اگرچہ ان کی حکومت بے حد ظالم تھی اور بہت سختی کرتی تھی لیکن اس کے باوجود ائمہ علیہم السلام اس طرح کامیاب رہے۔ مطلب یہ کہ غریب الوطنی کے ساتھ ہی اس وقار اور اس عظمت کو بھی دیکھنا چاہیے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اپنے ایک پیغام میں اربعین حسینی کے ایام میں میزبانی کے لیے عراق کے موکب داروں اور عظیم عراقی قوم کا شکریہ ادا کیا۔
صدر مملکت جناب ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بدھ 11 ستمبر 2024 کو اپنے دورۂ عراق کے دوران اس پیغام کے عربی متن کی شیلڈ عراقی وزیر اعظم جناب شیاع السودانی کی خدمت میں پیش کی۔
رہبر انقلاب کے اس پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
11 ستمبر کے واقعے کو 23 سال ہو گئے۔ اس واقعے کے بہانے امریکا نے مغربی ایشیا کے علاقے میں سنجیدگي کے ساتھ اپنی موجودگي شروع کی اور خطے کے مختلف ملکوں کے خلاف اپنے فوجی حملے شروع کیے۔ اس واقعے کے بعد کے بالکل ابتدائي دنوں میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں اپنی تقریر میں، جو ٹی وی چینلوں سے براہ راست نشر ہوئي، کہا: "دہشت گردی کے خلاف القاعدہ سے ہماری جنگ شروع ہو رہی ہے لیکن وہ یہیں پر ختم نہیں ہوگي۔ جب تک پوری دنیا میں کسی بھی دہشت گرد گروہ کو روکا اور ختم نہیں کیا جاتا، یہ جنگ ختم نہیں ہوگي۔"(1) اسی تقریر کے بعد مغربی ایشیا پر امریکا کے غیر قانونی حملے "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے نام سے پہچانے گئے۔ دو سال بعد جارج ڈبلیو بش نے صدام کے سقوط اور عراق پر قبضے کے بعد اپنی تقریر میں دنیا سے ایک بڑا وعدہ کیا اور کہا: "عراقی ڈیموکریسی کامیاب ہوگي اور اس کامیابی کی خبر دمشق سے تہران تک بھیجی جائے گي۔ یہ آزادی مستقبل میں ہر قوم کی ہو سکتی ہے۔ مشرق وسطی کے مرکز میں ایک آزاد عراق کا سیاسی اور قانونی ڈھانچہ، عالمی ڈیموکریٹک انقلاب میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔" یہ ایسا وعدہ تھا جو ہمیشہ تشنۂ تکمیل رہا اور مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکا کی دو عشرے سے زیادہ کی موجودگي کا پھل ڈیموکریسی اور عمومی رفاہ نہیں بلکہ تباہی اور غربت کی صورت میں سامنے آيا۔
براؤن یونیورسٹی کی تازہ ترین تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ 11 ستمبر کے بعد امریکا کی جنگوں میں اب تک براہ راست نو لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ اسی طرح اس یونیورسٹی کے تخمینے کے مطابق پچھلے 23 برس میں ان جنگوں کی وجہ سے 36 لاکھ سے 38 لاکھ لوگ بالواسطہ طور پر مارے گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں امریکی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ اب تک 45 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جان لے چکی ہے۔ دوسری جانب یہ جنگيں اب تک 3 کروڑ 80 لاکھ لوگوں کو بڑی بے رحمی سے بے گھر کر چکی ہیں اور دسیوں لاکھ بے قصور لوگوں کے گھر مسمار یا تباہ ہو چکے ہیں۔(2)
صرف افغانستان میں امریکی فوج کی بیس سال تک جاری رہنے والی فوجی کارروائيوں میں 30 ہزار سے زیادہ عام شہریوں سمیت 1 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ دسمبر 2021 میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ عراق، شام اور افغانستان پر امریکا کے 50 ہزار سے زیادہ فضائي حملوں نے دسیوں ہزار عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔(3) امریکی فوج کے وحشیانہ قتل عام کی ایک تازہ مثال، افغانستان سے انخلاء کے وقت اس کی جانب سے افغان شہریوں پر ڈرون حملہ ہے جس میں سات بچوں سمیت کم از کم 10 افغان شہری مارے گئے جن میں سب سے چھوٹے کی عمر 2 سال تھی۔(4)
اس کے علاوہ آج کل دنیا نیویارکر میگزین میں شائع ہونے والی ان تازہ تصاویر اور تفصیلات سے حیرت زدہ ہے جن میں حدیثہ کے قتل عام میں امریکی فوج کی قلعی کھولی گئي ہے۔(5) اس مجرمانہ کارروائي کے تحت امریکی میرینز کے ایک گروپ نے سنہ 2005 میں حدیثہ شہر میں عراق کے 24 عام شہریوں کا قتل عام کر دیا تھا جن میں بچے، عورتیں اور مرد شامل تھے۔(6) امریکی فوجیوں نے اس وقت بہت سی تصویریں کھینچ کر اپنے جرائم کے ثبوت اکٹھا کر لیے تھے تاہم امریکی فوج اب سے کچھ ہفتے پہلے تک ان تصویروں کو عام لوگوں کی نظروں سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
البتہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ امریکی عوام بھی اپنی بے رحم حکومت کی جنگي مشین کی ایک بڑی قربانی ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ نے اب تک امریکا پر 9 ٹریلین ڈالر کا مالی بوجھ لاد دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا کے ٹیکس دہندگان آج تک ہر گھنٹے اوسطاً 9 کروڑ تیس لاکھ ڈالر امریکا کی جنگ افروزی کے لیے ادا کرتے رہے ہیں۔(7) اسی طرح امریکی فوج کو ہونے والا جانی نقصان عراق اور افغانستان کی جنگ کے بعد بھی بدستور جاری ہے۔ چنانچہ 11 ستمبر کی جنگوں کے بعد خود کشی کر کے مرنے والے امریکا کے فوجی اسٹاف کے موجودہ اور سابق کارکنوں کی تعداد میدان جنگ میں مرنے والے فوجیوں سے کم از کم چار گنا زیادہ ہے۔(8)
اس کے علاوہ عراق اور افغانستان کی جنگ میں شرکت کرنے والے امریکی فوجیوں کے درمیان وسیع پیمانے پر جنسی جارحیتوں کی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی افغانستان کی جنگ میں امریکا کی 24 فیصد خواتین فوجیوں اور 1.9 فیصد مرد فوجیوں کو جنسی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔(9)
اب نائن الیون کے واقعے اور خطے پر امریکا کے فوجی حملے کے آغاز کو 23 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد سبھی کے لیے یہ بات پہلے سے زیادہ عیاں ہو چکی ہے کہ یہ ساری بے حساب مالی، فوجی اور انسانی قیمت صرف امریکا اور اس ملک کے مجرم حکام کی عسکری صنعت کے کامپلکس کی خوشنودی کے لیے چکائي گئي تھی۔ بش، اوباما، ٹرمپ اور بائيڈن جیسے افراد نے امریکی عوام کے مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے کر لاکھوں بے قصور لوگوں کو دہشت گردی سے جنگ کے بے بنیاد بہانے کی بھینٹ چڑھا دیا اور علاقائي اقوام کے درمیان بہت زیادہ غیظ اور نفرت پیدا کر کے ہمیشہ کے لیے، مغربی ایشیا سے امریکی حکومت کو نکال باہر کیے جانے کا سبب بنے۔
یہ وہ بات ہے جس کی طرف رہبر انقلاب اسلامی نے کئي سال پہلے بڑے حکیمانہ انداز میں اشارہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا: "اس علاقے کے عوام امریکیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اس بات کو امریکی سمجھتے کیوں نہیں؟ تم امریکیوں نے عراق میں جرائم کا ارتکاب کیا، افغانستان میں جرائم کا ارتکاب کیا اور لوگوں کو قتل کیا۔ امریکیوں نے صدام کے زوال کے بعد، بلیک واٹر جیسی خبیث سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعے غالباً عراق کے ایک ہزار سے زائد سائنسدانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور قتل کیا، لوگوں کے گھروں پر حملہ کیا، گھر کے مرد کو، اس کی زوجہ اور بچوں کے سامنے زمین پر گرایا اور اپنے بوٹوں سے اس کے چہرے کو کچلا۔ تم نے یہ کام کیے۔ تم امریکیوں نے افغانستان میں بارات پر بمباری کر دی ۔ ایک بار اور دو بار نہیں بلکہ دسیوں بار تم نے اس طرح کی بمباری کی۔ سوگ کے اجتماعات پر بمباری کی۔ تم نے جرائم کا ارتکاب کیا۔ لوگ تم سے نفرت کرتے ہیں۔ افغانستان کے عوام، عراق کے عوام ، شام کے عوام اور دوسرے علاقوں کے عوام۔"(10)
محمد مہدی عباسی، امریکی مسائل کے تجزیہ نگار
1 https://edition.cnn.com/2001/US/09/20/gen.bush.transcript/
2 https://watson.brown.edu/costsofwar/figures
3 https://www.vox.com/22654167/cost-deaths-war-on-terror-afghanistan-iraq-911
4 https://en.wikipedia.org/wiki/August_2021_Kabul_drone_strike
5 https://www.newyorker.com/podcast/in-the-dark/the-haditha-massacre-photos-that-the-military-didnt-want-the-world-to-see
6 https://en.wikipedia.org/wiki/Haditha_massacre
7 https://www.nationalpriorities.org/cost-of/war/
8 https://watson.brown.edu/costsofwar/papers/2021/Suicides
9https://watson.brown.edu/costsofwar/costs/human/veterans#:~:text=Amongst%20active%2Dduty%20service%20members,assault%20prevalence%20in%20the%20military.
