Skip to main content
  • English
  • Français
  • Español
  • Русский
  • हिंदी
  • Azəri
  • العربية
  • اردو
  • فارسی
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خطاب
  • ملٹی میڈیا
  • سوانح زندگی
  • فکر و نظر
  • نگارش
  • استفتائات و جوابات

مختلف عوامی طبقات کے ایک اجتماع سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

مختلف عوامی طبقات کے  اجتماع سے خطاب  
2004/07/09

صوبہ ہمدان کی مسلح فورسز کی مشترکہ تقریب میں قائد انقلاب کی شرکت

قائد انقلاب اسلامی نے دورہ ہمدان کے دوران صوبے کی شہید نوژہ ہوائي چھاونی میں مسلح فورسز کے مشترکہ پروگرام اور پاسنگ آوٹ پریڈ کا معائنہ کیا، اس موقع پر آپ نے شہید نوژہ ہوائی چھاونی کی خدمات کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی مسلح افواج کے فرائض اور خصوصیات پر روشنی ڈالی، تفصیلی خطاب پیش خدمت ہے۔
2004/07/07

صوبہ ہمدان کے یونیورسٹی طلبا اور اساتذہ کے اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی نے صوبہ ہمدان کے دورے کے دوران اساتذہ، طلبہ اور نوجوانوں کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں نوجوان طبقے کی صلاحیتوں، اسے در پیش مسائل، ثقافتی یلغار اور دشمن کی سازشوں سمیت اہم ترین مسائل پر روشنی ڈالی نیز کچھ نہایت اہم اور کارآمد ہدایات دیں۔
2004/07/06

صوبہ ہمدان میں انٹیلیجنس اور بسیج (رضاکار فورس) کے عہدہ داروں سےخطاب

قائد انقلاب اسلامی نے ملک کے مغربی صوبے ہمدان کا دورہ کیا جس میں آپ نے مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔ اہم تاریخی، ثقافتی اور سیاحتی شہر ہمدان میں قائد انقلاب اسلامی نے صوبے کے شعبہ انٹیلیجنس کے اہلکاروں اور بسیج (رضاکار فورس) کے اراکین سے ملاقات میں ملک کے لئے ان کی گرانقدر خدمات کا تذکرہ کیا اور علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔
2004/07/05

سانحہ "ہفتم تیر" کی یادگار تاریخ کی مناسبت سے ایک اجتماع سے خطاب

جمہوریہ ایران کی تاریخ میں سات تیر تیرہ سو ساٹھ ہجری شمسی مطابق اٹھائيس جون سن انیس سو اکاسی عیسوی کو رونما ہونے والا واقعہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ اس دن تہران میں شام ساڑھے آٹھ بجے جہموری اسلامی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ تہران کے علاقے سرچشمہ میں واقع پارٹی کے مرکزی دفتر میں ہونے والے اس اجلاس میں افراط زر اور صدارتی انتخابات جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔ حسب معمول تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا اور عدلیہ کے سربراہ آيت اللہ بہشتی نے اپنی تقریر شروع ہی کی تھی کہ اچانک اجلاس ہال میں بڑا خوفناک دھماکہ ہوا جس سے عمارت کے پرخچے اڑ گئے۔ دھماکے میں آیت اللہ شہید بہشتی اپنے بہتر ساتھیوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔ اس دن کو ایران میں یوم عدلیہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے قائد انقلاب اسلامی نے آج عدلیہ کے حکام اور اہلکاروں نیز شہدای ہفتم تیر کے بازماندگان کےاجتماع سے خطاب کیا، تفصیلی خطاب پیش خدمت ہے۔  
2004/06/26

"جہاد دانشگاہی" ادارے کے عہدہ داروں اور ماہرین سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 1/4/1383 ہجری شمسی مطابق 21/6/2004 عیسوی کو جہاد دانشگاہی کے نام سے موسوم ادارے کے عہدہ داروں اور ماہرین کے اجتماع سے خطاب میں علم و دانش، سائنس و ٹکنالجی اور دینی اقدار و روحانیت و معنویت کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی پرروشنی ڈالی۔ جہاد دانشگاہی ایران کا وہ قومی ادارہ ہے جو ملک بھر کی یونیورسٹیوں، وزارت خانوں اور دیگر اداروں کے لئے اہم علمی و سائنسی تحقیقات انجام دیتا ہے نیز علمی تحقیقات میں ان کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔
2004/06/21

پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ارکان سے ملاقات میں رہنما سفارشات

اسلامی جمہوریہ ایران میں پارلیمنٹ کے ساتویں دور کے لئے ہونے والے انتخابات میں عوام نے مغربی ذرائع ابلاغ کے زہریلے پروپیگنڈوں اور تشہیراتی مہم کو ایک بار پھر ناکام بناتےہوئے بھرپور شرکت کی۔ انتخابات میں اصول پسند کہے جانے والے حلقے کو اکثریت حاصل ہوئی اور ڈاکٹر حداد عادل کو پارلیمنٹ کا اسپیکر چنا گیا۔ نو تشکیل شدہ پارلیمنٹ کے سربراہ اور اراکین نے 27/3/1383 ہجری شمسی مطابق 16/6/2004 عیسوی کو قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس موقع پر قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں پارلیمنٹ، اس کی رکنیت اور اس ادارے اور ادارے کے اراکین کے فرائض کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بڑی بصیرت افروز نصیحت فرمائی۔
2004/06/16

بانی انقلاب امام خمینی (رہ) کے سیاسی مکتب فکر کے اہم پہلوؤں کی توصیف

قائد انقلاب اسلامی نے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی پندرہویں برسی کے موقع پر اپنے خطاب میں امام خمینی (رہ) کے سیاسی مکتب فکر، اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس نظام کے خلاف جاری سامراجی طاقتوں کی سازشوں کا ذکر کیا۔ تفصیلی خطاب پیش خدمت ہے۔
2004/06/02

ریڈیو اور ٹی وی کے ادارے کے عہدہ داروں اور ملازمین کے اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی نے اٹھائيس اردیبہشت تیرہ سو تراسی ہجری شمسی مطابق سترہ مئی سن دو ہزا چار عیسوی کو ایران کے ریڈی اور ٹی وی کے ادارئے آئی آر آئی بی کے مختلف شعبوں کا معاینہ فرمایا اور عہدہ داروں اور اہلکاروں سے ملاقات کی۔ اس موقع آپ نے اپنے خطاب میں ریڈیو اور ٹی کے ادارے کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
2004/05/16

عراق میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں مقدس مقامات کی بے حرمتی کی مذمت

عراق میں مقدس شہر کربلا و نجف اور حضرت امام حسین و حضرت امام علی علیھما السلام کے روضہ ہای اقدس پر قابض امریکی فوجیوں کے حملے کے جانگداز واقعے سے تمام دوستداران اہل بیت اطہار علیھم السلام غمزدہ اور کبیدہ خاطر ہو گئے، قائد انقلاب اسلامی نے درس فقہ دینے کے بعد اپنے تاثرات بیان فرمائے، تفصیلی خطاب ملاحظہ فرمائیے۔
2004/05/15

ملک کے عوام، حکام اور عالمی اتحاد کانفرنس کے شرکاء کے اجتماع سے خطاب

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی سالگرہ پر قائد انقلاب اسلامی نے انتظامیہ کے عہدہ داروں اور اہلکاروں نیز اتحاد عالمی کانفرنس کے شرکاء کے اجمتاع سے خطاب کیا۔ تفصیلی خطاب ملاحظہ فرمائیے؛
2004/05/06

ملک بھر کے اساتذہ اور مزدوروں کے وفود سے قائد انقلاب اسلامی کی ملاقات

قائد انقلاب اسلامی نے یکم مئی سن دو ہزار چار عیسوی کو عالمی یوم مزدور مطابق بارہ اردیبہشت سن تیرہ سو تراسی ہجری شمسی کو یوم استاد برابر گیارہ ربیع الاول سن چودہ سو پچیس ہجری قمری کو ہفتہ اتحاد کے موقع پر اساتذہ اور مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔ تفصیلی خطاب پیش خدمت ہےـ
2004/05/01

