حج، آج اور آئندہ کل کے انسان کے اخلاقی زوال کی موجب سامراج اور صیہونیت کی تمام سازشوں کو ناکام اور بے اثر بنا سکتا ہے۔ اس عالمی تاثیر کی ضروری شرط یہ ہے کہ مسلمان قدم اول کے طور پر، حج کے حیات بخش خطاب کو پہلے خود صحیح طریقے سے سنیں اور اسے عملی جامہ پہنانے میں کوئي دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔
امام خامنہ ای
یہ جو خداوند عالم نے مجھے صحت یاب کیا ہے، اس کی کوئي وجہ ہونی چاہیے۔ مجھے خیال آیا کہ یقینا خداوند عالم کو مجھ سے کوئي توقع ہے اور اس توقع کے عملی جامہ پہننے کے لیے اس نے مجھے بچایا ہے۔
امام خامنہ ای
ان شاء اللہ آپ کی زندگي شیریں رہے، میل محبت سے رہیں، تمام امور میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ پیار، اپنائیت اور صدق دلی سے پیش آئیں۔
امام خامنہ ای
میں نے شہید کی ماؤں کی زیارت کی ہے جنھوں نے اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا تھا، اپنے ہاتھوں سے کفن پہنایا تھا، کیا یہ معمولی بات ہے؟
امام خامنہ ای
ابن عباس کے شاگرد عکرمہ جیسا مشہور شخص جب امام محمد باقر کی خدمت میں پہنچتا ہے، تاکہ ان سے کوئي حدیث سنے یا شاید ان کا امتحان لے سکے، تو اس کے ہاتھ پیر کانپنے لگتے ہیں اور وہ امام کی آغوش میں گر پڑتا ہے۔
امام خامنہ ای
شہدا کے معزز اہل خانہ سے رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب: سارے شہدا نمونہ عمل ہیں۔ ہمارے نوجوان کو آئیڈیل کی ضرورت ہے۔ یہ شہدا ہمارے ملک اور ہمارے نوجوانوں کے زندہ آئیڈیل شمار ہوتے ہیں۔ ان کا ذکر قائم رہنا چاہئے۔
تحریک حماس فلسطین کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی: فلسطین کے حالات دو تین سال قبل کی نسبت آج واضح طور پر بدل چکے ہیں۔ آج نوجوان خود بخود میدان میں اترے ہیں اور ان کا تکیہ اسلام پر ہے۔
ایٹمی ایجنسی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں، لیکن سیف گارڈ کے قواعد و ضوابط کے دائرے میں۔ بعض اوقات حقیقت کے منافی دعوے کئے جاتے ہیں اور زور زبردستی کے مطالبات پیش کئے جاتے ہیں، اس کو خاطر میں نہ لائیں۔
امام خامنہ ای
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ ایک طولانی وقفے کے بعد ایران اور ازبکستان کے رشتوں کو نئی زندگی ملنے پر خوشی ہے۔ افسوس کہ برسوں تک ایران اور ازبکستان کے روابط بہت محدود رہے، امید کرتے ہیں کہ یہ سفر اور تہران میں ہونے والے مذاکرات دونوں ملکوں کے روابط کے بہتر مستقبل کا سر آغاز بنیں گے۔
امام خامنہ ای
عوام کی زندگي کے ہر شعبے میں اس صنعت میں مفید اور مؤثر موجودگي کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ عوام کو اس صنعت کی قدر و اہمیت معلوم ہونی چاہیے۔ یہ بات جو وہ کہتے تھے کہ ہمارا مسلمہ حق ہے، انھیں واقعی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا مسلمہ حق ہے۔
امام خامنہ ای
اس بیس سالہ تنازعے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں پتہ چل گيا کہ ان کے وعدوں پر اور ان کی باتوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ان بیس برسوں میں سمجھ گئے کہ کون سے لوگ بھروسے کے لائق ہیں اور کن لوگوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
امام خامنہ ای
وہ چیز جو وہ لوگ منہ زوری سے طلب کر رہے ہیں، اس کے دباؤ میں نہ آئيے اور اسے تسلیم نہ کیجیے۔ کبھی وہ کچھ دعوے کرتے ہیں جو حقیقت کے برخلاف ہیں، آپ ان دعووں کو تسلیم نہ کیجیے
امام خامنہ ای
ممکن ہے کہ آپ کسی معاملے میں کچھ معاہدے کرنا چاہیں، کوئي قباحت نہیں ہے، سمجھوتہ کیجیے لیکن ان انفراسٹرکچرز کو ہاتھ نہ لگایا جائے، یہ دوسروں کی عرق ریزیوں کا نتیجہ ہیں۔
امام خامنہ ای
نیوکلیئر مصنوعات اور سروسز کا کمرشیلائیزیشن ہونا چاہئے ہماری ان کامیابیوں کا دنیا میں اچھا مارکٹ موجود ہے۔ ملکی معیشت کے لئے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امام خامنہ ای
ہم اپنے بنیادی اسلامی اصولوں کی وجہ سے ان ہتھیاروں کی طرف نہیں جانا چاہتے ورنہ اگر یہ بات نہ ہوتی اور ہم اس طرف جانا چاہتے تو یہ لوگ روک نہیں سکتے تھے، جس طرح وہ ہماری ایٹمی پیشرفتوں کو نہ تو روک پائے ہیں اور نہ ہی روک پائیں گے۔
امام خامنہ ای
جس چیز نے امام خمینی کو ملک کی سطح پر، امت کی سطح پر اور عالمی سطح پر، رہتی دنیا تک کے لیے یہ عظیم تبدیلیاں لانے کی قوت دی، وہ ان کا 'ایمان' اور ان کی 'امید' ہے۔
امام خامنہ ای
انھوں نے ایسی پلاننگ کی تھی کہ سوچ رہے تھے کہ اسلامی جمہوریہ کا کام تمام ہو گیا، سوچ رہے تھے کہ اب ایرانی قوم کو اپنا مطیع بنالیں گے۔ احمقوں نے پھر غلطی کر دی! وہ پھر ایرانی قوم کو سمجھ نہ سکے۔
امام خامنہ ای
امام خمینی نے روحانیت کی فضا اور روحانیت کی طرف توجہ کو دنیا میں زندہ کر دیا، یہاں تک کہ غیر مسلم ممالک میں بھی۔ مادہ پرستی اور روحانیت مخالف پالیسیوں کے پیروں تلے کچل کر روحانیت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ امام خمینی کی تحریک نے دنیا میں روحانیت کے رنگ کو پھر سے نکھارا۔
امام خامنہ ای
امام خمینی نے تین بڑے، عظیم اور تاریخی کام کیے۔ ایران کی سطح پر اسلامی انقلاب کو وجود عطا کیا، امت مسلمہ کی سطح پر اسلامی بیداری کی تحریک شروع کی اور عالمی سطح پر روحانیت کے ماحول کو دنیا میں زندہ کیا۔
امام خامنہ ای
فلسطین کا مسئلہ، صیہونیوں اور ان کے پشت پناہوں کی اس خام خیالی کے بعد کہ یہ مسئلہ ختم ہو چکا تھا اور فلسطین کا مسئلہ آئندہ کبھی اٹھنے والا نہیں تھا، امام خمینی کی تحریک اور امت مسلمہ کی سطح پر ان کی لائی تبدیلیوں کی وجہ سے عالم اسلام کے سب سے اہم مسئلے میں بدل گيا۔
امام خامنہ ای
اس انقلاب نے اغیار کی دست نگر قوم کو، سب کچھ کرنے پر قادر طاقت میں بدل دیا۔ یہ سب اس عظیم انقلاب کے معجزے ہیں، یہ وہ عظیم تبدیلی ہے جو عظیم الشان امام خمینی نے ملکی سطح پر پیدا کی۔
امام خامنہ ای
عمان کے سلطان اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے دو طرفہ تعلقات، علاقائی ملکوں سے تعاون کی ایران کی پالیسیوں اور امت مسئلہ میں اتحاد یگانگت جیسے موضوعات پر روشنی ڈالی۔
امام خامنہ ای
امتیاز و تفریق ختم کرنے کی اسلام کی زبان، زبان عمل ہے۔ کہاں؟ حج میں۔ کالے ہیں، گورے ہیں، دنیا کے فلاں خطے سے آئے ہیں، فلاں تمدن کے ہیں، فلاں تاریخ کے ہیں، سب ایک ساتھ بغیر کسی امتیاز کے، ایک ساتھ ہیں، کوئی امتیاز نہیں ہے۔ یہ اسرار حج ہیں۔ انہیں معرفت کے ساتھ انجام دینا چاہئے۔
امام خامنہ ای
17 مئی 2023
خدا وہ دن کبھی نہ لائے، کہ کوئي عازم حج نہیں ہے، تو آپ پر واجب ہے کہ حج کے لئے جائيں چاہے اس سے پہلے دس بار حج کر چکے ہوں۔ اس گھر، اس اصلی مرکز اور اس بنیادی مرکز کو کبھی بھی خالی نہیں رہنا چاہئے۔ «قیامًا لِلنّاس»۔ یہ تعبیر بہت اہم ہے۔
امام خامنہ ای
عزت یعنی دوسروں کے اشاروں اور بیانوں سے آس لگانے کی نفی۔ فلاں ملک کی فلاں بڑی اور پرانی سیاسی شخصیت نے یہ بیان دے دیا، ایسی رائے دی۔ فلاں نے ایسا کہہ دیا۔ عزت یعنی ہم ان چیزوں کے آسرے پر نہ رہیں، ہمارا تکیہ اپنے اصولوں پر ہو۔
امام خامنہ ای
میری تاکید ہے کہ مختلف عمر کے بچوں کے لئے جہاں تک ممکن ہو کتابیں تیار کریں اور اس سلسلے میں ہمیں اغیار کی کتابوں سے بے نیاز کریں۔ تاکہ ہم ان شاء اللہ اپنی ثقافت، اپنی جہت اور اپنے اہداف کے ساتھ کتابیں اپنے بچوں کو دے سکیں۔
امام خامنہ ای
وہ ہدف مسلم امہ کا اتحاد ہے۔ کس کے مقابلے میں؟ کفر کے مقابلے میں، ظلم کے مقابلے میں، استکبار کے مقابلے میں، انسانی و غیر انسانی بتوں کے مقابلے میں۔ ان تمام چیزوں کے مقابلے میں جنہیں ختم کرنے کے لئے اسلام آیا۔
امام خامنہ ای
ملک کی ثقافت اور کلچر بنانے کے لئے ہمیشہ کتاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ آج دیگر بہت سے وسائل بھی وجود میں آ گئے ہیں، جیسے سوشل میڈیا وغیرہ ہے لیکن کتاب اب بھی اپنی جگہ بہت اہم اور بہت اعلی درجہ رکھتی ہے۔
امام خامنہ ای
دنیا میں کوئي بھی شخص، چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہو، فلسطین کے واقعات کی سچائی کو جان جائے، وہ غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں نکل آئے گا۔
امام خامنہ ای
ٹیچر، اسٹوڈنٹ کو اپنے بچے کی طرح سمجھے۔ اپنے بیٹے کے بارے میں، اپنی بیٹی کے بارے میں آپ کی کیا آرزو ہے؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ وہ باسعادت ہو؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ وہ سربلند ہو؟ یہی چیزیں اپنے اسٹوڈنٹ کے بارے میں بھی چاہیں۔
امام خامنہ ای
صیہونی حکومت کا بکھراؤ اور خاتمہ قریب ہے، یہ مزاحمت کی برکت کی وجہ سے ہے، یہ اس بات کی برکت کی وجہ سے ہے کہ فلسطینی جوان، اپنے دشمن کے ڈیٹرنس کو لگاتار کمزور کرنے اور نابود کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
امام خامنہ ای