10 https://urdu.khamenei.ir/news/2465
امیر المومنین علیہ السلام تاریک اور اندھیری رات میں پیغمبر کے بستر پر سونے کے لیے تیار ہو گئے تاکہ پیغمبر اس گھر اور اس شہر سے باہر نکل جائيں۔ اس رات، اس بستر پر سونے والے کا مارا جانا، قریب قریب یقینی اور قطعی تھا۔
امریکیوں نے انسانی حقوق کا پرچم بلند کر رکھا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم انسانی حقوق کے پابند ہیں اور وہ بھی صرف اپنے ہی ملک میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں! یہ تو صرف ایک دعویٰ ہے، وہ عملی طور پر کیا کر رہے ہیں؟ عملی طور پر انسانی حقوق کو سب سے زیادہ چوٹ یہی پہنچا رہے ہیں اور مختلف ملکوں میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ توہین کر رہے ہیں۔
امام خامنہ ای
16 فروری 2013
مامون کی اس سیاسی اور مکارانہ چال کے مقابلے میں امام رضا علیہ السلام نے ایک مدبرانہ اور الہی پروگرام تیار کیا اور سازش کو پوری طرح سے حق و حقیقت کے مفاد میں پلٹ دینے میں کامیاب رہے۔
عالمی برادری کو، جو ہمیشہ مختلف معاملوں میں انسانی حقوق کی حمایت کے امریکا کے نعرے سنتی رہی ہے، جن پر وہ فخر بھی کرتا تھا، فلسطین کے آئينے میں امریکی پالیسیوں کے حقیقی کریہہ چہرے کو ضرور دیکھنا چاہیے۔
امام خامنہ ای
15 دسمبر 2000
امریکا کے پیارے یونیورسٹی اسٹوڈنٹس! آپ نے اپنی حکومت کے بے رحمانہ دباؤ کے باوجود، جو کھل کر غاصب اور بے رحم صیہونی حکومت کا دفاع کر رہی ہے، ایک شرافت مندانہ جدوجہد شروع کی ہے۔ میں آپ کی استقامت کی قدردانی کرتا ہوں۔
امریکا کے یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کے نام رہبر انقلاب کے خط سے ایک اقتباس
25 مئي 2024
امریکا، انسانی حقوق کا پرچم اٹھاتا ہے اور ان کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ہر کچھ دن بعد امریکی شہروں کی سڑکوں پر کوئي بے گناہ، کوئي نہتا، امریکی پولیس کے ہاتھوں خاک و خون میں غلطاں ہو جاتا ہے۔
امام خامنہ ای
9 ستمبر 2015
ریاستہائے متحدہ امریکا کے عزیز اسٹوڈنٹس! یہ آپ سے ہماری ہمدلی اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ اس وقت آپ تاریخ کی صحیح سمت میں، جو اپنا ورق پلٹ رہی ہے، کھڑے ہوئے ہیں۔
امریکا کے یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کے نام رہبر انقلاب کے خط سے ایک اقتباس
25 مئي 2024
انسانی حقوق کی حمایت کا دعویٰ جو بھی کرے لیکن اپنے نامۂ اعمال میں انسانی حقوق کے سلسلے میں اتنی زیادہ رسوائيوں کے ساتھ امریکی حکام کو تو یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔
امام خامنہ ای
17 فروری 2014
امریکیوں نے انسانی حقوق کا پرچم اٹھا رکھا ہے لیکن انسانی حقوق کے خلاف بدترین کام امریکی حمایت سے انجام پا رہے ہیں اور امریکی نہ صرف یہ کہ اس کا مقابلہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ حمایت کر رہے ہیں!
