افریقہ میں عظیم تہذیبیں تھیں جو اپنی توانائيوں کے سلسلے میں غفلت برتنے کی وجہ سے اس نرم جنگ کی بھینٹ چڑھ گئيں جو سامراجی طاقتوں نے ان پر مسلط کی۔
امام خامنہ ای
17 نومبر 2021
استعماری طاقتوں کی سافٹ وار کا ایک اہم حربہ یہ ہوتا ہے کہ قوموں کو ان کی استعداد کی طرف سے غافل کر دیں یا ان کی ایسی حالت بنا دیں کہ وہ خود ہی اپنی استعداد کی منکر ہو جائیں۔ جب کسی قوم پر اپنی توانائيوں کے بارے میں غفلت طاری ہو جاتی ہے تو اس کو لوٹنا آسان ہو جاتا ہے۔
میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خود میرے گھر میں تمام افراد، سب کے سب ہر رات مطالعے کی حالت میں سو جاتے ہیں۔ میں بھی ایسا ہی ہوں۔ یہ نہیں کہ مطالعے کے درمیان میں ہی نیند آ جائے، اس وقت تک مطالعہ کرتا رہتا ہوں، کہ مجھے نیند آنے لگے، پھر کتاب رکھ دیتا ہوں اور سو جاتا ہوں۔ ہمارے گھر کے سبھی لوگ، جب سونا چاہتے ہیں تو ضرور کوئي کتاب ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
• ماں باپ کو شروع سے ہی بچوں کو کتابوں کے ساتھ رکھنا چاہیے، انھیں کتابوں سے انسیت دلانی چاہیے۔ چھوٹے بچوں تک کو کتابوں سے مانوس ہونا چاہیے۔
• کتاب کی خریداری، گھر کے اصل اخراجات میں شمار ہونی چاہیے۔ لوگوں کو بعض آرائشی اور لگژری چیزوں جیسے فانوسوں، مختلف طرح کی میزوں، طرح طرح کے صوفوں اور پردوں وغیرہ کی خریداری سے زیادہ کتاب کو اہمیت دینی چاہیے۔
• پہلے روٹی، غذائي اشیاء اور زندگي کی ضروری چیزوں کی طرح کتاب خریدیں؛ اور جب ان چیزوں کی تکمیل ہو جائے تب اضافی چیزوں کے بارے میں سوچیں۔
امام خامنہ ای، 16 مئي، 1995
رہبر انقلاب اسلامی: "یہ عظیم خاتون، دامن اہل بیت کی پروردہ یہ نوجوان خاتون ائمہ علیہم السلام کے اصحاب اور عقیدتمندوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے، مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے، پورے راستے عوام کے درمیان معرفت و ولایت کے پھول برساتے ہوئے اور پھر اس علاقے میں پہنچ کر اور قم میں قیام فرما کر اس بات کا موجب بنیں کہ یہ شہر علوم و معارف اہل بیت علیہم السلام کا کلیدی مرکز بن جائے اور ظالموں کی حکومت کے اس تاریک دور میں منارہ نور قرار پائے، نیز وہ سرچشمہ بن جائے جہاں سے علم و معرفت اہل بیت کی روشنی مشرق سے مغرب تک پورے عالم اسلام میں پھیلے۔" 21 اکتوبر 2010
آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی ویب سائٹ KHAMENEI.IR حضرت معصومہ قم کی رحلت کی برسی کی مناسبت سے خاندان پیغمبر کی اس عظیم خاتون کے مدینے سے طوس کے سفر کے گہرے اثرات کے بارے میں 'ستاروں نے قدم چومے' عنوان سے مندرجہ ذیل پوسٹر شائع کر رہی ہے۔
قم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا حرم اقدس اور مرقد مطہر ہے۔ ان ہی کے جوار سے یہ چشمہ پہلی بار ابلا اور اس کی برکتیں پوری دنیا خاص طور سے عالم اسلام تک پہنچیں۔
امام خامنہ ا ی
5 اکتوبر 2000
روحانی ارتقاء کی بے وقفہ کوشش
رسول اللہ اپنی اس عظیم منزلت اور عصمت کے اعلی ترین مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود، مرتے دم تک اس کوشش کو ترک نہیں کرتے تھے جو انھیں مسلسل خداوند عالم سے مزید قریب کرے۔ بعثت کے پہلے سال کے پیغمبر اور بعثت کے تیئیسویں سال کے پیغمبر یکساں نہیں تھے؛ وہ پروردگار عالم کے تقرب میں تیئیس سال آگے بڑھ چکے تھے۔
اللہ کا شکر گزار بندہ
اصحاب نے آنحضرت سے عرض کی: اے خدا کے رسول! آپ نے تو کوئي گناہ کیا ہی نہیں، پھر اتنی زیادہ دعا، عبادت اور استغفار کس لیے؟ وہ فرماتے تھے: "افلا اکون عبداً شکورا" کیا میں خدا کا شاکر بندہ نہ رہوں جس نے مجھے یہ ساری نعمتیں عطا کی ہیں؟
لغزشوں سے ہوشیار
پیغمبر اکرم، عصمت کے مقام پر فائز ہیں لیکن اس کے باوجود، اپنے حرکات و سکنات کی ایسی کڑی نگرانی رکھتے ہیں، اپنی یہی گہری دیکھ بھال اور لغزشوں سے حفاظت ہی عصمت کا سبب بنتی ہے۔
صداقت و جوانمردی کا پیکر
اپنی ولادت سے لے کر بعثت کے وقت تک یعنی چالیس سال، ہمارے پیغمبر عزیز کے لیے پاکیزگي، امانت داری، جوانمردی اور صداقت کے امتحان کے سال تھے۔ سبھی اس بات کے معترف تھے اور گواہی دیتے تھے کہ یہ عظیم اور باشرف انسان، پاکیزگي، دیانت داری، صداقت اور جوانمردی کا پیکر ہے۔
دوست، دشمن سبھی کے درمیان امانت داری کی شہرت
پیغمبر اکرم کا امین ہونا اور ان کی امانت داری ایسی تھی کہ عہد جاہلیت میں انھیں 'امین' کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اسلام کی دعوت شروع ہونے اور قریش کے ساتھ دشمنی کی آگ بھڑکنے کے بعد بھی، اگر وہی دشمن کسی چیز کو کہیں امانت کے طور پر رکھوانا چاہتے تھے تو آ کر اسے پیغمبر کے حوالے کرتے تھے۔
لوگوں سے اچھا سلوک اور اپنی تکلیفوں کی پردہ پوشی
عام انسانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم کا رویہ، بہت اچھا تھا۔ وہ لوگوں کے سامنے اپنے چہرے پر اپنے غم و اندوہ کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے، ہشاش بشاش رہتے تھے۔ سبھی کو سلام کرتے تھے۔ اگر کوئي انھیں رنجیدہ کرتا تھا تو وہ چیز ان کے چہرے پر دکھائي دیتی تھی لیکن وہ زبان سے شکوہ نہیں کرتے تھے۔
فحش کلامی کی سختی کے ساتھ روک تھام
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئي ان کے سامنے کسی کو گالی دے یا بدگوئي کرے۔ وہ خود بھی کسی کو گالی نہیں دیتے تھے اور کسی کی بدگوئي نہیں کرتے تھے۔
عوام الناس اور غریبوں کے ساتھ نشست و برخاست
پیغمبر اکرم، غلاموں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے اور ان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ ایک بدو عورت وہاں سے گزری اور اس نے حیرت سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ غلاموں کی طرح کھانا کھاتے ہیں؟ آپ مسکرائے اور کہنے لگے: "ویحک ای عبد اعبد منّی" مجھ سے بڑا غلام کون ہے؟
سفارت کاری کو ایٹمی مسئلے سے متاثر نہیں ہونے دینا چاہئے۔ ایٹمی مسئلے میں امریکیوں نے بے شرمی کی حد کر دی۔ ایٹمی ڈیل سے وہ خود نکلے لیکن ایسی باتیں کرتے ہیں کہ گویا ایران معاہدے سے نکلا ہو۔ مذاکرات کا مذاق انھوں نے اڑایا۔ یورپی ممالک بھی امریکہ جیسے ہیں۔
امام خامنہ ای
28 اگست 2021
حکومت کے عوام دوست ہونے کی ایک علامت عوام کے درمیان جانا اور عوام سے بلا واسطہ ان کی مشکلات دریافت کرنا ہے۔ یہ بہت اچھا اور قابل تحسین عمل ہے جو جناب رئیسی صاحب نے کل انجام دیا اور خوزستان گئے جو عوام دوستی کی نشانی ہے۔
امام خامنہ ای
28 اکتوبر 2021
امام موسی کاظم علیہ السلام کے حجرے میں تین چیزیں ہمیشہ موجود رہتی تھیں: ایک تلوار جو جہاد کی علامت ہے، جنگی لباس اور ایک قرآن۔ یہ اس کی علامت ہے کہ جہاد کا مقصد قرآنی طرز زندگی ہے۔
امام خامنہ ای
12 اپریل 1985