Skip to main content
  • English
  • Français
  • Español
  • Русский
  • हिंदी
  • Azəri
  • العربية
  • اردو
  • فارسی
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خطاب
  • ملٹی میڈیا
  • سوانح زندگی
  • فکر و نظر
  • نگارش
  • استفتائات و جوابات
فورم
تقاریر
انٹرویو
مقالات

اسرائیل اور 80 سال پورے نہ کر پانے کا ڈر

فلسطین اور حالیہ مہینوں میں وہاں رونما ہونے والے واقعات پوری دنیا میں میڈیا اور عوام کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔ ایک طرف غزہ کی لڑائی اور ویسٹ بینک کے حادثات زمینی سطح پر رونما ہوئے تو دوسری طرف صیہونی حکومت کے اندر اعتراضات اور افراتفری کی لہر دکھنے میں آئی۔ یہ سب چیزیں اور نشانیاں فلسطین کے منظر نامہ پر حالات میں بہت اہم تبدیلی کی عکاس ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے  کچھ مہینے پہلے، فلسطین کے سیاسی منظرنامہ پر رونما ہونے والے واقعوں کے تجزيے میں ان حالات کے تعلق سے بہت اہم نکات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس بارے میں انکی تجزیاتی نگاہ و روش کے تحت پچھلے کچھ مہینوں کے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
2023/07/16

'پوسٹ امیریکن ارا' یا 'ما بعد امریکہ دور' اور شہید قاسم سلیمانی کا کردار

جنوری وہ مہینہ ہے جس کے ابتدائي ایام اب 'ما بعد امریکہ یا امریکا کے بعد کی دنیا' کی شروعات کا مظہر بن گئے ہیں۔3 جنوری کو جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت سے لے کر 6 جنوری کو امریکی کانگریس پر مظاہرین کے قبضے تک، سارے واقعات کا ایک واضح پیغام ہے اور وہ یہ کہ لبرل ڈیموکریسی اور امریکا کے تسلط (hegemony) کا زمانہ لد چکا ہے۔ امریکی تسلط کا یہ خاتمہ، خاص طور پر مغربی ایشیا کے علاقے میں اس تسلط کا ختم ہو جانا سب کے لیے پوری طرح عیاں ہے، بلاشبہ استقامتی محاذ اور بالخصوص شہید قاسم سلیمانی کی مجاہدت اور حیرت انگیز اقدامات کا نتیجہ ہے۔ امریکی تسلط کے خاتمے اور خطے میں مغربی دنیا کی سازشوں کی شکست میں شہید قاسم سلیمانی کے رول کی تشریح کے لیے سب سے پہلے اس بات پر نظر ڈالنی چاہیے کہ مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکا کی دخل اندازی کے کیا اہداف تھے؟
2023/01/03

شہید قاسم سلیمانی؛ وہ کمانڈر جس نے فوجی سرحدوں کے ساتھ ہی اخلاقی سرحدوں کی بھی مکمل پاسداری کی

بسم اللہ الرحمن الرحیم فوجی اداروں میں ٹریننگ پانے اور اعلی عہدوں تک پہنچنے والے بیشتر افراد کے پاس، جو اس ماحول میں پہنچنے سے پہلے جو بھی نظریہ اور مزاج رکھتے تھے، فوجی ادارے اور ماحول میں خود کو ڈھالنے کے لیے اپنے پرانے رویے اور نظریے کو تبدیل کرنے کے علاوہ کوئي اور چارہ نہیں ہوتا۔ اس ماحول کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئي حکم ملا ہے اور وہ انسان کی سوچ اور اس کے ذاتی نظریات کے برخلاف بھی ہے، تب بھی اس کی تعمیل کی جائے۔ فطری بات ہے کہ اس طرح کے ماحول میں ڈھلنا اور اسے برداشت کرنا، سخت اور تھکا دینے والا ہے۔ اس ماحول کا سب سے اہم نتیجہ، لوگوں کی سوچ، نظریات اور رویے کو یکساں بنانا ہے۔ مختلف آپریشنز اور جنگ کے مختلف میدانوں میں کام کر چکے ایک تجربہ کار کمانڈر کی حیثیت سے شہید قاسم سلیمانی بڑے حیرت انگیز طریقے سے ایک اعلی رتبہ فوجی کمانڈر کی ذمہ داریوں، جن میں سے بعض بہت ہی خشک اور پوری طرح ڈسپلن والی تھیں اور اخلاقیات پر کاربند ایک انسان، ہمدرد باپ اور مہربان دوست کی ذمہ داریوں کو بڑے سلیقے اور ہنرمندی سے ایک ساتھ جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس مضمون میں شہید الحاج قاسم سلیمانی کی بعض اہم خصوصیات کا سرسری جائزہ لیا گيا ہے۔
2023/01/01

ایک زوال کا جائزہ

رہبر انقلاب اسلامی نے کچھ طلبہ سے ملاقات میں امریکہ کے زوال کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا کے بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ زوال کی سمت بڑھ رہا ہے، وہ قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے۔ یہ بات ہم نہيں کہہ رہے ہيں۔ حالانکہ ہمارا بھی یہی خیال ہے، لیکن پوری دنیا کے سیاسی تجزیہ نگار یہی کہہ رہے ہیں ۔"   KHAMENEI.IR ویب سائٹ نے امریکہ اور بین الاقوامی امور کے ماہر جناب حمید رضا غلام زادہ کا ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں امریکہ کے  عروج و زوال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مقالے کے چند اقتباسات کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے:
2022/11/12

جواہر لال نہرو کی کتاب Glimpses of World History 'تاریخ عالم کی جھلکیاں' پڑھنے پر رہبر انقلاب اسلامی کی مکرر تاکید

ٹھیک تین سال پہلے رہبر انقلاب اسلامی نے غیر معمولی صلاحیت کے حامل نوجوانوں سے ملاقات میں کہا تھا: "مجھے یقین ہے کہ آپ نوجوان لوگ تاریخ اور اس طرح کی چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ جو کچھ ہوا ہے، اس کا ہزاروں حصہ بھی آپ نے باتوں اور پروپیگنڈوں میں نہیں سنا ہے۔" یہ بات، جو ہماری معاصر تاریخ میں انگریزوں کے جرائم کی تشریح کے ضمن میں کہی گئي تھی، ایک مؤقر مصنف کے حوالے سے کہی گئي تھی: ایک انقلابی اور سامراج مخالف انسان، جواہر لال نہرو۔
2022/10/26

سرزمین آفتاب سے: محترمہ سبا بابائي (کونیکو یامامورا) کی زندگي پر ایک نظر

بسم اللہ الرحمن الرحیم اپنے ذہن میں تہران کے نواح میں واقع قبرستان بہشت زہرا کو مجسم کیجیے، ایک وسیع و عریض دشت جس میں بہت بڑی تعداد میں موجود درخت قبروں پر سایہ کئے کھڑے ہیں۔ اس قبرستان کا ایک حصہ، جو دوسرے حصوں سے الگ ہے، یہاں وہ لوگ آرام کر رہے ہیں جنھیں موت نے نہیں آ لیا بلکہ وہ خود موت کے استقبال کے لیے آگے بڑھے ہیں۔ وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے اور اسے ایک بڑے مقصد کے لیے فدا کر دیا۔ ہمیں قبرستان کے اسی حصے سے کام ہے۔ اسی حصے میں ان سیاہ و سفید پتھروں کے پاس ہم ایک خاتون کو دیکھتے ہیں جس کا چہرہ دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ ایرانی نہیں ہے۔ جب آپ قریب پہنچتے ہیں اس کی کھنچی ہوئي نیم باز آنکھوں اور مشرقی ایشیائي چہرے کو دیکھتے ہیں، اس قبر کے کتبے کو دیکھیے، جس کے کنارے وہ بیٹھی ہوئي اور جس پر اس کے آنسوؤں کے قطرے گرے ہیں، تب آپ کو اس کے نام کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ یہاں کیوں بیٹھی ہے۔ وہ کونیکو یامامورا ہے، ایران میں ایک شہید کی جاپانی ماں۔ وہ یہاں اپنے لال کے لیے دعا کرنے اور قرآن پڑھنے کے لیے بیٹھی ہے، اپنے انیس سالہ بیٹے، شہید محمد بابائي کے لیے۔ یہ عورت، دنیا کے بہت سے لوگوں کی طرح ایران کی سرحدوں سے دور، بہت دور ایک ملک میں اپنی زندگي گزار رہی تھی۔ نہ اسے فارسی آتی تھی، نہ وہ اسلام کے بارے میں کچھ جانتی تھی اور نہ ہی اس کے خواب و خیال میں تھا کہ کسی دن وہ ایسی سرزمین میں قدم رکھے گي جس کے آداب، رسم و رواج، دین و مذہب، پہناوا اور لوگ، اس کے اپنے ملک سے یکسر مختلف ہوں گے لیکن نشیب و فراز سے بھری ہوئي تقدیر اس کے انتظار میں تھی۔ کونیکو یامامورا نے اس تقدیر کو اس طرح بیان کیا ہے: "میں اپنے نام کو پسند کرتی تھی اور اپنی فیملی کو، اپنے وطن کو اور اپنے اس جاپانی شناختی کارڈ تک کو جس کے آخری صفحے پر ایک دن ضرب کی مہر لگا دی گئي جو یا تو موت کی علامت ہے یا ترک وطن کی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ تقدیر مجھے، جاپان کے 'ہیوگو' صوبے کے 'کوبے' ضلع کے 'اشیا' شہر سے ایک اجنبی سرزمین پر لے جائے گي اور میرا نام اور شناخت بدل جائے گي اور مجھے ایک نیا شناختی کارڈ مل جائے گا۔ کونیکو یامامورا نے دس جنوری 1939 کو اس دنیا میں قدم رکھا، یعنی اسی سال جس سال عالمی جنگ شروع ہوئي۔ ان کی زندگي بھی، ان کے وطن کے دوسرے لوگوں کی طرح اس جنگ سے جڑ گئي۔ انھوں نے بچپن سے ہی سیکھ لیا تھا کہ امریکی میزائيلوں کی تیز سیٹی جیسی آواز سنتے ہی اپنی کپڑے کی ٹوپی کو مضبوطی سے اپنے سر پر کھینچ لیں۔ "وہ کپڑے کی بنی ہوئي ٹوپی تھی اور اس کے اندر روئي بھری ہوئي تھی تاکہ اگر کوئي دھماکا ہو تو سر اور منہ پر لکڑی، پتھر یا کوئي دوسری چیز آ کر نہ لگے۔" البتہ کپڑے کی یہ ٹوپی، امریکی فوج کے 325 بی-9 بمبار طیاروں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی جنھوں نے ٹوکیو کو مٹی میں ملا دیا تھا۔ جب امریکا کے 'لٹل بوائے' اور ' فیٹ مین' نامی دو ایٹم ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرے تو فولادی ٹوپی کی طاقت، اس ایٹمی دھماکے کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی جس کی طاقت ہزاروں ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔ سرزمین آفتاب کی بیٹی نے، امریکا کے ایٹمی حملے کے دن گویا اپنے ملک کی فضا میں دو بار سورج دیکھا۔ اس کے بعد امریکی سپاہیوں کو دیکھنے کی باری تھی جو جاپان کی زمین پر دندناتے پھر رہے تھے اور دھماکے سے مرنے والوں کی راکھ کو جھاڑوؤں سے اڑا رہے تھے اور جاپانی لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے ورغلا رہے تھے۔ جب ہم یہاں سے اس قصے کو دیکھتے ہیں تو جاپانی خاتون کونیکو کے مختصر سے وجود کو جنگ سے نفرت نے پوری طرح بھر دیا تھا۔ تو پھر کیا ہوا کہ کچھ برس کے بعد وہ خود ایک دوسری جنگ میں سپورٹنگ فورس کا حصہ بن گئي؟ کیا ہوا کہ انھوں نے اپنے بیٹوں کو ایک غیر مساوی جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑنے کی اجازت دے دی؟ ایران کے ایک نوجوان اور مومن تاجر اسد اللہ بابائي، وہ تقدیر تھے جسے خداوند عالم نے اکیس سالہ کونیکو کے راستے پر رکھ دیا تھا۔ جب کونیکو نے پہلی بار بابائي صاحب کو دیکھا تو وہ دعا مانگ رہے تھے اور نماز پڑھ رہے تھے۔ خود محترمہ کونیکو یامامورا کے بقول اس لمحے، پہلی ہی نظر میں ان کے دل میں عشق جیسی کوئي چیز پیدا ہو گئي تھی لیکن ایک دوسری چیز نے بھی نوجوان کونیکو کے ذہن و دل کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا اور وہ مسلمانوں کی نماز تھی۔ جاپانی کلچر اور شینتو مذہب میں کسی شخص، اشخاص یا اشیاء کے سامنے سر تعظیم جھکانا رائج تھا لیکن جس چیز نے نوجوان کونیکو کے دل و دماغ کو شدت سے اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا وہ یہ تھا کہ مسلمان بابائي صاحب کے سامنے کوئي شخص نہیں تھا اور اس لحاظ سے وہ کسی شخص یا چیز کی تعظیم نہیں کر رہے تھے۔ محترمہ یامامورا نے بعد میں اس بات کو اس طرح بیان کیا: "مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں نے نماز کے فلسفے کے بارے میں پوچھا۔ میرے جواب میں انھوں نے اللہ سے بات کرنے اور خالق کائنات سے رابطے کے طریقے کے بارے میں بات کی اور کہا: "نماز، خالق سے مخلوق کا بات کرنا ہے۔" یہ چیز میرے لیے، نئي تھی کیونکہ شینتو مذہب، متعدد خداؤں کو مانتا ہے۔ ہم جس کسی کے لیے احترام کا اظہار کرنا چاہتے تھے، اس کے سامنے سر جھکا دیتے تھے۔ لیکن بابائي صاحب نے کہا: "خالق کائنات کے لیے رکوع اور سجدہ، اس نعمت پر شکر ہے جو خالق نے تمام امور میں ہمیں عطا کی ہے۔ تمام انسان مخلوق ہیں اور ہمیں ان لوگوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے جنھوں نے ہمیں کوئي نعمت عطا نہیں کی ہے اور خود مخلوق خدا ہیں۔" اسی بات اور اسلامی آئيڈیالوجی میں جاری اسی توحیدی روح نے نوجوان کونیکو کو روحانیت کا ایک نیا راستہ دکھا دیا اور وہ اس راستے پر چل پڑیں، یہ عمل، اسلامی اصطلاح میں 'ہجرت' کہلاتا ہے۔ کونیکو اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ، اس ملک سے، جس کے شینتو عبادت خانوں میں وہ بدھ کی پرستش کرتی تھیں، ایران آ گئيں اور یہ سیکھا کہ کس طرح نماز پڑھیں اور اللہ کے کلمات کو، اس کی کتاب قرآن مجید سے کس طرح سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ ان باتوں سے کونیکو کی آشنائي، اس وقت شروع ہوئي جب ایران میں ایک بڑی ہی اہم اور فیصلہ کن تحریک جاری تھی، شاہی سلطنت کے خلاف امام خمینی کا قیام اور وہ بھی ایسے عوام کی پشت پناہی سے جو غربت، امتیازی سلوک، قتل و غارت، بدعنوانی اور شاہی خاندان کے ظلم و ستم سے تنگ آ چکے تھے اور ایک اسلامی حکومت اور عدل، اخلاق اور انسانیت کی بنیاد پر کام کرنے والی ایک عوامی حکومت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کونیکو کی چھوٹی سی فیملی نے سنہ انیس سو ترسٹھ سے سنہ انیس سو اناسی تک امام خمینی کی عوامی تحریک کا بھرپور ساتھ  دیا، جدوجہد کی، نعرے لگائے اور عوام کے ساتھ کھڑی رہی یہاں تک کہ ان کے مطالبات نے، جو ایران کے اسلامی انقلاب سے عبارت تھے، عملی جامہ پہن لیا۔ وہ اپنے پرنشیب و فراز تجربات کو اپنے بچوں سے اس طرح بیان کیا کرتی تھیں: "میں نے اپنے شوہر اور بچوں کے سامنے ہیروشیما اور ناگاساکی کی ایٹمی بمباری کے بعد جاپان کے سیاسی حالات اور ایران کے حالات کا موازنہ پیش کیا اور کہا کہ جس طرح آج امریکا کے فوجی مشیر، شاہی فوج کے سر پر سوار  ہیں اور فوج کو ڈکٹیٹ کر رہے ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی اسی طرح ہمارے عوام کے سروں پر بھی ڈنڈے لے کر سوار تھے اور اپنے خیال میں ان پر راج کر رہے تھے۔" اس طرح کے تجربات اور یکجہتی نے آخرکار عوام کو انقلاب کی فتح کے جشن تک پہنچا دیا۔ کونیکو اس مسرت کے بارے میں کہتی ہیں: "میں ایرانی نہیں تھی، مشرق بعید سے، دمکتے سورج کی سرزمین سے آئي تھی لیکن میں نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں اپنے شکستہ عزت نفس کو اپنی مادری سرزمین سے ہزاروں کلو میٹر دور یہاں ایران میں دوبارہ حاصل کیا۔" اب ایران میں کونیکو یامامورا کی ایک ایرانی شناخت تھی، "سبا بابائي"۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہی سبا نے بھی امام خمینی کا دیدار کیا۔ ابھی انقلاب کی کامیابی کے جشن کی حلاوت، ایرانی عوام کے کام و دہن میں پوری طرح  اتر بھی نہ پائي تھی کہ ایک زیادہ بڑا دشمن سامنے آ گيا۔ صدام حسین کی قیادت میں عراق کی بعثی حکومت نے امریکا کی براہ راست حمایت سے ایران پر حملہ کر دیا۔ سبا ایک بار پھر اپنے سر پر موجود آسمان میں امریکی بمبار طیاروں کی پروازیں دیکھ رہی تھیں، البتہ اس بار ان کے سامنے پچھلا تجربہ موجود تھا اور وہ جانتی تھیں کہ ہتھیاڑ ڈالنا، کوئي چارہ نہیں ہے۔ اس لیے انھوں نے آستینیں چڑھا لیں اور غیور ایرانی خواتین کے ساتھ، محاذوں کے پیچھے کے میدان میں آ گئيں۔ انھوں نے پینٹنگز اور پوسٹر بنا کر، فوجیوں کی مدد کے لیے محلے کی مسجد میں امدادی کارروائياں انجام دے کر اور زخمیوں کے زخموں پر پٹی باندھنے کے لیے اپنے گھر کی سفید چادریں دے کر اس دفاع میں شرکت کی۔ انھوں نے حق و انصاف اور ملک و قوم کے دفاع کا شوق اپنے بیٹوں کے دل میں بٹھا دیا۔ سبا کے نوجوان بیٹے محمد بابائي، اپنے بھائي سلمان کی طرح محاذ جنگ پر جانا چاہتے تھے۔ محمد، ذہین اور جوشیلے تھے۔ ان کے بھائي نے گھر کی چھت پر ایک چھوٹی سی تجربہ گاہ بنا رکھی تھی اور وہیں وہ کیمسٹری پڑھا کرتے تھے۔ محمد کی غیر معمولی صلاحیت، ان کے درخشاں علمی مستقبل کی نوید دے رہی تھی لیکن عراق کی جارحیت نے ان سے یہ موقع چھین لیا۔ بلاشبہہ کسی بھی ماں کے لیے اپنے بچے کو محاذ جنگ پر بھیجنا بہت سخت کام ہے اور یقینی طور پر محترمہ بابائي کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا لیکن  شاید یہ راستہ طے کرنا محترمہ بابائي کے لیے غیر ممکن نہ تھا کیونکہ وہ پہلے بھی تعلقات کی قربانی دینے کے ایسے ہی راستے پر بخوبی چل چکیں تھیں۔ تو انھوں نے خود اپنے بیٹے کے بال چھوٹے کیے، اس کے لیے دعا کی اور اسے محاذ جنگ پر بھیج دیا تاکہ وہ ان بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنائے جو بعثیوں نے بزدلی کے ساتھ ایران کی سرحدوں کے اندر لگا دی تھیں۔ ایسے ہی ایک آپریشن کے دوران ایک گولی نے محمد بابائي کے سر میں سوراخ کر دیا اور ان کی پاکیزہ روح کو آسمان کی بلندیوں میں پہنچا دیا۔ پہلی جولائي 2022 کوشہید محمد بابائي کی والدہ مرحومہ سبا بابائي نے تہران کے ایک اسپتال میں سانس کی بیماری کے سبب دم توڑ دیا۔ ان کی قبر، بہشت زہرا قبرستان کے بلاک 45 میں ہے جو شہداء کے والدین سے مخصوص ہے۔ ایران کے مشہور مصنف حمید حسام نے ان سے ملاقات کی اور سات سال تک ان کی یادوں کو ان کی زبانی سنا۔ ان کے تجربات کو ان ہی کی طرح محسوس کیا تاکہ ان کی سوانح حیات کو  بالکل اسی طرح لکھ سکیں جیسا وہ چاہتی تھیں۔ کتاب 'سرزمین آفتاب کی مہاجر' سورۂ مہر پبلیکیشنز نے شائع کی ہے جو سبا بابائي کی زندگي کا نچوڑ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے اس کتاب پر تقریظ لکھی ہے۔
2022/08/29

رہبر انقلاب اسلامی کے والد آيۃ اللہ سید جواد خامنہ ای کی زاہدانہ زندگی پر ایک نظر

متقی و پرہیزگار عالم دین آيۃ اللہ الحاج سید جواد خامنہ ای صوبہ آذربائيجان کے ایک زاہد اور سادہ منش عالم دین تھے۔ نجف اشرف میں برسوں تعلیم و تدریس میں مشغول رہنے کے بعد وہ مشہد روانہ ہوئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اس مشہور زاہد عالم دین کے انتقال کے وقت مشہد میں کافی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے لیکن اکانوے سال کی عمر اور پچاس سال تک دینی تبلیغ، مذہبی سرگرمیوں اور پیش امامی کے بعد ان کا کل اثاثہ مشہد میں غریبوں کے ایک محلے میں ایک معمولی سا مکان اور 45 ہزار تومان تھا۔ سید جواد خامنہ ای، سنہ 1896 کے  موسم خزاں میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ کافی چھوٹے تھے کہ ان کے گھر والے تبریز لوٹ آئے۔ بچے ہی تھے کہ ان کے والد آيۃ اللہ سید حسین خامنہ ای کا انتقال ہو گيا۔ انھوں نے ابتدائي دینی تعلیم تبریز میں حاصل کی۔ سنہ 1919 کے آس پاس وہ مشہد روانہ ہوئے اور اس سفر نے ان کی زندگي کی راہ بدل دی۔ ان کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے قریبیوں سے کہا تھا کہ اگر زندگي یہ ہے جو مشہد میں گزر رہی ہے تو ہم نے اس سے پہلے کی اپنی زندگي فضول میں گزار دی ہے۔ امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اطہر سے قرب مکانی نے ان کی زندگي کو ایک نئی وادی میں داخل کر دیا۔ ان ہی دنوں میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گيا اور اس طرح بچپن میں باپ کے سائے سے محرومی کے بعد سید جواد کو نوجوانی میں ایک اور بڑا غم اٹھانا پڑا۔ والدہ کے انتقال کے بعد مشہد میں مستقل رہائش کے بارے میں سید جواد کا فیصلہ مزید مستحکم ہو گيا اور وہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم کے جوار میں رہنے لگے۔ مشہد میں تقریبا آٹھ سال تک رہنے کے بعد وہ اپنے تعلیمی مراحل مکمل کرنے کے لیے ایک بار پھر نجف اشرف اور اس شہر کے اعلی دینی تعلیمی مرکز میں پہنچ گئے۔ محمد حسین نائینی، آقا ضیاء عراقی اور سید ابو الحسن اصفہانی جیسے مجتہدین، ان استاتذہ میں سے تھے، جن کے درس میں سید جواد نے اپنی نجف رہائش کے دوران شرکت کی۔ آيۃ اللہ نائينی کو شیعہ علمائے دین میں ممتاز مقام حاصل تھا اور انھوں نے بہت زیادہ شاگردوں کی تربیت کی۔ الحاج سید جواد نے کئي سال آيۃ اللہ نائینی کے درس میں شرکت کے بعد روایت اور اجتہاد کی اجازت حاصل کی اور پانچ سال بعد دوبارہ ایران لوٹ آئے اور مشہد روانہ ہو گئے لیکن اسی وقت ان کی زوجہ کا انتقال ہو گيا اور اپنی عمر کے چوتھے عشرے میں انھیں اپنی زندگي کے تیسرے بڑے غم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے والدین کا انتقال ان کی زندگي کے پہلے دو بڑے غم تھے۔ اس کے بعد انھوں نے مشہد کے مشہور عالم دین آيۃ اللہ الحاج سید ہاشم نجف آبادی میردامادی کی بیٹی بانو خدیجہ میر دامادی کو اپنی زندگي کا شریک سفر بنایا۔ آيۃ اللہ سید جواد خامنہ ای اور بانو خدیجہ میر دامادی کے پانچ بچے ہوئے جن میں سے دوسرے آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ہیں۔ الحاج سید جواد اگرچہ نجف سے واپسی کے بعد ایک صاحب رائے عالم دین اور مجتہد بن چکے تھے لیکن انھوں نے دینی طلبہ کو پڑھانے کے لیے درس کی کلاس شروع کرنے کی خود سے کوئي رغبت ظاہر نہیں کی۔ ان کے بیٹے سید محمد حسن خامنہ ای نے برسوں بعد اپنے والد کے بارے میں کہا تھا کہ وہ اپنی زندگي میں کبھی بھی خودنمائي کے چکر میں نہیں پڑے۔ ان کا یہ جذبہ ان کی عمر کے آخری حصے تک قائم رہا، جب ان کے بیٹے رکن پارلیمنٹ تھے اور ان کا ایک بیٹا صدر مملکت تھا تب بھی انھوں نے خودنمائی نہیں کی۔ جس وقت ان کے بیٹے الحاج سید علی خامنہ ای، ملک کے صدر تھے، اس وقت بھی وہ اسی معمولی گھر میں رہتے تھے جو انھوں نے پچاس سال قبل لیا تھا، اسی طرز تعمیر اور اسی شکل و صورت میں۔ امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس میں جانے اور وہاں سے واپس آنے کے لیے الحاج رضا اپنی پرانی 'پیکان پک اپ' لے کر آيا کرتے اور وہ دونوں ساتھ میں زیارت کے لیے جاتے تھے۔ الحاج سید جواد کی کچھ خاص صفات تھیں۔ اگرچہ بظاہر ان کی کچھ خاص سیاسی سرگرمیاں نہیں تھیں لیکن ان کے اقدامات سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ انقلابیوں اور پہلوی حکومت کے درمیان حق و باطل کے معرکے میں غیر جانبدار نہیں تھے۔ انھوں نے ہمشیہ طاغوتی حکومت سے فاصلہ بنائے رکھا۔ اس سلسلے میں آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کچھ دلچسپ باتیں بیان کرتے ہیں: "اکثر شیعہ امامیہ علمائے دین کی طرح وہ بھی حکومت کو بغض اور نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے، خاص طور پر اس لیے انھوں نے پہلوی دور حکومت کو بھی دیکھا اور وہ وقت بھی گزارا تھا اور اس کی سختیاں بھی برداشت کی تھیں۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی پچھلی حکومتوں سے کوئی تعاون نہیں کیا اور انھوں نے کبھی بھی کسی بھی سرکاری نشست اور دعوت میں شرکت نہیں کی، یہاں تک کہ امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اطہر کے میوزیم کے پروگرام میں بھی، میوزیم کا خصوصی لاؤنج وہ جگہ تھی جہاں عید کے موقع پر مشہد کے علمائے دین کو مدعو کیا جاتا تھا اور بہت سے علماء اور سینیئر افراد وہاں جاتے تھے ... بس دو تین علماء تھے جنھوں نے کبھی بھی اس پروگرام میں شرکت نہیں کی، ان میں سے ایک میرے والد تھے۔" امام خمینی سے شناسائي البتہ آیۃ اللہ سید جواد خامنہ ای کے مواقف، صرف ان ہی باتوں تک محدود نہیں تھے۔ کافی پہلے سے ان کے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ سے قریبی تعلقات تھے۔ رضا خان کے دور حکومت کے اوائل میں امام خمینی کے مشہد کے ایک سفر میں دونوں کی جان پہچان ہوئي تھی۔ ان کے ایک دوست نے انھیں آقا سید روح اللہ سے ملوایا تھا اور پھر انھوں نے انھیں اپنے گھر مدعو کیا۔ دونوں کی شناسائي کے برسوں بعد جب بھی آقا روح اللہ نوجوان سید علی خامنہ ای کو دیکھتے تو ان سے ان کے والد سید جواد کا حال چال ضرور پوچھتے۔ الحاج سید جواد بھی جو بعد میں قم آیا جایا کرتے تھے، امام خمینی سے ضرور ملاقات کرتے تھے۔ سنہ انیس سو چونسٹھ میں جب پہلوی حکومت نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کو ملک بدر کر دیا اور وہ ترکی چلے گئے تو سید جواد، مشہد کے ان علماء میں سے ایک تھے جنھوں نے اس ملک بدری پر احتجاج کرتے ہوئے اس شہر کی مسجد صدیقی میں نماز جماعت پڑھانا بند کر دیا۔ آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای مشہد میں انقلابی جدوجہد کے اوج کے برسوں کے بارے میں اپنی یادیں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "میرے والد ان اجتماعات میں شرکت کرتے تھے جن میں علمائے دین حصہ لیتے تھے۔ کبھی کبھی وہ مجھ سے، جو مشہد میں ان اجتماعات کا منتظم تھا، کہتے تھے کہ تم میری جگہ وہاں ووٹ دینا اور کہنا کہ میں ہوں اور متفق ہوں۔" آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اپنے دور صدارت میں اپنے والدین کے زاہدانہ جذبے کے بارے میں کہتے ہیں: "میں صدر تھا اور اس ملک کے وسائل، اس حد تک کہ جتنے صدر کے اختیار میں ہوتے ہیں، میرے اختیار میں تھے، لیکن ان دونوں بزرگوں کو ذرہ برابر بھی توقع نہیں تھی کہ اس گھر کو بہت اچھا بنا دیں یا اس کی شکل و صورت ٹھیک کر دیں۔ میرے والد نے سنہ انیس سو چھیاسی تک اور میری والدہ نے میرے عہدۂ صدارت کے آخر تک اسی گھر میں زندگی گزاری لیکن اس گھر کو بہتر بنانے کے لیے معمولی سے تبدیلی بھی نہیں آئي۔" آيۃ اللہ سید جواد خامنہ نے ایمان، زہد اور تقوی کے ساتھ اکانوے سال کی پاکیزہ زندگي گزارنے کے بعد پانچ جولائي سنہ انیس سو چھیاسی کو دار فانی کو الوداع کہا۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک پیغام میں انھیں ایک ایسی شخصیت قرار دیا جس نے پوری ذمہ داری، تقوی اور علم کے ساتھ گزار دی۔ الحاج سید جواد کا جنازہ 6 جولائي سنہ 1986 کو مشہد کے عوام کی کثیر تعداد کی شرکت سے بڑی شان سے اٹھا اور مشہد کے امام جمعہ آيۃ اللہ شیرازی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائي۔ پھر انھیں فرزند رسول امام علی رضا علیہ السلام کے روضۂ اطہر میں دارالفیض کے قریب سپرد خاک کر دیا گيا۔
2022/07/05

احمد متوسلیان، وہ عظیم کمانڈر جس کی واپسی کا آج بھی انتظار ہے

احمد متوسلیان، ایران پر صدام حکومت کی جانب سے مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں محمد رسول اللہ ستائيسویں ڈویژن کے کمانڈر تھے جو 5 جولائي سنہ 1982 کو لبنان میں طرابلس سے بیرت کے راستے میں صیہونی حکومت کی سازش کے نتیجے میں لبنان کی فلانجسٹ پارٹی کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا کر لئے گئے تھے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد احمد متوسلیان نے 'محلہ کمیٹی' کی تشکیل کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی۔ سپاہ پاسداران (آئي آر جی سی) کی تشکیل کے بعد وہ اس فورس میں شامل ہو گئے اور انقلاب مخالف اور علیحدگي پسند گروہوں کا مقابلہ کرنے لگے۔ سنہ 1981 میں حج سے واپسی کے بعد آئي آر جی سی کی جنرل کمان کی جانب سے انھیں مریوان اور پاوہ کے افراد کو بھرتی کر کے محمد رسول اللہ بريگيڈ بنانے اور اس کی کمان سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی گئي۔ یہ بریگیڈ بعد میں ڈویژن میں تبدیل ہو گئي۔ لبنان کا سفر احمد متوسلیان سنہ1982 کے اوائل میں ایک مشن کے تحت ایک اعلی سفارتی وفد کے ہمراہ، جس میں سیاسی و عسکری عہدیداران شامل تھے، شام روانہ ہوئے تاکہ لبنان کے مظلوم اور نہتے عوام کی مدد کی راہوں کا جائزہ لے سکیں۔ اغوا پانچ 4 سنہ 1982 کو احمد متوسلیان اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ، ایران کے سفارتخانے میں اپنے دفتر کی طرف جا رہے تھے کہ طرابلس سے بیروت کے راستے میں لبنان کی فلانجسٹ پارٹی کے مسلح افراد نے انھیں پکڑ لیا۔ اس کے بعد سے اب تک ان کے انجام کے بارے میں کوئي مصدقہ خبر نہیں مل سکی ہے۔   آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای: "ہم جناب الحاج احمد متوسلیان کے آنے کے منتظر ہیں، ان شاء اللہ وہ آئيں گے، انھیں شہید نہ کہیے، ہمیں ان کی شہادت کی خبر تو ملی نہیں ہے۔ ان شاء اللہ، خداوند عالم - آپ کے بیٹے کو - وہ جہاں کہیں بھی ہے، جس طرح بھی ہے، اپنے لطف و کرم سے نوازے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ، خداوند عالم اس مومن اور صالح جوان کو واپس لوٹائے۔ سپاہ پاسداران کے شہیدوں کے بعض اہل خانہ سے ملاقات میں تقریر، (15/12/1996)
2022/07/05

یوکرین کا بحران اور مغرب کی کھلی نسل پرستی!

آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے رواں ہجری شمسی سال کے پہلے دن (اکیس مارچ 2022) کو اپنی تقریر کے ایک حصے میں یوکرین کی جنگ میں نسل پرستی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "یوکرین کے معاملے میں، مغرب کی نسل پرستی کو سبھی نے دیکھا۔ ان پناہ گزینوں کی ٹرین کو جو جنگ زدہ ملک اور جنگي مشکلات سے بچ کر بھاگ رہے ہیں، روک دیتے ہیں تاکہ سیاہ فام کو، سفید فام سے الگ کر دیں اور سیاہ فام کو ٹرین سے اتار دیں۔ اپنے ذرائع ابلاغ میں کھلے عام اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہیں کہ اس دفعہ جنگ مشرق وسطی میں نہیں ہے، یورپ میں ہے۔ یعنی اگر جنگ، خونریزی اور برادر کشی مشرق وسطی میں ہو اور یہاں ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر یورپ میں ہو تو غلط ہے۔ اتنی واضح اور آشکارا نسل پرستی! کھل کر اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں، آشکارا اس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایران کے سابق سفارتکار محسن پاک آئين نے KHAMENEI.IR کے لیے لکھے گئے ایک مقالے میں، یوکرین کے حالیہ واقعات میں یورپ والوں کی کھلی نسل پرستی کا جائزہ لیا ہے۔
2022/04/23

استقامتی محاذ؛ امریکا کی شرمناک شکست کا ذمہ دار

ایرانی قوم کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے میں امریکا کی شکست، نئے ہجری شمسی سال کے آغاز کی مناسبت سے قوم کے نام رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کے اہم موضوعات میں سے ایک تھا۔ انھوں نے فرمایا: "سنہ 1400 ہجری شمسی کے سب سے اہم شیریں واقعات میں سے ایک یہ تھا کہ امریکیوں نے اس بات کا اعتراف کیا، اپنی زبان سے یہ مانا کہ ایران کے خلاف شدید ترین دباؤ میں، ذلت آمیز شکست ہوئي ہے۔ "ذلت آمیز" لفظ خود امریکیوں نے استعمال کیا ہے۔ یہ بڑا اہم واقعہ ہے۔ ایرانی قوم کو فتح حاصل ہوئي۔" انھوں اسی طرح دور اور قریب کے علاقوں میں امریکیوں کی دیگر شکستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان باتوں سے ایرانی قوم کے صحیح راستے کا پتہ چلتا ہے۔ عالمی تعلقات میں ڈاکٹریٹ حاصل کرنے والے جناب مہدی خان علی زادہ نے  KHAMENEI.IR کے لیے لکھے گئے ایک مقالے میں ایران کے مقابلے میں امریکا کی شرمناک شکست کے اسباب کا جائزہ لیا ہے۔
2022/04/19

پروفیسر مجید شہریاری دینی بصیرت سے مالامال ایٹمی سائنسداں

گمنام لیکن مشہور اسٹکس نیٹ! ایک  خطرناک  اور مہلک کمپیوٹر  وائرس ہے جو سن ۲۰۱۰ کے موسم گرما میں میڈیا کی سرخیوں میں آیا۔ ایسا وائرس جس کا بنیادی مقصد ہی صنعتی  نظام میں  تخریب کاری اور جاسوسی کرنا تھا ،وہ سسٹم  اور نظام  جو ایرانی جوہری  مراکز میں  نصب ہو چکے تھے، اور ان مراکز کا کنٹرول اُن کے ہاتھوں میں تھا،  عین اسی زمانہ میں کہ جب ہر کوئی  اسٹکس نیٹ‏ کی تخریب کاریوں کی خبریں لمحہ بہ لمحہ  سن رہا تھا۔
2021/11/07

امریکی جاسوسی کے اڈے پر قبضہ، دنیا میں سامراج کی ہیبت کے زوال کا آغاز

بیسویں صدی، امریکی خوابوں کی صدی ہے، وہ امریکا جو ہمیشہ دعوی کرتا تھا کہ دنیا، اس کے اشاروں پر چلتی ہے۔ سن 1991 میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھر جانے اور دنیا کے یک قطبی ہو جانے کے بعد بش سینیر نے اسی دعوے کے تسلسل میں پچھلے عالمی نظام کے خاتمے کی بات کہی جبکہ سیاسی مفکرین اور تجزیہ نگاروں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دنیا پر امریکا کے بلا شرکت غیرے راج کرنے کے عہد کی شروعات اور امریکی صدی کے آغاز کی نوید دی اور کہا کہ اب آئندہ امریکی طرز زندگی، اقدار اور ثقافت ساری دنیا میں رائج ہوگی۔ 
2021/11/04

اتحاد بین المسلمین کے موضوع پر رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے مواقف اور نظریات کا تحقیقی جائزہ

اسلامی اتحااد کا موضوع ان موضوعات میں سے ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای دام ظلہ جس کی طرف سے ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں ، یہ موضوع ان کے پیغامات میں بھی اور اقدامات میں بھی ہر جگہ قابل دید و فہم ہے، یہاں تک کہ بہت ہی کم ایسا پیش آیا ہے کہ آپ نے اسلامی معاشرے  سے خطاب فرمایا ہو اور اسلامی اتحاد کے موضوع پر تاکید نہ کی ہو، پیش نظر تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ ’’اسلامی اتحاد‘‘ کے موضوع پر امام خامنہ ای کے بیانات کی گہری  تحقیق کے ذریعہ مذکورہ موضوع کے گرد و پیش، آپ کے مواقف اور نظریات کو بیان کیا جائے۔
2021/10/30

ایران کی شمال مغربی سرحدوں پر آذربائیجان اور آرمینیا میں کیا ہیں نئے حالات، ایران نے کیوں دیا طاقت اور دانشمندی کا پیغام

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے تین اکتوبر 2021 کو امام حسین کیڈٹ کالج میں ایرانی مسلح فورسز کی اکادمیوں کے ‏کیڈٹس کے گریجویشن کی مشترکہ تقریب سے ویڈیو ‏لنک کے ذریعے خطاب میں ایران کے شمال مغربی ہمسایہ ممالک میں جاری مسائل کے سلسلے میں کچھ اہم نکات بیان کیے۔ KHAMENEI.IR ویب سائٹ نے اسی مناسبت سے ایران کے سابق سفارتکار جناب محسن پاک آئين کے تحریر کردہ ایک مقالے کے ذریعے ملک کی شمال مغربی سرحدوں پر جاری مسائل کا جائزہ لیا ہے۔
2021/10/10

بحران یمن  اور اقوام متحدہ کی المناک غلطیاں

 رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 11 مارچ 2021 کو یوم بعثت پیغمبر اکرم کے موقع پر ٹیلی ویژن سے اپنے خطاب میں، مظلوم یمنی عوام پر سعودی عرب کی بمباری اور ان کے اقتصادی محاصرے میں امریکی حکومت کی مشارکت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔
2021/04/28

ایک دوسرے کو حق کی سفارش کی روایت کو کمزور کرنے کے لئے استعمار کی بعض پالیسیاں

 رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یوم بعثت رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع  پر نیشنل ٹیلیویژن پر اپنے خطاب کے ایک حصے میں اقوام کے ارادوں کو کمزور کرنے، ان کے اندر مایوسی پیدا کرنے اور انہیں پسماندہ رکھنے کے لئے استعماری طاقتوں کی جنگ نرم (سافٹ وار) کی اسٹریٹیجی اور حکمت عملی کا ذکر فرمایا۔  پیش نظر مضمون میں استعماری اسٹریٹیجی کے بعض پہلووں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
2021/04/26

 ریاستہائے متفرقہ امریکا: ریاستہائے متحدہ کا سماجی پوسٹ مارٹم

                                                                                                                  حمید رضا غلام زادہ نطنزی امریکی ماہر سیاسیات فرانسس فوکویاما، جریدے فارن افیئرز کے 2019 کے دوسرے  شمارے میں، اپنی کتاب "تشخص" کی وضاحت میں لکھتے ہیں"لبرل ڈیموکریسی، بغیر ملی تشخص کے، جو شہریوں کے اشتراکات پر مشتمل ہوتا ہے، وجود میں نہیں آ سکتی۔" (1)  نسل اور مشترکہ تشخص کی بنیادوں کے علاوہ، مشترکہ تاریخ بھی ہر قوم کی ریڑھ کی ہڈی اور قومیت کی تشکیل کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن جیسا کہ کتاب "تاریخ ریاستہائے متحدہ کے حقائق" کے مصنف ڈاکٹر جلیل پور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ "جب 1776 میں ریاستہائے متحدہ نے اپنی خود مختاری کا اعلان کیا اور ایک حکومت میں تبدیل ہو گئی تو کیا کسی چیز نے اس کو ایک قوم میں تبدیل کر دیا؟" ان کا ماننا ہے کہ خودمختاری کے بعد طویل مدتیں گزر گئيں لیکن اکثر امریکی، ریاستہائے متحدہ کو ایک نیشن نہیں بلکہ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، مختلف ریاستوں کا ایک کنفڈریشن ہی سمجھتے رہے۔"(2) ریاستہائے متحدہ امریکا، ان مہاجرین سے تشکیل پائی ہے جو مختلف یورپی نسلوں اور قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں (اور بعد میں ایشیائی) بھی نئے براعظم میں آئے اور ان کی آمد ہی اس سرزمین کی تاریخ کا سر آغاز ہے جو مہاجرین کی نظر میں "فتح بہشت" (3) اور مقامی لوگوں کی نظر میں خونریزی، نسل کشی اور قتل عام (4) تھا۔ بعد کے ادوار میں افریقیوں کی آمد تاریخی نقطہ آغاز بنی جو اس سرزمین کے باشندوں کو غلاموں اور بردہ داروں میں تقسیم کرتا تھا۔ انیسویں صدی امریکی تاریخ میں اختلاف و تفرقے کے اوج کا دور ہے۔ اس دور میں  مقامی باشندوں کی زمینوں پر قبضے، مغرب کی جانب  ان کے جبری کوچ (5) اور سیاہ فاموں نیز غلاموں کی مشقت کا دور ہے جس کی عکاسی "انکل ٹام کی جھونپڑی" نامی ناول میں کی گئی ہے اور "ہریٹ ٹیب مین" (6) ان کو نجات دلانے والا ہیرو بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سفید فام بھی تاریخ کی دو متضاد سمتوں سے ایک دوسرے کے مقابلے پر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک طرف جنرل رابرٹ لی اور دوسری طرف جنرل اولیس گرانٹ اس جنگ کے کمانڈر تھے۔ امریکی سیاستداں جان کلہن 1848 میں امریکی حکومت کو سفید فاموں کی حکومت کے نام سے متعارف کراتا ہے اور دس سال بعد ایک اور سیاستداں اسٹیفن ڈگلس کہتا ہے "اس  ملک کی بنیاد ہمارے اجداد کے ذریعے  سفید فام نسل کی بنیاد پر رکھی گئي اور سفید فام لوگوں کے ذریعے اور سفید فام لوگوں نیز ان کی نسلوں کے مفادات کے مطابق اسے تشکیل دیا گیا۔"(7)  لیکن ابراہم لنکن کی نظر میں، اس جنگ میں کامیابی کی بنیاد، اس نقطہ نگاہ کی مخالفت، بردہ داری کے خاتمے اور غلاموں کی آزادی کا بیانیہ تھا۔ تاہم نہ یہ بیانیہ، نہ اس سے متعلق آئین کی ترمیم اور نہ ہی مجسمہ آزادی کا ہدیہ، ان میں سے کسی نے بھی اس صدی میں ریاستہائے متحدہ کے غلاموں اور سیاہ فاموں کو آزادی نہیں دلائي۔ درحقیقت یہ اقدام آنے والی صدی میں امریکی معاشرے میں اختلاف و تفرقہ کی جڑوں کے زیادہ گہرائی تک پھیلنے پر منتج ہوا۔ بیسویں صدی مونرو ڈاکٹرائن کے تدریجی طور پر پھیکے پڑنے اور بین الاقوامی امور میں کردار ادا کرنے پر امریکا کی زیادہ توجہ کی  صدی تھی جو دوسری عالمی جنگ میں اس کی مداخلت اور واشنگٹن کی فوجی، سیاسی اور اقتصادی طاقت کے استحکام پر منتج ہوئی۔ اس صدی کے وسط ميں ریاستہائے متحدہ کی ترقی اتنی نمایاں تھی کہ "امریکی صدی" (8) کی اصطلاح زبانوں پر رائج ہو گئی اور سوویت یونین سے سرد جنگ میں امریکی پیشرفت و ترقی میں تیزی آ گئي۔ ان تغیرات کے ساتھ ہی امریکی معاشرہ بھی آگے بڑھا اور جو سلوگن اور نعرے اس نے سن رکھے تھے انہیں عمل میں لانے کی کوشش کی۔ شہری حقوق کی تحریک نے دوہرے معیاروں کی تاریخ کا ورق پلٹ دیا، اس بار نسل پرستی تدریجی طور پر حاشیئے پر چلی گئی اور سیاہ فاموں کو حقوق مل گئے۔ لیکن ان تغیرات کی تاریخ کی روایتیں بھی باہم متصادم اور متضاد تھیں اور مشترکہ اہداف کی تکمیل تو نہ ہوئی تاہم اس صدی کے اختتامی عشرے میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھر جانا امریکی استثنا پسندی (9) کے مزاج کو اتنا بھا گیا کہ فرانسس فوکویاما نے سرد جنگ کے بعد امریکی سپرپاور اور یونی پولر سسٹم کو "اختتام تاریخ" کا نام دے دیا۔ اکیسویں صدی کا آغاز ریاستہائے متحدہ کے مختلف پہلووں میں حقیقت بینی کا سر آغاز تھا۔ شہری آزادی اور  نسلی نیز جنسی  مساوات کی کیفیت یہ تھی کہ باراک اوباما نے مارٹن لوتھر کنگ کی تاریخی تقریر"امریکی خواب" کی پچاسویں سالگرہ پر ان کے پورا نہ ہونے کا اعتراف کیا۔"(10)  'میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں' (11)  اور "بلیک لائیو میٹر"(12) (سیاہ فاموں کی زندگی بھی اہمیت رکھتی ہے) کی فریادوں سے اٹھنے والی تحریکیں، ایک غیر سفید فام صدر کو اقتدار ملنے کے خواب کی تعبیر تھیں۔ "وال اسٹریٹ جرنل پر قبضہ کرو" تحریک (13) نے سرمایہ  داری کی حکمرانی کے وعدوں نیز سرمایہ داروں کی بینکاری اور عوام کی گھرداری کے تصادم سے جنم لیا۔ مائیکل لینڈ  کتاب "طبقاتی جنگ" میں لکھتا ہے امریکی مزدوروں کا طبقہ  "چھوٹے سے امیر طبقے"  اور خواص کی مخالفت  ميں اٹھ کھڑا ہوا، (14) جو  معاشرے کے  دس سے پندرہ فیصد پر مشتمل ہیں لیکن حکومت اور علمی و سائنسی نیز اقتصادی حلقوں پر بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ معاشیات کا نوبل انعام حاصل کرنے والے اینگس ڈیٹن اور آن کیس نے اپنی نئی کتاب، "ناامیدی کی موت"(15) میں یہ دکھایا ہے کہ سرمایہ داری اور کیپٹلزم کے فلسفے نے کس طرح امریکی عوام کی زندگی کھوکھلی کر دی ہے اور انھوں نے زندگی کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے سکون بخش دواؤں، شراب اور منشیات کا رخ کیا ہے اور  یہی مایوسانہ روش خاص طور پر متوسط سفید فام طبقے میں خودکشی اور منشیات کے زیادہ استعمال سے اموات میں اضافے کا سبب بنی ہے۔( 16 ) جنسی انقلاب اور سماجی آزادیاں ریاستہائے متحدہ میں شادی بیاہ میں کمی، طلاق میں اضافے اور سب سے بڑھ کے شرح پیدائش میں کمی کا سبب بنی ہیں۔  کتاب"پستی  زدہ معاشرہ" ( 17) کے مصنف  اور نیویارک ٹائمز کے کالم نویس راس ڈی ٹاٹ مغربی دنیا میں شرح پیدائش میں کمی کو امریکی طاقت کے زوال کا ایک عامل بتاتے ہیں۔ امریکی طاقت کے زوال کے دیگر عوامل میں وہ، سیاسی کھنچاؤ، نئے افکار اور تشخص خلق کرنے میں ثقافتی صنعت کی ناتوانی، ٹیکنالوجی کی پیشرفت اور نئی ایجادات کے رک جانے کا ذکر کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں، سنیما اور سیاست میں "ستاروں کی جنگ" کی بات سنی تھی اور دو ہزار ایک میں خلائی سفر کا خواب دیکھا تھا، اب فلنٹ، نیویارک، چارلسٹن اور ملواکی  وغیرہ میں پینے کے پانی کے بحران سے دوچـار ہیں۔ پائپ لائنوں کے علاوہ سڑکیں، پل ریلویز اور سبھی بنیادی ڈھانچے بہت زیادہ خستہ حال ہو گئے ہیں۔ کورونا وبا کے بحران میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی وخستہ حالی زیادہ آشکار ہوئي ہے۔ اگرچہ امریکا کے سیاسی ماحول میں کورونا کی ساری ذمہ داری ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے عجیب و غریب موقف پر ڈالی جا رہی ہے لیکن  اسپتالوں میں بیڈ کی کمی، میڈیکل اسٹاف کی سیکورٹی کے وسائل اور وینٹیلیٹر وغیرہ کا  فقدان امریکا کی سبھی ریاستوں میں ہے چاہے وہاں ریپبلکن پارٹی کی حکومت ہو یا ڈیموکریٹک پارٹی کی۔ اسی کے ساتھ امریکا نے دوسرے ملکوں کے طبی اور علاج معالجے کے وسائل پر جو ڈاکے ڈالے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ملک  اپنے شہریوں کی بنیادی ترین ضرورتیں بھی پوری کرنے میں ناتواں ہے۔ جارج پوکر نے ایٹلانٹک جریدے میں اپنے ایک کالم میں کورونا کے تعلق سے ریاستہائے متحدہ کی حالت کو "ناکام حاکمیت" (18) کا نام دیا ہے اور ییلز یونیورسٹی  میں قانون کی  پروفیسر اور "سیاسی قبائل" نامی کتاب کی مصنف ڈاکٹر ایمی چوا فارین افیئرز (19) ميں شائع ہونے والے اپنے ایک مقالے میں  لکھتی ہیں کہ "کورونا کی پینڈمی نے ظاہر کر دیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ منظم شکست کے قریب ہو رہی ہے۔ بحران کے اس دور میں پہلے سے زیادہ  دکھائي دے رہا ہے کہ یہ ملک تشدد آمیز سیاسی تنبیہ کے راستے پر گامزن ہے۔"  نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر بھی وہ سپر طاقت جو امریکی صدی میں جنگوں کا انجام رقم کرنے کی دعویدار تھی اب "نہ ختم ہونے والی جنگوں" سے دوچار ہے اور اب بھی اربوں ڈالر ان جنگوں پر خرچ کر رہی ہے۔ وہ ملک جس کی مداخلت کے بغیر بلقان کا تناز‏عہ ختم نہ ہوا، اس کو عالمی سیاست کے اسٹریٹیجک ترین مسائل کے عنوان سے شام کی جنگ میں سیاسی اور فوجی کردار ادا کرنے کا کوئی راستہ نہ مل سکا۔ عالمی معیشت کے میدان میں بھی امریکا اپنی پوزیشن بہت کمزور پاتا ہے اور اس کو سخت ترین رقیب چین کا سامنا ہے۔  ٹرمپ کے دور میں کثیر فریقی رجحان سے نکلنے اور بین الاقوامی تعاون میں کمی نے بھی امریکا کے اسٹریٹیجک کردار کو پہلے سے بہت زیادہ محدود کر دیا یہاں تک کہ میکرون نے واشنگٹن کی عالمی اسٹریٹیجک طاقت کے بارے میں شک کا اظہار کیا (20)اور میونخ سیکورٹی کانفرنس نے اپنی آخری نشست میں"بے مغربی"  یا "مغربیت کے خاتمے"      (westlessness 21)    کی اصطلاح کے زیر عنوان بحث کرائي جس میں مغربی معیاروں  اور اصولوں کی اہمیت ختم ہونے اور ان اصولوں سے امریکا اور یورپ کے عدول کرنے اور نتیجے میں دیگر ملکوں میں ان کے جیسا بننے کا رجحان ختم ہونے کی باتیں کی گئيں۔ قومی تشخص کے مخدوش ہونے اور گزشتہ عشروں کے نعروں اور سلوگن سے سماج کے حقائق کے آشکارا تضاد کے نتیجے میں امریکا تشخص کے بحران سے دوچار ہو گيا۔ جو لوگ موجودہ حالات سے تضاد رکھتے ہیں، وہ مجبورا ماضی میں اپنا تشخص تلاش کرتے ہیں اور امریکا کا ماضی مشترکہ تاریخ سے عاری اور تضاد نیز تصادم سے مملو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ازرا کلائن  صرف  دو بڑے جماعتی تشخص کو ہی امریکی سماج میں طاقت ور تشخص قرار دیتی ہیں جس نے دوسری پہچانوں اور تشخص کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ "آج امریکیوں کا سیاسی تشخص  سب سے بڑی پہچان میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹ یا ریپبلکن تشخص نے تشخص کی دیگر بنیادوں منجملہ نسل، دین، جغرافیا وغیرہ کو نگل لیا ہے۔ "پارٹی سپر آئیڈینٹیٹی معاشرے میں بلاک بندی کا محرک اور ملک میں شدید ترین سماجی خلیج کی بنیاد ہے جو نسل پرستی کی خلیج سے بھی زیادہ گہری ہے۔ یہ جماعتی خلیج مہلک خطرہ ہے۔"(22) اگرچہ بین الاقوامی میدان میں عام طور پر عالمی سطح پر امریکا کے اقتصادی فوجی اور سیاسی کردار نیز اس کے نشیب و فراز کو ریاستہائے متحدہ کی طاقت کے زوال کے عنوان سے دیکھا جاتا ہے لیکن امریکی معاشرے کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، داخلی سطح پر سماجی تہوں کے اندر کے واقعات، جارج فلائڈ کے قتل کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں سے لیکر انتخابات کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور اس کے بعد 6 جنوری کو امریکی کانگریس پر حملے تک کے سبھی واقعات، اس محاذ بندی اور سماجی خلیج کا نتیجہ ہیں جس کی جڑیں اس ملک میں صدیوں سے پھیلی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریچرڈ ہیس ڈیموکریسی کی علامت کیپٹل ہل پر حملے کو ما بعد امریکا دور  کا سرآغاز قرار دیتے ہیں (23) اور اسی بنا پر فرانسس فوکویاما خبردار کرتے ہیں کہ "امریکی چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم سے دوچار ہیں جو عقلی پہچان اور تشخص پر استوار ہے اور ایک اجتماعی یونٹ کے عنوان سے معاشرے کے ذریعے اجتماعی طرزعمل اور سوچنے کے امکان کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ "(24) https://www.foreignaffairs.com/articles/2019-02-01/stacey-abrams-response-to-francis-fukuyama-identity-politics-article#author-info https://www.foreignaffairs.com/articles/united-states/2019-02-05/new-americanism-nationalism-jill-lepore Conquest of Paradise “A People's History of the United States”, Howard Zinn, Harper Perennial Modern Classics, 2015. “Unworthy Republic: The Dispossession of Native Americans and the Road to Indian Territory”, Claudio Saunt, W. W. Norton & Company, 2020. Harriet Tubman https://www.foreignaffairs.com/articles/united-states/2019-02-05/new-americanism-nationalism-jill-lepore (American Century) کی اصطلاح ہنری لوئیس نے  سنہ 1941 میں ٹائم میگزین میں عالمی سیاست میں امریکہ کے کردار کی تشریح کے لئے استعمال کی تھی۔ بہت تیزی سے یہ اصطلاح امریکی سیاست اور پالیسی ساز اداروں میں عام ہو گئی۔ American Exceptionalism https://edition.cnn.com/2013/08/28/politics/obama-king-speech-transcript/index.html I can’t breathe Black Lives Matter Occupy Wall Street "The New Class War: Saving Democracy from the Managerial Elite", Michael Lind, Portfolio / Penguin Publishing, 2020. Deaths of Despair "Deaths of Despair and Future of Capitalism", Angus Deaton & Anne Case, Princeton University Press, 2020. "Decadent Society: How We Became the Victims of Our Own Success", Ross Douthat, Simon & Schuster, 2020. https://www.theatlantic.com/magazine/archive/2020/06/underlying-conditions/610261/ https://www.foreignaffairs.com/reviews/review-essay/2020-06-01/divided-we-fall https://apnews.com/article/1cf7908da5bfc29d272e6dad34de0305 https://securityconference.org/en/publications/munich-security-report-2020/ "Why We’re Polarized", Ezra Klein, Simon & Schuster, 2020. https://www.foreignaffairs.com/articles/united-states/2021-01-11/present-destruction " Identity: The Demand for Dignity and the Politics of Resentment", Francis Fukuyama, Farrar, Straus and Giroux, 2018.                 
2021/03/04

گوناگوں قومیتوں کو ایک لڑی میں پرو دینا اسلامی انقلاب کا ہنر

آج کی دنیا میں جن موضوعات پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے ان میں سے ایک قومیت اور قومی تنوع ہے، خاص طور پر یہ کہ ان قومیتوں کے ساتھ حکومتوں اور قوموں کا رویہ کیسا ہے جو سیاسی و سماجی لحاظ سے اکثریت میں نہیں ہیں اور یہ بات انسانی حقوق کے لحاظ سے ترقی یافتہ ہونے کی ایک کسوٹی میں بدل چکی ہے۔ زیر نظر مقالے میں اسلامی جمہوریہ ایران میں اس مسئلے کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئي ہے۔
2021/03/02

ایران کی فوجی طاقت  کا ارتقائی سفر: خاردار تار تک نہ ہونے سے لے کر عین الاسد پر میزائلوں کی بارش تک

قاجاری، پہلوی اور اسلامی جمہوریہ حکومتوں میں سے کون سی حکومت ایران کی فوجی طاقت تک رسائی اور ملک کی ارضی سالمیت کی حفاظت میں کامیاب رہی ہے؟
2021/02/10

اسلامی انقلاب اور خواتین کے سیاسی حقوق

هو المحبوب ویمنس سفریج موومنٹ (women's suffrage movement) ، امریکہ میں حقوق نسواں کی علمبردار ان خواتین کو کہا جاتا ہے جو انیسویں صدی میں ، خواتین کے سیاسی حقوق کے لئے متحد ہوئيں اور امریکہ میں خواتین کو حق رائے دہی دئے جانے کا مطالبہ کیا۔ ووٹ کا حق ان کے لئے اس لئے بھی بہت اہم تھا کیونکہ یہ حق ہر قسم کے سیاسی حق اور سیاسی رول کا مقدمہ ہے۔
2021/02/05

جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی چارہ جوئي، مختلف پہلو اور راستے!

تین جنوری  2020  کو امریکہ نے بغداد ہوائي اڈے کے قریب ایک ڈرون حملے میں، ایران کے بے حد اہم اور اعلی فوجی عہدیدار یعنی جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے کچھ ساتھیوں کو شہید کر دیا۔
2021/02/01

کووڈ ویکسین کسی بھی قابل اعتماد جگہ سے خریدنے میں کوئی حرج نہیں لیکن امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے ویکسین خریدنا منع ہے، کیوں؟

رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مغرب کی پٹھو شاہی حکومت کے خلاف قم کے عوام کے 9 جنوری سنہ 1978 کے تاریخی قیام کی سالگرہ کی مناسبت سے اپنی حالیہ تقریر میں واضح الفاظ میں کہا کہ ملک میں امریکی اور برطانوی ویکسین کی درآمد ممنوع ہے۔ انھوں نے اسی طرح فرانس کے نام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ فرانس کے سلسلے میں بھی میری اچھی رائے نہیں ہے۔
2021/01/17

فرانس کی میڈیکل خدمات پر ایران کو اعتماد کیوں نہیں ہے؟ آلودہ خون کا ماجرا کیا ہے؟

قائد انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے قم کے عوام کے 9 جنوری سنہ 1978 کے تاریخی قیام کی سالگرہ کی مناسبت سے ٹیلی ویژن پر کی گئي اپنی تقریر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے کورونا وائرس کی ویکسین مہیا کرنے کی ضرورت کے مسئلے پر گفتگو کی اور امریکی اور برطانوی ویکسین کی ملک میں درآمد کو ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے حقیقت میں ان پر اعتماد نہیں ہے، کبھی کبھی یہ لوگ اپنی ویکسین کا تجربہ دوسری اقوام پر کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ دیکھیں کہ وہ اثر کرتی ہے یا نہیں۔
2021/01/12
  • » ابتدائی
  • › گزشتہ
  • 1
  • 2

آخری فتح جو زیادہ دور نہیں، فلسطینی عوام اور فلسطین کی ہوگی۔

2023/11/03
خطاب
  • تقاریر
  • فرمان
  • خطوط و پیغامات
ملٹی میڈیا
  • ویڈیو
  • تصاویر
  • پوسٹر
  • موشن گراف
سوانح زندگی
  • سوانح زندگی
  • ماضی کی یاد
فورم
  • فیچرز
  • مقالات
  • انٹرویو
نگارش
  • کتب
  • مقالات
مزيد
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • امام خمینی
  • استفتائات و جوابات
All Content by Khamenei.ir is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.