نو منتخب اراکین پارلیمنٹ کے ایک اجلاس سے قائد انقلاب کا خطاب

اسلامی جمہوریہ ایران میں پارلیمنٹ کے ساتویں دور کے لئے ہونے والے انتخابات میں عوام نے مغربی ذرائع ابلاغ کے زہریلے پروپیگنڈوں اور تشہیراتی مہم کو ایک بار پھر ناکام بناتے ہوئے بھرپور شرکت کی۔ انتخابات میں اصول پسند کہے جانے والے حلقے کو اکثریت حاصل ہوئی اور ڈاکٹر حداد عادل کو پارلیمنٹ کا اسپیکر چنا گیا۔ نو تشکیل شدہ پارلیمنٹ کے سربراہ اور اراکین نے قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں پارلیمنٹ، اس کی رکنیت اور اس ادارے اور ادارے کے اراکین کے فرائض کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تفصیلی خطاب پیش خدمت ہے۔ بسم‏الله‏الرّحمن‏الرّحيم سب سے پہلے تمام بھائيوں اور بہنوں، ساتویں پارلیمنٹ کے اراکین کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اللہ تعالی کی عنایتوں کے طفیل ہونے والی اس ملاقات کو بہت مبارک سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی، قانون سازی کے اس مرکز میں آپ کی موجودگی، خود آپ اور پوری قوم کے لئے مبارک و با برکت ہو۔ میں انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت اور پوری آگاہی و دانشمندی کے ساتھ حق رای دہی کے استعمال پر ان کا شکر گزار ہوں۔ فہم و ادراک اور ذمہ داری کے احساس کی بنیاد پر (انتخابات کی شکل میں) بڑا اہم کام اختتام پذیر ہوا۔ عوام نے اسلامی نظام کے دشمنوں کو ایک بار پھر مایوس کرتے ہوئے اپنا فریضہ ادا کیا اور اسلامی جمہوری نظام کو ایک دن بھی بغیر پارلیمنٹ کے نہیں رہنے دیا۔ میں اس اجلاس کے آغاز میں پڑھی جانے والی قرآن کی آیت وما اوتیتم من شئ فمتاع الحیاۃ الدنیا و ما عند اللہ خیر و ابقی کے سلسلے میں چند جملے عرض کرنا چاہوں گا۔ آپ کے پاس جو بھی دنیوی وسائل ہیں ان کا استعمال بہت کم وقت کے لئے ہے۔ پلک جھپکتے ہی سب کچھ ختم ہو جانے والا ہے۔ اسے دوام نہیں۔ وسائل میں ان مواقع اور عہدوں کا بھی شمار ہوتا ہے جو ہم اور آپ کے اختیار میں آتے ہیں۔ خود میرے عہدے کا تعلق اسی زمرے میں ہے۔ پارلیمنٹ کی رکنیت کا شمار بھی اسی میں ہوتا ہے۔ ما اوتیتم من شئ فمتاع الحیاۃ الدنیا اگر کاموں میں ہدف اللہ تعالی کی خوشنودی ہوئی تو پھر و ما عند اللہ خیر و ابقی للذین آمنوا و علی ربھم یتوکلون اگر پارلیمنٹ کی رکنیت، حکومتی ذمہ داریوں اور مختلف عہدوں تک، خواہ آپ کا عہدہ ہو یا میرا، اقتدار ہو یا دیگر شعبے، رسائی کا ہمارا مقصد ظاہری شان و شوکت ہے کہ جو در حقیقت کھوکھلی شان ہے اس کے اندر کچھ بھی نہیں ہے بظاہر بہت بڑی چیز نظر آتی ہے لیکن بباطن کوئی شان و شوکت نہیں، تب تو یقین جانئے کہ ہم خسارے میں چلے گئے۔ وجہ یہ ہے کہ جب ہمیں کوئی چیز ملتی ہے تو اس کے عوض ہمیں بھی کچھ دینا پڑتا ہے۔ زندگی میں آپ کو کچھ بھی یکطرفہ طور پر نہیں ملے گا۔ ہمیں جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں ان میں یہی علم و معرفت، دولت و ثروت، عہدہ و مقام، عوامی مقبولیت اور ظاہری شان و شوکت وغیرہ ہے لیکن ان کے عوض جو چیز ہم دیتے ہیں وہ ان سب سے کہیں زیادہ با ارزش ہے۔ وہ ہے ہماری عمر اور زندگی۔ ان الانسان لفی خسر ہم جو کچھ بھی حاصل کر رہے ہیں اس کے عوض مسلسل ایک چیز دے رہے ہیں وہ ہے وقت اور مہلت جسے ہم مسلسل صرف کر رہے ہیں۔ وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اصلی سرمایہ رفتہ رفتہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے کسی کے ہاتھ میں برف مسلسل پگھلتی رہتی ہے۔ اس سرمائے سے ہمیں سرمایہ بنانا چاہئے۔ اہم اقتصادی اصولوں میں بتایا جاتا ہے کہ زمین سے نکالا گیا تیل قومی سرمایہ ہے، اسے روزمرہ کے خرچ میں نہیں لیا جا سکتا۔ اسے پائیدار سرمائے میں تبدیل کرنا چاہئے۔ یہی چیز ہمارے اور آپ کے سلسلے میں بھی صادق آتی ہے۔ ایک نا قابل تلافی سرمایہ ہمارے ہاتھ سے جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمیں دوسرا سرمایہ حاصل کرنا چاہئے جو ہمارے پاس محفوظ رہے۔ یہ جاہ و حشم، یہ مقبولیت و شہرت، یہ سیاسی پوزیشن اور مقام، یہ دولت و ثروت باقی رہنے والی چیزیں نہیں ہیں۔ جو چیز باقی رہنے والی ہے وہ ما عند اللہ ہے وہی خیر و ابقی ہے۔ وہی پائیدار ہے۔ پارلیمنٹ میں رکنیت کا ہدف یہ ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر کوئی خسارہ نہیں ہے۔ عوام میں آپ کی مقبولیت رہے یا چلی جائے۔ اگلی دفعہ آپ منتخب ہوں یا نہ ہوں، جو بھی ہو خیر ہے۔ در طریقت آنچہ پیش سالک آید خیر اوست جو کچھ بھی ہوگا آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ آپ ایک فائدے کا سودا کر رہے ہیں۔ اگر آپ اللہ تعالی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا قیام و قعود، آپ کی گفتگو، آپ کے دستخط، آپ کی منظوری، آپ کی مخالفت سب فریضے کی ادائیگی کے تحت ہو۔ چونکہ فریضے کی ادائیگی کے لئے ہے اس لئے دیوان الہی میں آپ کا عمل درج کر لیا جائے گا۔ لا یغادر صغیرۃ و لا کبیرۃ الا احصاھا ہر چیز پر محیط ہے۔ تو اگر شدید ضرورت کے وقت ہماری چیز ہمیں فائدے کے ساتھ مل گئی تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اور اگر ہم اس میں کامیاب نہ ہوئے تو یقینا خسارے کا شکار ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں میں، آپ سب یکساں ہیں۔ اس لحاظ سے ہم میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جہاں تک سوال ہے اس فریضے اور ان چیزوں کے درمیان رابطے کا جو اس فریضے کے تحت آتی ہیں تو کہنا چاہئے کہ ہر انسان کے کچھ فرائض ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے فرائض کو بحسن وخوبی انجام دیا تو وہی نتیجہ ملے گا جس کی جانب ابھی میں نے اشارہ کیا۔ پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی کے سلسلے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ، دینی جمہوریت کا مظہر ہے۔ وہ نمونہ جو اسلامی نظام نے دینی جمہوریت کے سلسلے میں دنیا میں پیش کیا ہے اور عالمی سیاسی میدان میں جسے متعارف کرایا ہے وہ ایک کامیاب نمونہ ثابت ہوا ہے۔ اس کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں عوام کی مرضی اور خواہش معاشرے کے مستقبل کے تعین مین کلیدی کردار کی حامل اور ساتھ ہی یہ پورا عمل الہی اقدار کے تناظر میں طے پاتا ہے، اس کی ضرورت اب پوری انسانیت کو ہے اور اس کے فقدان کے نتیجے میں وہ رنج و آلام سے دوچار ہے۔ یہ جنگیں، یہ سامراجی اقدامات، یہ مظالم، یہ طبقاتی فاصلے، قوموں کی قدرتی دولت کی لوٹ مار اور بھیانک غربت جو دنیا کے عوام کی اکثریت پر مسلط ہے، یہ سب معنویت و روحانیت کے فقدان کی دین ہے۔ یہ بد عنوانیاں، یہ لا ابالی پن جو عالمی سطح پر مختلف انسانی نسلوں میں دیکھنے میں آ رہا ہے، سب معنویت کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ سو سال قبل، دو سو سال قبل، تین سو سال قبل اس سمت میں کام کیا گیا اور آج اس کے تلخ نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔ جیسے دوسرے تاریخی واقعات ہوتے ہیں جن کے اثرات فورا ظاہر نہیں ہوتے بلکہ صعب العلاج یا لا علاج بیماریوں کی طرح رفتہ رفتہ ان کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ آج دنیا کے پیش رفتہ ممالک کے پاس بے پناہ دولت ہے لیکن یہ دولت، یہ ثروت، یہ سائنس، یہ ٹکنالوجی، یہ گوناگوں علمی باریکیاں انسان کو خوش بختی کا احساس عطا نہیں کر سکتیں۔ اس سے غربت کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ تو معنویت کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ ملت ایران نے آگے بڑھ کر معنویت کو اپنے نئے طرز زندگی میں بنیادی مقام دیا ہے۔ صرف دکھانے کے لئے نہیں بلکہ حقیقی معنی میں اس کی جڑوں کو مستحکم کیا ہے۔ اسی کو دینی جمہوریت کہتے ہیں اور اس جمہوریت کا مظہر پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی ہے۔ یہ شورا (مشورت گاہ) بھی ہے اور اسلامی بھی۔ اس میں عوام کا انتخاب بھی کارفرما ہے اور اسلامی رنگ کی پھبن بھی موجود ہے۔ یہ چیز آئين کی متعدد دفعات اور پارلیمنٹ کی رکنیت کی حلف میں صاف ظاہر ہے۔ یہ بے نظیر نمونہ ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ اس کے خلاف پروپیگنڈا بھی کیا جائے گا، اسے لوگوں کی نظروں سے گرانے کی کوشش بھی کی جائے گی، اسے بے ارزش بھی ظاہر کیا جائےگا۔ یہ تو بہت پرانا حربہ ہے۔ دنیا میں یہ چیز دیکھنے میں آتی ہے کہ کبھی کسی قوم کے عظیم ثقافتی ورثے کی ایسی تحقیر کی جاتی ہے کہ وہ قوم اس سے خود ہی بیزار ہو جائے۔ یہ بڑا جانا پہچانا حربہ ہے۔ حقیقت وہی ہے جس کا ہمیں بخوبی احساس ہے، پارلیمنٹ دینی جمہوریت کا سب سے اہم مظہر ہے۔ بنابریں آپ اپنے مقام کی اہمیت سے غافل نہ ہوئیے۔ اس پر ہر لمحہ توجہ رہے کہ آپ کس مقام پر ہیں اور مجلس شورای اسلامی یعنی کیا؟ اس پارلیمنٹ میں فیصلے اور موقف کے تعین کی اہمیت سے کوئي غفلت نہ برتئے۔ یہ اسلامی جمہوری نظام کا مرکز اور نقطہ اوج ہے جو دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم بس اتنے سے ہی مطمئن نہیں ہیں کہ ہمارے پاس مجلس شورای اسلامی ہے۔ مجلس شورای اسلامی تو ہمارے پاس تقریبا پچیس سال سے ہے۔ ہمیں اس انداز سے کام کرنا چاہئے کہ یہ پارلیمنٹ اسی صحیح سمت میں بڑھتے ہوئے بلند اہداف سے قریب ہو۔ ملک میں اس کی افادیت اور تاثیر میں اضافہ ہو تاکہ حقیقی معنی میں اس کے ثمرات ظاہر ہوں اور مناسب قانون سازی، بھرپور نگرانی اور درست موقف کے ذریعے ملک کی پیش قدمی کے عمل میں روز بروز بہتری آئے۔ اسلامی نظام کے دشمن، پارلیمنٹ کو ہمیشہ غیر فعال اور ناکارہ دیکھنے کے خواہشمند رہے ہیں۔ ایسی پارلیمنٹ کے جو بے اثر ہو یا منفی اثرات کا سرچشمہ بن جائے۔ لہذا پارلیمنٹ کا موثر اور فعال کردار بہت ضروری ہے۔ ساری کوششیں اس نکتے پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ ہم بس اتنے اپر اکتفا نہیں کر سکتے کہ جناب ہمارے ہاں بھی ان ممالک کی مانند جن پر جمہوریت کا لیبل چسپاں ہے، پارلیمنٹ ہے۔ ان پارلیمانوں میں اگر کچھ مثبت پہلو ہیں، کیونکہ ہر مرکز میں کمزوریوں کے ساتھ مثبت پہلو بھی یقینی طور پر ہوتے ہیں، تو کچھ بڑی بنیادی کمزوریاں بھی ہیں۔ ہمیں ان بنیادی کمزوریوں سے بچنا چاہئے۔ مجھے یاد ہے، اوائل انقلاب میں امام (خمینی رہ) نے بارہا فرمایا کہ دنیا کی دیگر پارلیمانوں میں لڑائی جھگڑا اور مارپیٹ ہو جاتی ہے۔ آپ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہماری پارلیمنٹ میں یہ سب نہیں ہے۔ بحث ہوتی ہے اور خوب ہوتی ہے، یہ ضروری بھی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دوسروں میں خامیاں کیا ہیں تاکہ ہم ان خامیوں سے پرہیز کریں۔ بعض صنعتی ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے کہ رکن پارلیمنٹ اپنے قول و عمل سے آشکارہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ بڑی کمپنیوں اور انڈسٹریل گروپس اور سرمایہ داروں کے مفادات کا محافظ ہے۔ اس میں اسے کوئی تامل بھی نہیں ہوتا۔ وہ کمپنیاں اور مالی ادارے جو دنیا پر سب سے زیادہ مظالم ڈھا رہے ہیں اپنے مفادات کا تعین کر دیتے ہیں اور یہ (اراکین پارلیمنٹ) ایوان میں ان کے امور انجام دیتے ہیں۔ یہ ان کی بہت بڑی خامی ہے۔ عوامی نمایندے کو تو عوام کی نمایندگی کرنا چاہئے بالخصوص اگر وہ ایسے افراد کا نمایندہ ہے جو ملک میں اہم ترین امور سے متعلق فیصلوں کے عمل میں اپنے نمایندے کی شرکت کے متمنی ہوتے ہیں یعنی وہ افراد جن کے بس میں کچھ نہیں ہے اور جو سب سے زیادہ محرومیت کا شکار ہیں۔ تو سب سے پہلے مرحلے میں آپ محروم طبقات کی نمایندگی کے مفہوم کو سمجھئے۔ اس میں دو رای نہیں کہ آپ ہوری ملت ایران کے نمایندے ہیں۔ آپ کسی مخصوص علاقے، مخصوص آبادی اور مخصوص راہ دہندگان کی نمایندگی نہیں کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ پوری قوم کی نمایندہ ہے۔ لیکن بہرحال عوام کے بعض طبقے ایسے ہیں جن کے لئے اہم امور سے متعلق فیصلے کے عمل میں ان کے نمایندے کی موجودگی لازمی ہوتی ہے کیونکہ یہ محرومیت کا شکار ہیں، کیونکہ ان کے مسائل بہت زیادہ ہیں، کیونکہ وہ غربت، وسائل کے فقدان اور تفریق و امتیاز سے پریشان ہیں۔ دوسروں کے مالی غبن اور بد عنوانیوں کی مار انہی طبقوں پر پڑ رہی ہے۔ تو آپ سب سے پہلے تو خود کو انہی طبقات کا نمایندہ سمجھئے۔ دوسرا نکتہ جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ پارلیمنٹ کی تمام صلاحیتوں اور توانائيوں کو بروی کار لانے کی کوشش کیجئے۔ اگر کبھی کسی ادارے نے انقلاب کے بعد کی پارلیمانوں میں سب سے کامیاب پارلیمنٹ کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی تو یقینی طور پر سب سے کامیاب پارلیمنٹ وہی ہوگی جس نے فرائض کی انجام دہی میں تمام تر توانائیوں کو استعمال کیا ہوگا۔ قانون سازی کا اختیار بہت ہی اہم اختیار ہے۔ آپ کے پاس نظارت کا بھی اختیار ہے۔ احتساب بیورو کوئی معمولی چیز نہیں۔ میں نے گزشتہ پارلیمانوں کے عہدہ داروں سے بھی بارہا کہا کہ احتساب بیورو کو بہت سنجیدگی سے لیجئے۔ یہ آپ کے ہاتھ میں بہت اہم وسیلہ ہے۔ آپ کی خدمت میں بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ احتساب بیورو بہت ہی اہم ادارہ ہے۔ قوم کا سب سے بڑا بجٹ جو مختلف ادارہ جات کو دیا جاتا ہے اس کی تفصیلات معلوم ہونی چاہئیں کہ یہ کیسے صرف ہوا۔ کاموں کی خوبی اور خامی کو پرکھنے کے لئے یہ آپ کے پاس بہت اہم وسیلہ ہے۔ اس کی جانب سے ہرگز غفلت نہ کیجئے۔ اگر آپ ان نظارتی وسائل کو بروی کار لانا چاہتے ہیں تو اپ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہونی چاہئے کہ آپ کی نظارت میں کام کرنے والے مجریہ کے اداروں سے آپ کا رابطہ قانونی پیرائے کے اندر ہو۔ بعض رابطے غیر شفاف ہوتے ہیں جو بالکل صاف صاف آپ کے لئے ضرر رساں ہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ پارلیمنٹ کے سیاسی مقام کا ہے۔ آپ ملت ایران کے نمایندے اور اس قوم کا ما حصل ہیں۔ سیاسی امور اور عالمی مسائل میں آپ کا موقف در حقیقت ملت ایران کے موقف کا ترجمان ہوگا۔ یہ موقف دو طرح کا ہو سکتا ہے۔ کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اس سے داخلی امور میں مداخلت کی دشمن کی ہمت اور بڑھ جائے۔ وہ اسلامی نظام کے سلسلے میں اور بھی جری اور گستاخ ہو جائے اور اس کی تسلط پندی اور جاہ طلبی میں اور بھی اضافہ ہو جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا موقف اس کے بالکل برعکس ہوـ دشمن کو اس سے یہ پیغام جائے کہ ملت ایران اور اس کے نمایندوں میں جو پختگی، جو استقامت، مفادات اور نفع و نقصان سے جو آگاہی اور قومی مفادات کے سلسلے میں جو مضبوط قوت ارادی ہے اس سے ان دشمنوں کو ہرگز کوئی موقع ملنے والا نہیں جو قومی مفادات کے سلسلے میں خیانت اور اس قوم پر غلبہ حاصل کرنے کی فکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ دنیا میں جو ہمارے دشمن ہیں ان سے ہمارا سارا جھگڑا اس بات کا ہے کہ دنیا میں ایران کے نام سے ایک نہایت پر منفعت اور سیاسی و دفاعی اہمیت کا حامل ملک تھا جو برسوں سامراجی طاقتوں کے چنگل میں قید رہا، کبھی روس تو کبھی برطانیہ اور کبھی امریکہ کے چنگل میں۔ پھر ہوا یوں کہ اس ملک کی قوم نے اپنی فکری توانائيوں و قوت ارادی سے کام لیتے ہوئے ملک کو ان طاقتوں کے چنگل سے آزادی دلائی۔ اب یہ طاقتیں پھر اسی کوشش میں ہیں کہ کسی طرح یہ علاقہ پھر سے ہاتھ لگ جائے۔ جبکہ ہمارا جواب ہے کہ ہرگز نہیں، ہم کسی بھی صورت میں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس نظام کے بد خواہوں سے ہمارا سارا جھگڑا یہی ہے۔ کوئي اور مسئلہ نہیں ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں اگر لین دین اور رابطہ ہوتا ہے تو کچھ چپقلش اور مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں جو فطری بھی ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملت ایران ثابت قدمی کے ساتھ اپنے تشخص، قومی وقار اور خود مختاری کی حفاظت کا تہیہ کئے آگے بڑھ رہی ہے۔ کچھ عناصر اسی قوت ارادی پر وار کرنا چاہتے ہیں۔ تو جھگڑے کی جڑ یہی ہے۔ اب اس بنیادی اور فیصلہ کن تنازعے میں پارلیمنٹ کی پوزیشن بالکل واضح رہنی چاہئے۔ کیوں؟ کیونکہ آپ ملت ایران کے نمایندے ہیں۔ انتخابات میں یہ قوم آپ کو پیش پیش نظر آتی ہے، مظاہروں اور جلوسوں میں ہر بار نئي تاریخ رقم کرتی ہے۔ اپنے نعروں اور مطالبات سے خود کو پہچنواتی ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ کیسی قوم ہے۔ پارلیمنٹ کو اسی قوم کی طاقت و اقتدار، عزت و وقار، اقتصادی مفادات کی پاسبانی و نگہبانی، تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے میں استقامت و پامردی کا مکمل آئینہ ہونا چاہئے۔ تو پارلیمنٹ کے پاس یہ سارے اہم ترین وسائل و ذرائع اور اختیارات ہیں۔ اگلا نکتہ یہ ہے کہ آپ ملک کے گوشہ و کنار سے منتخب ہوکر آنے والے دو سو نوے افراد ہیں۔ یہ بڑا اچھا موقع ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے دو سو نوے با صلاحیت نمایندے ایک چھت کے نیچے جمع ہیں اور چار سال ساتھ میں گذاریں گے۔ یہ بہت سنہری موقع ہے۔ ملک کے بنیادی مسائل پر بحث و مباحثے کا یہی اہم ترین پلیٹ فارم ہے۔ ایوان کے اندر بحث و مباحثے اور تکرار پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ میں تو اس سے پوری طرح متفق ہوں۔ امام (خمینی رہ) ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ پارلیمنٹ، طالب علمی کے زمانے کے مباحثے جیسی بحث کا مقام ہے۔ دو طالب عالم کسی درس کے سلسلے میں مباحثہ کرتے ہیں تو کبھی کبھار ایک دوسرے پر چیخ بھی پڑتے ہیں لیکن یہ ڈانٹ اور چیخ نہ تو کسی سیاسی محرک کی وجہ سے ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں دشمنی کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ یہ شخص تو بس اس حقیقت کا دفاع کر رہا ہے جو اس کی نظر میں حق اور امر واقع ہے جبکہ دوسرا شخص اپنے موقف اور نظرئے کا دفاع کر رہا ہوتا ہے۔ غالبا یہ دونوں ہی آخر میں ایک مشترکہ نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ مفکرین کی بحث اہل علم و دانش، عقل و منطق اور تجربہ و مہارت کی بحث ایک الگ چیز ہے اور پرائمری کے بچوں کا شور و غل ایک الگ شئ۔ جب بچہ پرائمری میں داخل ہوتا ہے تو خوب شور شرابا کرتا ہے، ہنگامہ کرتا ہے۔ وہ کوئی علمی اور ادبی محفل ہی کیوں نہ ہو اور ادق موضوعات پر تبادلہ خیال ہی کیوں نہ ہو رہا ہے، اسے تو شور مچانے سے مطلب ہے۔ تو ان دونوں بحثوں میں بڑا نمایاں فرق ہے۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اسکولی بچوں کا ہنگامہ، بین جماعتی ہنگامہ، معمولی سی چیز کے لئے لڑائی جھگڑا تو بہت ہی نا زیبا چیز ہے۔ یہ پارلیمنٹ کی شان کے منافی ہے۔ ہاں اگر علمی بحث ہے بالخصوص کمیشنوں کی سطح پر ہونے والی ماہرانہ بحث، تو وہ مستحسن اور لائق ستائش ہے۔ اس سے پارلیمنٹ کی رونق بڑھتی ہے اور یہ تو لازمی بھی ہے۔ اس وقت اقتصادی اور غیر اقتصادی بحثوں میں یہ نکتہ خاص طور پر زیر بحث آ رہا ہے کہ ہم کس طرح کی ترقی کرنا چاہتے ہیں؟ بعض افراد تو بس اس لئے بولتے ہیں کہ عوام کی توجہ اصل موضوعات سے ہٹ جائے مثلا چینی طرز کی ترقی، تو جاپانی طرز کی ترقی یا فلاں طرز کی ترقی کا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ میں ترقی کی جو روش ہے وہ ہماے عوام کے ایمان و عقیدے اور ثقافتی و تاریخی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ ہمیں کسی کی تقلید کرنے اور نقل اتارنے کی ضرورت نہیں۔ نہ عالمی بینک، نہ فلاں ملک اور نہ فلاں علاقہ۔ ہر ملک اور علاقے کے اپنے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں۔ دوسروں کے تجربات سے استفادہ کرنے اور ان کی تلقین کردہ اور غالبا منسوخ ہو چکی روش کی پیروی میں بہت فرق ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اقتصادی اور ثقافتی شعبے میں بعض تجاویز ایسی ہوتی ہیں جو صد فیصد کہیں باہر سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ فلاں انگریز تو یہ نظریہ رکھتا ہے، فلاں مفکر نے یہ کہا ہے۔ جیسے کسی قرآنی آیت کا حوالہ دیا جا رہا ہو! ان میں سے بہت سے نظریات تو منسوخ ہو چکے ہوتے ہیں۔ تیس سال، چالیس سال، پچاس سال قبل اسے آزمایا گیا اور اب اس کی جگہ کوئی اور نظریہ آ چکا ہے لیکن ہم اسی منسوخ شدہ روش اور نظرئے کو اپنے شعبہ تعلیم و تربیت، علمی ماحول، یونیورسٹیوں، اقتصادی منصوبوں اور بجٹ کے تعین میں استعمال کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ تو کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ دوسروں کے تجربات اور معلومات سے ضرور استفادہ کیا جائے لیکن روش خود اپنی ہونی چاہئے۔ یہ (ہجری شمسی) سال جس میں پارلیمنٹ اپنا کام شروع کر رہی ہے، جوابدہی کا سال قرار پایا ہے۔ جوابدہی کے سلسلے میں آپ کی دوہری ذمہ داری ہے۔ آپ خود تو جواب دیں گے ہی، دوسروں سے بھی آپ کو جواب طلب کرنا ہوگا۔ اگر حکومت جوابدہی کا فریضہ ادا کرنا چاہتی ہے تو وہ عوام کے سامنے یہ فریضہ ادا کرے گی، یہ بہت اچھی بات ہے اور میں نے اس چیز کے لئے ترغیب بھی دلائي ہے کہ عوام کے سامنے آپ پوری بات رکھئے۔ یہ تو اپنی جگہ۔ لیکن مجریہ کے جملہ اداروں کو تو پارلیمنٹ کے سامنے بھی قانونی جوابدہی کے مرحلے سے گزرنا ہے۔ تو آپ ان سے جواب طلب کیجئے اور ساتھ ہی اپنی کارکردگی کے سلسلے میں خود بھی جواب دیجئے۔ ترجیحات کیا ہیں؟ اس پر غور کیجئے۔ آپ میں ہر ایک کسی خاص علاقے سے منتخب ہوکر آیا ہے۔ آپ نے کچھ نعرے دئے ہوں گے، کچھ وعدے کئے ہوں گے، ان سب کو ایک ساتھ جمع کرکے غور کیجئے اور دیکھئے کہ ترجیحات کیا ہیں۔ حکومت کی جانب سے جو بل پیش کئے جائیں اسی طرح پارلیمنٹ کے اپنے جو منصوبے ہوں یا حکومتی اداروں سے جب جواب طلب کرنے کا موقع ہو تو ان میں ان ترجیحات کا آپ خیال رکھئے۔ ان کی درجہ بندی کیجئے بلکہ یہ بھی بہتر ہے کہ ٹائم ٹیبل تیار کر لیجئے اور پھر عوام کو مطلع کیجئے کہ ہم نے فلاں قانون بنانا چاہا یا فلاں مشکل کو حل کرنا چاہا اور اس کے لئے ہم نے چھے مہینے کا وقت مد نظر رکھا اور اب ہم فلاں مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ جو جناب ڈاکٹر حداد عادل صاحب کہتے ہیں کہ آئندہ سال ہم اپنی کارکردگی کی قابل قبول رپورٹ پیش کرنے میں کامیاب ہوں تو یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب آپ ترجیحات کا تعین کریں۔ ان کے لئے صحیح منصوبہ بندی کریں اور باریک بینی سےاس کے لئے ٹائم ٹیبل معین کریں۔ پھر آپ اعلان بھی کر سکتے ہیں کہ ہم ان ترجیحات کے لئے کوشاں ہیں۔ تمام کاموں کو ایک ہی دن میں توانجام نہیں دیا جا سکتا۔ ان میں کچھ ایسے کام ہوتے ہیں جو ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں۔ ان ترجیحات کا تعین ضروری اور اہم ہے۔ اس طرح آپ عوام کے سامنے خود بھی جواب دیجئے اور اپنے زیر نگرانی کام کرنے والے اداروں سے بھی جواب طلب کیجئے۔ آپ ایک دن بھی ضائع نہ کیجئے۔ میں یہ بات ان تمام بھائی بہنوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں جو مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اسی طرح آپ کی خدمت میں بھی عرض کر رہا ہوں۔ بسا اوقات بہت سے افراد یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ ابھی تو چار سال کا وقت پڑا ہے، ان ابتدائی دو تین مہینوں میں بھلا کیا کیا جائے؟ نہیں جناب یہ ابتدائی دو تین دن بھی اہم ہیں۔ ایک دن بھی ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ چار سال، اچھی خاصی مدت ہوتی ہے بشرطیکہ اس کے ہر دن اور ہر گھنٹے سے استفادہ کیا جائے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ حد سے زیادہ توقعات وابستہ کر لی جائیں۔ نہیں، بس اتنا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے ایک دور کے لئے جو وقت مقرر کیا گيا ہے اس کا پورا پورا استعمال کیا جائے تو پھر یہ چار سال اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے کافی ثابت ہوں گے۔ ہماری تاریخ کی ایک مایہ ناز شخصیت، امیر کبیر کی شخصیت ہے۔ ہمارے ملک میں امیر کبیر کے ہاتھ میں تین سال حکومت رہی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تین سال کتنا طویل عرصہ تھا؟! امیر کبیر کے کارہای نمایاں اور ان کے یادگار اقدامات جو ہماری تاریخ اور ملت ایران کے ذہنوں میں محفوظ ہیں، سب کے سب انہی تین برسوں میں انجام پائے۔ بنابریں چار سال کا عرصہ کچھ کم نہیں۔ اچھا خاصا وقت ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس وقت کا پورا پورا استعمال کیا جائے۔ آپ عملی اہداف پر توجہ دیجئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ ایسے اہداف کا انتخاب کر لیں جن کو عملی جامہ پہنانا ممکن ہی نہیں۔ آپ کم پر ہی قناعت کیجئے۔ ایسے اہداف کی فکر میں نہ پڑیئے جو آپکے بس میں نہیں ہیں۔ جو چیز ہمیشہ آپ کے پیش نظر رہنی چاہئے وہ بیس سالہ ترقیابی منصوبہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک عملی منصوبہ ہے۔ یعنی اس میں بلند پروازی اور خوش فہمی کا کوئی دخل نہیں ہے۔ آپ اسے غور سے دیکھئے، اس کا باریک بینی سے جائزہ لیجئے، اس کا مطالعہ کیجئے۔ ملت ایران اس جامع آئين اور نظام کے ان شعبوں کے سہارے، اگر وہ ٹھیک سے کام کریں، بیس سال میں ترقی کے اس بلند مقام پر پہنچ سکتی ہے جسے اس منصوبے میں متعارف کرایا گيا ہے۔ پالیسیاں ہمارے مد نظر رہیں اور یہ پالیسیاں اسی منصوبے کی بنیاد پر وضع کی جائیں۔ پالیسیوں سے مکمل ہم آہنگی کا خیال رکھتے ہوئے قانون سازی کیجئے یعنی قانون کو پالیسیوں کے قلب میں جگہ ملے اور پالیسیاں اسی مطلوبہ بلندی کی سمت بڑھیں۔ یہ منصوبہ اسلام کی بنیاد پر طے پایا ہے لہذا ہر آن ہم معینہ اہداف کی فکر میں رہیں، انہیں اہداف میں ضم ہو جائے، اسلام میں ضم ہو جائيں، اعلی اسلامی اہداف میں ضم ہو جائیں جو اللہ تعالی نے معین کئے ہیں۔ ان اہداف اور مطلوبہ بلندیوں پر آپ کی نظریں ٹکی رہیں۔ اسلام، قومی وقار، خود مختاری، سماجی مساوات، طبقاتی فاصلے میں کمی، آج یہ ہمارے اہم اہداف ہیں۔ آپ کا منظور کردہ کوئی قانون غریب اور دولت مند کے درمیان فاصلے کو اور بھی بڑھا سکتا ہے اسی طرح اسے کم بھی کر سکتا ہے۔ آپ کی کوشش یہ ہو کہ اس فاصلے میں کمی آئے اور یہ شگاف بھرے۔ اس سلسلے میں اہم ترین اقدامات میں ایک بد عنوانی کا مقابلہ ہے۔ چند سال قبل میں نے بد عنوانی سے مقابلے کے سلسلے میں حکام کو ایک خط لکھا تھا جس میں کثیر الجھات اور وسیع مطالعے اور طویل المیعاد کوشش مد نظر تھی۔ ہم جو بھی طریقہ اپنائیں جب تک بد عنوانیاں ختم نہ جائیں گی ہر کام ادھورا رہے گا۔ ملک میں بہت اچھے کام انجام دئے جا رہے ہیں اور اب تک جو کچھ انجام پایا ہے وہ بھی کم نہیں ہے لیکن بد عنوانیوں کی وجہ سے محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ کوششیں بے نتیجہ ہوکر رہ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی بڑا سا حوض ہے جس میں کئی پایپوں سے پانی آ رہا ہے لیکن حوض ہے کہ بھرتا ہی نہیں۔ اب جو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس میں تو کئی سوراخ ہیں۔ اس لئے اس میں جتنا بھی پانی ڈالا جاتا ہے حوض کے باہر چلا جاتا ہے۔ آپ جتنا بھی اس میں پانی ڈالیں دوسری جانب سے وہ بہتا ہی چلا جائے گا۔ معاشرے میں بد عنوانی بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ مالی بد عنوانی ایڈز اور سرطان کی طرح ہوتی ہے اس کا بہت سختی سے مقابلہ کیا جانا چاہئے۔ البتہ اس پر حد سے زیادہ واویلا مچانے اور مبالغہ آرائی کرنے سے گریز بھی کرنا چاہئے۔ بعض افراد تو اس طرح بات کرتے ہیں کہ گویا سرطان ہر جگہ پھیل چکا ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے، اوپر سے نیچے تک مختلف اداروں میں کتنے سارے پاکیزہ صفت انسان ہیں، کتنے ایسے افراد ہیں جن کے دامن پر کوئی چھینٹ تک نہیں! اکثریت انہی افراد کی ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کر دیتی ہے۔ اگر جسم کے کسی عضو میں کوئی تکلیف ہو جائے مثلا کوئی دانت خراب ہو جائے تو انسان ساری رات سو نہیں پاتا۔ حالانکہ اس کا دل، معدہ، پھیپھڑے، گردش خون، سب کچھ ٹھیک ہے لیکن اس ایک دانت نے انسان کی نیند حرام کر دی۔ بد عنوانی کی یہی مثال ہے۔ اس کا بہت سخت گیری کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس مہم کا ایک محاذ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر انسان بد عنوانی سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو بہت زیادہ محتاط رہے کہ کہیں اس بد عنوانی کا داغ اس کے دامن پر بھی نہ لگ جائے۔ آپ پارلیمنٹ کے اندر اس سلسلے میں بہت زیادہ محتاط رہئے۔ آپ کے ہاتھ پاک رہیں، آپ کا دامن بے داغ رہے اور آپ کی زبان اور آنکھیں بے عیب۔ آپ اپنے دائرہ کار میں ہر چیز کوپاکیزہ بنائیے۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ لغزشوں سے ڈرئے۔ امام زین العابدین علیہ السلام جب صحیفہ سجادیہ میں لشکر اسلام کے سپاہیوں کے لئے دعا کرتے ہیں تو جن نکات پر خاص توجہ فرماتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدایا! ان کے دلوں سے فتنہ پرور مال کی محبت اور یاد مٹا دے۔ دولت بہت خطرناک اور فتنہ پرور ہوتی ہے۔ اس کے باعث بہتوں کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔ ہم نے آہنیں ارادوں کے مالک بہت سے افراد کے بارے میں تاریخ میں پڑھا ہے کہ جب اس مرحلے میں پہنچے تو ان کے قدم بھی لغزش سے محفوظ نہ رہ سکے۔ لہذا بہت ہوشیار اور محتاط رہئے۔ شریعت مقدسہ میں اس احتیاط کا نام کیا ہے؟ تقوا۔ قرآن میں شروع سے آخر تک جس تقوی پر اتنی تاکید ہے اس سے مراد یہی احتیاط ہے۔ اس کے بعد ایک اہم مسئلہ ہمہ گیر مفادات کو علاقائي مفادات پر ترجیح دینے کا ہے۔ یہ بھی انہیں چیزوں میں ہے جن کے بارے میں گفتگو تو آسان ہوتی ہے لیکن ان پر عمل کرنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ کبھی میں بھی پارلیمنٹ کا رکن تھا۔ مجھے پارلیمنٹ کی رکنیت کے سلسلے میں حالات کا پورا علم ہے۔ یوں بھی برسوں سے پارلیمنٹ سے مسلسل سابقہ ہے۔ آپ علاقائی مسائل کو قومی مسائل پر ترجیح دینے کی کوشش نہ کیجئے۔ آپ سے آخری بات نظم و ضبط کے تعلق سے کہنا ہے۔ میں ٹی وی پر جب پارلیمنٹ کی سیٹیں خالی دیکھتا تھا تو ٹی وی کے سامنے مجھے عوام سے شرم محسوس ہوتی تھی۔ ہم نے عوام سے درخواست کی تھی کہ آپ پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچیں اور وہ پہنچے بھی اور انہوں نے اپنے نمایندے کا انتخاب بھی کیا لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ ایوان میں چار خالی نشستوں کے بعد کوئي ایک رکن پارلیمنٹ بیٹھا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ٹی وی پر جب میں یہ منظر دیکھتا تھا تو واقعی مجھے شرم کا احساس ہوتا تھا۔ یہ تو بے ضابطگی ہے۔ پارلیمنٹ میں اس کی قطعی گنجائش نہیں ہے۔ وقت پر پہنچنا، کمیشن میں جانا، ایوان میں حاضر ہونا اور کارروائی میں حصہ لینا یہ سب بہت اہم ہے۔ دعا کرتا ہوں کہ عوام نے جو توقعات آپ سے وابستہ کی ہیں، آپ کی کارکردگي اور الہی توفیقات ایسی ہوں کہ روز بروز عوام کی امیدوں میں اضافہ ہو اور انہیں محسوس ہو کہ بہت اچھے نمایندے پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں۔ اس صورت میں ہماری دعائيں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گی۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ  
2004/04/15

مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ اقدس میں خطاب

21 مارچ سن دو ہزار چار کو نئے ہجری شمسی سال کے آغاز پر قائد انقلاب اسلامی نے مقدس شہر مشہد میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ اقدس میں عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب فرمایا، آپ نے اپنے خطاب میں انتہائی اہم اور حساس موضوعات پر روشنی ڈالی۔ تفصیلی بیان پیش خدمت ہے۔
2004/03/21

چودہ سو چوبیس ھ ق کے حج کے موقع پر حاجیوں کے نام پیغام

بسم اللہ الرّحمن الرّحیمامّت مسلمہ نے ایک بار پھر اپنا عظیم الشان سالانہ اجتماع منعقد کیا ہے اور اس ندائے الہی پر شاندار طریقے سے لبیک کہا ہے: و اذّن فی النّاس بالحج ( اور لوگوں کو حج کی طرف بلاؤ )یہ بے مثال فریضہ بھی دیگر الہی فرائض کی طرح رحمتوں کا خزانہ ہے جس کے دروازے اپنے مقرّرہ وقت پر بندوں کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں اور ان کے لئے خداوند عالم کے فیض و برکت کے بحر بیکراں سے سیرابی کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ۔حج اس لحاظ سے ایک منفرد اور بے مثال فریضہ ہے کہ اس کی ادائیگی کے دوران دل وجان کو جلا حاصل ہوتی اور ہر ایک حاجی اپنی توانائي اور گنجائش کے مطابق اس باران رحمت سے مستفیض ہوسکتا ہے ۔اس کے علاوہ ان ایام میں اتحاد و یکجہتی، جرات و بہادری اور بیداری و آگہی کے ذریعے امت مسلمہ کا اجتماعی تشخص بھی زیادہ اجاگر ہوکر سامنے آتا ہے جو مختلف قوموں، نسلوں، خطوں اور تہذیبوں سےتعلق رکھنے والے افراد سے مل کر تشکیل پائي ہے اور یہی آج کی دنیا کا اہم ترین تقاضہ ہے۔عالم اسلام طویل عرصے تک جمود اور خواب غفلت کا شکار رہا جو اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا اور بالآخر اغیار کی سیاسی اور علمی بالادستی پر منتج ہوا اور جس کی وجہ سے اس ( عالم اسلام ) کے مادی اور انسانی ذخائر دشمنوں کی ترقی و پیشرفت اور عزت وعظمت اور تسلّط کے استحکام میں استعمال کئےگئے لیکن اب وہ ( عالم اسلام ) بیدار ہوچکا ہے اور آہستہ آہستہ غارت گروں اور لیٹروں کے سامنے صف آرا ہورہا ہے۔اسلامی بیدری کی ہوا کے جھونکے عالم اسلام میں حرکت پیدا کر رہے ہیں اور علمی میدان میں اسلام کی کارکردگی کےمطالبے سنجیدگی سے کئے جارہے ہیں۔ اسلام کے سیاسی پہلو کو اہل نظر کے کے نزدیک ایک اہم مقام حاصل ہوچکا ہے اور ان کے سامنے ایک روشن اور امید افزا افق نمودار ہوا ہے ۔سوشلزم اور مارکسزم جیسے بیرونی متنازعہ نظریات کی ناکامی اور بالخصوص لبرل ازم پر مبنی مغربی جمہوریت کےمکرو فریب کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد، اسلام کا انصاف و مساوات اور حریت و آزادی پر مبنی چہرہ ہر دور سے زیادہ نمایاں ہوا اور یہ ایسے واحد مکتب فکر کے طور پر نمودار ہوا ہے جو عدل و انصاف اور آزادی و حریت کے متوالوں کی امنگوں کے مطابق ہونے کے علاوہ اہل فکر و نظر کے معیارات پر بھی کھرا اترسکتا ہے ۔بڑی تعداد میں اسلامی ممالک کے نوجوان اور بلند ہمت افراد اسلام کے نام پر اور عدل و انصاف پر مبنی اسلامی حکومت کی آرزوئيں لئے ہوئے سیاسی، سماجی اور علمی میدانوں میں جد وجہد کرنے لگے ہیں اور اپنے معاشروں میں غیر ملکی سامراجی طاقتوں کےظلم و تسلط کے خلاف استقامت و ثابت قدمی کے عزم و ارادے کی تقویت کر رہے ہیں۔عالم اسلام کے مختلف علاقوں میں جن میں مظلوم ملک فلسطین سر فہرست ہے، بہت سے مرد و زن اسلام کے پرچم تلے، خود مختاری اور سربلندی و آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے آئے دن زندۂ جاوید رزمیہ داستانیں رقم کررہے ہیں اور دنیا پرست سامراجی طاقتوں کو اپنی جرات و بہادری سے قعر مذلت میں پہنچا رہے ہیں ۔جی ہاں! اسلامی بیداری کی لہر نے سامراج کے اندازوں پر خط بطلان کھینچ دیا ہے، اور سامراجیوں کے وضع کردہ توازن کو بگاڑ کررکھ دیا ہے ۔دوسری طرف سیاست اور سائنس کے میدانوں میں اسلام کے زریں اصولوں اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر جدید اسلامی نظریات اور ان کے ارتقا نے عملی طور ثابت کردیا ہے کہ اسلام ایک زندہ جاوید نظریہ حیات ہے جو عالم اسلام کے اہل نظر اور روشن فکر افراد کے لئے راہیں وضع اور مقرر کر سکتا ہے۔ کل کی استعماری اور آج کی سامراجی طاقتیں جو اپنی مکارانہ پالیسیوں کے ذریعے اسلامی معاشروں کو ایک طرف جمود و رجعت پسندی اور دوسری جانب غلامی اور اغیار کی نظریاتی تقلید کے درمیان الجھا کررکھنا چاہتی تھیں، آج وہ خود اسلامی فکر کے اس ارتقائی عمل کے سامنے بے بس نظر آرہی ہیں۔عالم اسلام میں نئے افکار و نظریات پروان جڑھ رہے ہیں، ان میں بہت زیادہ فعالیت اور سعی و کوشش نظر آ رہی ہے۔ لوگ ایمان اور نیک اعمال کی طرف راغب ہورہے ہیں اور یہ ایک با برکت تبدیلی ہے جس نے سامراجی طاقتوں کے مراکز کو لرزہ بر اندام کردیا ہے۔امّت مسلمہ کو چاہئے کہ اپنے آپ کو استعماری طاقتوں کے مراکز کی طرف سے در پیش خطرات کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ کرے جو وہ ( استعماری طاقتیں ) غم و غصہ اور شر پسندی کی عادت کے تحت اس عظیم تبدیلی کے رد عمل کے طور پر پیدا کررہی ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حق و باطل کے معرکے میں، بالآخر حق کوہی فتح ہوتی اور شکست و زوال باطل کا مقدّر بنتا ہے، لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ حق کی راہ میں لڑنے والے اپنی مادّی اور روحانی توانائیوں کو صحیح طریقے پر بروئے کار لائیں اور عقلمندی و پامردی، توکل بر خدا و شجاعانہ ثابت قدمی اور امید و اعتماد نفس کے ساتھ پہلے صحیح راستے کا انتخاب کریں پھر اس پر گامزن ہوجائیں ۔اس صورت میں خدا کی نصرت و مدد کے وہ مستحق ہوں گے جیسا قرآن میں وعدہ کیا گيا ہے۔ان تنصرواللہ ینصرکم و یثبّت اقدامکم( اگر تم خدا کی نصرت کروگے تو خدا تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو ثبات عطا کرےگا )و لینصرنّ اللہ من ینصرہ( اورخدا اس کی مدد کرتا ہے جو اس کی نصرت کرے )انّ الارض یرثہا عبادی الصّالحون( بے شک زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے )صیہونزم کا سرطانی جال اور امریکی حکام کا شیطانی اور جنگ پسند ٹولہ جو آج سامراجیت کا خطرناک ترین اور سب سے بڑا جتھہ شمار ہوتا ہے، مختلف طریقوں سے امت مسلمہ کے خلاف برسر پیکار ہے۔ نفسیاتی و تشہیراتی جنگ سے لے کر معاشی جدال تک، معاندانہ سیاسی اقدامات سے لے کر تشدد، قتل اور فوجی یلغار تک، وہ صرف اور صرف اپنے ناجایز مفادات کے درپے ہیں اور اس راہ میں کسی بھی جرم سے دریغ نہیں کرتے ۔فلسطین میں غاصب صیہونیوں کے ہولناک جرائم پر سرسری نظر جو حکومت امریکہ کے تعاون سے انجام پا رہے ہیں نیز عراق اور افغانستان میں غاصبوں کے وحشیانہ سلوک کا جائزہ ان لوگوں کی شقاوت و بربریت کو آشکارا کردیتا ہے جو دنیا میں انسانی حقوق، ڈیموکریسی اور آزادی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جد وجہد کی آڑ میں بدترین قتل و غارتگری کا ارتکاب کررہے ہیں اور قوموں کو آزادی دلانے کے بہانے ان کو اپنی آمریت اور لوٹ مار کا نشانہ بنارہے ہیں ۔امریکا علی الاعلان مختلف ملکوں پر چڑھائی اور قوموں کے خلاف جارحیت میں خود کو حق بجانب تصور کرتا ہے۔ صیہونی حکومت نہایت ڈھٹائی کے ساتھ فلسطینی رہنماؤں کو قتل کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ صیہونی، فلسطین کے اندر پیر و جواں، مرد و زن اور بچوں کا خون بہا رہے ہیں اور ان کےگھروں کو مسمار کررہے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ عراق کے اندر نہتے مظاہرین پر حملے کررہے ہیں، لوگوں کے گھروں اور ان کے خیموں اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیاجا رہا ہے اورابھی ان کی بھڑکائی ہوئي آگ کےشعلے خاموش نہیں ہوئے ہیں کہ عالم اسلام کو ایک اور جنگ کی نوید سنائي جا رہی ہے۔ان کا یہ اشتعال انگیز رویہ ان کی طاقت اور خود اعتمادی سے زیادہ ان کی سراسیمگی اور خوف و ہراس کا نتیجہ ہے۔ وہ اسلامی بیداری کا احساس کررہے ہیں اور اسلام کی سیاسی تعلیمات کے فروغ اور اسلام کی حاکمیت سے اپنے لئے سخت خطرہ محسوس کررہے ہیں، وہ اس دن سے ڈر رہے ہیں جب امت مسلمہ متحد ہوکر اٹھ کھڑی ہوگی۔ اس روز ملت اسلامیہ اپنے قدرتی وسایل اور عظیم تاریخی ثقافتی ورثے، اپنی وسیع و عریض جغرافیایی قلمرو اور بےپناہ افرادی قوت کے ذریعے تسلط پسند طاقتوں کو جنہوں نے دو سو سال تک اس کا خون چوسا اور اس کی عزت و وقار کو مجروح کیا جارحیت و سرکشی بند کرنے پر مجبور کر دےگی۔ آج دنیاے اسلام کی سیاسی و نظریاتی شخصیات پر ایک اہم فریضہ عائد ہوتا ہے ۔مسلمان مفکروں کو اسلام کے حریت پسندی کے پیغام کو قابل فہم اور مناسب طریقے سے لوگوں کے مختلف طبقات تک پہنچانا چاہئے، انہیں مسلمان قوموں کے اسلامی تشخص کو صحیح طور سے بیان کرنا چاہئے نیز انسانی حقوق، آزادی، جمہوریت، حقوق نسواں، بد عنوانی کے خلاف اقدام، امتیازی سلوک کے خاتمے، غربت و افلاس اور علمی پسماندگی کے خلاف جد وجہد جیسے موضوعات سے متعلق اسلام کی روشن تعلیمات سے نوجوان نسل کو آگاہ کرنا چاہئے اور لوگوں کو دہشت گردی اور عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف جنگ کے دعوؤں کے پس پردہ کارفرما مغربی ذرائع ابلاغ کے ناپاک عزائم سے بھی آگاہ کرنا چاہئے ۔آج نظریاتی اور عملی لحاظ سے ان موضوعات کے بارے میں مغربی دنیا کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے، اسے عالمی رائے عامہ کے مقابلے میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ مغربی دنیا کو فلسطین میں معصوم بچوں کے قتل عام، حقوق نسواں، عورتوں کی عزت واحترام اور قوموں کے حق خود ارادی کی پامالی اور قوموں کے ذخائر کی لوٹ مار اور حتی خود اپنے شہریوں کی آزادی کے بارے میں جواب دینا پڑےگا۔ کیا بعض یورپی ملکوں میں حجاب پر پابندی، آزادی کے ان کے بلند بانگ دعؤوں کی قلی نہیں کھول دیتے؟ اسلامی ملکوں کے سیاستدانوں اور اعلی سرکاری عہداروں کی اہم تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قوموں پر بھروسہ کرتے ہوئے سامراجی طاقتوں کے کبھی ختم نہ ہونے والے مطالبات کو ماننے سے انکار کردیں۔ یہ ان کا اہم ترین فریضہ ہے، وہ امت مسلمہ کے عظیم تشخص کو جو بہت سی مشکلات کا حل ہے فراموش نہ کریں ۔عالم اسلام کےمسائل کےحل میں فیصلہ کن امر ملت اسلامیہ کے مفادات کی تکمیل اوراس کے اقتدارکی برقراری ہونا چاہئے۔آج عراق سے غاصبوں کا انخلا، اور اس ملک میں قومی اقتدار اعلی کا استحکام، افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء اور اس ملک کی خود مختاری و اسلامی ماہیت پر تاکید، فلسطین کی مظلوم قوم کی مدد اور ان لوگوں کی اخلاقی اور مادی حمایت جو اپنی جان و مال اور عزت و ناموس کے دفاع اور اپنی آزادی و خودمختاری کی راہ میں غاصبوں سے بر سر پیکار ہیں۔ عالم اسلام کے گوشے گوشے میں دینی اقدار ار ایمان و اعتقاد کی ترویج، مسلمان حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت، آپسی مسائل کا حل، اسلامی کانفرنس تنظیم کا خود کو موثر تنظیم بنانا اور سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق حاصل کرنےکی امت مسلمہ کے مفادات ہیں، لہذا مسلمان حکومتوں کی پالیسیوں اور اقدامات میں انہیں شامل کیا جانا چاہئے اور قوموں کے دانشوروں اور دیگر افراد کواپنی حکومتوں سے اس کا مطالبہ کرنا چاہئے ۔ایران کی قوم اور حکومت جو اپنے اسلامی جمہوری نظام کے قیام کی 25 ویں سالگرہ کا جش منا رہی ہے اس سلسلے میں کافی گرانبہا اور قابل فخر اقدامات کرنے کے علاوہ دنیا والوں کے سامنے مناسب نظام پیش کرچکی ہے ، ہم خدائے بزرگ و برتر پر بھروسے اور ایمان و معرفت سے سرشار قوم کی طاقت کا سہارا لیتے ہوئے نیز اپنے عظیم نصب العین کی سمت گامزن رہتے ہوئے اس کی جانب ٹھوس قدم بڑھا چکے ہیں۔ دینی حدود ارو جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے معنویت اور آزادی و خود مختاری جیسے اقدار سے آمیختہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول میں کامیاب ہوچکے ہیں جس کا سرچشمہ قرآنی تعلیمات ہیں۔اس دوران ہمارے ملک کو سامراج کی جانب سے دشمنی اور عناد کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہماری قوم اس عرصے میں ایمان و استحکام اور افتخار کی اعلی منازل طے کر چکی ہے۔ ہم نے قرآنی تعلیمات پر عمل کیا ہے جو فرماتا ہے : ان کید الشّیطان کان ضعیفا( بے شک شیطان کی چال کمزور ہے )انّ اللہ مع الّذین اتّقوا و الّذین ہم محسنون( بے شک خدا ان کے ساتھ ہے جو تقوی و پرہیزگاری رکھتے اور جو احسان کرنے والے ہیں)و انّ اللہ علی نصرھم لقدیر(اور بےشک خدا ان کی مدد پر قادر ہے )ہم اپنی قوم اور عالم اسلام کے سامنے افق کو روشن دیکھ رہے ہیں اور الہی وعدوں پر یقین کامل رکھتے ہوئے اس راستے کو عزم راسخ کے ساتھ طے کررہے ہیں جو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے معین کیا ہے۔والعاقبتہ للمتقین و السلام علی عباداللہ الصالحین سیّدعلی حسینی خامنہ ای ذی الحجہ 1424ھ مطابق جنوری 2004
2004/01/26

اہل قم کے سالانہ اجتماع سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 18 دی سنہ 1382 ہجری شمسی مطابق 8 جنوری 2004 عیسوی کو اہل قم کے سالانہ اجتماع سے خطاب میں ان کی انقلابی خدمات کو سراہا۔ 19 دی کی تاریخ میں اہل قم نے بڑا اہم قیام کیا جسے ایران کے اسلامی انقلاب کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اہل قم ہر سال اسی مناسبت سے تہران آکر قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کرتے ہیں۔ سالانہ اجتماع میں قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں اہل قم کی خصوصیات بیان کیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے اس موقعے پر زلزلے سے متاثرہ علاقے بم کا بھی ذکر کیا اور متاثرین کی امداد میں ایرانی قوم کی پیش قدمی کی تعریف کی۔ قائد انقلاب اسلامی کے اس خطاب کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛
2004/01/08

کاشتکاروں کے اجتماع سے خطاب، زرعی شعبے کی اہمیت پر تاکید

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے چودھ دی سن تیرہ سو بیاسی ہجری شمسی مطابق چار جنوری سن دو ہزار چار عیسوی کو ملک کے کسانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے زرعی شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ زراعت اور زرعی پیداوار کے میدان میں، پالیسیاں پائیدار، ٹھوس اور آزمودہ ہوں اور زرعی پیداوار کرنے والوں کے مسائل پر توجہ دی جائے۔ آپ نے زرعی شعبے سمیت مختلف میدانوں میں ہونے والی ترقی و پیشرفت کو بھی ایک نمایاں حقیقت قرار دیا۔ آپ نے کاشتکاروں سے یہ سفارش کی کہ وہ اپنے پیشے کو ایک مقدس پیشے کی حیثیت سے دیکھیں اور ملک کی ترقی و پیشرفت اور معاشرے کے رفاہ و آسائش کے سلسلے میں اپنے کام کی اہمیت کا ادراک کریں اور اسی جذبے کے ساتھ کام کریں۔ آپ نے متعلقہ عہدہ داروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ زراعتی مسئلے پر پوری توجہ رکھیں۔
2004/01/03

اہل قزوین کے اجتماع سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ نے 25 آذر سنہ 1382 ہجری شمسی مطابق 16 دسمبر سنہ 2003 عیسوی کو اہل قزین سے خطاب میں اس علاقے کی اہم علمی شخصیات اور علم و دانش کے شعبے میں ان کی خدمات کا جائزہ لیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں عام انتخابات پر بھی روشنی ڈالی اور اس سلسلے میں دشمنوں کی سازشوں اور پروپیگنڈوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
2003/12/16

سپاہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ کی ایجادات و مصنوعات کا معائنہ

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے انتیس تیر سن تیرہ سو بیاسی ہجری شمسی مطابق بیس جولائی سن دو ہزار تین کو سپاہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ کی نئی سائنسی دفاعی ایجادات و مصنوعات کی نمائش کا معائنہ کیا اور سپاہ پاسداران انقلاب کے فضائي شعبے کی کارکردگی کی تعریف کی۔ آپ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں روحانیت و معنویت کو سپاہ پاسداران کی خاص خصوصیت قرار دیا اور فرمایا کہ اعلی اہداف کے دفاع کے لیے ہر قوم کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو مضبوط اور طاقتور بنائے۔ البتہ منطق، دین اور معنویت کی نظر میں جو طاقت کی تعریف ہے وہ مادی منطق کی تعریف سے بہت زیادہ الگ ہے۔
2003/07/19

چھٹی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اراکین سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سات خرداد سن تیرہ سو بیاسی ہجری شمسی مطابق اٹھائیس مئی سن دو ہزار تین کو چھٹی پارلیمنٹ کے سربراہ اور ارکان سے خطاب میں ملکی اور علاقائی حالات پر گفتگو فرمائی۔
2003/05/27

سترہ ربیع الاول کی مناسبت سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انتیس اردیبہشت تیرہ سو بیاسی ہجری شمسی مطابق انیس مئی دو ہزار تین کو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پر، اسلامی نطام کے اعلی عہدہ داروں اور ملازمین و کارکنان سے ملاقات میں کچھ اہم ترین نکات کی جانب اشارہ فرمایا۔
2003/05/18

ائمہ کی جد وجہد کے خاص طریقے کا جائزہ

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ  ای نے اپنے ایک خطاب میں فرزند رسول حضرت  امام رضا علیہ السلام کے زمانے میں عالم اسلام میں آنے والے تغیرات کا جائزہ لیا۔ 10 مئی 2003 کے اس خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی نے تین اماموں امام محمد  تقی، امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیھم السلام کے دور کے حالات پر روشنی ڈالی اور ان تینوں اماموں کی جدوجہد کے خاص طریقے کی تشریح کی۔
2003/05/10

نماز جمعہ کے خطبے، عراق کے حالات کا بصیرت افروز تجزیہ

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بائیس فروردین تیرہ سو بیاسی ہجری شمسی مطابق گیارہ اپریل دو ہزار تین عیسوی کو تہران کی مرکزی نماز جمعہ کے خطبوں میں انتہائی حساس موضوعات پر گفتگو کی۔ قائد انقلاب اسلامی نے عراق کے حالات کا بصیرت افروز تجزیہ کیا اور اس معاملے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی اور موقف کا اعلان کیا۔
2003/04/11

غبار فراموشی

جس زمانے میں مجھے شہر بدر کرکے ایران شہر بھیج دیا گیا تھا، ہم لوگ مختلف مواقع پر وہاں کے ذمہ دار افراد سے رابطہ کیا کرتے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ گورنر کا ایک بھی نمایندہ آج تک ایران شہر نہیں آیا ہے! ۱۹۷۸ میں ایرانشہر میں سیلاب آیا اور اس کے نتیجے میں اسی فیصد شہر بالکل تباہ ہو گیا۔ میں نے خود شہر کی ایک ایک جگہ جا کر دیکھی، پچاس دن تک ہم لوگ امداد رسانی کا کام کرتے رہے مرکز تو دور کی بات زاہدان سے بھی کسی اہم شخصیت نے آ کر نہیں پوچھا کہ یہاں کیا ہوا ہے۔ کہنے کو تو "شیر و خورشید" ادارے کی طرف سے کچھ امداد بھیجی جا رہی تھی لیکن ہم شہر بدر افراد نے جو امداد جمع کی تھی اس کا وہ دسواں حصہ بھی نہیں تھی۔ تو ایک طرف تو اس کی مقدار بہت کم تھی اور دوسری طرف اس قلیل مقدار امداد کا بھی بڑا حصہ امداد رساں ہی ہڑپ کر جاتے تھے۔ یعنی ایران شہر جو کہ جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان کا ثقافتی مرکز تھا ہمیشہ بے توجہی کا شکار رہا ہے۔ زاہدان کا بھی یہی حال تھا۔ دسیوں سال بعد کبھی ایسا اتفاق ہوتا تھا کہ اونٹ کی سواری اور شراب خوری کے لئے حکام بیرجند جاتے تھے۔ چونکہ حکام بیرجند میں عیاشیاں کرنے جاتے تھے اس لئے وہاں ایر پورٹ تھا اور چونکہ یہاں عیاشی کے وسائل فراہم نہیں تھے لہذا بلوچستان ان کا آنا ہی نہیں ہوتا تھا۔ ملک کا ہر پسماندہ علاقہ بے توجہی کا شکار تھا۔ بلوچستان ہو یا کوئی اور علاقہ۔ مازندران میں خوب ترقیاتی کام ہوئے تھےکیونکہ وہاں کی آب و ہوا سے لطف اندوز ہونے کے لئے حکام کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ انقلاب سے پہلے کی حکومت کا یہ عالم تھا۔ ایک دلچسپ بات آپ کو بتاؤں، مازندران میں پانچ ایئرپورٹ ہیں جو شاہی حکومت کے دور میں بنائے گئے تھے۔ رامسر کا ایئر پورٹ جو رامسر ہوٹل استعمال کرنے کے لئے تھا آپ جانتے ہیں کہ کن لوگوں کے لئے تھا۔ ایک صوبے میں پانچ پانچ ایئرپورٹ، اور وہ بھی صرف طاغوتی حکومت کے عناصر کے لئے!  آپ بخوبی واقف ہیں کہ نوشہر کا ایئرپورٹ شاہ کی سالانہ سیر و تفریح کے لئے تھا، وہاں شاہ اور اس کے افراد عیاشی فرماتے تھے۔ ایک ایئر پورٹ ایک فوجی کیمپ کے لئے تھا یہ ایک مخصوص فوج تھی۔ میں نام نہیں لینا چاہتا۔ یہ بھی عیاشی کا سامان تھا۔ ساری کے نزدیک دشت ناز ایئر پورٹ جو آج کل مازندران کا سرکاری ایئرپورٹ ہے اور عوام کے استعمال میں ہے، انقلاب سے پہلے رضا خان کی بدکار و بدمعاش اولادوں کے لئے تھا۔ ہزاروں ایکڑ زرخیز زمین پر قبضہ کر کے ٹھیک اس کے وسط میں ایئرپورٹ بنایا گیا تھا۔ مینودشت میں شاہی نوکروں کے لئے ایک ایئرپورٹ تھا۔ حکومت اور اس سے مربوط مشینری کے لئے پانچ ایئرپورٹ موجود تھے لیکن عوام، اساتذہ، بیماروں اور دیگر ضرورتمند افراد کہ لئے نہ ایئرپورٹ تھا نہ ہوائی جہاز اور نہ ہی کوئي اور سہولت۔ حکومت کے لوگ سال میں کئی مرتبہ مازندران آتے جاتے تھے لیکن زاہدان ہی کی طرح ایک بار بھی عام لوگوں سے نہیں ملتے تھے۔  اسے کہتے ہیں غبار فراموشی۔  (صوبہ سیستان و بلوچستان کی ممتاز شخصیات سے ملاقات کے دوران 24/02/2003)
2003/02/24

چودہ سو تیئیس ھ ق کے حج کے موقع پر حاجیوں کے نام پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم حج میں دسیوں لاکھ مسلمانوں کا اجتماع، ایک بے نظیر اور حیرت انگیز واقعہ ہے۔ ان چند دنوں میں دنیا کی ہر جگہ سے اور ہر معاشرتی طبقے سے، تمام مسلم اقوام خانہ خدا، اسلام اور پیغمبر اسلام کی جائے پیدائش میں جمع ہوتی ہیں اور حج کے رمز و راز سے مملو اعمال بجا لاتی ہیں۔ ان پرشکوہ اور پرمعنی شعائر میں خدائے بزرگ سے قلوب کا تعلق، دلوں کے باہمی رابطے، محور توحید پر حرکت، ہمہ گیر سعی و کوشش، شیطان کو پتھر مارنا، طاغوت سے دوری، خدا کا ذکر اور اس کے حضور خضوع وخشوع، گریہ و زاری اور اسلام کے سائے میں عزت و عظمت کا احساس، یہ سب عمل کے ذریعے اور علامت کے طور پر مسلم اقوام کو سکھایا جاتا ہے؛ اور دینی بھائیوں کے ساتھ محبت و مہربانی کے ساتھ رہنا، دشمنوں کے مقابلے میں سختی و پائیداری، خود پرستی کی آلائشوں سے رہائی اور الہی عزت و عظمت کے سمندر سے اتصال حج کے اعمال میں مجسم ہوتا ہے۔حج، امت اسلامیہ کے متحد وجود کی علامت ہے اور اس طرز عمل کی تعلیم دیتا ہے جو امت کو اپنی سعادت کے لئے اختیار کرنا چاہیئے۔ حج کو آگاہی کے ساتھ سمت واحد میں سب کی با مقصد پیش روی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس حرکت کی بنیاد یاد خدا اور بندگان خدا کا اتحاد ہے، اور اس کا مقصد انسان کی کامیاب زندگی کے لئے ایک مستحکم معنوی مرکز کا قیام ہے؛ جعل اللہ الکعبتہ البیت الحرام قیاما للناس والشہر الحرام والہدی والقلائد۔اس وقت امت اسلامیہ کواپنی حقیقی زندگی میں حج کی طرح ایک عظیم اور بامقصد تحریک کی ضرورت ہے اور مسلم اقوام اور حکومتیں، سبھی اس ذمہ داری میں شریک ہیں ۔ گزشتہ ایک صدی میں اسلامی ممالک کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچے ہیں۔ مغرب والوں کی ملک گیری اور سامراجیت کی لہر نے سب سے زیادہ مسلم اقوام کو نقصان پہنجایا ہے جن کی دولت و ثروت اور مادی ذخائر نے انہیں سامراجی حکومتوں کی یلغار کی آماجگاہ بنایا۔اس جارحیت کے نتیجے میں مسلمانوں کو سیاسی و اقتصادی اسارت اور علمی و مادی پسماندگی نصیب ہوئی اور سامراجی طاقتوں نے مسلمانوں کے انسانی و مادی ذرائع سے فائدہ اٹھایا اور غصب، ظلم، جنگ اور تشدد کے ذریعے اپنی دولت و طاقت میں اضافہ کیا۔طویل برسوں کے بعد مسلم اقوام ہوش میں آئیں، پوری اسلامی دنیا میں مسلمانوں کی تحریک بیداری اور حریت پسندی و آزادی کے پرچم نے ان کے سامنے امیدوں کے نئے اف‍ق کھولے اور سرانجام ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی نظام کے قیام نے اسلامی دنیا کے لئے ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کیا ۔ ظاہر ہے کہ دنیا کے طاقت و دولت کے مراکز آسانی سے حق کے سامنے نہیں جھکیں گے اور مسلم اقوام کے سامنے طویل، دشوار مگر مبارک اور خوش انجام راستہ ہے ۔ اس راستے پر چلنے والے ، اگر استقامت و پائیداری سے کام لیں، تو خود کو اور اپنے بعد کی نسلوں کو پسماندگی اور سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی اسارت کی ذلت سے نجات دلائیں گے اور اسلام کے سائے میں خوشگوار زندگی سے لطف اندوز ہونگے ۔ علمی اور سیاسی مجاہدت اور اپنے حق کے طاقتور دفاع کا یہ راستہ روشن ہے ۔ اس میدان میں اپنے پامال شدہ حقوق اور عزت و شرف کے مدافع ہیں ۔ انصاف اور انسانی ضمیر، آگاہ اور سخت گیر قاضی ہے جواس مظلومانہ مجاہدت کی تائید کرتا ہے اور سنت خداوندی ان کی یقینی کامیابی کی نوید دیتی ہے ؛اذن للذین یقاتلون بانہم ظلمواوان اللہ علی نصرھم لقدیر۔عالمی سامراج یعنی، پٹرولیم کمپنیوں کے کارٹلس، اسلحہ سازی کے کارخانوں عالمی صیہونیت اور ان سے وابستہ حکومتوں کا جال، امت اسلامیہ کی بیداری سے خطرے کا احساس کررہا ہے اور سراسیمہ ہوکر یلغار کے لئے کوشاں ہے۔ اس سیاسی، تشہراتی، فوجی اور دہشتگردانہ یلغار کے مظاہر، آج صیہونی حکومت اور ریاستہائے متحدہ امریکا پر مسلط عسکریت پسندوں کے تشدد آمیز اقوال و اعمال میں واضح طورپر دیکھے جاسکتے ہیں ۔ خون میں آغشتہ مظلوم فلسطین ہر روز غاصب حکومت کے وحشیانہ ترین حملوں کی آماجگاہ بنتا ہے۔ فلسطینی قوم پر صرف اس لئے قتل و غارتگری، تخریب کاری، ایذارسانی اور تذلیل و اہانت سمیت یہ تمام مصیبتیں ڈھائی جاتی ہیں کہ اس نے آدھی صدی گذرنے کے بعد اپنے پامال شدہ حقوق کا سنجیدگی سے مطالبہ کرنے کی جرات کی ہے ۔عراقی قوم کو جنگ کی دھمکیاں اس لئے دی جارہی ہیں کہ امریکی حکومت تیل کی سپلائی پر تسلط، علاقے کے تیل کے باقی ماندہ ذخائر کی غارتگری اور فلسطین، ایران، شام اور سعودی عرب کی سرحدوں کے نزدیک موثر موجودگی کے لئے ضروری سمجھتی ہے کہ عراق میں اپنے قدم جمائے، اور اس کے نتیجے میں اس ملک کا انجام، جنگ میں مشرق وسطی کے تمام ملکوں کا دامنگیر ہو۔ افغان قوم نے صرف اس لئے ایک سال اور چند مہینوں سے امریکا اور برطانیہ کے اجتماعی قتل عام کے ہتھیاروں، بموں، اور ان کی مداخلت، توہین آمیز موجودگی اور غاصبانہ قبضے کوجسم و جان پر لمس کیا ہے کہ حکومت امریکا نے اپنے ناجائز مفادات کی اسی طرح تعریف کی ہے ۔اس انسانیت مخالف سامراجی گروہ کی حرص و طمع کی کوئی حد نہیں ہے۔ اگر ڈیڑھ سو سال قبل امریکا لاطینی امریکا کے ملکوں کا مالک بننا چاہتا تھا تو وہ حالیہ پچاس برسوں سے اس علاقے کے تمام اسلامی ملکوں کا آمر مطلق اور سلطان بننا چاہتا ہے۔ امریکا کی تمام خطرناک بین الاقوامی منصوبہ بندی اور اہداف کا تعین، اس کے اس متکبرانہ مگر احمقانہ مدعا کا ثبوت ہے۔اس میں شک نہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادی ناکام ہوں گے اور دنیا ایک بار پھر ایک بد مست طاقتور سلطنت کا زوال دیکھے گی، جیسا کہ افغانستان میں بھی اور فلسطین میں بھی اس کے تمام اندازے غلط نکلے ہیں لیکن اگر امت اسلامیہ نے، اسلامی اقوام اور حکومتوں نے بر وقت خردمندانہ اور دلیرانہ فیصلہ نہ کیا تو ایک بار پھربھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی تلافی دیر میں ہوگی۔ امریکا نے اپنی نئی دیوانہ وار تحریک میں جس کا آغاز گیارہ ستمبر کے مشکوک حادثے کے بعد ہوا، تشہیراتی حملے بھی شروع کئے ہیں؛ یعنی ڈیموکریسی اور دہشتگردی مخالف پرچم اٹھایا اور اسلامی اقوام کے لئے کیمیائی اور اجتماعی قتل عام کے ہتھیاروں کی مذمت کی باتیں کررہا ہے۔ کیا وہ یہ نہیں سوچتا کہ ممکن ہے کہ مسلمان پوچھیں کہ یہ ہتھیار کن حکومتوں اور کمپنیوں نے عراق کی بعثی حکومت کو دیئے؟ انیس ہزار کیمیائی بم جن کے لئے تم دعوا کرتے ہو کہ عراق کی بعثی حکومت کے پاس تھے اور چونکہ تیرہ ہزار اس نے ایرانیوں پر گرائے تو چھے ہزار اس کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور تم اس بناپر عراق پر مستقبل کے حملے کی توجیہ کرتے ہو، اتنی مقدار میں کیمیائی وسائل اور ہتھیار حکومت عراق کے پاس کہاں سے آئے ؟ کیا تمھارے اور تمھارے اتحادیوں کے علاوہ کوئی اور اس تاریخی المئے میں شریک جرم ہے ؟ کیا تم یہ نہیں سوچتے کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد اور نامعلوم گروہ اور اشخاص پر الزام لگاکر مسلم اقوام کو جو دنیا کی وحشی ترین دہشتگرد یعنی صیہونی حکومت کی امریکا کی جانب سے حمایت کا مشاہدہ کررہی ہے، دھوکہ نہیں دیا جاسکتا؟ امریکا بھاری اخراجات سے اپنی اس دیوانہ وار تشہیراتی مہم کے ذریعے مسلم اقوام کی نگاہوں میں جھوٹ، فریب اور حیلہ گری کا مظہر بن چکا ہے ۔ متکبر اور مستکبر امریکا فلسطین اور افغانستان میں اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا ہے اور ان تمام سنگین مادی اور معنوی اخراجات کا نتیجہ گھاٹے کے علاوہ اور کچھ نہ نکلا ، اور اس کے بعد بھی ایسا ہی ہوگا، انشاءاللہ ۔عراق میں بھی اس کا دعوا ہے کہ مقصد صدام اور بعثی حکومت کا خاتمہ ہے، یقینا وہ جھوٹ بولتا ہے اور اس کا اصل مقصد اوپک پر قبضہ کرنا، علاقے کے تیل کو لوٹنا ، صیہونی حکومت کی نزدیک سے حمایت کرنا اور ایران، شام اور سعودی عرب کے خلاف قریب سے سازش کرنا ہے۔ یہ بات مسلم ہے کہ اگرامریکا نے عراق پر جنگ کے ذریعے یا بغیر جنگ کے قبضہ کرلیا تو اس معاندانہ قبضے کی پہلی قربانی عراقی قوم اور اس تاریخی ملت کی عزت و شرف، غیرت، حمیت، ناموس اور دولت و ثروت ہوگی۔ اگر عراق کے پڑوسی ممالک ہوشیار رہیں تو یہ اہداف بھی حاصل نہیں ہوں گے ۔انشاءاللہ ۔سامراج جانتا ہے کہ مسلم اقوام اور حکومتوں کی پائیداری کا سر چشمہ اسلام اور اس کی نجات دہندہ تعلیمات ہیں۔ بنابریں اس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وسیع نفسیاتی جنگ شروع کی ہے۔ گیارہ ستمبر کے حادثے کےبعد بےشمار قرائن صیہونیوں کے گھس پیٹھ کرنے والے خفیہ گروہوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں مگر بہت تیزی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے نام ان میں شامل کئے گئے اور شب و روز اس کی تکرار کی گئی ۔ کچھ مسلمانوں کو امریکا، افغانستان اور دیگر مقامات سے گرفتار کرکے جیلوں اور خوفناک عقوبت خانوں کے حوالے کردیا گیا۔ نہ ان افراد پر الزام کبھی ثابت ہوا اور نہ ہی امریکیوں کی جنگ کے معروف ملزم گرفتار ہوئے ۔ مگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفسیاتی جنگ نہ رکی اور اور شائد ابھی رکے گی بھی نہیں ۔ اسلام آزادی، عدل اور حق پسندی کا دین ہے۔ حقیقی جمہوریت وہی دینی جمہوریت ہے جو ایمان اور دینی ذمہ داری کی پشتپناہی میں سامنے آتی ہے اور جیسا کہ ایران اسلامی میں دیکھا جا رہا ہے، امریکا جیسوں کی ڈیموکریسی سے زیادہ عوامی حکومت ہے جو زیادہ صداقت کے ساتھ اورزیادہ اطمینان بخش انداز میں کام کرتی ہے۔ امریکی اسلامی اور عرب ملکوں کو جو ڈیموکریسی دینے کا وعدہ کررہے ہیں، وہ ان کے بموں میزائیلوں اور گولوں سے زیادہ تباہ کن ہے۔ دشمن اگر ہمیں ایک کھجور بھی دے تو یہ اطمینان نہیں کیا جاسکتا کہ اس کو مہلک زہر سے آلودہ نہ کیا ہوگا۔ افریقا، مشرق وسطی اور مغربی ایشیا میں امت اسلامیہ نے بارہا حتی حالیہ برسوں میں بھی اس کا تجربہ کیا ہے ۔ان حساس اور سنگین حالات میں امت اسلامیہ کوحج کے عظیم نمونہ عمل سے پہلے سے زیادہ درس حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کے سیدھے راستے پر اور قرآنی اہداف کی جانب آگاہی کے ساتھ بڑھنے والی با مقصد، متنوع اور ہمہ گیر تحریک کی ضرورت ہے۔ قال تعالی ؛ الذین آمنوا یقاتلون فی سبیل اللہ والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت فقاتلوا اولیاءالشیطان ان کید الشیطان کان ضعیفا ، و قال تعالی ؛ و قال موسی لقومہ استعینوا باللہ واصبروا ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین و صدق اللہ العلی العظیم ۔والسلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔السید علی الخامنہ ای 5 ذیحجہ 1423ھ مطابق 2003/2/7ع
2003/02/06

شادیوں میں غیر شرعی فعل صرف محرم نا محرم اور حرام موسیقی کا مسئلہ ہی نہیں ہے!

دولہا دلہن اور ان کے والدین کے لئے ہماری سفارش یہ ہے کہ شادی کی تقریب اسلامی شکل میں منعقد کریں۔ اسلامی شکل میں منعقد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں جشن و شادمانی نہ ہو۔ بلکہ شادی کا ولیمہ اور شادی کی ضیافت تو اسلام میں مستحب ہے۔
2002/12/06

اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 27 اسفند سنہ 1380 ہجری شمسی مطابق 18 مارچ سنہ 2002 عیسوی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام سے ملاقات میں انتہائی اہم اور کیلیدی نکات بیان کئے۔ قائد انقلاب اسلامی نے محرم الحرام کے قریب ہونے والی اس ملاقات میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
2002/03/17

اسلامی انقلاب کی سالگرہ سے قبل خطاب میں انقلاب کے ثمرات کا ذکر

بائیس بہمن تیرہ سو ستاون ہجری شمسی مطابق گیارہ فروری انیس سو اناسی کو ایران کا اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہو۔ ہر سال ایران میں اس دن ملکی سطح پر پروگراموں کا شاندار انعقاد ہوتا ہے اور انقلاب و اسلامی نظام کی حمایت میں اس دن نکلنے والے عوامی جلوسوں میں پوری ایرانی قوم شرکت کرتی ہے۔
2002/02/09

انتفاضہ تحریک کی حمایت میں منعقدہ کانفرنس کے شرکا سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی نے جعمرات گیارہ بہمن تیرہ سو اسی ہجری شمسی مطابق اکتیس جنوری سن دو ہزار دو کو فلسطین کی تحریک انتفاضہ کی حمایت میں تہران میں منعقدہ عالم اسلام کے ذرائع ابلاغ کی کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات میں فلسطینیوں کی حمایت کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ کی ذمہ دارایوں اور ان کے موثر کردار کی جانب اشارہ کیا۔
2002/01/30

نماز عید الفطر کے خطبے، حالات حاضرہ پر قائد انقلاب کی گفتگو

قائد انقلاب اسلامی نے پچیس آذر تیرہ سو اسی ہجری شمسی مطابق سولہ دسمبر دو ہزار ایک کو نماز عید الفطر کے خطبے میں ماہ مبارک رمضان کی روحانی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ آپ نے اس موقع پر مسئلہ فلسطین اور اس سلسلے میں مسلمانوں اور مسلم حکومتوں کے فرائض کا ذکر کیا۔
2001/12/15

تہران کی مرکزی نماز جمعہ کے خطبوں میں اہم ترین مسائل پر گفتگو

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سولہ آذر تیرہ سو اسی ہجری شمسی مطابق سات دسمبر دو ہزار ایک عیسوی  کو تہران کی مرکزی نماز جمعہ کی امامت فرمائی۔
2001/12/06

عید غدیر کی مناسبت سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 24 اسفند سنہ 1379 ہجری شمسی مطابق 14 مارچ سنہ 2001 عیسوی کو عید غدیر کی مناسبت سے ملک کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے اجتماع سے خطاب کیا۔
2001/03/14

امیرکبیر صنعتی یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 9 اسفند سنہ 1379 ہجری شمسی مطابق 27 فروری سنہ 2001 عیسوی کو امیر کبیر صنعتی یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب میں مختلف علمی شعبوں میں نئی ایجادات کی ضرورت اور دائمی تقلید سے اجتناب کرتے ہوئے جدت عمل لانے کی احتیاج پر زور دیا۔
2001/02/27

امام علی ٹریننگ کیمپ میں شریک رضاکاروں (بسیجیوں) سے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 29 مہر سنہ 1379 ہجری شمسی مطابق 10 اکتوبر سنہ 2000 عیسوی کو ایران میں بسیج کے نام سے معروف رضاکار فورس کے تربیتی کیمپ میں خطاب کیا۔
2000/10/20

قم کے عوام کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 14 مہر سنہ 1379 ہجری شمسی مطابق 5 اکتوبر سنہ 2000 عیسوی کو قم کے عوام کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں مقدس شہر قم کی خصوصیات اور ممتاز صفات کا ذکر کیا۔
2000/10/05

 مختلف عوامی طبقات سے خطاب

1 مارچ 2000 بسم اللہ الرحمن الرحیم  میں سبھی بہنوں اور بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، آپ میں سے ہر ایک کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ بالخصوص ان لوگوں کو جو دور سے تشریف لائے ہیں، خصوصا شہدائے معظم کے خاندان والوں، معذور جانبازوں، جنگی قیدی کی حیثیت سے دشمن کی جیل میں ایک عرضہ گزارنے کے بعد آزاد ہونے والوں اور  (راہ انقلاب میں) فداکاری کرنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہماری دعا ہے کہ خدا کا فضل و کرم اور حضرت امام زمانہ (عج اللہ  تعالی فرجہ الشریف) کی خاص عنایات آپ سبھی عزیزوں اور ایرانی عوام کے شامل حال ہوں۔ خداوند عالم نے ایرانی عوام پر فضل و کرم کیا اور ہمارے شجاع عوام نے کامیابی کے ساتھ عظیم اور پرشکوہ انتخابات منعقد کئے۔ اس عظیم اور مبارک واقعے میں بعض نکات ایسے ہیں جن پر توجہ دیتے ہوئے ملک کے حکام اور عوام کو خداوند عالم کا شکریہ ادا کرنا چاہئے اور اس کا شکرگزار ہونا چاہئے، خاص طور پر حکام کو اور اس عظیم، صاحب عزت اور مومن قوم کو بھی عملی طور پر خدا کا شکرگزار ہونا چاہئے۔  ایک نکتہ یہ ہے کہ اس سال انتیس بہمن مطابق آٹھ فروری کا الیکشن اسلامی جمہوری نظام کے استحکام کے لئے ایک عوامی تحریک تھی۔ جو لوگ سرحدوں کے اس پار سے ہمیشہ ایرانی عوام اور اسلامی جمہوری نظام کو تشہیراتی یلغار کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور اس نظام پر بے بنیاد الزامات لگاتے رہتے ہیں، ان سب کو ہمارے عوام نے الیکشن میں مایوس کرتے ہوئے،  دکھا دیا کہ اسلامی نظام عوامی نظام اور عوام کے عزم و ارادے اور ان کی آراء پر استوار ہے۔ اس نظام کو چلانے والے وہ لوگ ہیں جنہیں عوام قبول کرتے ہیں، ( یعنی جنہیں عوام نے منتخب کیا ہے) یہ الیکشن اسلامی نظام سے عوام کی عظیم بیعت تھی۔ اس الیکشن نے پوری دنیا میں آپ کے دوستوں کو جن کی نگاہیں اس ملک کے واقعات پر رہتی ہیں، خوش کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ عالمی طاقتیں اور سامراجی مراکز اگر چہ زبان پر اس کو نہیں لاتے اور اس کی تصدیق نہیں کرتے، لیکن وہ اس بات سے وحشت زدہ ہو گئے ہیں کہ ملک کے بعض علاقوں میں ووٹنگ کا تناسب نوے فیصد سے بھی زیادہ رہا ہے اور مجموعی طور پر پورے ملک میں پینسٹھ فیصد سے زیادہ لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا، یہ اعلی عالمی تناسب ہے جس نے انہیں وحشت زدہ اور پریشان کر دیا ہے۔ ایرانی عوام نے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا۔ ایرانی عوام نے اپنے انتخابات میں دکھا دیا کہ وہ اسلامی نظام اور آئين کے، جو اسلامی اقدار کا مظہر ہے، وفادار ہیں۔ ثابت کر دیا کہ اسلام ان کے دل و جان میں بسا ہوا ہے۔ ثابت کر دیا کہ انہیں شہیدوں کے خون کی قدر ہے۔ ملک کے ہر شہر میں چاہے تہران ہو، چاہے دوسرے بڑے شہر ہوں، چاہے چھوٹے شہر ہوں اور چاہے دور دراز کے دیہی علاقے ہوں کتنے جوان اور نوجوان دشمن سے جنگ کے میدانوں میں گئے اور مظلومیت کے عالم میں ان کا خون بہایا گیا۔ ایرانی عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ  ان کے خون کو فراموش نہیں کریں گے اور ان کے وفادار رہیں گے۔ پہلی چیز یہ ہے کہ حکام اس کامیابی کو اس نظام کے لئے ایک عظیم ہدیہ سمجھ کے اس کی قدردانی کریں۔ صرف زبانی قدردانی کافی نہیں ہے، بلکہ انہیں عملی طور پر قدردانی کرنی چاہئے۔ خود عوام کو بھی خدا کا شکر ادا کرنا چاہئےکہ ان کا نظام ایک مضبوط اور مستحکم نظام ہے اور ان کا ملک ایسا نہیں ہے کہ دشمن اس میں اختلافات کھڑے کرکے بحران پیدا کر سکیں۔ عوام پوری متانت کے ساتھ پولنگ کے مراکز پر گئے اور پوری تشخیص کے ساتھ عمل کیا۔ میں نے انتخابات سے پہلے سے بھی کہا تھا  اور اب بھی کہتا ہوں کہ جس نے بھی نظام کے استحکام کے لئے، اپنے فریضے کی انجام دہی کے لئے ووٹ دیا ہے، اپنی تشخیص کی بنیاد پر جس کو صحیح سمجھا اس کو ووٹ دیا ہے، اللہ اسے اجر دے گا۔ یہ قوم اور یہ ملک امام زمانہ ارواحنا فداہ کے قبضہ قدرت میں ہے، وہی اس قوم اور اس ملک کے نگراں ہیں۔ جس نے بھی اس عظیم کام میں حصہ لیا، ووٹ دینے گیا، یا ووٹ دینے میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کی یا اس امر میں کوئی کام کیا، آپ ان سب کو اجر دیں گے اور خدا سے ان کا شکریہ ادا کریں گے۔  دوسرا نکتہ یہ ہے کہ عوام نے پورے سکون اور امن و آشتی کے ساتھ انتخابات منعقد کئے۔ شاید خود ہمیں، جس نے ابتدائے انقلاب سے اب تک اکیس پر امن انتخابات دیکھے ہیں، اس بات کا صحیح ادراک نہ ہو کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے؟! میرے عزیزو! آپ جان لیجئے کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں اس طرح کے انتخابات میں پولنگ کے مراکز پر اور تشہیراتی مہم کے دوران لڑائیاں ہوتی ہیں، بحران کھڑا ہو جاتا ہے، نقصان پہنچتا ہے،  قتل ہو جاتے ہیں۔ ہمارے عوام ایسے ہیں کہ جہاں شجاعت دکھانی ہوتی ہے جیسے جنگ کے میدانوں میں، انھوں نے وہاں شجاعت دکھائی ہے اور جہاں قومی مصلحتوں کا تقاضا ہوتا ہے ، اس طرح امن وآشتی اور متانت کے ساتھ عظیم کارنامے انجام دیتے ہیں۔  حکام کو اس پہلو سے بھی عوام کا شکرگزار ہونا چاہئے۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ دشمنوں کو ہمارا یہ امن و سلامتی منظور نہیں ہے۔ سامراجی طاقتوں کی جاسوسی ایجنسیوں کا ایک ہدف ہمارے ملک میں بدامنی پیدا کرنا ہے۔ لیکن وہ اپنے منصوبوں کو برملا نہیں ہونے دیتے، جب وہ اپنے کام میں  کامیاب ہو جاتے ہیں تب پتہ چلتا ہے۔ جیسا کہ اس سال موسم گرما میں (1) دیکھا گیا کہ دشمن کس طرح ہمارے ملک میں آشوب اور بحران کھڑا کرنا چاہتا تھا۔ بعد میں حکام کو معلوم ہوا اور ان کے لئے یہ بات ثابت ہو گئی۔ حالیہ عظیم اور پرشکوہ انتخابات کے بعد بھی امریکا کے ایک سینیئر فوجی افسر نے کہا ہے کہ ایران میں دو تین مہینے میں بدامنی اور بحران وجود میں آئے گا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی سازش اور کوئی منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ ہمارے عوام ہوشیار اور بیدار رہیں۔ البتہ امریکا کے اس فوجی افسر نے شیخی بگھاری ہے اور حماقت کی ہے کہ یہ بیان دے دیا۔ ان کے سیاستداں نہیں بولتے ہیں اور اپنے منصوبوں کو ظاہر نہیں ہونے دیتے؛ لیکن اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا کوئی منصوبہ ہے۔ اس قوم کا امن و استحکام ان کی آنکھوں میں خار کی طرح چبھتا ہے۔  ہمارے ملک میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ دنیا میں دوسری جگہوں پر نوجوان کیا کرتے ہیں؟ آپ دیکھیں کہ یورپی ملکوں میں نوجوان کیا کرتے ہیں۔ ہر کچھ عرصے کے بعد لوگوں کو مہذب دنیا میں بدامنی کی خبر ملتی ہے۔ دن کی روشنی میں اسکول اور کالج میں کسی نوجوان کو قتل کر دیا جاتا ہے! ریستوران میں انسان کا قتل ہو جاتا ہے! کسی پارٹی میں کوئی قتل کر دیا جاتا ہے! آپ دیکھیں کہ ہمارے ملک میں یہ سب نہیں ہوتا ہے۔ یہاں امن وسلامتی ہے۔ لیکن وہ اس کو برداشت نہیں کر پا رہے ہیں! جانتے ہیں کہ بدامنی نظام کے ستونوں کو متزلزل کر دیتی ہے۔ انہیں اس کی آرزو ہے۔ یقینا اس کے لئے منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں۔ ہمارے عوام ہوشیار رہیں۔ البتہ دشمنوں کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ملک کے حکام اور ہمارے عوام بحران اور آشوب بپا کرنے کی ان کی کوششوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔ اسلامی نظام اپنے عوام اور نوجوانوں کی سلامتی کی پوری قوت سے  پاسداری کرے گا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہیں اس بات کی اجازت دے دی جائے گی کہ ہمارے عوام کے درمیان دراندازی کریں اور ہمارے نوجوانوں اور اس قوم کے جیالوں کو بدامنی کی تیزوتند آندھیوں کے حوالے کر دیں اور اسلامی نظام خاموش تماشائی بنا رہے۔ کیا یہ ممکن ہے؟ اگر دشمن اس غلط فہمی میں ہیں کہ وہ اس ملک میں کشیدگی اور بدامنی پیدا کرکے نظام کے ستونوں میں رخنہ اندازی کر سکیں گے تو جان لیں کہ ان کی یہ آرزو ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو جائے گی۔ تیسرا نکتہ حکام کے فرائض سے تعلق رکھتا ہے۔ پہلے درجے میں، اس بندہ حقیر کا اور اس کے بعد سرکاری حکام ، اراکین پارلیمنٹ، عدلیہ کے ذمہ دار عہدیداران اور دوسرے ذمہ دار افراد کا فریضہ ہے کہ عوام کے اس کارنامے کا صلہ دیں۔ (یعنی ان کی قدردانی کریں اور ان کے لئے کام کریں)  دو چیزیں عوام کے لئے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں؛ ایک ان کی زندگی کے مسائل ہیں جو ان کے لئے بہت اہم ہیں اور دوسرا مسئلہ دین اور اسلامی اقدار کا ہے جو ان کی نگاہ میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ عوام کو حق ہے۔ عوام کے کمزور طبقات کی پریشانیاں زیادہ ہیں۔ بعض لوگ جو کشیدگی پیداکرنے والی سیاسی بحثیں کرتے ہیں، وہ اس کو چھوڑیں اور بنیادی اور عملی کام کریں۔ یہی حکام سے عوام کی توقع ہے۔ ہر وقت سیاسی لڑائی۔ انتخابات تھے، ہو گئے۔ یہ اختلافات، یہ دھڑے بندیاں، یہ ایک دوسرے پر (لفظی) حملے، یہ ایک دوسرے کی جھوٹی اور بے بنیاد کمیاں پکڑنا، یہ بہانے تراشیاں، یہ ان کے خلاف وہ ان کے خلاف، چھوڑیں یہ باتیں! بالخصوص ذمہ دار حضرات، اراکین پارلیمنٹ اور اراکین حکومت، ان باتوں کو ترک کریں اور ملک و قوم کے لئے بنیادی کاموں کی انجام دہی میں مصروف ہو جائیں۔ ملک کے اندر ہماری مشکلات کم نہیں ہیں۔ تمام مشکلات و مسائل کی بنیاد دو چیزیں ہیں۔ ایک تو قومی دولت و ثروت کے تعلق سے، فیشن پرستی کے تعلق سے اور عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے تعلق سے مختلف اداروں میں غفلت، کوتاہی، سستی اور شاید ٹھیک طریقے سے کام نہ کرنا ہے۔ دوسری بنیادی مشکل وہ دشمن ہیں جو انہیں باتوں سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں، ہمارے عوام کے لئے سختیاں پیدا کرتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں، اختلاف و تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اقتصادی ناکہ بندی کرتے ہیں۔  ہمارے عوام مومن اور متحد ہیں۔ ملک کے حکام اور لیڈران بھی متحد رہیں تو دشمن یہ جرائت نہیں کر سکتا۔ اس صورت میں اس ملک اور اس قوم کے خلاف کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ان اختلافات کو ترک کریں۔ ملک کے بڑے رہنما چھوٹوں کو سیدھے راستے پر لائیں۔ اگر وہ غلطی کر رہے ہیں تو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان کی غلطیوں کو جائز ٹھہرائیں اور خود بھی ان کی پیروی کرنے لگیں یا انہیں غلطی کی طرف لے جائيں۔ ان اختلافات کا نتیجہ یہی ہے۔ بعض لوگوں کو ساری فکر اس بات کی ہے کہ بیٹھیں اور اپنا دماغ، آنکھیں، ہاتھ اور قلم و زبان اختلاف کے شعلے بھڑکانے میں استعمال کریں اور پارٹی لائن اور جماعتی و گروہی خطوط کے مسائل کے نام پر دو دھڑوں کو آپس میں لڑائیں۔ بند کریں یہ کام! حکام سے عوام کی توقع صحیح اور بجا ہے۔ حکام اقتصادی مسائل پر توجہ دیں۔ گرانی اور بے روزگاری کے مسائل کو حل کریں۔ اگر حکام شور و غل اور ہنگاموں سے دور رہتے ہوئے ضروری کوششیں کریں تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے اور مشکلات دور ہوں گی۔ اگر کوئی مشکل حل نہ ہو باقی رہ جائے تو عوام کے سامنے آئیں صداقت کے ساتھ انہیں بتائیں کہ ہم نے کوشش کی لیکن یہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہو سکا ہے۔ آئندہ حل ہوگا۔ لوگ ان کی بات قبول کریں گے۔ اگر وہ عوام کی زندگی کے حقیقی مسائل و مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کے بجائے مختلف ناموں سے مفروضاتی سیاسی مسائل میں الجھیں، تفر‍قے میں پڑ جائيں اور ملک کی سیاسی فضا کو کشیدہ بنائيں تو دشمن کو خوش کریں گے۔ یہ بری بات ہے۔ جو لوگ بھی عوام کی ہدایت اور ان کے سامنے سیدھا اور صحیح راستہ پیش کرنے میں کسی نہ کسی شکل میں کوئی کردار رکھتے ہیں، ان سب کے لئے میری نصیحت ہے کہ اپنے خدائی اور اسلامی فریضے کو سمجھیں اور اس ملک و ملت کے تئيں اپنے فرائض کو جانیں۔ حالیہ انتخابات کا صحیح صلہ اور ردعمل یہی ہو سکتا ہے۔ عوام کے دین کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ عوام دیندار ہیں لیکن کچھ لوگ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ عوام کو دین کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ وہی عوام ہیں کہ پہلوی حکومت نے پچاس سال تک اس ملک میں دین کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ پچاس سال کے بعد یہی عوام تھے جنہوں نے دین کے لئے اور دین کے نام پر ایک دینی پیشوا اور مرجع کی قیادت میں انقلاب  برپا کیا۔ اسلامی نظام قائم کیا۔ پرچم اسلام سر بلند کیا۔ دنیا کو اسلام کی عظمت وعزت دکھا دی اور خود کو مسلمین عالم بلکہ غیر مسلم اقوام کی نگاہ میں بھی صاحب عزت و وقار بنا لیا۔ کیا یہ قوم دین سے دست بردار ہو جائے گی؟ یہ ان کا خیال خام ہے کہ یہ نوجوان بے دین ہیں۔ بعض امور میں یہ نوجوان اپنے والدین سے بھی زیادہ دیندار ہیں۔ یہ عظیم مظاہرے اور جلوس جو مذہبی مناسبتوں سے برآمد ہوتے ہیں، یہ عظیم مذہبی مجالس ، یہ دعاؤں کے اجتماعات، یہ سب ہمارے نوجوانوں کی دینداری کے ثبوت ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف شہروں میں یوم  عرفہ (نو ذی الحجہ کو) دعائے عرفہ امام حسین پڑھنے کے اجتماعات میں دسیوں ہزار لوگوں کا مجمع دیکھا گیا جن میں اکثریت نوجوانوں کی رہی ہے، جنہوں نے دعائے عرفہ کے دوران زار زار گریہ کیا اورآنسو بہائے۔ ان نوجوانوں، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے دل پاک اور منورہیں۔ یہ خدا سے بہت جلدی اور آسانی سے رابطہ پیدا کر لیتے ہیں۔ کیا یہ بے دین ہیں؟ ہمارے عوام کے درمیان اعتکاف کا رواج عام نہیں تھا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران اعتکاف کے ایام میں بہت سے شہروں میں اکثر مسجدیں اعتکاف میں بیٹھنے والوں سے مملو نظر آئیں۔ ان میں بھی اکثریت نوجوانوں کی رہی ہے۔ جی نہیں! ہمارے نوجوانوں کی اکثریت متدیّن ہے۔ ہمارے عوام دین اور دینی اقدار کے پابند ہیں۔  اس کو سبھی جان لیں، حکام جان لیں، اراکین پارلیمنٹ جان لیں، جو لوگ پہلی بار منتخب ہوئے ہیں وہ بھی جان لیں۔ ایسا نہ ہو کہ کوئي بیرونی ریڈیو اسٹیشنوں کے بے بنیاد پروپیگنڈوں کے زیر اثر عوام کے فہم وادراک کو غلط سمجھ بیٹھے اور ان کی دینی امنگوں، خواہشات اور عقائد کے برخلاف بولے۔ اس وقت عوام اس کو مسترد کر دیں گے۔  میں خداوندعالم کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور دعاگو ہوں کہ ایران کی عظیم اور صاحب عزت قوم پر اپنے تفضلات، الطاف اور رحمتیں نازل فرمائے۔ میں ایک چھوٹے سپاہی کی حیثیت سے حضرت بقیۃ اللہ ارواحنا فداہ (حضرت امام زمانہ عج اللہ تعالی فرجہ الشریف) کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کردتا ہوں کہ  آپ کا دست قدرت اور ارادہ جو  ارادہ الہی کا تابع ہے،  ہمیشہ اس قوم کے سرپر رہا ہے۔ میں عوام اور افراد قوم کا بھی خلوص کے ساتھ شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ میدان عمل میں ڈٹے ہوئے ہیں اور ملک و قوم نیز اسلام و مسلمین کے عزت و وقار کی پاسداری کر رہے ہیں۔ آپ سب کے لئے خداوند عالم سے توفیق کا طالب ہوں ۔  و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 1- تہران یونیورسٹی کے ہاسٹل کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔    
2000/03/01

ادارہ حج کے کارکنوں سے خطاب

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  تمام برادران محترم اور خواہران گرامی کا خیر مقدم کرتا ہوں اور فریضہ حج کی انجام دہی میں حجاج کو گوناگوں خدمات بہم پہنچانے والے سبھی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ خداوند عالم توفیق عطا کرے کہ اس سال بھی یہ فریضہ واجب اپنی شرائط اور حدود کے ساتھ ،  گزشتہ برسوں کی طرح بلکہ اس سے بہتر انداز میں ادا ہو اور ہمارے عوام اپنے وجود میں حج کے معنوی، سماجی اور سیاسی مفاہیم کو محسوس اور اسلامی دنیا کی فضا میں اس کو مجسم کریں۔  حج ایک طرف مظہر روحانیت ہے، خدا سے ارتباط، آیات الہی سے دل کی آشنائی اور انسان کی اللہ تعالی سے زیادہ سے زیادہ قربت کا ذریعہ اور دوسری طرف مظہر وحدت ہے- امت اسلامیہ کا اتحاد، بیچ سے دیواروں کا گرنا، دشمنوں کی پیدا کردہ یا تعصب اور بدگمانیوں سے وجود میں آنے والی خلیجوں کا پر ہونا اور اسلام کی امت واحدہ کی راہ میں قدم بڑھانا- حج اسی کے ساتھ دشمنان خدا، مشرکین اور شرک و کفر کے ایجنٹوں سے برائت کا مظہر بھی ہے۔  اگر ان شاء اللہ یہ تینوں پہلو مکمل اور مجسم ہو جائيں تو حج کا فائدہ ظاہر ہوگا۔ سب سے پہلے تو آپ اور عازمین حج ہیں جو حج کے فوائد سے بہرہ مند ہوں گے۔ اس کے بعد اسلامی دنیا، اسلامی معاشرے اور امت اسلامیہ کو بھی اس کا فائدہ پہنچےگا۔  حج کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے فضا معنوی اور روحانی ہو جاتی ہے۔ اس وقت ایام حج کے نزدیک آنے اور عازمین حج کی روانگی سے ملک کی فضا زیادہ معنوی اور روحانی ہو گئی ہے۔ جب عازمین حج واپس آئيں گے تو اپنے ساتھ معنویت اور روحانیت لائیں گے، یعنی اپنے ساتھ معنویت اور روحانیت کا تحفہ لائيں گے۔ جب بھی حج کی بات ہوتی ہے تو ماحول روحانی ہو جاتا ہے ۔ ایسا ہونا بھی چاہئے۔ ہمارے عوام کے سامنے، الحمد اللہ بائیس بہمن (گیارہ فروری، یوم آزادی) کا موقع آیا اور اس عظیم امتحان الہی کے بعد انتخابات ہیں، اس لئے میں آج یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ معنوی اور روحانی فضا ملک کی ہر چیز کے لئے مفید ہے۔ صرف آخرت اور دینی امور کی بات نہیں ہے۔ روحانی اور دینی ماحول ملک کے دنیاوی امور کے لئے بھی مفید ہے۔ یہ ماحول ہمارے ملک میں انقلاب کی برکت سے وجود میں آیا اور آج ہمارے ملک کی فضا بہت حد تک معنویت اور روحانیت سے مملو ہے۔ اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ جب عوام کے میدان میں آنے کا مرحلہ آتا ہے تو لوگ خوشی خوشی کتنے جوش وخروش کے ساتھ میدان میں آتے ہیں۔ دینی اور معنوی عنصر کے علاوہ اور کون سی چیز ہے جو ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتی ہے۔ میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ عوام نے اس سال بائيس بہمن ( گیارہ فروری، یوم آزادی) پر جس شکوہ و عظمت کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے لئے ان کا شکریہ ادا کروں۔ یہ بہت اہم ہے۔   دشمن کے تشہیراتی مراکز کی کوشش ہے کہ ہمارے عوام کو ان کے ماضی، ان کے انقلاب اور ان کے امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) سے جدا کر دیں ، عوام اپنے امام کو بھول جائيں، وہ اپنے خیال میں نئے اقدار ایجاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عوام میں اختلاف و تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جب بائیس بہمن کا دن (گیارہ فروری، یوم آزادی) آتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ تہران میں، بڑے شہروں میں، چھوٹے شہروں میں حتی دور دراز کے دیہی علاقوں میں لوگ کس طرح باہر نکلتے ہیں؟! نہ کوئی انہیں دعوت دیتا ہے، نہ کوئی مادی سبب ہوتا ہے لیکن عوام باہر آتے ہیں۔ یہ اسی روحانی عنصر کا نتیجہ ہے۔   میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سازشیں تیار کرنے والے اور گھات لگاکے اس انتظار میں بیٹھنے والے تضاد کا شکار ہیں کہ عوام کے اندر کوئی ایسی بات ظاہر ہو جس سے ان دشمنوں کے اندر یہ امید پیدا ہو جائے کہ عوام انقلاب سے لگاؤ نہیں رکھتے اور وہ انقلاب سے الگ ہو چکے ہیں۔ ایک طرف وہ بعض بیانات اور بعض اخبارات کی سرخیاں دیکھتے ہیں جن میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس ملک میں معنوی اور دینی باتیں ختم ہو چکی ہیں، اب انقلاب اور امام خمینی سے کوئی لگاؤ نہیں رہا، سب کچھ فراموش کر دیا گیا ہے! تو یہ خوش ہو جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ایسا ہی ہے۔ لیکن پھر جب بائیس بہمن (گیارہ فروری، یوم آزادی) جیسے مواقع آتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ عوام کا ایک عظیم سیلاب، اسلام اور انقلاب کے نعروں کے ساتھ حضرت امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کو یاد کرتے ہوئے سڑکوں پر آ جاتا ہے اور ماضی کی یاد تازہ کر دیتا ہے، تو وہ تضاد کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں۔ لہذا منصوبے تیار کرنے میں مستقل طور پر تردد میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایرانی عوام نے اپنی توانائیوں سے دشمن کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ ان کے بیانات پر نہ جائیں۔ اپنے بیانات میں بعض اوقات وہ لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے طاقت کی بات کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ ہمارے عوام زندہ ہیں، مومن ہیں، ان کے دل اسلام اور امام (خمینی) کے ساتھ ہیں۔ آج تک کوئی طاقت عوام کے دلوں سے امام کی محبت، امام کی یاد، امام کی تعظیم و تجلیل، جذبہ شہادت اور انقلابی اقدار کو نکال نہیں سکی ہے۔    انتخابات کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے۔ میں اس مناسبت سے کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ الیکشن صرف ایک سیاسی روداد نہیں ہے۔ الیکشن عوام کی شراکت کا مظہر ہوتا ہے، حصول حق کا مظہر ہوتا ہے اور ملک کے قومی اقتدار اعلی کا مظہر ہوتا ہے۔ آج دنیا میں، ہمارے ملک میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی اس بات کو کافی اہمیت دی جاتی ہے کہ ووٹ دینے کا حق رکھنے والوں میں کتنے فیصد لوگوں نے ووٹ دیئے ہیں۔ دنیا کے  لوگوں، مبصرین اور سیاستدانوں کی نگاہ میں وہ نظام محکم ہوتا ہے جس میں الیکشن میں زیادہ لوگ پولنگ اسٹیشنوں پر جاکے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ یہ نظام کے استحکام کی علامت ہے۔ الحمد للہ ہم نے گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل ہونے والے انتخابات میں ہمیشہ اس کو ثابت کیا ہے اور ہمارے عوام نے انتخابات میں بھر پور حصہ لیا ہے۔ یہ عوام کا حق بھی ہے اور فریضہ بھی کہ انتخابات میں حصہ لیں اور اپنے ملک کی تقدیر کا فیصلہ خود کریں۔ اس لئے کہ ملک عوام کا ہے۔ عوام آئيں، صحیح اور آزادانہ انتخابات میں حصہ لے کر اراکین پارلیمنٹ کا انتخاب کریں۔ اپنے ملک کے حکام کا اس روش سے تعین کریں جو آئين میں طے کی گئی ہے۔ یہ عوام کا حق ہے۔ یہ کام ان کا ہے؛ اسی کے ساتھ یہ ان کا فریضہ بھی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی یہ کہے کہ ہم اپنا حق استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ نہیں ملک کی تقدیر اس حق کے استعمال اور اس فریضے کی ادائيگی پر منحصر ہے۔ سب کو انتخابات میں شرکت کرنی چاہئے۔ اسلامی جمہوری نظام نے یہ حق عوام کے اختیار میں دیا ہے۔ لیکن ماضی میں ہمیں یہ حق حاصل نہیں تھا۔ ماضی کے نظاموں میں عوام اس حق سے محروم تھے۔ اسلامی جمہوری نظام نے یہ حق دیا ہے۔ عوام الیکشن میں حصہ لیں اور اپنا یہ حق استعمال کریں۔ ایک ووٹ بھی موثر ہوتا ہے۔ کوئی یہ نہ کہے کہ ہمارے ایک ووٹ سے کیا اثر پڑتا ہے۔ بعض اوقات ایک ووٹ یا چند ووٹ ہی ملک کی قسمت بدل دیتے ہیں۔ آپ ووٹ دے کے صالح اور مومن فرد کو پارلیمنٹ میں بھیج سکتے ہیں۔ جو پارلیمنٹ میں منتخب ہوکے پہنچتا ہے، حساس مواقع پر جب ایک رکن پارلیمنٹ کا ووٹ ملک و قوم کی تقدیر اور اقتصاد کا تعین کر سکتا ہو، اس کا ووٹ موثر ہوتا ہے۔ لہذا کبھی کسی کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میرے ووٹ سے کیا فرق پڑے گا۔ اہم یہ ہے کہ انتخابات کے روز، سبھی عورت مرد، بوڑھے جوان جو بھی ووٹ دینے کا قانونی حق رکھتا ہو، وہ نکلے اور ووٹ دینے جائے اور انتخابات پرشکوہ انداز میں منعقد ہوں۔ جس کو بھی اس نظام میں دلچسپی ہوگی وہ انتخابات میں شرکت کرے گا۔ جو بھی اسلامی جمہوری نظام کی سربلندی چاہتا ہے وہ انتخابات میں شرکت کرے گا۔ میں اس باہوش اور آگاہ قوم کو پہچانتا ہوں، اب تک میں نے دیکھا ہے کہ عوام ہر موقع پر میدان میں موجود رہے ہیں، مجھے توقع ہے کہ ان شاء اللہ آئندہ انتخابات میں بھی پوری دلچسپی اور جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے اور در حقیقت، اسلام اور اسلامی نظام سے اپنے لگاؤ کا اعلان کریں گے۔  دوسرا نکتہ یہ ہے کہ انتخابات لڑائی جھگڑے، کشیدگی اور نفرت سے پاک اور پرامن و دوستانہ ماحول میں ہونے چاہئيں۔ ظاہر ہے کہ ہر جگہ امیدواروں کے نظریات، افکار اور طرزعمل میں فرق ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ عوام ان کو دیکھیں گے، پرکھیں گے، ان کی شناخت حاصل کریں گے اور تدبر کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ یہ کام پر امن ماحول میں ہونا چاہئے۔ یہ ہمارا افتخارہے۔ ابھی چند روز قبل ہم نے اسلامی انقلاب کی اکیسویں سالگرہ کا جشن منایا اور چند روز بعد ہمارے ملک میں اکیسویں انتخابات منعقد ہوں گے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، بہت اہم ہے۔ ان حالات میں اغیار بیٹھ کے ہماری قوم کی فکر کریں اور کہیں کہ اس ملک کو ڈیموکریسی کی طرف جانا چاہئے؟! ڈیموکریسی کیا ہے؟! اگر ڈیموکریسی سے مراد انتخابات میں عوام کی شرکت ہے تو آئيے دیکھئے دنیا میں کہاں یہ بات پائی جاتی ہے؟ جن لوگوں نے امریکی سیاسی طاقت اور پیسے کے ذریعے برسوں اس ملک پر حکومت کی اور اس ملک کا سب کچھ برباد کر دیا، کیا انھوں نے حتی ایک بار بھی پورے ملک میں اس طرح کے انتخابات کرائے تھے؟ اکیس سال میں اکیس انتخابات، یہ معمولی بات ہے؟ ان تمام اکیس انتخابات میں ملک کی فضا آج تک پر سکون اور پر خلوص رہی ہے۔ البتہ بعض لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں، فضول باتیں کرتے ہيں۔ سیاسی کشیدگی، تشدد اور نفرت کا ماحول مضر ہے۔ (یہ پروپیگنڈہ کرنے والے) کچھ لوگوں کو انتخابات سے بیزار کرتے ہیں، ان کے اندر شک و تردد پیدا کرتے ہیں، دلوں کو پژمردہ کر دیتے ہیں اور امیدیں کم کر دیتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ اپنے بیانات میں اور شائع ہونے والی تحریروں میں معاشرے میں نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بائیں بازو کو برا کہتا ہے وہ دائیں بازو کو۔ یہ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟ کہاں جا رہے ہو اور کیا چاہتے ہو؟ یہ اصطلاحات جو گڑھی ہیں، کیا ہیں؟ شاید یہ الفاظ اور اصطلاحات دشمن نے انہیں دی ہیں۔ دشمن نے تیار کی ہیں اور کچھ لوگ جو غافل ہیں، میں نہیں کہتا کہ وہ جان بوجھ کے ارادتا یہ کام کر رہے ہیں، لیکن بعض یقینا بالارادہ یہ کام کر رہے ہیں، دشمنوں سے یہ الفاظ اور اصطلاحات حاصل کیں اور مسلسل بولے جا رہے ہیں۔ انہیں الفاظ اور اصطلاحات کو دہرائے جا رہے ہیں۔ یہ دایاں بازو اور بایاں بازو کیا ہے؟ یہ قوم مسلمان، مومن اور متحد ہے۔ اس قوم کے افراد مل کے ایک ساتھ انقلاب لائے ہیں۔ ایک ساتھ مل کے اکیس سال سے اس انقلاب کی حفاظت کی ہے۔ ہمارے اوپر جو آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی تھی اس میں ایک ساتھ مل کے ملک کا دفاع کیا ہے۔ بنابریں عوام ایک ساتھ ہیں۔ یہ دیواریں کیوں کھینچی جا رہی ہیں؟ کچھ لوگ ایک نام سے اس گوشے میں اور کچھ لوگ دوسرے نام سے اس گوشے میں، عوام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ البتہ عوام نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ ان باتوں پر توجہ نہیں دیتے۔ یہ بھی معلوم ہے۔ عوام اپنے راستے پر چل رہے ہیں۔ اپنا کام کر رہے ہیں۔ وہ بھی جاکے اپنا کام کریں۔  ماحول پرامن رہنا چاہئے۔ بعض لوگ تشدد اور کشیدگی پھیلانے کے لئے ذہنوں کو خراب کر رہے ہیں۔ نہیں عوام یہ نہیں چاہتے ہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ دو تین دن جو ووٹنگ میں رہ گئے ہیں اور ممکن ہے کہ انتخابات دوسرے مرحلے میں بھی پہنچ جائیں، اس مدت میں ہمارے عزیز عوام بالخصوص نوجوان، اپنے جذبات کو کنٹرول کریں اور عقل سے کام لیں، اپنی دونوں آنکھیں کھلی رکھیں اور انتخابات میں حصہ لیں۔ فکر اور طرز عمل الگ الگ ہیں، ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے، ہر ایک اپنی فکر کے مطابق  اور اپنے طریقے سے عمل کرے۔ لیکن سب کو اس بات پر توجہ رکھنی چاہئے کہ یہ انتخابات جو ہمارے سامنے ہیں، اس میں متحد ہوکے حصہ لیں۔ اس کے لئے ہمیں جواب دینا ہوگا۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کہیں کہ ہم انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیں گے یا کسی کو بھی ووٹ دے دیں گے کون سمجھے گا! جی ہاں، لوگ نہیں سمجھیں گے کہ ہم نے کس کو ووٹ دیا ہے؟ لیکن خدا کو تو معلوم ہوگا۔ ہمیں اس کا جواب دینا ہوگا۔ ہمیں حساب کتاب کرنا چاہئے، تحقیق کرنی چاہئے، اچھی طرح جائزہ لینا چاہئے، اصولوں اور معیاروں کو نظر میں رکھنا چاہئے تاکہ خدا کو اس کا جواب دے سکیں۔ اگر کوئی خود یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کون قابل اعتماد ہے، تو اہم مسائل میں، ان مسائل میں جن کے تعلق سے خدا کو جواب دہ ہے اس سے استفسار کرے جس پر اس کو اعتماد ہو۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بنابریں ماحول کو پرامن رکھیں اور سب اس کا خیال رکھیں۔ جو لوگ کونے میں بیٹھ کے سیاسی کشیدگی اور بے بنیاد افواہیں پھیلاکے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لئے میری نصیحت یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، انہیں اپنا کام کرنے دیں۔ انتخابات کا نتیجہ جو بھی ہو، سب کو قبول ہوگا۔ کوئی عوام سے یا ملک کے حکام سے یہ نہیں کہے گا کہ انتخابات کا نتیجہ یہ کیوں نکلا؟ یا نتیجہ یہ کیوں نہیں نکلا؟ نہیں یہ لوگوں کے ووٹ ہیں۔ الحمد للہ اس ملک میں قانون محکم ہے معیار اور اصول واضح ہے اور قانون عوام کے سامنے ہے۔ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ ایسی ہونی چاہئے جو عالمی طاقتوں کی زور زبردستی کی سیاست، تسلط پسندی، مرعوب کرنے اور غیر قانونی مطالبات کے سامنے ڈٹ جائے، ملک و قوم کی مصلحتوں کو سمجھے اور ان کے مطابق عمل کرے۔ مدرس کی خصوصیات کیا تھیں؟ مدرس سے بھی بڑے علما موجود تھے۔ مدرس کی اہم ترین خصوصیت یہ تھی کہ مرعوب کرنے، دھمکی دینے،لالچ دینے اور فریب دینے کا کوئی بھی حربہ ان پر اثرانداز نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت بھی جب بظاہر ماحول اس حد تک ان کے خلاف ہو چکا تھا کہ ان کے خلاف نعرے لگ رہے تھے، وہ کھڑے ہوئے اور اپنی بات کہی۔ پارلیمنٹ میں ایک اچھے عوامی نمائندے کی خصوصیت یہی ہے۔ بعض لوگ بہت جلد مرعوب ہو جاتے ہیں! میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ سامراجی طاقتیں، یعنی وہی تسلط پسند طاقتیں، جو تسلسل کے ساتھ کبھی اس ملک پر کبھی اس ملک پر دست درازی کرتی ہیں، حکومتوں اور اقوام کو اپنے تسلط میں لینا چاہتی ہیں، ان کا کام مرعوب کرنا ہے۔ وہ اتنی طاقتور نہیں ہیں جتنا زبان سے ظاہر کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ اس انقلاب اور اس ملک سے جتنی دشمنی رکھتی ہیں، اگر ان کے اندر توانائی ہوتی تو اب تک یہ انقلاب مسلسل پیشرفت نہ کرتا اور اس طرح باقی نہ رہتا۔ کیا یہ خود اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ تسلط پسند امریکی اور صیہونی، جتنا دعوی کرتے ہیں، ان کے اندر اتنی طاقت و توانائی نہیں ہے؟ یہ اپنے بہت سے کام دھمکیاں دے کے اور مرعوب کرکے نکال لیتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ اس کو ہونا چاہئے جو مرعوب نہ ہو۔ کون مرعوب نہیں ہوتا؟ جو دل سے خدا پر توکل رکھتا ہو۔ جب انسان خدا پر توکل رکھتا ہے تو کسی سے مرعوب نہیں ہوتا۔ جو لوگ مرعوب نہیں ہوتے، ان کا ایک نمونہ ہم نے خود اپنے زمانے میں دیکھا ہے یعنی حضرت امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور ہزاروں نمونے جنگ اور سیاست کے میدانوں میں دیکھے ہیں۔ یہ مومن اور پاکیزہ نوجوان خوف خدا رکھتے تھے، خدا سے ڈرتے تھے اور غیر خدا سے نہیں ڈرتے تھے۔ "الذین قال لھم النّاس ان النّاس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایمانا وقالوا حسبنا اللہ و نعم الوکیل" گوشہ و کنار میں افراد اور اغیار کے ریڈیو اور دشمن کے مہرے انہیں خوفزدہ کرنے کے لئے، ان سے مسلسل کہتے تھے کہ تمھارے خلاف سازش تیار کر رہے ہیں، تم پر وار لگانے کا پروگرام تیار ہو رہا ہے، یہ کام کریں گے، طے کیا ہے کہ وہ کام کریں گے لیکن وہ کہتے تھے نہیں۔ ان کا ایمان اور قوی ہو گیا۔ وہ کہتے تھے "حسبنا اللہ و نعم الوکیل" خدا ہمارے لئے کافی ہے۔ ہمیں خدا پر بھروسہ ہے۔ ہمیں اس پر یقین ہے۔ اس وقت خداوند عالم فرماتا ہے کہ" فانقلبوا بنعمۃ من اللہ و فضل لم یمسسھم سوء" جی ہاں خدا پر بھروسہ کرنے والے ایسے ہوتے ہیں۔ جن لوگوں نے جنگ کا زمانہ دیکھا ہے اور ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ دنیا کی تمام مسلح طاقتیں متحد ہو گئیں تاکہ اس ملک کے تھوڑے سے حصے کو اس سے لے سکیں؛ یہ کہہ سکیں کہ ایران کی سرحد اس مرکز سے چند کلومیٹر پیچھے ہو گئی ہے ؛ لیکن نہ کر سکے۔ عوام ان کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔ اس لئے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ خدا مدد کرتا ہے، وہ دشمن کو غالب نہیں ہونے دیتا۔ مرعوب ہوجانا بہت بری صفت ہے۔ کوئی اپنے گھر بیٹھا ہے اور مرعوب ہو جاتا ہے، وہ ایک انسان ہے۔ لیکن جو کسی ذمہ دارعہدے پر فائز ہو، جو پارلیمنٹ کا رکن ہو جو حکومت میں ہو، اگر وہ مرعوب ہو جائے تو مصیبت ہے۔ اس کے مرعوب ہو جانے کا مطلب قوم کے بہت سے وسائل کا ہاتھ سے نکل جانا ہوتا ہے۔ ایک رکن پارلیمنٹ کو ہرگز مرعوب نہیں ہونا چاہئے۔ رکن پارلیمنٹ کو اسی طرح دھوکے میں آکے کسی کا فریفتہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔ بعض لوگ ظاہری باتوں کے فریب میں آکے اس طرح فریفتہ ہو جاتے ہیں کہ ان کا منھ کھلا رہ جاتا ہے! یہ سادہ لوح لوگ ہیں۔ اقتصادی ، سیاسی یا سیکورٹی سے متعلق مسائل کے حل کی جو راہیں ان کے سامنے سجا سنوار کے آب و تاب کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں، وہ انہیں خود سے بے خود کر دیتی ہیں۔ برسوں کے تجربے کے بعد بھی وہ خود کو بھی اور دوسروں کو بھی مصیبت میں مبتلا کر بیٹھتے ہیں۔ بنابریں انہیں دوسروں کا شیفتہ نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ صحیح، مستقل اور ایسی راہ حل تلاش کرنا چاہئے جو اس ملک اور اس قوم کے خاص حالات سے مطابقت رکھتی ہو اور اس کی اساس اسلام ہو۔ اسلام میں تمام مسائل کی راہ حل موجود ہے۔ اگر ہمارے اندر کج فہمی ہے، اگر ہم غلط سمجھتے ہیں، اگر ہم اس کو تلاش نہیں کرتے اور اس تک نہیں پہنچ پاتے تو اس میں اسلام کا کوئی قصور نہیں ہے، ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔ رکن پارلیمنٹ کو لالچی بھی نہیں ہونا چاہئے۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ دشمن کی طرف سے معمولی سی پیشکش بھی ہوئی تو اپنا سب کچھ چھوڑ بیٹھتے ہیں! اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ایم پی مرعوب ہونے والا، دشمن پر فریفتہ ہونے والا اور لالچی نہ ہو تو امین اور متدین فرد کو منتخب کریں۔ مشہور ہے کہ جو لوگ خود امین نہیں ہوتے جب وہ اپنی دولت و ثروت کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو اس کو کسی امین فرد کے پاس رکھتے ہیں۔ امانت داری بہت اہم ہے۔ ممکن ہے کہ متدین فرد سے کسی وقت غلطی ہو جائے لیکن جیسے ہی اس کو اپنی غلطی کا پتہ چلتا ہے پلٹ جاتا ہے۔ یہ بہت اہم ہے۔ یہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہوتا کہ غلطی کرتے ہیں، کھائی کی طرف بڑھتے ہیں، جہنم کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو یہ سمجھ جانے کے بعد بھی کہ غلط راستے پر جا رہے ہیں، اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں کہ نہیں یہی صحیح ہے اور پھر گہرائیوں میں چلے جاتے ہیں۔ بنابریں رکن پارلیمنٹ کا انتخاب بہت اہم ہے۔ انتخابی تشہیراتی مہم بھی ہے۔ افسوس کہ زندگی کے بہت سے امور میں مغربی روشیں جن میں یہ تشہیراتی مہم بھی ہے، اقوام کے نقصان میں ہیں۔ وہ خود بھی ان پروپیگنڈوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے ۔ امریکا کے ایک حالیہ الیکشن میں اتنی تشہیراتی مہم کے باوجود بتایا گیا کہ تیس بتیس فیصد لوگوں نے ووٹنک میں حصہ لیا۔ وہ خود بھی ان پروپیگنڈوں سے متنفر ہو چکے ہیں۔ لیکن بعض لوگ وہاں سے اس کو یہاں بھی لائے ہیں اور انہیں کے طریقے پر یہاں بھی پرپیگنڈہ مہم چلا رہے ہیں۔ ان پروپیگنڈوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ دیکھنا چاہئے، تحقیق کرنا چاہئے، صالح لوگوں کی جستجو کرنی چاہئے، تفتیش کرنی چاہئے اور اس طرح صحیح فرد تک پہنچنا چاہئے۔ وہ کوئی بھی ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ نے تحقیق کی اور تحقیق میں غلطی ہوئی تب بھی خداوندعالم آپ کو اس کا اجر دے گا۔ خدا اس کے لئے آپ سے مواخدہ نہیں کرے گا۔ تحقیق ضروری ہے اور یہ کام بہترین طریقے سے ہونا چاہئے۔ یہ عوام، حکومت اور متعلقہ حکام کا بڑا امتحان ہے۔ بعض امریکیوں نے ایک بار پھر مداخلت کی ہے اور انتخابات کے بارے میں بات کی ہے۔ ایک نے کہا ہے کہ ہم بہت توجہ کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید ہے کہ اس طرح کے لوگ پارلیمنٹ میں پہنچیں گے۔ عوام کو چاہئے کہ ان کو دنداں شکن جواب دیں۔ دوسرے نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے گئے ہیں ہم ان کا مسئلہ دیکھ رہے ہیں! ملک کے حکام کو اپنی آنکھیں بہت زیادہ کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہو رہا ہے کہ ہمارے دشمن، ایرانی عوام اور ایران کے دشمن ایک بار پھر اس ملک پر اپنا تسلط جمانے کے لئے متحرک ہو گئے ہیں۔ انہیں اس پر تشویش ہو رہی ہے کہ کس کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے اور کس کے مسترد نہیں ہوئے؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قانونی مراکز میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور قبول یا مسترد کئے جانے کا کام تسلط پسند طاقتوں کے مفادات کے منافی ہے؟ جو لوگ نہیں سمجھتے کہ کیا کہہ رہے ہیں اور ان کی باتوں پر ان کی توجہ نہیں ہے وہ زیادہ دقت نظری سے کام لیں۔ دشمن کا منہ کھل گیا ہے۔ کسی وقت یہ ملک اپنے تمام وسائل کے ساتھ امریکا اور اس کے کارندوں کے اختیار میں تھا۔ انقلاب آیا، حالات متغیر ہو گئے، عوام آزاد اور خود مختار ہو گئے، ملک خود مختار ہو گيا، ملک کے ذخائر اور ذرائع خود مختار ہو گئے۔ یہ گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ اس ملک پر اس کے ذخائر پر، اس  کے حیاتی ذرائع پر اور اس قوم پر ایک بار پھر اپنا تسلط جمائیں۔ عوام کو ہوشیار اور بیدار رہنا چاہئے۔ خدا کے فضل سے انتخابات میں عوام کی شرکت اور وہ بہترین انتخابات جو عوام منعقد کریں گے، امریکا اور سامراجی و صیہونی مراکز کو ایک بار پھر شکست دے کے ان کی اوقات بتادیں گے۔ آپ نے یہ کام جو شروع کیا ہے، عازمین حج کی خدمت، یہ بہت عظیم فریضہ ہے۔ دعا  ہے کہ خداوند عالم آپ کو اس میں توفیق عنایت فرمائے گا۔ ان شاء اللہ آپ کا حج، حج مقبول ہو، اس راہ میں جو زحمتیں اور محنتیں آپ کر رہے ہیں، خداوند عالم انہیں قبول فرمائے اور آپ اپنی روانگی سے بھی، وہاں (حج کے دوران) بھی اور اپنی واپسی سے بھی ملک میں معنوی اور  دینی فضا کی رونقیں بڑھائيں گے۔ و السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
2000/02/15

اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کی یونیورسٹی میں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد کی تقریب سے  خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم جن عزیزوں کے فارغ التحصیل ہونے کا جشن ہے اور جو عزیز نوجوان آج سے اپنے کندھوں پر بیج لگاکے علمی اور تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے ان سب کو اور اسی طرح  اس یونیورسٹی کے اساتذہ اور ذمہ دار عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے محنتیں کی، زحمتیں برداشت کیں، پلاننگ کی اور اپنی ان تمام محنتوں کا نتیجہ آپ کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ میں اسی کے ساتھ انیس بہمن مطابق آٹھ فروری کی بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ یہ دن اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور فضائيہ کے لئے بہت ہی یادگار دن ہے۔ میں فضائیہ کے عظیم شہیدوں، شہید ستاری، شہید بابائی اور دوسرے تمام شہیدوں کو جو اس ملک کی تاریخ کی یادگار ہستیاں اور آسمان افتخار کے روشن ستارے ہیں، ان پر دورود و سلام بھیجتا ہوں۔ انیس بہمن (مطابق آٹھ فروری) اور اس دن فضائیہ نے جو کام کیا ہے اس کا صحیح جائزہ لیا جائے تو اس دن اور تحریک سے متعلق بہت سے مفاہیم سامنے آئيں گے۔ اس دن فوج آکے عوام کے ساتھ اگلے محاذ پر کھڑی ہو گئی۔ انہیں اہداف، انہیں امنگوں، انہیں جذبات اور انہیں طریقوں کے ساتھ ۔ عوام تکلیف میں تھے۔ یہ عظیم انقلاب تھا جو عوام نے رنج و الم اور تکلیفوں سے نجات پانے اور مستقبل کی تعمیر کے لئے برپا کیا تھا۔ اس ملک پر مسلط حاکم کے  کالے استبداد سے عوام مصیبت میں تھے۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ صورت حال سلطنت کا لازمہ تھی۔ اس لئے نظام بادشاہی، مالکیت اور عوام کی زندگی کے تمام ستونوں کو اپنے چنگل میں لینے کا نظام اور اس کو برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ دوسرے یہ حکمراں طاغوتی خاندان استبداد اور خودسری کے ساتھ  اخلاقی کجروی اور  بدعنوانیاں پھیلانے میں مصروف تھا اور سب سے بدتر یہ تھا کہ اس نے ملک و قوم کو دشمنوں اور اغیار کے حوالے کر دیا تھا۔عوام کو اس کی بھی تکلیف تھی ۔ جب کوئی قوم کسی بیرونی طاقت کے ثقافتی، سیاسی، اقتصادی اور فوجی تسلط میں ہو تو ترقی کرنے اور اپنی امنگوں کی طرف آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔ ہر زندہ مخلوق نمو کے مراحل طے کرنا چاہتی ہے۔ آپ کسی پودے کا نمو روکنے کی کوشش کریں تو اس کے اطراف میں جو چیزیں آپ رکھتے ہیں انہیں توڑ کے اور پتھر میں سوراخ کرکے وہ پودا نمو حاصل کرتا ہے۔ انسان اور سماج بھی ایسا ہی ہے۔ تسلط پسند طاقتوں نے قوم کے جذبات و احساسات کو ختم کرنے کے لئے جو راستے سوچے ہیں، وہ اقوام کو بے حس، بے خود اور بد مست رکھنا ہے۔ فاسد اور مفسد پہلوی حکومت تمام وسائل کو بروئے کار لاکر یہ کام کر رہی تھی۔ عوام میں بے حسی، بیخودی اور غفلت پھیلا رہی تھی اور انہیں توہمات میں غرق کر رہی تھی۔ البتہ بعض اوقات ملمع کاری اور 'میک اپ' کے ساتھ یہ کام کئے جاتے تھے۔ اس زمانے میں فوج کو بھی اسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ فوج نے اس کو برداشت نہیں کیا اور حصار توڑ دیا۔ اس دن فضائيہ کے جوانوں کا علوی کالج میں آنا حصار توڑنے کے ہی مترادف تھا۔ میں اس دن علوی کالج میں موجود تھا اور نزدیک سے فضائیہ کے جوانوں کے اس کارنامے اور جوش وجذبے کا مشاہدہ میں نے کیا تھا۔ فوج کو اندر سے کھوکھلا کر رہے تھے۔ فوج ان کے جاہ و جلال اور ظاہری شان  و شوکت کے لئے تھی۔ فوج کو صرف  ظاہری شان و شوکت دے رکھی تھی۔ لیکن علم، ٹیکنالوجی اور فوجی وسائل کی تیاری کی کوئی خبر نہیں تھی۔ اس کی اجازت ہی نہیں تھی۔ اس زمانے میں بھی فضائیہ کے جوانوں کی استعداد و صلاحیت اج کے جوانوں کی طرح ہی تھی لیکن انہیں ان کاموں کی اجازت ہی نہیں تھی۔ انہیں ایک مخصوص دائرے میں اور ملک سے باہر مخصوص ماحول میں ٹریننگ اور تعلیم دی جاتی تھی۔ صرف فوجی معاملات میں ہی نہیں بلکہ ان کی ثقافت اور ان کے اعتقادات و نظریات میں بھی   معیارات اور طور طریقے غیر ملکیوں کے زیر اثر تھے۔ فوج کو جو چند فوجی وسائل   دیئے جاتے تھے (وہ بھی  ایسے تھے کہ خراب ہونے کی صورت میں فوجی انہیں ٹھیک نہیں کر سکتے تھے) جس فوج کے پاس ایسے اسلحے اور وسائل ہوں کہ ان کے پرزے ہل جائیں یا خراب ہو جائيں تو وہ انہیں ٹھیک نہ کر سکے تو وہ فوج کیا ہے اور کس حد تک خود مختار ہو سکتی ہے؟ صورتحال یہ تھی۔ اس زمانے میں یہ بات نہیں کی جاتی تھی کہ ایرانی فوج اپنے اسلحے اور وسائل خود تیار کرے اور اپنی تحقیقات کے نتائج سے استفادہ کرے۔ یہ بات ہرگز نہیں کی جاتی تھی۔ حتی یہ بات بھی نہیں کی جاتی تھی کہ جو جنگی طیارے یا راڈار یا جدید الیکٹرونک وسائل اس کے پاس ہیں انہیں اچھی طرح پہچانے۔ اس کی اجازت ہی نہیں تھی۔ یہ وہ پتھر، چٹانیں اور دیواریں تھیں جو فوج کی ترقی اور پیشرفت کو روکنے کے لئے کھڑی کی گئی تھیں۔ جس کے گرد بھی یہ حصار کھینچا جائے جب تک وہ بے حس اور بیخود ہے یہ حصار باقی رہے گا لیکن جب وہ ہوش میں آ جائے گا تو حصار توڑ دے گا اور رکاوٹیں ہٹا دے گا۔ یہی ہوا اور فوج حصار توڑ کے باہر آ گئی اور عوام کے ساتھ اگلے محاذ پر کھڑی ہو گئی ۔ عوام نے یہ حصار توڑ دیا اور وہ پردے ہٹا دیئے جو اس لئے لگائے گئے تھے کہ عوام حقیقت کو نہ دیکھ سکیں۔ جس چیز نے عوام کو بیدار کیا، وہ نام خدا، یاد خدا، اسلام اور وہ الہی و خدائی انسان (امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ) اعلی اسلامی اہداف اور اسلامی امنگوں کا زندہ ہونا اور مستقبل کی امید تھی۔ یہ راستہ عوام کے سامنے کھل گیا۔ حق تو یہ ہے کہ  مسلح افواج، فوج، پاسداران انقلاب فورس، عوام اور قوم کے مختلف طبقات گزشتہ بیس سال میں امتحان میں کامیاب رہے۔ ایرانی قوم آج تاریخ میں سرخ رو ہے۔   آپ جانتے ہیں کہ یہی ختم ہونے والی بیسویں صدی انقلاب کی صدی تھی۔ اس صدی کے دوسرے عشرے سے بلکہ اس کے پہلے ہی عشرے سے سماجی اور سیاسی انقلابات شروع ہوئے اور یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا۔ دسیوں حوادث رونما ہوئے، جو واقعی انقلاب تھے یا انہیں انقلاب کا نام دیا گیا۔ بعض فوجی بغاوتیں تھیں جن کو انقلاب کہا گیا۔ میں کسی ایسی قوم کو نہیں جانتا ہوں جس نے ایرانی قوم کی طرح پوری آگاہی، اصولوں اور امنگوں کے ساتھ، ایسی بیداری اور بہادری کے ساتھ اپنے راستے، اپنے کام اور اپنی امنگوں کا دفاع کیا ہو۔ یہ آپ سے مخصوص ہے۔ یہ مبالغہ اور بیجا تعریف نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ جس کو بھی گزشتہ سو سال کی رودادوں کی اطلاع ہو وہ گواہی دے گا کہ ایرانی قوم، بہت عظیم، دلیر اور قابل فخر قوم ہے جس نے ترقی اور پیشرفت کی ہے۔ اسی طرح جس کو بھی اطلاع ہو وہ جانتا ہے کہ ایرانی قوم کی طرح کسی بھی قوم کو دشمنوں کی وحشیانہ اور ایسی روشوں کا سامنا نہیں  کرنا پڑا ہے جو شرافت اور اخلاق کے تمام معیاروں اور اصولوں سے دور ہیں۔  دشمن ہمارے ساتھ اس طرح پیش آئے ہیں۔ ہم نے ان رکاوٹوں کو اپنے راستے سے ہٹا دیا اور پیشرفت کی۔  آج ہماری فوج ایک ترقی یافتہ، آگاہ اور صاحب علم و دانش فوج ہے۔ تحقیق و ریسرچ کی مالک ہے اور اسلحے نیز فوجی وسائل خود تیار کرتی ہے۔ آج ہماری فوج یک صالح فوج ہے۔ آج فوج میں ہمارے جوان مومن، صالح،  فداکار، دلیر اور قابل فخر ہیں۔ جو قوم بھی اپنی مسلح افواج کو ایسا پائے گی ، وہ خوشیوں سے سرشار ہو جائے گی۔ وہ قید و بند،  برائیاں اور رسوائیاں جو دوسری جگہوں پر دیکھنے میں آتی ہیں یا سنی جاتی ہیں،  الحمد للہ ہماری فوج اور مسلح افواج میں نہیں ہیں یا بہت کم ہیں۔   ہمارے عزیز جوانو! عزیز کمانڈرو! اس حالت کو ختم نہ ہونے دیں۔ جہاں بھی ہوں، فضائیہ میں ہوں ، بری فوج میں ہوں یا بحریہ میں ہوں، یا دیگر مسلح فورسز میں، پاسداران انقلاب اسلامی فورس میں، یا پولیس فورس میں یا دوسری جگہوں پر، جہاں بھی ہوں، پاکیزگی اور تقدس کی یہ کیفیت جو ہماری مسلح افواج میں وجود میں آئی ہے، اس کو کم نہ ہونے دیں، ہر قیمت پر اس کی حفاظت کریں۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو علمی مراکز میں ہیں آپ کے معلمین اور کمانڈر، سب اس بات کا خیال رکھیں کہ اس خلوص، نورانیت اور طہارت میں  روز افزوں اضافہ ہو۔ اس قوم کی مشکلات اس طرح دور ہوں گی، وہ اس راہ میں اپنے اہداف تک پہنچے گی اور سربلند و سرافراز ہوگی۔ کوئی بھی بڑی آرزو، صبر و تحمل، استقامت، انتھک کوششوں، توجہ، خدا پر توکل آلودگیوں سے دوری اور پاکیزگی و طہارت کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔ آج دنیا میں جو ترقی و پیشرفت اور پسماندگی پائی جاتی ہے اگر ان کا تجزیہ کریں اور ان کے علل و اسباب کا پتہ لگائیں تو دیکھیں گے کہ حقیقت یہی ہے۔ جہاں بھی کسی گروہ یا جماعت نے کوئی بڑا ہدف حاصل کیا ہے، وہاں یہ ضروری چیزیں موجود رہی ہیں، جد و جہد، استقامت، پائیداری اور روز مرہ کی زندگی میں رکاوٹیں بننے والی چیزوں سے دامن کو پاک رکھنا۔ اجتماعی کاموں میں اس طرح کی چیزوں میں جو انفرادی زندگی میں بہت اچھی اور ضروری ہو سکتی ہیں، لیکن جب امنگوں اور اصولوں کی بات ہو تو رکاوٹ بن جاتی ہیں، ایسی چیزوں میں غرق نہیں ہونا چاہئے۔ خدا وند عالم آپ کو توفیق عنایت فرمائے۔ فضائیہ کے تعلق سے میں دیکھتا ہوں کہ میری بہت سے آرزوئيں پوری ہو گئی ہیں؛ لیکن میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ ابھی بہت سی آرزوئيں ایسی ہیں جو آپ پوری کر سکتے ہیں۔ یہ ذاتی آرزوئیں نہیں ہیں۔ یہ اس قوم کی آرزوئیں ہیں، مسلح افواج کی آرزوئيں ہیں۔ آپ کو بہت کام کرنے ہیں، بہت محنت کرنی ہے۔ جد و جہد اور راہ خدا کو ترک نہ کریں؛ اس راستے پر آگے بڑھتے رہیں۔ جس طرح اس وقت نظر آ رہا ہے،  ان شاء اللہ اس کے بعد بھی جب بھی یہاں کا مشاہدہ ہوگا پہلے سے بہتر، زیادہ پیشرفت، زیادہ شکوہ اور معنوی لحاظ سے زیادہ عظمت کا مشاہدہ کیا جائے گا۔  و السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
2000/02/08

عوام کے مختلف طبقات کے اجتماع سے خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم  سبھی بہنوں اور بھائیوں، بالخصوص اس مجمع میں موجود شہیدوں کے لواحقین، جانبازوں ( ایران میں جانباز ان سپاہیوں کو کہا جاتا ہے جو انقلابی تحریک کے دوران یا جنگ میں جسمانی لحاظ سے معذور ہو گئے ہیں)  آزادگان (آزادگان آزادہ کی جمع ہے اور آزادہ اس سپاہی کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے دوران دشمن فوج کے ذریعے قیدی بنالئے گئے تھے)  اور ان تمام لوگوں کو جنہوں نے  دوسرے شہروں سے اور دور دراز کی مسافتیں طے کرکے یہاں تشریف لانے کی زحمت کی ہے،  خوش آمدد کہتا ہوں۔  آپ مومن، بیدار اور انقلابی  نوجوان اس ملک کا سرمایہ ہیں، خداوند عالم آپ کو  اس ملک کے لئے، اسلام اور مسلمین کے لئے محفوظ رکھے اور آپ کے لئے اپنے لطف و کرم میں روز افزوں اضافہ کرے۔    عشرہ فجر آگیا۔ یہ ایام ایرانی قوم کے لئے ناقابل فراموش ہیں۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے ایران آنے سے لیکر اس وقت تک جب اس ملک میں طاغوت کی کمر پوری طرح توڑ دی گئی، ایرانی قوم نے انتہائی پرشکوہ اور یادگار انقلابی ایام گزارے ہیں۔ عشرہ فجر ایرانی قوم کی اسی فداکاری، عظمت اور شکوہ کا مظہر ہے۔ اس عشرے میں  ایران کی بہادر، دلیر اور محکم و پائیدار قوم نے اپنی اور ایران بلکہ اسلام اور مسلمین کی  عزت و عظمت  کی بنیاد رکھی۔  بیس سال سے، عشرہ فجر شروع ہوتے ہی ایرانی قوم کی بے مثال مجاہدت کی یاد منائی جاتی ہے اور کتنا اچھا ہے کہ ان عظیم ایام میں باخبر اور وہ لوگ جو ان حوادث سے باخبر ہیں، انہیں مو بہ مو نئی نسل کے لئے بیان کرتے ہیں۔   میرے عزیزو! یہ بیس سال جو 1357 (ہجری شمسی مطابق 1979 عیسوی) کے عشرہ فجر سے شروع ہوئے، یہ بیس سال ایک طرف ایرانی قوم کے قابل فخر کارناموں اور اس کی صلاحیتوں میں نکھار آنے کے سال ہیں اور دوسری طرف اس بیس سال میں اس پر بے شمار مصیبتیں اور مشکلات بھی مسلط کی گئی ہیں۔ یہ مصیبتیں جو ہماری قوم پر مسلط کی گئيں، جن میں سے ایک آٹھ سالہ جنگ تھی اور اقتصادی، سیاسی اور تشہیراتی ناکہ بندی اور انواع و اقسام کے دباؤ ہیں جو بیس سال سے آج تک جاری ہیں، یہ کس لئے ہیں؟ سامراج، عالمی تسلط پسند حلقے اور دنیا کے بڑے سرمایہ دار جو بہت سے مغربی ملکوں پر حکومت کر رہے ہیں، ایرانی قوم کی جان کے درپے کیوں ہیں؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ اس دشمنی کی اصلی وجہ یہ ہے کہ ایرانی قوم نے اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کر دیا اور بتا دیا کہ وہ اغیار کے تسلط میں نہیں رہنا چاہتی۔ اس لئے کہ یہ قوم برسوں اغیار کے تسلط کے دردناک نتائج دیکھ چکی ہے۔ آج ایرانی قوم کی بہت سی پریشانیاں اغیار کے دور تسلط کی ہی دین ہیں۔ جب کوئی حکومت اور طاقت کسی قوم پر مسلط ہو جاتی ہے تو اس کی کسی چیز پر رحم نہیں کرتی۔ اس کی دنیا پر، نہ دین پر، نہ عزت و شرف پر، نہ ناموس پر، نہ سرمائے اور قومی ذخائر پر، نہ تیل پر اور نہ افرادی قوت پر، کسی پر بھی رحم نہیں کرتی۔ ان سب کو غارت اور  تباہ و برباد کر دیتی ہے۔  انہیں بربادیوں کے نتیجے میں ایرانی قوم آج تک مصیبتوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ ایرانی قوم نے اپنے انقلاب میں ایک بڑی بات کہی کہ ایران اور ایرانی اغیار کے تسلط میں نہیں جانا چاہتے۔ یہ غیر چاہے امریکا ہو، چاہے برطانیہ ہو اور چاہے روس ہو، کوئی بھی ہو، ایرانی آزاد اور خود مختار رہنا چاہتے ہیں۔ آزادی و خود مختاری چاہنے کی وجہ سے ہی وہ ایران کے دشمن ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایرانی قوم کی یہ حریت پسندی اسلام اور دینی جذبے کی وجہ سے ہے۔ اس لئے وہ اسلام کے دشمن ہیں۔ جو بھی اسلام سے زیادہ نزدیک ہو، اس کے اندر خودمختار رہنے کا جذبہ زیادہ قوی ہو، اس سے ان کی دشمنی زیادہ ہوتی ہے۔ بیس سال سے جاری یہ دشمنی یہ کینہ اور یہ بدخواہی انہی باتوں کی وجہ سے ہے۔ لیکن ایرانی قوم  نے اپنے استحکام، استواری اور استقامت سے دوسروں کو بھی درس دیا ہے۔ ہماری ایرانی قوم اور ہمارے عزیز نوجوان جان لیں کہ جو درس آپ نے دیا ہے وہ دوسری اقوام نے حاصل کر لیا ہے، صرف عوام نے ہی نہیں بلکہ ان کے دانشوروں نے بھی حاصل کر لیا ہے۔ ایرانی قوم کے رزمیہ کارنامے آج بہت سے ملکوں کی ادبیات، نثر  و نظم اور آرٹ میں جلوہ گر ہو رہے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ایرانی قوم نے اپنی استقامت اور شجاعت سے ثابت کر دیا کہ بڑی طاقتیں جتنا ظاہر کرتی ہیں، اتنی طاقتور نہیں ہیں۔ ان کی طاقت توپوں اور ٹینکوں کی طاقت ہے اور توپ اور ٹینک اقوام کے دل، جذبات اور ایمان سے جنگ نہیں کر سکتے۔ جب کوئی قوم استحکام کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو عالمی طاقتیں اس کے مقابلے کی تاب نہیں لا پاتیں۔ ایرانی قوم نے آج یہ بات ثابت کر دی ہے۔ ایرانی قوم نے بارہا اپنی استقامت اور پیشرفت سے دشمن کو عملی طور پر پسپا اور ناکام  کیا ہے۔ آج بھی ہمارے تسلط پسند دشمنوں کا اصلی مقصد یہی ہے۔ آج ایرانی قوم کی حیثیت سے ہم  پر افتخار راستے پر چل رہے ہیں، بڑے بڑے حوادث سے گزر رہے ہیں اور اپنی تاریخ کے اہم باب خود رقم کر رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں ایرانی عوام کے سامنے پارلیمنٹ کے انتخابات ہیں۔ انتخابات کے بارے میں میں سب سے بالخصوص آپ نوجوانوں سے کچھ باتیں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اگرچـہ ہمارے عوام بہت سے مسائل سے باخبر ہیں لیکن ان باتوں کی یاد دہانی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ الیکشن بہت اہم ہے۔ ایران قوم کے لئے بھی اہم ہے اور دشمن کے لئے بھی اہم  ہے۔ ایرانی قوم کے لئے کون سی چیز اہمیت رکھتی ہے؟ ایرانی عوام کے لئے یہ بات اہم ہے کہ ثابت کر دیں کہ بیس سال گزرنے کے بعد بھی  سیاسی میدان میں، پرشکوہ انداز میں اور جوش و خروش کے ساتھ موجود ہیں اور اپنے ووٹوں سے قانون ساز ادارے کے اراکین کو منتخب کریں گے۔ یہ الیکشن دشمن کے لئے کیوں اہم ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ الیکشن میں عوام کی مشارکت زیادہ نہ ہو تاکہ یہ کہہ سکے کہ عوام انقلاب اور اسلامی نظام سے نالاں ہیں۔ دوسرے دشمن چاہتا ہے کہ عوام اس کے شور شرابے، الزامات اور افواہوں سے متاثر ہو جائيں، دہشت زدہ ہو جائيں اور پارلیمنٹ میں اپنے حقیقی نمائندے نہ بھیج سکیں۔ پر فریب اور رنگارنگ پروپیگنڈوں کے زیر اثر اپنے دل پسند اور  قابل اطمینان افراد کو منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجنے میں ناکام رہیں۔ اسی لئے آپ نے دیکھا کہ حال ہی میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران کی پارلیمنٹ کیسی ہوگی۔ بہت خوب، دیکھو، انتظار کرو اور دیکھو کہ ایرانی  قوم ایک بار پھر کس طرح تمہیں دنداں شکن جواب دیتی ہے! البتہ میں نے اس سے پہلے بھی سنا تھا کہ انھیں لوگوں نے، جن میں زیادہ تر امریکی تھے، اور ان کے بعض زرخرید افراد نے کسی نشست میں کہا ہے کہ ہم ایران کے انتخابات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حضرت ایک بار پھر حماقت کر بیٹھے، خصوصی نشست کی بات برملا اور ایرانی عوام کے سامنے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی حقیقت بیان کر گئے۔ وہ مداخلت کرنا چاہتے ہیں، ان کی حریص نگاہیں گڑی ہوئی ہیں لیکن جان لیں کہ ایرانی عوام ہوشیار ہیں۔ سبھی  ہوشیار رہیں؛ ذمہ دار افراد بھی، سیاسی شخصیات بھی اور عوام بھی۔ انتخابات سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار افراد پوری ہوشیاری کے ساتھ اپنا کام اس طرح انجام دیں کہ ان کے کام میں معمولی سا بھی نقص نہ رہے۔ یعنی قانون کی پوری پوری رعایت کریں۔ میں وزارت داخلہ اور آئين کی نگراں کونسل، دونوں کا دفاع کروں گا۔ دونوں ہی اسلامی نظام کے اہم ادارے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے فرائض ہیں۔ وزارت داخلہ پوری طرح قانون کے مطابق عمل کرے اور عوام کے ووٹوں میں خیانت نہ ہونے دے۔ جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے ووٹ جمع کریں اور پوری امانت داری اور توجہ کے ساتھ ان کی گنتی کریں تاکہ نتیجہ معلوم ہو سکے۔ نگہبان کونسل بھی پوری توجہ اور دیانت داری کے ساتھ نگرانی کرے تاکہ انتخابات میں کسی بھی قسم کی کوئی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ یہ عوام کا حق ہے کہ نگہبان کونسل قوم کے بدخواہوں کو قانون ساز ادارے میں نہ پہنچنے دے۔ انقلاب کے بدخواہوں کو اور امام (خمینی رحمۃ اللہ علیہ)  کے بدخواہوں کو ملک کے قانون ساز ادرے میں پہنچنے سے روکے۔  یہ وہ پارلیمنٹ ہے جس کے انتخابات امام (خمینی رحمۃ اللہ علیہ) کی برسی کے موقع پر ہونے جا رہے ہیں۔ نگراں کونسل اور وزارت داخلہ، دونوں اداروں کو اس تعلق سے اپنے فرائض پر عمل کرنا چاہئے۔ ہم سب کو دعا کرنا چاہئے اور خداوند عالم سے ان کے لئے توفیق اور نصرت طلب کرنا چاہئے۔ سیاسی شخصیات اور عوام کے لئے یہ بات اہم ہے کہ انتخابات ایسے ماحول میں انجام پائيں جس میں جوش و خروش اور زندگی و نشاط کے ساتھ ہی سکون اور متانت بھی ہو۔ یعنی جوش و خروش ہو، کشیدگی نہ ہو، بلکہ متانت اور سکون ہو۔ انتخابات کے لئے یہ ماحول اچھا ہے۔ جو بھی اس طرح عمل کرے وہ خدمت کرےگا۔ جو بھی اس کے برعکس عمل کرے، یا عوام کو انتخابات سے بدظن کرے یا انتخابات کے نتائج کی جانب سے انہیں مایوس کرے، یا ماحول کو  بے جا الزامات، افواہوں اور جھوٹے تنازعات کے ذریعے پرآشوب کرے امن و سکون ختم کرے، وہ خیانت کرے گا، وہ  جو بھی ہو خائن ہوگا۔ سب اس کو جان لیں۔ عوام غور سے دیکھ رہے ہیں اور ان معاملات میں، دوستوں، دشمنوں، خیرخواہوں اور بدخواہوں کو پہچانتے ہیں۔ خیرخواہ وہ ہے جو ماحول میں جوش و خروش کے ساتھ ہی امن و سکون باقی رکھے۔ انتخابات کے لئے ماحول کو سازگار بنائے اور ایسا ماحول تیار کرے کہ عوام انتخابات میں شرکت کریں۔ ان شاء اللہ ان انتخابات میں اس سے پہلے کے انتخابات سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ عوام شرکت کریں گے۔ بدخواہ وہ ہے جو طعنے دیتا ہے اور عوام کو بدظن کرنے کی کوشش کرتا ہے، ماحول کو کشیدہ بناتا ہے یعنی تہمت لگانے، بدگمانی پیدا کرنے اور سیاسی کشیدگی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بہت برے کام ہیں۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیشہ لڑائی جھگڑا رہے۔ کیوں لڑائی رہے ؟ عوام آپس میں لڑکے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ عوام کی آرزوئیں اور خواہشات اتحاد، ہمدلی اور یک جہتی سے پوری ہوتی ہیں۔ بعض لوگ عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے برائی کیوں پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ دلوں میں کینہ کیوں پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ ایک دوسرے کے خلاف مستقل طور پر الزام تراشی کی فضا کیوں وجود میں لانا چاہتے ہیں؟ اس سے خلوص، امانتداری اور صداقت سے ہاتھ خالی ہو جانے کے علاوہ عوام، مملکت، مستقبل اور ںظام کو کیا حاصل ہوگا؟ وہ لوگ کچھ بولنا چاہتے ہیں تو اس طرح بولتے ہیں اور اس طرح لکھتے ہیں۔ ملک کے ماحول میں جوش و جذبہ اور ہمدلی پیدا کریں؛ یہ سب کا فریضہ ہے۔ عوام کا بھی شرعی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ انتخابات میں جو وقت باقی بچا ہے اس میں امیدواروں کے بارے میں جستجو کریں اور اپنے پسندیدہ امیدوار کا انتخاب کریں تاکہ جب خدا کے سامنے ان سے سوال کیا جائے کہ تم نے قانون ساز ادارے میں ان صاحب یا اس خاتون کو اپنا نمائندہ بناکے کیوں بھیجا تھا تو جواب دے سکیں کہ میری نظر میں ان کو اپنا نمائندہ بنانا مناسب اور مصلحت کے مطابق تھا۔ الیکشن، فریضہ ہے۔ الیکشن ایک بہت بڑا کام، ایک شرعی اور خدا کے لئے انجام پانے والا کام ہے۔ جستجو کیجئے اور اس کام کے لئے مناسب افراد کا انتخاب کیجئے۔ مناسب فرد کیسا ہوتا ہے؟ کارآمد ہو۔ یہ میرا بیس سال کا تجربہ ہے۔ صرف کارآمد ہونا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس کو متدین بھی ہونا چاہئے۔ متدین انسان سے خیانت کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ متدین افراد سے اگر کبھی کوئی لغزش ہوتی ہے تو پہلے ان کا تقوی ختم ہوتا ہے اس کے بعد یہ لغزش ان کے پاس پہنچتی ہے۔ لہذا اس کو متدین اور متقی دونوں ہونا چاہئے تاکہ اس مملکت کے امور میں آپ اس پر اعتماد کر سکیں۔ اسی طرح اس کو دلیر اور بہادر بھی ہونا چاہئے جو لوگوں کے طعنوں، دھمکیوں، ملکی اور غیر ملکی متکبرین اور تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے والا ہو۔ دھمکیوں سے جس کا دل لرز جائے، دستخط کرتے وقت جس کا ہاتھ کانپنے لگے، آگے بڑھنے میں جس کے پیر لرزنے لگیں اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندے کو شجاع، باشرف، امین اور کمزور طبقات کا طرفدار ہونا چاہئے۔ قانون کو ایسا ہونا چاہئے جو کمزوروں کا دفاع کر سکے۔ جس قانون سے پیسے والے مزید دولتمند بنیں وہ اسلامی مملکت کا قانون نہیں ہو سکتا۔ قانون ایسا ہونا چاہئے جو مشکلات اور محروم طبقات کے مسائل کو حل کر سکے۔ رکن پارلیمنٹ ایسا فرد ہونا چاہئے جو ان باتوں کو سمجھ سکے۔ حتی المقدور تجربہ کار افراد کا انتخاب کریں۔ ان بڑے کاموں میں تجربہ بہت اہم ہے۔ جستجو کیجئے، ان افراد کو تلاش کیجئے جن کے اندر یہ خصوصیات ہوں۔ متدین، پاکدامن، کارآمد، شجاع اور قوت استقامت کا مالک فرد اگر قانون ساز ادارے میں جائے تو ہمارا بیس سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ وہ حساس مواقع پر عوام اور ملک کے مفاد میں کام کر سکتا ہے۔ اس طرح کے افراد اہم ہوتے ہیں۔ البتہ ملک میں کہیں سے بھی منتخب ہوکے کوئی فرد جب پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرتا ہے تو وہ پورے ایران کا نمائندہ ہوتا ہے صرف اس مخصوص جگہ کا نہیں جہاں سے اس کو منتخب کیا گیا ہے۔ لہذا اس کو پورے ملک کی مصلحت کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ اس بات پر بھی توجہ رکھیں۔ جستجو کریں اور ایسے افراد کو تلاش کریں اور ان کی شناخت حاصل کریں۔ اگر آپ خود اچـھی طرح جستجو کرنے اور پہچاننے سے قاصر ہوں تو امین اور متدین افراد سے جو آپ کے لئے قابل اعتماد ہوں، سوال کریں۔ خدا کے فضل سے مجھے امید ہے اور میں جانتا ہوں کہ انقلاب سے لے کے آج تک خدا نے  اس قوم کو اس کے حال پر چھوڑا نہیں ہے۔ ایک بار امام (خمینی رحمۃ اللہ علیہ) نے مجھ سے فرمایا اور میں نے خود بھی بارہا تجربہ کیا ہے کہ دست قدرت اور اس کی نصرت کا سایہ اس قوم کے سر پر ہے۔ یہ خلوص، یہ نیتوں کی پاکیزگی، یہ تمام طبقات کے لوگوں کے دلوں کی نورانیت جو بالخصوص، پورے ملک کے نوجوانوں کے دلوں میں پائی جاتی ہے، یہ رحمت الہی کے نزول کا ذریعہ بنتی ہے، حضرت بقیۃ اللہ (امام مہدی ) ارواحنا فداہ کی دعاؤں، عنایات اور نظر کرم کی برکت سے، خداوند عالم ان انتخابات کو بھی ان شاء اللہ اسلام اور مسلمین کے فائدے میں تکمیل کے مراحل تک پہنچائے گا، انقلاب کی سربلندی اور اسلامی انقلاب کے اہداف پورے ہونے کا سبب قرار دے گا اور ان شاء اللہ آئندہ پارلیمنٹ بہت اچھی ہوگی۔ جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ سب انتخابات میں شرکت کو اپنا فریضہ سمجھیں، ملک میں ہر جگہ عوام انتخابات میں بھر پور شرکت کریں اور ندائے انقلاب، ندائے اسلام اور ندائے امام (خمینی رحمۃ اللہ علیہ) پر لبیک کا ثبوت دیں تاکہ خداوند عالم شہیدوں کی ارواح پاک اور ان کے طیب و طاہر خون کی برکت سے اس قوم کی اس راہ پر چلنے کی ہدایت فرمائے جو صحیح اور اس کی مرضی کے مطابق ہے۔ و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
2000/02/02

اسلامی نظام کے حکام اور کارکنوں کے اجتماع سے خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیۃ اللہ فی الارضین قال اللہ الحکیم فی کتابہ:اذ جعل الّذین کفروا فی قلوبھم الحمیّۃ حمیّۃ الجاھلیّۃ فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ و علی المومنین و الزمھم کلمۃ التّقوی و کانوا احقّ بھا و اھلھا و کان اللہ بکلّ شیء علیما۔ جلسہ بہت ہی معطر اور منور ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ رمضان المبارک کے ایام ہیں، رمضان میں ہماری زندگی کی فضا پر رحمت الہی کی بارش ہوتی ہے، جو ان آلودگیوں، گندگیوں اور برائیوں کے اس زنگ کو جو ہم خود اپنی زندگی اور اپنے دلوں میں پیدا کر دیتے ہیں، دھو دیتی ہے اور ہمارے دلوں کی صفائی کرکے اس کو منور کر دیتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس جلسے میں وہ لوگ ہیں جو یہ توفیق رکھتے ہیں کہ اگر ان شاء اللہ جو کام کر رہے ہیں، صحیح نیت کے ساتھ ہو، خدا سے امید ہے کہ ایسا ہی ہوگا، تو خدا کے بہترین بندوں کی صف میں قرار پائیں گے۔ جو کام آپ کر رہے ہیں وہ بہت اہم ہے۔ آپ کے کام کے اثرات بہت گہرے اور وسیع ہیں۔ لہذا ان شاء اللہ اگر نیت وہی ہو جو ہونی چاہئے تو آپ کا موازنہ اسی وجہ سے جو میں نے عرض کی، عام لوگوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ آپ موثر، مومن، اس ملک اور نظام کے مسائل کے ماہر ہیں، رمضان کے مبارک مہینے میں، روزے کی حالت میں، روزے داری کی معنویت سے معطر سانسوں کے ساتھ یہاں جمع ہوئے ہیں، لہذا یہ جلسہ بہت اہم ہے۔  میں نے گزشتہ سال اس جلسے میں "سکینہ" کے بارے میں کچھ باتیں عرض کی تھیں۔ حکام میں اس "سکینہ" یعنی اطینان، سکون، عدم اضطرات اور عدم تلاطم کا اثر یہ ہے کہ اگر کوئی مشکل در پیش ہو تو وہ اس سکون کے سائے میں صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں۔ حوادث کے موقع پر مضطرب، پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ سختیوں اور دشوار حوادث کا چٹان اور پہاڑ کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور کوئی بڑی کامیابی مل جانے اور خوشیوں کے مواقع پر بھی ہوش و حواس بجا رکھتے ہیں۔ یہ موثر انسانوں کے لئے خطرناک بات ہوتی ہے کہ جیسے ہی کوئی مشکل یا کوئی مہم در پیش ہو یا  کامیابی مل جانے کا احساس ہو تو انسان ہوش و حواس کھو بیٹھے۔ جلد بازی میں فیصلے کرے۔ دوسروں کی تذلیل کرے، خود سری بڑھ  جائے۔ اگر  'سکینہ' ہو یعنی اطمینان اور وقار الہی ہو تو انسان اس چیز سے بچتا ہے؛ یعنی اس سے ایسے کام سر زد نہیں ہونے دیتا جو چھوٹے اور ایسے انسانوں کا لازمہ اور علامت ہیں جو معمولی سی بھی ہوا سے سوکھی گھاس پھوس کی طرح اڑنے لگتے ہیں۔ جن انسانوں ميں 'سکینہ' ہوتا ہے وہ گہرے سمندر کی طرح ہوتے ہیں اور ہر نسیم اور ہر ہوا ان کے اندر طوفان نہیں پیدا کر سکتی۔ غربت میں، امیری میں، تنہائی کے عالم میں اور اس عالم میں بھی جب لوگوں کا اژدہام ساتھ ہو، یہ 'سکینہ' انسان کے کام آتا ہے۔  قرآن کریم میں بار بار 'سکینہ' کا ذکر آیا ہے اور میں نے گزشتہ سال بھی اس سلسلے میں کچھ باتیں عرض کی تھیں۔ یہ ہمارے حکام کا 'سکینہ' ہے جس نے اپنے وجود کا ثبوت دیا ہے۔ اقتصادی آمدنی میں کمی آئی، اقتصادی مشکلات در پیش ہوئيں، سیاسی مشکلات سامنے آئیں، سیکورٹی کے مسائل پیدا ہوئے۔ آپ نے دیکھا کہ اس سال موسم گرما میں دشمنوں نے اسی تہران میں کیسا طوفان حوادث کھڑا کیا۔ اگر انسان میں 'سکینہ' اطمینان، سکون، خدا پر اعتماد اور توکل، مستقبل اور حق پر یقین نہ ہو تو اس قسم کے حوادث پر اس کے ہاتھ پاؤں پھول جائيں۔ خاص طور پر اگر اس کو معلوم ہو کہ یہ حوادث ایسے ہیں جن کی دشمن نے منصوبہ بندی کی ہے۔ جو بعید نہیں ہے اس کے قرائن موجود ہیں۔ دشمن نے امام (خمینی رحمۃ اللہ علیہ) کی رحلت کے بعد دس سالہ منصوبہ بندی کی تاکہ ان دس برسوں میں نتیجے تک پہنچ جائے۔ شاید ہماری اقتصادی مشکلات، تیل کی قیمتوں کا گرنا، سیاسی مسائل، بعض ثقافتی مشکلات، اقتصادی پریشانیاں اور سیکورٹی سے متعلق بعض مسائل دشمن کی اس منصوبہ بندی سے کا حصہ ہوں۔ اگر یہ فرض کریں، جس کے شواہد بھی موجود ہیں، تو یہ آپ حکام کا، ان حضرات اور احباب کا جو یہاں موجود ہیں، 'سکینہ' ہی تھا (جو اس موقع پر ظاہر ہوا)۔ لیکن عوام کا 'سکینہ' کیا ہے؟ عوام کو بھی سکون اور اطمینان کی ضرورت ہے۔ ممتاز لوگوں کا یہ 'سکینہ' عام لوگوں تک کیسے پہنچایا جائے؟ البتہ ہمارے بہت سے عوام کا ایمان بہت اچھا، شفاف اور روشن ہے۔ عوام نے ثابت کیا ہے کہ ان کے اندر مشکلات سے نمٹنے کی حقیقی توانائی موجود ہے۔ یہ وہ توانائی ہے جس کا سرچشمہ دین اور ایمان ہے۔ لیکن وہ جماعت جو امور مملک و ملت چلانے کی ذمہ دار ہے، وہ اس معاملے سے خود کو الگ نہیں کر سکتی۔ ہمارے تمام فرائض اقتصادی اور سیاسی فرائض تک ہی محدود نہیں ہیں۔ عوام کے معنوی امور سے متعلق بھی ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ اگر لوگ اخلاقی اور روحانی امور میں پیچھے کی طرف واپس جائيں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ معاشرے میں کوئی بھی اس کے لئے جواب دہ نہیں ہے۔ اب اگر یہ طے ہو کہ اس معاملے میں بھی کوئی جوابدہ ہے، تو یہ جوابدہی کس کی ہے؟ یقینا ملک کے حکام اس قضیے سے خود کو الگ نہیں کر سکتے۔ ہر ایک اپنے اپنے طور پر اس کا ذمہ دار ہے۔ بنابریں عوام نیچے سے لیکر اوپر تک عوام کے سبھی طبقات کے معنوی امور کی ذمہ داری بھی ملک کے حکام کے کندھوں پر ہے۔ یہاں ایک اور عنصر بھی سامنے آتا ہے اور میں نے جس آیہ کریمہ کی تلاوت کی ہے اس کے ذریعے اسی عنصر کی طرف اشارہ مقصود ہے جو 'سکینہ' سے جڑا ہوا ہے اور وہ ہے 'تقوا'۔ اس آیہ کریمہ میں محاذ کفر اور محاذ ایمان کے درمیان مقابلہ ہے۔ محاذ کفر کے لئے جاہلانہ حمیت اور تعصب کا ذکر کیا گيا ہے۔ یہ حدیبیہ اور اس کے بعد کے واقعات سے تعلق رکھتا ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات طیبہ کے انتہائی اہم امتحانات میں شمار ہوتے ہیں۔ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور مسلمان مکہ جانے کے ارادے سے حدیبیہ گئے اور حدیبیہ میں قیام کیا تو دشمن ان پر جنگ مسلط کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تدبیر الہی نے اس کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ مسلمان بغیر جنگ کے واپس ہوئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مشرکین سے ایک معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ اتنا اہم تھا کہ بعض روایات کے مطابق آیہ کریمہ 'انا فتحنا' اسی معاہدہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی اور اس کو فتح مبین کہا گیا۔ 'انا فتحنا لک فتحا مبینا' یعنی یہی صلح حدیبیہ۔ خداوند عالم آیات قرآن کریم میں مسلمانوں کے لئے حالات کی وضاحت فرماتا ہے اور محاذوں کا تعین کرتا ہے۔ اسلامی نظام میں جس بات پر ہمشیہ توجہ رکھنے کی ضرورت ہے وہ محاذوں کا مشخّص ہونا ہے۔ محاذ حق اور محاذ باطل کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ہے۔ ممکن ہے محاذ باطل سے صلح کی جائے، کوئی حرج نہیں ہے۔ ممکن ہے کسی موقع پر اس سے آشتی کی جائے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن زنہار! ان دونوں محاذوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والے خطوط کبھی نہیں مٹنے چاہئں۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ حق کون ہے اور کہاں ہے؟ وہ کیوں اور کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس کا ہدف، روش، تدبیر اور طرز عمل کیا ہے؟ باطل کون اور کیا ہے؟ اس کا ہدف کیا ہے اور وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس کی طرف سے غفلت نہیں ہونی چاہئے۔ حق اور باطل کے درمیان اس فرق اور حد بندی کی طرف سے غفلت محاذ حق کے فائدے میں نہیں ہے۔ کوئی بھی اہل حق کی اس بات پر تحسین اور تعریف نہیں کرےگا کہ انہیں یہ نہ معلوم ہو کہ وہ حق پر کیوں ہیں، انہیں کیا کرنا چاہئے اور ان کے مقابلے پر کون ہے؟ ان کے دشمن بھی اس بات پر ان کی تحسین نہیں کریں گے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) نے حق اور باطل کے درمیان فرق اور سرحدیں واضح کر دی ہیں۔ آپ پہلے کفار کی حالت واضح کرتے ہیں۔ یعنی اس مقابل محاذ کی حالت واضح کرتے ہیں کہ جس میں رخنہ ڈال کر اور جس کو پیچھے دھکیل کے اپنی حقانیت کا دائرہ وسیع کرنا آپ کی بعثت، آپ کے ظہور، آپ کے نظام اور آپ کے جہاد کا مقصد ہے۔ محاذ کفر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ محاذ کفر کو جو دعوت حق کے مقابلے پر آنے والوں کا محاذ ہے، واضح ہونا چاہئے۔ یہ بات بھی واضح ہونی چاہئے کہ حق، محاذ کفر کے ساتھ کیا کرتا ہے؟ در اصل دیکھنا یہ چاہئے کہ حق کیوں آیا ہے؟ خداوند عالم نے اپنے پیغمبروں کو دعوت حق کا حکم کیوں دیا ہے؟ پیغمبران الہی دعوت حق کیوں دیتے ہیں؟ پیغام حق جو انسانوں کی نجات کا پیغام ہے، اگر اس کا کوئی فلسفہ، حکمت اور لازمہ ہے پیغام لانے والوں پر جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے بعد وہ سلسلہ ہے جو تا ابد باقی رہے گا، اگر اس پر اس پیغام کے تعلق سے کچھ ذمہ داریاں ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس محاذ حق کا ہدف کیا ہے اور یہ محاذ اپنے ہدف تک کس طرح پہنچنا چاہتا ہے؟  انسانوں کو نجات کس چیز سے حاصل ہوگی؟ صرف نصیحت اور موعظے سے تو حاصل نہیں ہو سکتی۔ لہذا محاذ حق یعنی تمام انبیا جس دور میں بھی انہیں موقع ملا، (عوام کے درمیان) آئے، قدم آگے بڑھایا اور جو کام کیا وہ یہ تھا کہ انھوں نے انسانوں کے اذہان میں اور ان کی زندگی میں ان حقائق کو مجسم کیا جن کا جاننا انسانوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ نجات اور فلاح سے نزدیک تر ہو سکیں۔ یہ محاذ حق کا کام ہے۔ اس کے لئے مجاہدت کی ضرورت ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ حق کی حقانیت کے مقابلے میں مخالف موجود ہے۔ اگر حق انسانوں کی نجات کی بات کرتا ہے تو کچھ ایسے بھی ہیں جو انسانوں کی گرفتاری اور اسیری بھی چاہتے ہیں۔ حق اگر عدل و انصاف کی بات کرتا ہے تو اس کے مقابلے میں کچھ لوگ عدل و انصاف کے مخالف یا ظلم کے طرفدار ہیں۔ حق اگر خدا کی پرستش کی دعوت دیتا ہے تو کچھ لوگ خدائی کے دعویدار ہیں اور خدا کے وجود اور اس کے سامنے جھکنے کے منکر ہیں۔ فطری طور پر یہ سب مخالفت کریں گے۔ مخالفین کے مقابلے میں مجاہدت کے بغیر نہ اس پیغام کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ذہنوں میں حقیقت کو مجسم کیا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کفار کی صورتحال مشخص فرماتے ہیں۔ مومنین میں جو لوگ کمزور ہیں ان کی حالت بھی مشخص کرتے ہیں۔ یعنی جو آدھے راستے پر ہیں، چاہے منافق ہوں یا وہ لوگ حقیقی معنی میں منافق نہیں ہیں اور ایسا نفاق نہیں رکھتے کہ منافقت کریں، لیکن ان کی طبیعت میں تزلزل پایا جاتا ہے۔ اسلام ان لوگوں کو بھی مومن اور مستحکم مسلمانوں میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ کچھ مسلمان ڈر کی وجہ سے رسول کے ساتھ جنگ حدیبیہ میں شرکت کے لئے  نہیں گئے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ اگر ہم گئے تو کفار رسول اور ان کے ساتھ جو لوگ ہیں ان کو ختم کر دیں گے (اور ہم بھی مار دیئے جائيں گے)۔ جب رسول واپس آئے تو وہ لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ کچھ مشکلات آ گئی تھیں، کام پیش آ گیا تھا، اس وجہ سے ہم نہیں آ سکے۔ آپ خدا سے ہمارے لئے مغفرت طلب کریں! خود یہ الفاظ بھی ایک طرح سے  دکھاوے کے لئے تھے۔  وہ در اصل خدا کی مغفرت بھی نہیں چاہتے تھے۔ سوچتے تھے کہ انھوں نے چالاکی کی ہے  جو نہیں گئے۔ قرآن کریم کی آیہ کریمہ کہتی ہے  'سیقول لک المخلفون من الاعراب شغلتنا اموالنا و اھلونا فاستغفر لنا، یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم' وہ زبان سے جو کہہ رہے ہیں وہ ان کے دل میں نہیں ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ منافق، کافر اور دشمن ہیں۔ نہیں، کمزور انسان، جن کا باطن کمزور ہو اور جن کا دل کمزور ہو وہ مشکلات کے وقت کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ یہ وہ معنوی اور دینی امور ہیں جن کے تعلق سے اسلامی نظام، اسلامی معاشرے، اسلامی حاکم اور اسلامی حکام پر کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ میرے عزیز دوستو! بھائیو اور بہنو! ہم کب کچھ کر سکتے ہیں؟ جب 'والزمھم کلمۃ التقوا' تقوا اختیار کریں، تقوے کو کلمہ حق اور مستقل فریضہ سمجھیں۔ اپنے قول و فعل میں، اپنے فیصلوں میں اپنے ماتحت افراد کے ساتھ برتاؤ میں اور جہاں ہم کام کرتے ہیں (اپنے دفتر میں)، وہاں تقوے پر توجہ دیں۔ یہ ان کے لئے درس ہے اور ان کا طرز عمل عوام کے لئے درس ہے۔ جن امور میں ہم انقلاب کے بعد سے آج تک تمام تر کوششوں کے باوجود مناسب پیشرفت نہیں کر سکے ہیں، ان میں سے ایک اسلامی جمہوریہ کے اہداف سے مطابقت رکھنے والا دفتری نظام ہے۔ اسلامی جمہوریہ کا مقصد یہ ہے کہ ایرانی عوام کم سے کم پہلے مرحلے میں نجات یافتہ ہوں۔ انہیں معنوی نجات، سیاسی نجات، سماجی نجات، انفرادی نجات اور بیرونی بندشوں سے نجات حاصل ہو۔ ان بندشوں سے انہیں نجات ملے جو انہیں آگے بڑھنے سے روکتی ہیں۔ اس کے برعکس کچھ قید و بند اور بندشیں ایسی ہیں جو پیشرفت اور آگے بڑھنے میں ان کی مدد کرتی ہیں جیسے خدا کی عبادت اور بندگی، یہ باقی رہیں۔  نماز بھی ایک پابندی ہے، لیکن معراج المومن ہے۔ یہ بندگی اور اسیری انسان کو معراج عطا کرتی ہے اور گناہوں اور آلودگیوں سے پاک کرتی ہے۔ یہ نجات کب حاصل ہوگی؟ امور مملکت چلانے والا دفتری نظام اس میں موثر ہو سکتا ہے؟ بہت زیادہ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سلسلے میں ہم نے کم کام کیا ہے۔ نہیں بہت کام کیا ہے لیکن پیشرفت کم ہوئی ہے۔ حال حاضر میں بھی اگر چہ مسلسل کہا جا رہا ہے اور سبھی کہتے ہیں لیکن اس کے باوجود عمل میں وہ سعی و کوشش نظر نہیں آ رہی ہے جو ہونی چاہئے۔ یہ ہمارے  نقائص میں سے ہے۔ متعلقہ ذمہ دار عہدیداروں کو اس سلسلے میں کام کرنا چاہئے۔ جہاں تک نصیحت اور یاد دہانی کا تعلق ہے وہ میں کر رہا ہوں۔ البتہ یہ کافی نہیں ہے۔ یہ نصیحت اور یاد دہانی خود میرے اپنے لئے اور آپ  کے لئے ہے۔ بھائیو اور بہنو! آپ جہاں بھی ہیں جس عہدے پر بھی ہیں خیال رکھیں کہ آپ کا ایک چھوٹا سا عمل، ایک بات، ایک اقدام دائمی اثر مرتب کر سکتا ہے۔ عوام کی زندگی میں اس کی  وسیع تاثیر ہو سکتی ہے۔ برسوں سے میں شان و شوکت کی زندگی کے تعلق سے مسلسل نصیحتیں کر رہا ہوں۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو، پر تعیش زندگی کی عادت ہے۔ یہ بری بات ہے اور اعلا انسانوں کی شان کے خلاف ہے۔ یعنی انسان  کسی غیر ضروری چیز کا پابند ہو جائے، یہ انسان کی شان کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اسراف بھی ہے۔ سرمائے اور دولت کی تضییع بھی ہے۔ یہ اس مسئلے کا ایک پہلو ہے کہ اسراف ہے اور اسراف بری چیز ہے۔ یہ اسراف کے ساتھ تجمل پرستی اور بری چیز ہے۔ اس کا دوسرا پہلو بھی ہے جس کی اہمیت  پہلے سے کم نہیں ہے اور وہ عوام کی زندگی میں تجمل پرستی کا انعکاس ہے۔ بعض لوگ اس کی طرف سے غافل ہیں۔ جب آپ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اپنے کمرے، اپنے دفتر، اپنے آفس اور زندگی کی شان و شوکت پیش کریں گے تو یہ عملی درس ہوگا، جو بھی اس کو دیکھے گا، اس کا اثر قبول کرے گا۔ کم سے کم اس کا خیال رکھا جائے۔ تجمل پرستی اور تعیش کی عادت نہ ڈالی جائے، تجمل پرستی کا ماحول نہ پیش کیا جائے۔ کیونکہ اگر ہم نے معاشرے میں تجمل پرستی کو رواج دیا، افسوس کہ بہت حد تک یہ بات رائج ہو چکی ہے، تو اس صورت میں ملک کی بہت سی اقتصادی،  سماجی اور اخلاقی مشکلات حل نہیں ہو سکیں گی۔  تجمل پرستی اور اشرافیہ کلچر کے رجحان کے نقصانات اور خطرات بہت زیادہ ہیں۔ اس صورت میں سماجی انصاف کبھی بھی قائم نہیں ہو سکے گا۔ برادری، باہمی الفت اور ہمدلی کا جذبہ جو ہر ملک اور معاشرے کے لئے بالخصوص ہمارے ملک کے لئے ہوا اور پانی کی طرح حیاتی اہمیت رکھتا ہے، پیدا نہیں ہو سکے گا۔ یہ عوام میں ہمارے اور آپ کے طرزعمل، باتوں اور اقدامات کے اثرات ہیں۔ یہ بات ہمارے لئے تقوے کی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ یہ جو میں ان دنوں مسلسل حکام کی باہمی ہمدلی کی سفارش کرتا ہوں، یہ اس لئے ہے کہ مختلف دھڑے، تحریکیں اور ان کی پیروی کرنے والے، سب جان لیں کہ یہ باتیں جو ان کے درمیان ہیں، حکام میں نہیں ہیں۔ حکام کے کام کرنے کے طریقوں میں فرق ہو سکتا ہے، یہ نہیں ہے کہ نہ ہو، لیکن کام کرنے کے طریقے اور سلیقے کے فرق کو کشمکش کا بہانہ قرار دینا دوسری بات ہے۔ یہ دوسری بات یعنی کشمکش عوام کی زندگی میں تلخیاں گھول دے گی۔  بہرحال اس آیہ کریمہ اور بہت سی دوسری آیات سے ہمیں یہ معلوم  ہوتا ہے کہ تقوا ایک وسیلہ بھی ہے اور راہ علاج بھی ہے۔ صرف فریضہ اور واجب نہیں ہے۔ صرف یہی نہیں ہے کہ خداوند عالم حساب کتاب کے وقت ہم سے تقوے کے بارے میں سوال کرےگا۔ البتہ اگر ہم سمجھیں اور توجہ دیں تو یہ بھی بہت عظیم بات ہے۔ ہم جو ذمہ دار ہیں، حساب الہی، حساب الہی کی سختی اور یوم الحساب کے خوف سے غافل ہیں اور جتنی ہماری ذمہ داری بڑھے گی یہ خطرہ بھی اتنا ہی زیادہ سںگین ہوگا۔ ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اگر خداوند عالم اپنے فضل، رحمت اور مغرفت کے ساتھ ہم سے نہ پیش آیا تو ہمارا معاملہ بہت سخت ہو جائے گا۔ ہم جو خرچ کرتے ہیں، جو چيزیں استعمال کرتے ہیں، اپنے سامنے والے اور عوام سے جس طرح پیش آتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا خدا کے سامنے حساب دینا ہوگا۔ حساب الہی اور خدا کے سامنے اپنے مواخذے کی فکر کے ساتھ ہی یہ بھی جان لینا چاہئے کہ تقوا راستہ بھی کھولتا ہے۔ 'و من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یرزقہ من حیث لا یحتسب' تقوا اس بات کا باعث بنتا ہے کہ بہت سی مشکلات میں بالخصوص سماجی مشکلات میں آپ کو راہ نجات مل جائے۔ بڑی مشکلات میں تقوا حکام کے سامنے راہ نجات پیش کرتا ہے۔ 'و یرزقہ من حیث لا یحتسب' ہمارا اور آپ کا حساب کتاب ہمیشہ صحیح اور کامل نہیں ہوتا، بنابریں اصل چیز تقوا ہے۔ ہماری سفارش بھی تقوا ہے۔ اس مہینے کا روزہ بھی تقوے میں مدد کرتا ہے۔ عوام کی مشکلات کو اسی تقوے کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔ مجھے واقعی اس وقت بڑی خوشی ہوئی جب میں نے دیکھا کہ جناب صدر نے اپنے بیان میں عوام کی اقتصادی مشکلات بیان کیں۔ یہ واقعی بہت اہم ہے۔ عوام واقعی اقتصادی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں سختیوں کا سامنا ہے۔ مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ خطرے کی بات یہ ہے کہ آپ کو اس کا علم نہ ہو۔ امید ہے کہ جانتے ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ آپ حکام کے درمیان ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی توجہ عوام کی مشکلات اور پریشانیوں پر نہیں ہوگی، ورنہ ان مشکلات کو دور کرنے کے لئے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ کوششیں ہوتیں۔ حکام جتنا زیاہ تنازعات میں الجھیں گے عوام کی مشکلات حل کرنے میں اتنا ہی پیچھے رہیں گے۔ حکام اور اعلی عہدیدار، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا تعلق حکومت سے ہو، عدلیہ سے ہو یا مقننہ سے ہو، یعنی وہ تمام لوگ جو امور مملکت چلانے میں دخیل ہیں، وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور پورے وجود سے کام کریں۔ خوش قسمتی سے عوام اسلام، اسلامی نظام اور حکام کے عزم و ارادے سے پر امید ہیں۔ خدا نہ کرے کہ یہ امید کم اور کمزور ہو جائے، یہ نہ ہونے دیں۔ سب کچھ صرف کہنے سے نہیں ہوتا، عمل کرکے بھی دکھانا چاہئے۔ یہی 'اقتصادی نظم و ضبط کا منصوبہ' جو ہے اس نے عوام میں بڑی امیدیں پیدا کی ہیں۔ کوشش کریں کہ اس پر عمل ہو۔ اس منصوبے کا جو حصہ عوام کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے، کوشش کریں کہ وہ عملی ہو۔ تیسرا منصوبہ بھی خوش قسمتی سے پاس ہو گیا ہے۔ لیکن اس کو لکھنا، اس کی تدوین، اس کی تنظیم اور اس کی منظوری ایک مسئلہ ہے اور منصوبے پر عمل درآمد دوسرا مسئلہ ہے۔ منصوبے میں روزگار کا جو مسئلہ شامل کیا گیا ہے اس پر عمل ہونا چاہئے۔ سب مل کے کوشش کریں تاکہ یہ کام ہو سکے۔ بے روزگاری واقعی بہت بڑی مشکل ہے۔ بہرحال امید ہے کہ خداوند عالم مدد کرے گا۔ میں یہ جملہ، جس کو بارہا میں نے  اپنی گزارشات میں عرض کیا ہے، آخر میں عرض کروں گا: آپ جو ذمہ دار عہدے پر ہیں، بجٹ کا ایک حصہ آپ کے اختیار میں ہے، بجٹ خرچ کرنے میں بھی بہت دقت نظر سے کام لیں۔ تقوے کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ہم جو کام بھی کریں اس پر ایک خرچ لازم ہو۔ اسی پر اکتفا کریں کہ یہ اقدام مفید ہوگا۔ یہ کافی نہیں ہے۔ کام کا مفید ہونا ہی اس کے لئے کافی نہیں ہے کہ ہم اس پر خرچ کریں۔ ہمارے موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ وہ مفید کام ترجیحات کا بھی حصہ ہو۔ اگر ترجیح حاصل نہ ہو تو خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ بعض لوگ اپنے کام کی جگہ پر، دفتر میں کچھ کام کرتے ہیں۔ سیمینار، نشستیں، دعوتیں وغیرہ کرتے ہیں۔ یقینا ان کاموں میں کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ان فوائد کا ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ ایسی حالت میں کہ ہماری آمدنی محدود اور ضرورتیں زیادہ ہیں، ترجیحات کا خیال رکھنا چاہئے۔ بہرحال امید ہے کہ خداوند عالم مجھ حقیر اور کمزور بندے کو جس کے  کندھوں پر سنگین ذمہ داریوں کا بوجھ ہے اور یہ نصیحتیں کر رہا ہوں اور اسی طرح تمام شعبوں میں، نیچے سے لیکر اوپر تک، آپ حکام کو یہ توفیق عنایت فرمائےگا کہ ہم اس کو اپنے عمل سے راضی کر سکیں۔  ان شاء اللہ آپ کے دل نور معرفت الہی اور رحمت الہی سے ساطع ہونے والے انوار سے منور ہوں، رمضان کی برکات آپ کے وجود، اذہان اور ہستی کی گہرائیوں میں اتریں اور اپنے اثرات مرتب کریں اور برکات الہیہ آپ کے اور اس شعبے کے شامل حال ہوں جو آپ کے زیر انتظام ہے۔ ان شاء اللہ خداوند عالم ہمارے قصور اور تقصیروں کو اپنے لطف و کرم سے معاف کر دے، ہم کو نبی اکرم، امیر المومنین، اپنے اولیائے کرام اور اپنے اموال اور جانوں سے راہ خدا میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے رفتار و کردار سے نزدیک تر کر دے ، ہمارے صاحب عظمت امام (امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ) کی روح مقدس کو اپنی اعلی ترین برکات سے سرافراز فرمائے اور ہمارے شہیدوں کی ارواح طیبہ، (راہ اسلام و انقلاب میں) فدکاری کرنے والوں، جانبازوں، مومنین، بسیجی (رضاکار) سپاہیوں اور ان تمام لوگوں کو اپنی رحمت و برکت عنایت فرمائے جنہوں نے راہ خدا میں سعی و کوشش کی اور اب بھی کر رہے ہیں۔ و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ  
1999/12/25
  • » ابتدائی
  • › گزشتہ
  • …
  • 113
  • 114
  • 115
  • 116
  • 117
  • 118
  • 119
  • 120
  • 121
  • اگلا>
  • آخری »

آخری فتح جو زیادہ دور نہیں، فلسطینی عوام اور فلسطین کی ہوگی۔

2023/11/03
خطاب
  • تقاریر
  • فرمان
  • خطوط و پیغامات
ملٹی میڈیا
  • ویڈیو
  • تصاویر
  • پوسٹر
  • موشن گراف
سوانح زندگی
  • سوانح زندگی
  • ماضی کی یاد
فورم
  • فیچرز
  • مقالات
  • انٹرویو
نگارش
  • کتب
  • مقالات
مزيد
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • امام خمینی
  • استفتائات و جوابات
All Content by Khamenei.ir is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.