امام خامنہ ای
31 اکتوبر 2021
دنیا کے ابن الوقت اور اقتدار کی ہوس رکھنے والے مستقبل میں اے آئی ایجنسی قائم کریں گے، اس وقت آپ کو اس کے حدود سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ملک کے اندر اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کی پرتوں تک پہنچنے کی کوشش کیجئے۔
ترکمنستان کے قومی لیڈر اور پیپلز نیشنل کونسل کے چیئرمین قربان علی بردی محمدوف نے اپنے وفد کے ہمراہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای سے بدھ کی شام ملاقات کی۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بدھ کی شام ترکمنستان کے اہم قومی رہنما اور پیپلز کونسل کے چیئرمین قربان علی بردی محمدوف اور ان کے ھمراہ آئے وفد سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے فروغ کو بڑی اہم ترجیح قرار دیا اور کہا کہ حالیہ برسوں میں ایران اور ترکمنستان کے تعلقات میں اچھی وسعت آئی ہے لیکن باہمی تعاون بڑھانے کی ابھی مزید گنجائش موجود ہے جسے بروئے کار لانا چاہئے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ باہمی روابط کا فروغ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی تازہ دم حکومت دونوں ملکوں کے روابط کو فروغ دینے سے متعلق امور زیادہ پختگی کے ساتھ انجام دے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ترکمنستان کے ساتھ روابط بڑھانے میں صدر ایران کی خاص دلچسپی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محترمہ فرزانہ صادق روڈ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ منسٹر اور مشترکہ کمیشن کی سربراہ کی حیثیت سے دونوں ملکوں کے معاہدوں پر عملدرآمد پر نظر رکھیں گی تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل ہوں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے دونوں ملکوں کے مشترکہ پروجیکٹوں منجملہ ساؤتھ - نارتھ ہائی وے اور ترکمنستان گیس پائپ لائن پروجکٹ کے بارے میں ترکمنستان کی پیپلز کونسل کے چیئرمین کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان بڑے پروجیکٹوں کو ایرانی ماہرین کی مدد سے عملی جامہ پہنانے کی صورت میں دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے سے زیادہ مستحکم ہوں اور دونوں ملکوں کی قربت بڑھے گی۔
اس ملاقات میں صدر مملکت ڈاکٹر پزشکیان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر جناب قربان علی بردی محمدوف نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کا رشتہ دار قرار دیا اور کہا کہ تہران میں جناب صدر محترم سے بہت اچھے مذاکرات ہوئے اور ہم امید کرتے ہیں کہ مفاہمتی یادداشتیں جن پر دستخط ہوئے، ان سے بہت اچھے نتائج حاصل ہوں گے۔
ترکمنستان کے قومی رہنما نے مرحوم صدر رئیسی کو یاد کیا اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ان کی کوششوں کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ ترکمنستان اور ایران کی طویل مشترکہ سرحدیں ہمیشہ دوستی و صلح کی سرحدیں رہی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی اور ہم ہر شعبے میں باہمی تعلقات بڑھانے کے لئے آمادہ ہیں۔
سابق صدر شہید رجائی اور سابق وزیر اعظم شہید با ہنر کی شہادت کی برسی اور ہفتہ حکومت کی مناسبت سے صدر مسعود پزشکیان اور ان کی کابینہ کے ارکان نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ 27 اگست 2024 کی اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے کلیدی مسائل اور ترجیحات کے بارے میں گفتگو کی۔ (1)
رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب حسب ذیل ہے:
سابق صدر شھید رجائی اور سابق وزیر اعظم شھید باھنر کے یوم شھادت اور ہفتہ حکومت کے موقع پر صدر مسعود پزشکیان نے اپنی کابینہ کے ساتھ، آج بروز منگل امام خمینی امام بارگاہ میں رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
رھبر انقلاب اسلامی نے ہفتہ حکومت کے موقع پر منگل کے روز صدر مملکت اور چودہویں کابینہ کے ممبروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے اس ملاقات کے آغاز میں سابق صدر شہید رجائی اور سابق وزیر اعظم شہید باہنر نیز سابق صدر شہید رئیسی اور ان کے شہید ساتھیوں کو یاد کیا۔
لیڈ: آج دنیا کفر و استکبار کی حکمرانی، اور فساد و بدعنوانی کی فرماں روائی دیکھ رہی ہے؛ ظلم کی حکمرانی دیکھ رہی ہے؛ امام حسین کا پیغام دنیا کی نجات کا پیغام ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای: "آج کے دور میں جب اسلام کے دشمن اور اسلامی امّت کے دشمن مختلف قسم کے وسائل سے، پیسے سے، سیاست سے، اسلحوں سے اسلامی امت کے خلاف کام کر رہے ہیں، خداوند عالم یک بہ یک اربعین کی مشی کو اس طرح عظمت عطا کر دیتا ہے، اس طرح اس کی شان دکھاتا ہے۔ یہ اللہ کی عظیم نشانی ہے، یہ اللہ کے اسلامی امّت کی نصرت کرنے کے ارادہ کی نشانی ہے، یہ اس بات کی نشانی ہے کہ خداوند عالم نے اسلامی امّت کی نصرت کا ارادہ کر لیا ہے۔"
18 ستمبر 2019
امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر طلبہ انجمنوں نے حسینیہ امام خمینی میں عزاداری کی۔ عزاداری کے اس پروگرام کے آغاز میں زیارت اربعین پڑھی گئی۔ عزاداری سید الشہدا کے اس پروگرام میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای بھی شریک ہوئے۔
اربعین امام حسین کے دن 25 اگست 2024 کو اسٹوڈنٹ انجمنوں نے تہران کے حسینیہ امام خمینی میں جمع ہوکر عزاداری کی۔ اس کے بعد رہبر انقلاب اسلامی کی امامت میں نماز ظہرین ادا کی گئی۔ دونوں نمازوں کے درمیان رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای نے مختصر تقریر کی۔
اربعین امام حسین علیہ السلام کے موقع پر تہران کے حسینیہ امام خمینی میں اسٹوڈنٹ انجمنوں نے عزاداری سید الشہدا کا پروگرام منعقد کیا جس میں رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای نے بھی شرکت کی۔
پروگرام میں زیارت اربعین پڑھی گئی جس کے بعد حجت الاسلام و المسلمین اصلانی نے مجلس پڑھی اور 'روضہ خوانوں' نے سید الشہدا کا نوحہ پڑھا۔
پروگرام کے اختتام پر آیت اللہ خامنہ ای کی امامت میں نماز ظہر و عصر ادا کی گئی۔ دونوں نمازوں کے درمیان رہبر انقلاب نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے زیارت عاشورا کے جملوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ حسینی محاذ اور یزیدی محاذ کے درمیان مقابلہ آرائی جاری ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہے۔
رہبر انقلاب کا کہنا تھا کہ بے شک الگ الگ حالات میں اس جنگ کے انداز الگ الگ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب نے نوجوانوں کے سامنے بہت وسیع میدان کھول دیا ہے اور اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے اور صحیح منصوبہ بندی، فریضے کی صحیح شناخت کے ساتھ انقلاب کے اعلی اہداف کی سمت میں بر وقت لازمی اقدام انجام دینا چاہئے تاکہ پیشرفت اور کامیابی کا راستہ ہموار ہو۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد ظلم و جور کا مقابلہ کرنا تھا۔ آپ نے کہا کہ ظلم و جور سے حسینی محاذ کے مقابلے کے طریقے حالات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں، یہ مقابلہ نیزہ و شمشیر کے زمانے میں کسی انداز کا تھا تو ایٹمی دور اور آرٹیفیشیل انٹیلیجنس کے زمانے میں کسی اور انداز کا ہے، شعر و قصیدے اور حدیث و اقوال سے تبلیغ کے زمانے میں اس کا الگ انداز تھا اور انٹرنٹ اور کوانٹم کے زمانے میں اس کی روش الگ ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق یہ فریضہ طالب علمی کے زمانے میں الگ انداز سے انجام دیا جاتا ہے اور عہدہ سنبھالنے کے بعد دوسرے انداز انجام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یزیدی محاذ سے حسینی محاذ کی جنگ ہمیشہ بندوق کے ذریعے نہیں ہوتی بلکہ صحیح فکر، صحیح گفتگو، صحیح شناخت کے ساتھ فریضے کی آگاہی حاصل کی جاتی ہے اور ٹھیک نشانے پر وار کرنا ہوتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ اگر ہم اس راستے پر چلے تو ہماری زندگی با معنی و با ہدف ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان موجودہ دور کو جس میں اسلامی انقلاب کی برکت سے ان کے سامنے بہت وسیع میدان کھل گیا ہے، غنیمت جانیں اور منصوبہ بندی، مطالعے اور صحیح فکر کے ذریعے جو قرآن سے آشنائی حاصل کرنے کا لازمہ ہے، بر وقت اقدام کریں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ یہ بر وقت اقدام کبھی یونیورسٹی کے اندر انجام دینا ہوتا ہے، کبھی سماجی فضا کے اندر، کبھی سیاسی ماحول میں انجام دینا ہوتا ہے اور کبھی یہ اقدام کربلا کی راہ میں، فلسطین کی راہ میں اور اعلی اہداف کی راہ میں انجام دیا جاتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اس تاریخی موقع سے صحیح استفادہ نوجوانوں کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت ہے اور اگر یہ موقع ہاتھ سے چلا جائے اور فریضے پر عمل نہ کیا جائے تو یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔
امام حسین (علیہ السلام) تمام انسانیت کے ہیں؛ ہم شیعہ فخر کرتے ہیں کہ ہم امام حسین کے پیروکار ہیں، لیکن امام حسین صرف ہمارے نہیں ہیں؛ اسلامی مکاتب فکر، شیعہ ہوں یا سنی، سبھی امام حسین کے زیر پرچم ہیں۔ اس عظیم (اربعین) مارچ میں یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو اسلام پر عمل نہیں کرتے، شرکت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا ان شاء اللہ؛ یہ ایک عظیم نشانی ہے جو اللہ دکھا رہا ہے۔
امام خامنہ ای
18 ستمبر 2019
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اہلبیت علیہم السلام پوری تاریخ میں ایسے آفتاب فروزاں رہے ہیں جنھوں نے کرۂ ارض کی انسانیت کو عالم غیب اور عرش الہی سے متصل کیا۔ انہی میں سے ایک خورشید فروزاں اللہ کے فضل و کرم اور اس کے ارادے سے آج ہمارے زمانے میں بقیۃ اللہ فی ارضہ کے نام سے، حجۃ اللہ علی عبادہ کی حیثیت سے، صاحب الزمان اور اللہ کے مطلق ولی کی حیثیت سے روئے زمین پر موجود ہے۔ ان کے وجود کی برکتیں اور ان کے وجود سے نکلنے والے انوار، آج بھی انسان تک پہنچ رہے ہیں۔
امام خامنہ ای
24/11/1999
ہمیں نہ صرف یہ کہ دنیا میں اپنے زمانے میں، بلکہ تاریخ میں بھی کہیں نہیں دکھائي دیتا کہ اس طرح کا کوئي اجتماع (اربعین حسینی کا اجتماع) ہر سال پچھلے سال سے زیادہ پرشکوہ طریقے سے سامنے آئے۔
اگر امریکا کی مدد نہ ہوتی تو کیا صیہونی حکومت میں اتنی طاقت اور جراَت تھی کہ غزہ کے محدود علاقے میں مسلمان عوام، عورتوں، مردوں اور بچوں کے ساتھ اس طرح وحشیانہ سلوک کرتی؟
نفسیاتی جنگ کا دشمن کا حربہ جب فوجی میدان میں پہنچتا ہے تو اس کا نتیجہ پسپائي کا خوف ہے اور قرآن مجید نے اس پسپائي کو در حقیقت غضب الہی کا سبب بتایا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے 14 اگست 2024 کو کہگیلویہ و بویر احمد صوبے کے شہیدوں پر کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات میں اس علاقے، وہاں کے عوام اور شہیدوں کے موضوع پر تقریر کی۔
رہبر انقلاب کی تقریر حسب ذیل ہے: