارے دل کو ٹیڑھا کر دے گا۔ ہمارا برا عمل، ہمارے دل کو برا بنا دے گا۔
اگر تم خود اپنے آپ کو میزان میں رکھو اور انصاف سے اپنا محاسبہ کرو تو جس دن خداوند عالم اور کرام الکاتبین تمھارا محاسبہ کریں گے، یہ اس سے زیادہ آسان ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کہ انسان صرف زبان سے اور بے بنیاد اور احمقانہ دعوے کے تحت یہ سوچے کہ ہمارے پاس کوئي عمل تو نہیں ہے لیکن ہمارا دل پاکیزہ ہے! پاکیزہ دل اور نورانی دل کی کچھ علامتیں ہیں۔
اس سال کا یوم قدس ایک بین الاقوامی قیام ہوگا۔ غاصب صیہونی حکومت کے خلاف یعنی اس سال اگر گزشتہ برسوں میں، یوم قدس صرف اسلامی ملکوں میں منایا جاتا تھا، تو اس سال امکان غالب ہے کہ غیر اسلامی ممالک میں بھی یوم قدس ان شاء اللہ عظیم پیمانے پر منایا جائے گا۔
یہ شکست یقیناً جاری رہے گي۔ یہ شکست جاری رہے گي۔ جیسے یہ حرکت جو انھوں نے شام میں کی، البتہ اس کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑے گا، اس طرح کی حرکتیں ان کے کام نہیں آئیں گی۔
جب تک انسان خود کی طرف متوجہ رہتا ہے وہ دیندار ہوتا ہے لیکن جیسے ہی وہ خود کی طرف سے غافل ہوتا ہے، خود پر سے اپنا اختیار کھو دیتا ہے اور پھر وہ رفتہ رفتہ دین سے باہر نکل جاتا ہے۔
امام خامنہ ای
اگر انسان میں تقویٰ نہ ہو تو وہ اللہ کے کلام کے ظریف نکات کو نہیں سمجھ سکتا، اگر وہ قرآن کی ظریف اور خوبصورت باتوں کو سمجھنا چاہے تو نہیں سمجھ سکتا۔
امام خامنہ ای
جہاں تک ہو سکے نماز شب پڑھیے، نماز شب ترک نہ ہو۔ جوانی کا یہ موقع جو آپ کے پاس ہے، دوبارہ نہیں ملتا اس سے خدا سے انس کے لیے فائدہ اٹھائيے۔
امام خامنہ ای
ان کے دلوں میں تفرقہ اور بکھراؤ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ ایسے کیوں ہیں؟ یہ اس لیے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ وہ جو متحد نہیں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس عقل نہیں ہے۔
امام خامنہ ای
واقعی آپ منفرد شخصیت کے مالک ہیں۔ عام طور پر مختلف سیاستداں اور امور مملکت چلانے والے سماجی اور معاشی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور شعر و ادب کی طرف ان کی زیادہ توجہ نہیں ہوتی۔
دنیا پرستی کی وجہ سے انسان رفتہ رفتہ ایمان سے کفر کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اور سماجی عوامل بھی انسان کے اندر اس طرح کے بیمار جذبات کو بڑھا دیتے ہیں۔
امام خامنہ ای