Skip to main content
  • English
  • Français
  • Español
  • Русский
  • हिंदी
  • Azəri
  • العربية
  • اردو
  • فارسی
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خطاب
  • ملٹی میڈیا
  • سوانح زندگی
  • فکر و نظر
  • نگارش
  • استفتائات و جوابات

سن 1371 ہجری شمسی کے آغاز کی مناسبت سے پیغام

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 28-12-1370ہجری شمسی مطابق 19-3-1992 عیسوی کو نئے ہجری شمسی سال کی آمد کی مناسبت سے قوم کے نام اپنے پیغام میں ملکی اور عالمی امور کا اختصار سے جائزہ لیا۔ آپ نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور اس کے تسلط والے ممالک میں اسلامی لہر سامنے آنے کو خاص اہمیت کا حامل واقعہ قرار دیا۔ آپ نے ملک کے اندر عوام اور حکام کی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے سال نو کی تقریبات کے تعلق سے اسراف اور فضول خرچی سے گریز کی سفارش کی۔ عید نوروز کا پیغام حسب ذیل ہے؛بسم اللہ الرحمن الرحیم یا مقلب القلوب والابصار، یا مدبر اللیل والنّھار، یا محوّل الحول والاحوال حوّل حالنا الی احسن الحال۔ با برکت عید نوروز کی اپنے عزیز ہم وطنوں کو پرخلوص مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص فداکاروں کو کہ وطن جن کا ممنون کرم ہے، شہیدوں کے خاندان والوں کو، مسلط کردہ جنگ میں اعضائے بدن کا نذرانہ پیش کرنے والے معذور جانباز سپاہیوں اور ان کے گھروالوں، جنگی قیدیوں، دشمن کی قید سے رہائی پاکے آنے والے سپاہیوں، لاپتہ ہو جانے والوں اور ان کے کنبے والوں کو اور اسی طرح تمام مجاہد سپاہیوں اور ان تمام لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے مسلط کردہ جنگ کے سخت دور کا اپنے پورے وجود سے سامنا کیا ہے، چاہے وہ فوجی ہوں، پاسداران انقلاب ہوں یا لاکھوں بسیجی (رضاکار) ہوں۔ اس سال خوش قسمتی سے عید نوروز کی مبارکباد ان دیگر اقوام کو بھی پیش کرسکتے ہیں جو سرکاری طور پر اس عید پر جشن مناتی ہیں۔ میں جمہوریہ آذربائیجان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمنستان اور علاقے کے ان دیگر ملکوں کے عوام کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جو عید نوروز اور اس کا جشن مناتے ہیں۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے عظیم امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کی روح مقدس پر، جو پوری اسلامی دنیا اور علاقے میں اس عام جوش و جذبے کو بیدار اور جان و دل کو متحد کرنے والے تھے، درود و سلام بھیجتا ہوں اور آپ کی روح کے لئے طلب مغفرت کرتا ہوں۔ اس سال عید نوروز رمضان المبارک میں، بالخصوص شبہائے قدر اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ الصلاۃ والسلام کے یوم ولادت باسعادت سے متصل ہے۔ امید ہے کہ اس سال موسم بہار میں قدرت کا تغیر ہم سب کے اندر اخلاقی و روحانی تغیر اور معنوی بلندی کے پیدا کرے گا۔ کسی قوم کے لئے مکمل عید اس وقت ہوتی ہے جب قوم کے لوگ، امید، ایمان، جذبہ عمل، آگاہی اور معرفت کے ساتھ اپنے باطن کی تعمیر کر سکیں۔ خداوند عالم سے اپنے رابطے کو محکم اور اپنے اندر معنویت کی تقویت کرکے، خدا سے دعا اور اس کی نصرت طلب کرکے، اس پر توکل اور خضوع و خشوع کے ساتھ عبادت سے اپنے دل و جان کو روشن کرسکیں اور اس امید، طمانیت اور سکون تک پہنچ سکیں جو انسان کی سعادت کے لئے ضروری ہے۔ اس صورت میں قوم حوادث زمانہ کے مقابلے میں ناقابل تسخیر ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ اس نئے سال میں اور بالخصوص رمضان المبارک کے ان ایام ، ان دنوں اور ان شبہائے قدر میں ہم یہ توفیق حاصل کر سکیں۔ گذرنے والا سال،عالمی سطح پر حوادث سے پر تھا اور فطری بات ہے کہ ہم بھی ان حوادث کے آثار سے پوری طرح محفوظ نہیں رہے۔ ان حوادث کے نتائج شیریں اور پسندیدہ بھی تھے اور ساتھ ہی ناگوار بھی تھے۔ البتہ ملک کے حکام کی کوشش یہ ہے کہ حوادث عالم کے تعلق سے شیریں و دلچسپ اثرات زیادہ ہوں اور ناگوار و تلخ نتائج کم ہوں۔ ان حوادث میں سے ایک سوویت یونین کی بڑی سلطنت کا شیرازہ بکھرنا اور ایک سپر پاور کا زوال ہے، جو درحقیقت ہمارے دور اور ہماری تاریخ کا بڑا واقعہ شمار ہوتا ہے۔ یہ واقعہ کئی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس لحاظ سے کہ اس کے نتیجے میں جن ملکوں اور اقوام نے آزادی و خود مختاری حاصل کی ان میں مسلم اقوام بھی ہیں۔ اس علاقے میں اور ہمارے پڑوس میں، دسیوں لاکھ مسلمان آشکارا طور پر اور صراحت کے ساتھ اپنی اسلامی اقدار، اسلامی ثقافت اور اسلامی آرزوئیں زبان پر لائے اور ان کا اظہار کیا جبکہ وہ دسیوں سال سے اس فطری حق سے محروم رکھے گئے تھے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ موجودہ دور میں جو عالمی میدان اور اقوام کی زندگی میں سپر طاقتوں کی غارتگری کا دور ہے، ایک سپر طاقت کا زوال، کمزور اقوام کو امید عطا کر سکتا ہے، دنیا کے عقلمندوں کے لئے عبرت کا باعث ہو سکتا ہے اور دنیا کے بہت سے لوگوں کے دلوں میں امید کی روشنی پیدا کر سکتا ہے۔گذشتہ سال دیگر اہم واقعات میں، مختلف ملکوں میں مسلمانوں کی بیداری اور اسلامی تحریکوں میں شدت بھی ہے کہ جس کی خبریں گذشتہ سال کے دوران تسلسل سے آ رہی تھیں اور ہماری عزیز قوم نے ان خبروں کو سنا۔گذشتہ سال کے شیریں واقعات میں عالمی سطح پر ہمارے عزیز ملک کے اثر و رسوخ اور اعتبار میں اضافہ بھی ہے۔ بین الاقوامی امور میں ہمارے ملک نے نمایاں کردار ادا کیا اور عالمی توجہ اس کی جانب مبذول ہوئی ۔ یہ بات دنیا کے اچھے ملکوں کے ساتھ مثبت سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی روابط میں توسیع اور فروغ کا سبب بنی جو ہمارے لئے بہت اچھی بات تھی۔ یہ سب ان لوگوں کی فداکاریوں اور سعی و کوشش کا نتیجہ ہے جنہوں نے ان چند برسوں کے دوران مختلف میدانوں میں دل و جان سے کوشش کی اور اس سلسلے میں ہماری عظیم قوم اور دلیر نیز حریت پسند عوام کا تعاون سب سے زیادہ ہے کہ جنہوں نے طویل برسوں تک مختلف میدانوں میں اپنی پرجوش موجودگی اور مشارکت سے انقلاب کو اس طرح متحرک اور زندہ رکھا کہ اس نے دنیا میں اور اقوام عالم کی نگاہوں میں نمایاں حیثیت حاصل کی ۔ گذشتہ سال کے تعلق سے ہمارے ملک کا ایک مسئلہ ملک کی تعمیر نو کے لئے حکومت اور حکام کی کوشش رہی ہے۔ اس ایک برس کے دوران، بہت اچھے بنیادی کاموں سے اس کا آغاز ہوا اور بہت اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ اس پر عمل ہوا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی و پیشرفت اور غربت نیز و بے روزگاری کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ، بنیادی کام یہ ہے کہ ملک کے اندر بڑی منصوبہ بندی کی جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ یہ وہ کام ہے جو الحمد للہ گزرنے والے سال میں انجام پایا ہے۔ یعنی ان منصوبوں کا بڑا حصہ شروع ہو گیا یا منصوبہ بندی ، نفاذ اور استفادے کے مرحلے میں ہے اور خدا کے فضل سے آئندہ برسوں کے دوران بھی اس پر عمل جاری رہے گا۔ میں گذشتہ سال کے تعلق سے، جس کے اختتام کا ہم نے مشاہدہ کیا، جو عرض کر سکتا ہوں یہ ہے کہ گذشتہ سال، عالمی واقعات اور داخلی مسائل کے لحاظ سے ہمارے لئے حوادث سے پر اور کامیاب سعی و کوشش کا سال تھا۔ یہاں ضروری ہے کہ اپنی عظیم قوم کی اس بہت بڑی سیاسی کامیابی کی یاد دہانی کراؤں کہ اقوام متحدہ نے مسلط کردہ جنگ کے بارے میں اعلان کیا کہ جنگ شروع کرنے والا عراق تھا۔اس قوم کی آٹھ سال تک جاری رہنے والی مجاہدت میں، اس عالمی گواہی کے بعد دوسرا ہی رنگ اور انداز دیکھنے میں آیا ہے۔ اگر چہ حق پسند اور حق پرست اس گواہی سے پہلے بھی حقیقت واقعہ سے واقف تھے اور ہماری قوم اپنی مظلومیت اور حقانیت سے سب سے زیادہ واقف تھی لیکن ہماری قوم کو معتبرترین بین الاقوامی تنطیم کی جانب سے اس گواہی کی ضرورت تھی۔بہرحال یہ سال کامیابیوں کا سال تھا۔ الحمد للہ ہمیں کافی کامیابیاں ملیں اور ہم نے آگے کی سمت قدم بڑھائے۔ البتہ کوئی یہ دعوی ہرگز نہیں کر سکتا کہ ان چند برسوں کی کوششوں کے مکمل اہداف تک ہم پوری طرح پہنچ گئے۔ لیکن ان اہداف کی سمت میں ہم نے قدم بڑھائے ہیں اور ان شاء اللہ ہماری قوم آخری اہداف تک پہنچے گی۔اس سال کے آغاز پر اپنی پوری قوم اور ملک کے حکام سے جو سفارش کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ قوم، حکومت اور خدمتگزار حکام، سب کوشش کریں کہ حکومت اور عوام کے درمیان محبت و صداقت کے اس رشتے اور اس اتحاد ویکجہتی کو زیادہ سے زیادہ مضبوط، وسیع اور مستحکم کریں۔ ہماری عزیز قوم، انقلاب کے میدانوں میں پوری قوت کےساتھ اپنی موجودگی کو جاری رکھے جو ملک کی تمام مشکلات کے حل میں کارساز رہی ہے اور دنیا کو ہماری حقانیت کی طرف متوجہ کر سکی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں یوم قدس آ رہا ہے، اس دن کے جلوسوں میں عوام کی شرکت بہت اہم ہے۔ اسی طرح مستقبل قریب میں انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں عوام کی شرکت بہت اہم اور فیصلہ کن کردار رکھتی ہے۔ مستقبل میں، تمام شعبوں میں تعمیر نو اور حکومت کے ساتھ مختلف قسم کے تعاون کے کئی مراحل سامنے ہیں۔ ان تمام مراحل میں ہماری قوم کو اپنی موجودگی کا ثبوت دینا ہے۔ حکومت اور زحمت کش نیز عوام کے خدمتگزار حکام سے بھی چاہتا ہوں کہ ملک کی تعمیر نو میں عوام کی مشارکت کے لئے منصوبہ بندی کریں۔ اس امر میں انہیں منظم کریں۔ سب سے میری سفارش یہ ہے کہ کام کو بہت زیادہ اہمیت دیں۔ آج واقعی کام، جس محاذ پر بھی ہو، جہاد کا درجہ رکھتا ہے۔ جو لوگ اپنے لئے کام کرتے ہیں، وہ بھی کوشش کریں کہ ان کا کام ملک، قوم اور عوام کی مصلحت اور اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ عوام اپنے اتحاد کو محفوظ رکھیں۔ ہمدلی اور قومی اتحاد کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی جو بہت اہم ہے، حفاظت کریں۔ اقوم کی مشکلات و مسائل کے تمام قلیل المیعاد اور طویل المیعاد حل، اتحاد و یکجہتی میں مضمر ہیں۔ میں سفارش کرتاہوں کہ عوام عید نوروز کے ایام میں اور آئندہ سال کے دوران ، خاص طور پر ان تقریبات میں جن میں اسراف ہوتا ہے، اسراف سے پرہیز کریں۔ فضول خرچی اور اسراف معمولا متمول طبقہ کرتا ہے۔ کیونکہ کمزور طبقات زیادہ خرچ کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ایک طبقے کی جانب سے زیادہ خرچ اور اسراف ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس میں اقتصادی لحاظ سے بھی نقصان ہے اور سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی لحاظ سے بھی ضرر ہے۔ میں نے بارہا عرض کیا ہے، ایک بار پھر کہتا ہوں اور گزارش کرتا ہوں کہ فضول خرچی ترک کریں۔ خرچ ایک معقول مقدار کے اندر ہونا چاہئے۔ اسراف اور فضول خرچی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ معقول مقدار ہر الگ الگ زمانے میں مختلف ہوتی ہے۔ آج عوام کے بہت سے طبقات اور گھرانے، مشکل اور مصیبت میں ہیں اور ابھی ملک کی تعمیر نو کے اثرات و ثمرات پوری طرح ظاہر نہیں ہوئے ہیں اور اس کی برکتیں سب تک نہیں پہنچی ہیں۔ معقول مقدار سے مراد یہ ہے کہ انسان جہاں تک ہو سکے، خود کو ان طبقات سے نزدیک کرے۔ ملک کے عزیز حکام اور عہدیدار، چاہے حکومت سے ان کا تعلق ہو، عدلیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا دوسرے شعبوں سے متعلق ہوں، خاص طور پر اس اصول کی دوسروں سے زیادہ پابندی کریں۔ دعا ہے کہ خدا وند عالم اپنی برکات آپ پر نازل فرمائے ، اس عید کو حقیقی معنوں میں آپ کے لئے مبارک قرار دے اور اس سال کو آپ کے لئے بہت اچھا، پرشکوہ، باعظمت، خوش قسمتی اور شادمانی کا سال قرار دے ۔ والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ   
1992/03/18

حزب اللہ لبنان کی مرکزی کمیٹی کے اراکین سے قائد انقلاب کا خطاب

حزب اللہ لبنان کے نو منتخب سیکریٹری جنرل حجت الاسلام سید حسن نصر اللہ سمیت تنظیم کی مرکزی کمیٹی کے ارکان پر مشتمل وفد نے 13-12-1370 ہجری شمسی مطابق 4-3-1992 عیسوی کو قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے تہران میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے حزب اللہ کے جام شہادت نوش کرنے والے سربراہ سید عباس موسوی کو خراج تحسین پیش کیا اور تنظیم کے نئے سربراہ کو مخاطب کرکے انتہائی اہم نکات بیان کئے۔
1992/03/03

آیت اللہ العظمی گلپائگانی اور آیت اللہ العظمی اراکی سے گفتگو

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 2-12-1370 ہجری شمسی مطابق 21-2-1992عیسوی کو مقدس شہر قم کے اپنے دورے میں ممتاز مراجع کرام سے ملاقاتیں کیں۔ آپ آیت اللہ العظمی گلپائگانی اور آیت اللہ العظمی اراکی سے بھی ملے اور قم کے دینی تعلیمی مرکز کے تعلق سے بعض نکات بیان کی۔ دونوں ممتاز علمائے کرام سے ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی کی گفتگو بالترتیب پیش خدمت ہے؛
1992/02/20

محکمہ پولیس کے عہدہ داروں سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دو بہمن سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق بائیس جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو انتظامی فورس (پولیس) کے سیاسی اور عقیدتی ادارے کے عہدیداروں اور کمانڈروں سے ملاقات میں اس محکمے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور محکمے کے فرائض بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ایک شہری کو دل سے انتظامی فورس پر اطمینان اور اعتماد حاصل ہونا چاہئے۔ یعنی جب دکان بند کرتے وقت اس کو تشویش ہو تو کہے کہ انتظامی فورس کا اہلکار ہے۔ سفر پر گھر چھوڑ کے جائے تو کہے کہ انتظامی فورس ہے۔ اگر گاڑی پر بیٹھے تاکہ کسی جگہ سے روانہ ہو اور کسی دوسری جگہ بیابانوں میں پہنچے اور سلامتی سے متعلق کوئی مشکل پیش آئے، اگر کہیں کہ مشکل ہے، مجرمین سڑک پر آگئے ہیں اگر کہیں کہ کچھ لوگ، لوگوں کی عزت و آبرو کے لئے خطرہ پیدا کر رہے ہیں، اگرکہیں کچھ لوگ لوگوں کی عزت و ناموس پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے دل میں امید کی شمع روشن ہو کہ انتظامی فورس ہے۔ ایسا ہونا چاہئے کہ لوگ انتظامی فورس کو امن و امان برقرار کرنے والے اور سلامتی کے مرکز کی حیثیت سے دیکھیں۔ آپ کو یہ حالت وجود میں لانی چاہئے۔
1992/01/22

مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے انتیس دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق انیس جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت پر عوام کے مختلف طبقات کے اجتماع سے خطاب میں حضرت علی علیہ السلام کی بعض صفات کا تذکرہ کیا۔ آپ نے اہل بیت سے قلبی رشتے کے سلسلے میں فرمایا کہ امیر المومنین ( علیہ السلام ) سے ہماری قوم کا رابطہ، ایک عاشقانہ رابطہ ہے۔ یہ مسئلہ آپ کی ولایت اور امامت پر اعتقاد سے بالاتر ہے۔ ولایت و امامت پر اعتقاد ہے اور ہماری زندگی کا جز ہے۔ گہوارے میں ہمیں پڑھائے جانے والے اولین سبقوں میں سے ہے اور انشاء اللہ یہ اعتقاد ہم اپنے ساتھ قبر میں بھی لے جائیں گے لیکن امیرالمومنین (علیہ الصلاۃ و السلام) سے ہماری قوم کے رابطے کا ایک اور عنصر آپ سے محبت اور عشق کا عنصر ہے۔
1992/01/19

وزیر تعلیم اور دیگر عہدہ داروں سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پچیس دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پندرہ جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو وزیر تعلیم ان کے نائبین، مشیروں اور محکمہ تعلیم کے اعلا عہدہ داروں سے خطاب میں تعلیم و تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تعلیم و تربیت کی اہمیت کے بارے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آپ نہ جانتے ہوں اور میں عرض کروں۔ امر واقعہ وہی ہے جو ہم سب جانتے ہیں۔ یعنی ملک کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ملک کا مستقبل ملک کے محکمۂ تعلیم و تربیت اور معلمین کے ہاتھوں میں ہے۔ بہترین افراد اور آمادہ ترین لوگ اسلامی تعلیم وتربیت کے لئے آپ کے اختیار میں ہیں۔
1992/01/15

قم کے عوامی طبقات سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے انیس دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق نو جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو قم کے مختلف عوامی طبقات سے خطاب کیا۔ انیس دی کی تاریخ اہل قم کے اہم ترین قیام سے منسوب ہے۔ اس قیام کی اسلامی انقلاب کے تعلق سے خاص اہمیت ہے اور اسی مناسبت سے ہر سال انیس دی کے موقعہ پر اہل قم قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے اس قیام کی خصوصیات اور مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
1992/01/09

جنوبی علاقے دلوار اور اطراف کے عوام کے ایک اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے تیرہ دی سن تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق تین جنوری انیس سو بانوے عیسی کو جنوبی ایران کے بوشہر کے نزدیک واقع دلوار اور اس کے اطراف کے دیہی علاقوں کے عوام کے اجتماع سے خطاب۔ اس خطاب میں قائد انقلاب نے انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے اس علاقے کی خدمات اور قربانیوں کی قدردانی کی۔ آپ نے علاقے میں تعلیمی قابلیت کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے پر زور دیا۔
1992/01/02

بوشہر میں فوجی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بارہ دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق دو جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو بوشہر میں بحری فوج کے دوسرے علاقائی مرکز میں صبح کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے افواج کی اہم ترین ذمہ داریوں اور ان کی ادائیگی کے ثمرات کا ذکر کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ برادران عزیز ' مسلح افواج کے سپاہیو' تاریخ کے تجربے کے مطابق جو چیز تمام اقوام کے لئے باعث افتخار ہے، وہ دفاعی توانائی اور تعمیر کی صلاحیت ہے۔ اقوام کی تقدیر اور اہمیت کے معیار میں جو چیز سب سے اوپر ہے، وہ یہی دونوں توانائیاں ہیں۔ تاریخ میں، سطحی باتوں تک رسائی رکھنے والے دماغوں اور سطحی باتیں کرنے والی زبانوں کے علاوہ کوئی بھی، کسی بھی ملک کی اس کی تجارت کی وسعت، یا تجملات زندگی، یا اشیائے صرف کے زیادہ استعمال اور اس طرح کی دوسری چیزوں پر تعریف نہیں کرتا لیکن ان اقوام کی جنہوں نے اہم مواقع پر اپنا دفاع کیا ہے، تاریخ تعریف کرتی ہے اور گہری نظر رکھنےوالے، ان کو تحسین آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
1992/01/02

بوشہر کی اسکولی طالبات کے جشن عبادت سے قائد انقلاب کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی نے جنوبی علاقے بوشہر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر آپ نے مختلف اجتماعات اور تقاریب سے خطاب کیا۔ قائد انقلاب اسلامی کے اس دورے کے موقع پر ان اسکولی طالبات کے اعزاز میں جشن عبادت منایا گیا جن پر سن بلوغ کو پہنچنے پر اسلامی فرائض عائد ہوئے۔ ایران میں یہ رواج ہے کہ جب لڑکے اور لڑکیاں سن بلوغ کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کے اعزاز میں جشن عبادت منایا جاتا ہے اور اس بات کی خوشی منائی جاتی ہے کہ یہ بچے اس سن کو پہنچے ہیں جس میں اللہ تعالی دینی فرائض، واجبات و محرمات کے توسط سے اپنے بندوں سے مخاطب ہوتا ہے اور یہ بچے اللہ تعالی کی جانب سے معین کردہ احکامات کے فریق قرار پاتے ہیں۔ بو شہر میں بھی طالبات کے اعزاز میں ایسا ہی ایک جشن منایا گيا جس سے قائد انقلاب اسلامی نے خطاب فرمایا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اس جشن کے انعقاد اور اس میں اپنی شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کے احکامات کی فریق قرار پانے والی طالبات کو دینی احکام پر بحسن و خوبی عمل کرنے کی سفارش کی۔ آپ نے نماز کو اللہ تعالی سے ہم کلام ہونے کا موقع قرار دیا۔
1992/01/01

صوبہ بوشہر کی محکمہ جاتی کونسل کے اراکین کے اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بارہ دی تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق دو جنوری انیس سو بانوے عیسوی کو صوبہ شہر کی محکمہ جاتی کونسل کے ارکان سے ملاقات میں عوام کی خدمت کو بہترین موقع قرار دیا۔ آپ نے بوشہر کے عوام کو سابق شاہی نظام کی بے اعتنائی اور اس کے نتیجے میں محرومیوں کا شکار قرار دیا آپ نے فرمایا کہ حکام اس علاقے کے عوام کی خدمت پر خاص توجہ دیں۔
1992/01/01

بوشہر کے عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گیارہ دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پہلی جنوری سنہ انیس سو بانوے عیسوی کو صوبہ بوشہر کے صدر مقام بوشہر میں عظیم عوامی اجتماع سے خطاب میں آپ نے مختلف ادوار میں بوشہر کے عوام کی نمایاں کارکردگی کا ذکر کیا اور اسلامی انقلاب سے قبل اور بعد کے ادوار کا اقتصادی، سیاسی، سماجی اور علمی ترقی کے لحاظ سے موازنہ کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا ذکر کیا اور اسلام کے خلاف ان کی سازشوں کی وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ بڑی طاقتیں اسلام کی دشمن ہیں۔ اس لئے کہ جانتی ہیں کہ یہ ان کی تسلط پسندیوں کے مقابلے پر اٹھے گا۔ جہاں اسلام کی حکمرانی ہو وہاں امریکا اور دیگر بدمعاش طاقتوں کی حکومت نہیں ہو سکتی۔ اس کو وہ جانتے ہیں اس لئے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔
1992/01/01

جنوبی صوبہ بو شہر کے علمائے دین اور طلاب کے اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے گيارہ دی تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پہلی جنوری انیس سو بانوے عیسوی کو صوبہ بوشہر کے آئمہ جمعہ و جماعت، علمائے کرام اور دینی طلبا کے اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں معاشرے کی ہدایت و رہنمائی کے تعلق سے علماء کی اہم ذمہ داریوں کی جانب اشارہ کیا اور ماضی میں علماء کے موثر کردار اور جانفشانیوں کے طویل سلسلے پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے علمائے دین کی رفتار و گفتار اور قول و فعل کے سلسلے میں خاص احتیاط کی ضرورت پر تاکید فرمائی۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوری نظام کو انتہائی مستحکم قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس استحکام کی بقاء اور تسلسل کے لئے مسلسل مجاہدت اور مساعی کو لازمی قرار دیا۔
1991/12/31

شہدا کے پسماندگان اور شجاع مجاہدین کے اجتماع سے قائد انقلاب کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 11-10-1370 ہجری شمسی مطابق 1-1-1992 ہجری شمسی کو بوشہر کے شہیدوں اور جنگ میں لاپتہ ہوجانے والے سپاہیوں کے اہل خاندان، دشمن کی قید سے آزاد ہونے والے جنگی قیدیوں اور معذور جانبازوں کی ایک جماعت سے ملاقات میں شہدا کے عظیم مقام و مرتبے پر روشنی ڈالی۔ آپ نے عصر حاضر میں پرچم اسلام کی سربلندی کو شہدا کی کاوشوں اور جانفشانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ آپ نے شہدا کے اہل خانہ کے بھی صبر و ضبط اور ایثار و فداکاری کے جذبات کی قدردانی کی۔
1991/12/30

شہدا کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی طلبا و طالبات سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 8-10-70 ہجری شمسی مطابق 29-12-1991 عیسوی کو یونیورسٹیوں کے مختلف درجات میں فارغ التحیصل ہونے والے فرزندان شہداء کی ایک جماعت سے ملاقات میں اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے شہدا کے بے مثال قربانیوں کی اہمیت پر زور دیا اور فرندان شہدا سے اس پاکیزہ راستے پر گامزن رہنے کی سفارش کی جس کی نشاندہی شہدا نے کی ہے۔ آپ نے علم و عمل کے میدان میں ہمیشہ محتاط رہنے اور تقوا و پرہیزگاری پر ہمیشہ توجہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
1991/12/29

حضرت عیسی (علیہ السلام) کے یوم ولادت پر دنیا کے عیسائیوں اور مسلمانوں کے نام پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم یا مریم انّ اللہ یبشّرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسی ابن مریم وجیہا فی الدنیا والاخرہ ومن المقربین۔ (1) خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت عیس مسیح کے یوم ولادت کی اپنے ہم وطن عیسائیوں، اور تمام عیسائیوں اور مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔    اس کلمہ خدا نے گمراہی، جہالت، بے عدالتی اور انسانی اقدار کی جانب سے بے اعتنائی کے دور میں انسانوں کی ہدایت اور نجات کا پرچم اٹھایا، دولت و قوت کی مالک  ستمگر طاقتوں کے خلاف مجاہدت شروع کی اور توحید، رحمت اور عدل کو پھیلانے کا بیڑا اٹھایا۔ آج خدا کے اس عظیم الشان پیغمبر پر ایمان رکھنے والوں یعنی عیسائیوں اور مسلمانوں کو مناسب عالمی نظام کے قیام کے لئے، پیغمبروں کے راستے اور تعلیمات کو اپنانا چاہئے اور ان معلمان بشریت کی تعلیم کے مطابق انسانی فضائل کو عام کرنا چاہئے۔    دنیا کی ظالم طاقتیں خاص طور پر گذشتہ سو برسوں کے دوران انسانی معاشروں کی زندگی میں اعلا انسانی اقدار اور معنویت کو ختم کرنے پر کمر بستہ رہیں جس کے نتیجے میں اخلاقی برائیاں پھیلیں،  منشیات کی عادت  بڑھی،  بے راہ روی کا چلن ہوا، خاندان کی بنیادیں  تباہ ہوئیں،استحصال میں اضافہ ہوا  امیر اور غریب اقوام کے درمیان خلیج میں روز افزوں اضافہ ہوا، سماجی انصاف ناپید ہوا، انسانی کرامت سے توجہ ہٹی، مہلک ہتھیار بنے اور اجتماعی قتل عام، میں وسعت آئی۔ انسانوں کی طرح علم بھی معنویت کے خاتمے اور دینی اقدار سے بے اعتنائی کی بھینٹ چڑھا۔     اگر حضرت مسیح (علیہ السلام) آج ہمارے درمیان ہوتے، تو عالمی سامراج اور ظلم کے علمبرداروں کے خلاف مجاہدت میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ کرتے اور اربوں انسانوں کی بھوک اور پریشانی کو جو بڑی طاقتوں کے ہاتھوں استحصال، جنگ اور لڑائی کی بھینٹ چڑھائے جارہے ہیں، ہرگز برداشت نہ کرتے۔    مجھے امید ہے کہ انسانی معاشروں کی بیداری، دینی معرفت کے علمبرداروں کی سچی سعی و کوشش اور سوئے ہوئے ضمیروں کے بیدار ہونے کے نتیجے میں انسانیت، معنویت اور دینی اقدار کی طرف واپسی کی صدی میں قدم رکھے گی اور دنیا نے جس طرح کمیونسٹ حکومتوں کا خاتمہ دیکھا اسی طرح سامراجی اور ظالمانہ بنیادوں کو بھی زمیں بوس ہونے کی شاہد ہوگی۔ والسلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ علی حسینی خامنہ ای 7-10-1370 (27-12-1991) 1- سورۂ آل عمران ؛ 45
1991/12/27

محبان اہل بیت رسول کی خصوصیات کی طرف اشارہ

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پانچ دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق چھبیس دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو حضرت صدیقہ کبری فاطمۂ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت با سعادت پر مداحان اہل بیت علیہم السلام سے خطاب کیا۔ ایران میں مداح ان خوش الحان افراد کو کہا جاتا ہے جو منبر پر فضائل و مصائب اہل بیت رسول بیان کرتے ہیں۔ آپ نے اہل بیت اطہار سے حقیقی محبت کے تقاضے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم حضرت فاطمہ زہرا ( سلام اللہ علیہا) کی محبت کا دم بھریں جبکہ آپ نے بھوکوں کے لئے، اپنے سامنے، اپنے عزیزوں، حسن اور حسین ( علیہما السلام ) اور ان کے والد ماجد، ( علی علیہ السلام ) کے سامنے کی روٹی اٹھا کے فقیر کو دیدی اور وہ بھی ایک دن نہیں دو دن نہیں بلکہ مسلسل تین دن۔ ہم خود کو ایسی ہستی کا پیرو بتاتے ہیں لیکن نہ صرف یہ کہ ہم اپنے سامنے کی روٹی فقیروں کو دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ اگر ممکن ہو تو فقیروں کی روٹی چھیننے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
1991/12/26

عورتوں کے مسائل کا جائزہ اور اسلامی حل کی نشاندہی

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چار دی سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پچیس دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو خواتین کی سماجی و ثقا فتی کونسل کی اراکین اور پہلی حجاب اسلامی کانفرنس کی مہتممین سے خطاب کیا۔ آپ نے ماضی اور حال میں عورتوں کے اہم ترین مسائل کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں اسلامی حل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مسائل اور مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ علاج کیا ہے؟ علاج یہ ہے کہ ہم خدائی راہ حل تلاش کریں۔ کیونکہ عورت اور مرد کے بارے میں، پیام وحی اہم مسائل پر محیط ہے۔ دیکھیں کہ وحی اس بارے میں کیا کہتی ہے۔ وحی نے صرف وعظ کرنے پر اکتفا نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس نے نمونہ بھی پیش کیا ہے۔
1991/12/25

اقوام متحدہ کی قرارداد کا جائزہ لینے والی کمیٹی سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تیس آذر تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق اکیس دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر پانچ سو اٹھانوے کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کی۔ قائد انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں کمیٹی کے ارکان کی کاوشوں کی تعریف کی۔ آپ نے فوجی محاذ کے ساتھ ہی سیاسی اور سفارتی محاذوں پر کامیابی کو بھی انتہائی اہم قرار دیا اور اس سلسلے میں اس کمیٹی کی کارکردگی کو قابل تعریف بتایا۔
1991/12/21

وزیر داخلہ اور وزارت داخلہ کے دیگر عہدہ داروں سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ستائیس آذر تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق اٹھارہ دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو ملک کے وزیر داخلہ، گورنروں اور وزارت داخلہ کے عہدہ داروں سے ملاقات میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں اہم ہدایات دیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے رضا و خوشنودی خداوندی کو اعمال کا معیار اور پیمانہ قرار دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ خطاب کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛
1991/12/18

ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے ارکان سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ثقافتی انقلاب کی اعلا کونسل کی تشکیل کی ساتویں سالگرہ پر اس کونسل کے اراکین سے خطاب کیا۔ آپ نے اسلامی انقلاب کے تعلق سے خاص اہمیت کے حامل اس ادارے کے افراد میں انقلابی جوش و خروش باقی رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے اہم فرائض پر روشنی ڈالتے ہوئے طالب علموں میں تحصیل علم اور تحقیق و مطالعے کا جذبہ بیدار رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر دینداری اور مذہبی رجحان کی تقویت کی ضرورت پر زور دیا۔ قائد انقلاب اسلامی کے بقول اگر یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اعلی تعلیم سے تو آراستہ کیا جائے لیکن ان میں دینداری اور قومی حمیت نہ ہو تو ایسے افراد کو باہر کے لوگ بڑی آسانی سے ورغلا سکتے ہیں۔
1991/12/10

پیٹرولیم کے وزیر اور دیگر عہدہ دارو‎ں سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بارہ آذر سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق تین دسمبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو پٹرولیم کے وزیر، اس محکمے کے اعلا عہدیداروں، ماہرین اور کویت کے تیل کے کنؤں میں لگی آگ بجھانے کا کام انجام دینے والے ماہرین سے ملاقات کی۔ آپ نے پیٹرولیم ٹکنالوجی کے شعبے میں حاصل ہونے والی پیشرفت کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ الحمد للہ وزرات پٹرولیم کی فنی صلاحیت بہت اعلا ہے۔ ماضی میں غیر ملکیوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ صلاحیت ابھر کے سامنے نہ آ سکی۔ ماضی میں تیل کے اس عظیم علاقے میں اس سے متعلق تمام شعبوں میں غیر ملکی ماہرین، اسپیشلسٹ اور منتظمین پھیلے ہوئے تھے۔ ہر کام میں ان کی موجودگی نمایاں تھی۔ لیکن آج الحمد للہ آپ خود سارے کام کر رہے ہیں۔
1991/12/03

شہدا کے پسماندگان، پولیس کمانڈروں اور مختلف عوامی طبقات سے ملاقات

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 13-9-1370 ہجری شمسی مطابق 4-12-1991 عیسوی کو پولیس کے کمانڈروں کے ساتھ، عوام کے مختلف طبقات کے لوگوں اور شہیدوں کے اہل خاندان کی ایک جماعت سے ملاقات میں شہدا کی فداکاریوں کو سامراج کے مقابلے میں ایرانی قوم کی فتح کی ضمانت قرار دیا۔ آپ نے پولیس فورس میں دینداری، طاقت و قوت اور ذہانت کو بہت ضروری قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے ملک کے اندر مختلف شعبوں میں خود انحصاری کے لئے انجام دی جانے والی کامیاب خدمات کی تعریف کی اور ساتھ ہی اس عمل کے مسلسل جاری رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
1991/12/02

رضاکار فورس کے کمانڈروں اور ارکان سے قائد انقلاب کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی نے تیس آبان تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق اکیس نومبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو عوامی رضاکار فورس بسیج کے کمانڈروں اور یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے بسیجی طلبا سے خطاب فرمایا۔ آپ نے ایران میں رضاکار فورس کو جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں مصروف کار دیندار اور بے لوث انقلابی افراد پر مشتمل ہے ملک کے لئے بہت بڑی نعمت قرار دیا۔ آپ نے رضاکاروں کے جذبہ اخلاص کے باقی رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی حفاظت کے تعلق سے رضاکاروں کے وجود کو بہت اہمیت کا حامل بتایا۔
1991/11/20

یوم تیماردار پر نرسوں اور تیمارداروں کے اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام کی نواسی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت با سعادت اور یوم تیماردار پر ملک کی نرسوں اور تیمارداروں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں نرسوں اور تیمارداروں کے اہم ترین پیشے کی قدردانی کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے عظیم ترین کارنامے کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے مغربی تہذیب اور اسلام میں عورتوں کے سلسلے میں پائے جانے والے نظریات کی جانب بھی اشارہ کیا۔ آپ نے مغرب میں عورتوں کی تحقیر پر نکتہ چینی کرتے ہوئے فرمایا کہ آج یورپی اور مغربی آئیڈیل قدیم یونانی اور رومی آئیڈیل کی دین ہے۔ اس دور میں بھی عورت، مرد کے فریضے کی ادائيگی اور اس کے لطف اندوز ہونے کا وسیلہ تھی اور ہر چیز اسی (طرز فکر) کے زیر اثر تھی اور آج بھی وہ یہی چاہتے ہیں۔ مغرب والوں کی اصل بات یہ ہے۔ وہ مسلم خاتون کی کس چیز کے زیادہ مخالف ہیں؟ اس کے حجاب کے۔ وہ آپ کی چادر اور صحیح حجاب کے سب سے زیادہ مخالف ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کی تہذیب اس کو قبول نہیں کرتی۔ یورپ والے ایسے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے سمجھا ہے، دنیا کو ہماری پیروی کرنی چاہئے۔ وہ معرفت عالم پر اپنی جاہلیت کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔
1991/11/13

سامراج کے خلاف جد و جہد کے قومی دن کی مناسبت سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پندرہ آبان سن تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق چھے نومبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کی مناسبت سے یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے طلبا کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں معاشرے کی کامیابی و ترقی میں نوجوانوں کے اہم اور کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے نوجوانوں کو امر المعروف اور نہی عن المنکر پر توجہ دینے کی سفارش کی اور ساتھ ہی اس کے لئے مناسب اور موثر راستے کی نشاندہی فرمائی۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں فلسطین کے سلسلے میں منعقدہ میڈرڈ کانفرنس کو خیانت کانفرنس سے تعبیر کیا۔
1991/11/05

امام علی کیڈٹ یونیورسٹی کے طلبا سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آٹھ آبان تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق تیس اکتوبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو امام علی کیڈٹ یونیورسٹی میں نووارد اور فارغ الحصیل ہونے والے طلبہ سے خطاب کیا آپ نے اپنے اس خطاب میں اہم قومی، علاقائی اور عالمی امور پر بحث کی۔ تفصیلی خطاب مندرجہ ذیل ہے؛
1991/10/29

مختلف عوامی طبقات سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پہلی آبان سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق تیئیس اکتوبر انیس سو اکانوے عیسوی کو مختلف عوامی طبقات، جنگ کے دوران معذور ہو جانے والے جانبازوں اور شہیدوں کے اہل خاندان کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں محاسبہ نفس اور تزکیہ باطن کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے فرمایا کہ آج دنیا کے بڑے ممالک نے مادی ترقی کی ہے۔ زیادہ پیداوار، سائنسی ترقی، پیچیدہ ٹکنالوجی، مصنوعات کی فراوانی، ہر روز دنیا میں انسان کو ایک سائنسی پیشرفت دکھاتے ہیں۔ لیکن کیا یہ خوش نصیب ہیں؟ کیا ان کی زندگی انسانی زندگی ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ نہ خود انسانی خوش نصیبی کا احساس کرتے ہیں اور نہ ہی اقوام کو خوش نصیبی کا ادراک کرنے دیتے ہیں۔ خود ان کے اندر، اضطراب، پریشانی، قتل، جرائم، خیانتیں، افسردگی، مادی اور معنوی زندگی سے روگردانی، معنویت اور فضیلت سے دوری، خاندانی شیرازے کا انتشار اور اولاد اور والدین کے رشتوں کی نابودی پائی جاتی ہے۔ یہ ان کی مشکلات ہیں۔ دنیا کو کیا دیا ہے یہ بھی آپ دیکھ رہے ہیں۔ دیگر اقوام کو جنگ، غربت، جہالت، اختلاف، بد نصیبی اور تیرہ بختی دی ہے۔ ان کے پاس مادی ترقی ہے لیکن معنوی ترقی نہیں ہے۔
1991/10/23

فلسطین بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ستائیس مہر تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق انیس اکتوبر انیس سو اکانوے عیسوی کو تہران میں منعقدہ فلسطین کانفرنس کے شرکاء اور مندوبین سے ملاقات میں فلسطینی قوم کو تاریخ کی مظلوم ترین قوم قرار دیا اور اس قوم کے خلاف سامراجی سازشوں کی شدید مذمت کی۔ قائد انقلاب اسلامی نے غاصب اسرائیلی حکومت کو خطے میں سامراجی طاقتوں کے مفادات کی نگراں اور پاسباں قرار دیا اور اس حکومت سے مقابلے کے لئے مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی کی دعوت دی۔ تفصیلی خطاب مندرجہ ذیل ہے؛
1991/10/18

میڈرڈ کانفرنس میں امریکا اور اسرائیل کی خباثت آمیز سازشوں کے مقابلے کے لئے مسلم اقوام کے نام پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم      اذن للذین یقاتلون بانہم ظلموا و ان اللہ علی نصرہم لقدیر۔ الذین اخرجوا دیارہم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللہ ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صوامع وصلوات ومساجد یذکر فیہا اسم اللہ کثیرا ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز۔(1)   اقوام کی تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں کہ جن میں کیا جانے والافیصلہ اس قوم کی پوری عمر پر اثرا انداز ہوتا ہے اوربعد کی نسلوں کے لئے  تلخی، غم، ذلت اور اسیری لاتا ہے یا انہیں آزادی، عزت اور شادمانی کا تحفہ دیتا ہے۔   جب صیہونی فلسطینی قومیت کی جڑوں پر پہلا تیشہ مار رہے تھے، تاکہ اس کی جگہ پر مسلمانوں کی سرزمین میں اپنی جھوٹی، جعلی اور بے اساس قومیت کی بنا رکھیں، مسلم سربراہان، موثر شخصیات اور ان کی پیروی میں عوام نے اپنی محکم، ہوشیارانہ اور سنجیدہ موجودگی کا ثبوت دیا ہوتا، تو آج ان  تمام پریشانیوں اور مصبتوں  کی جو صیہونی حکومت کے شجرہ خبیثہ کی دین ہیں، اس علاقے میں کوئی خبر نہ ہوتی  اور شاید علاقے کی اقوام بالخصوص مظلوم فلسطینی قوم نے ان پینتالیس برسوں میں جو مصیبتیں اٹھائی ہیں، ان سے محفوظ رہتی۔    اس دن بعض عناصر کی کمزوری، بعض کی اقتدار پرستی اور بعض کی غیر دانشمندی نے ملکر عام خیانت کو عملی شکل دیا اور نتیجہ جو ہوا وہ سامنے ہے۔ ہزاروں خون ناحق زمین پر بہایا گیا، ہزاروں ناموس کی بے حرمتی ہوئی، ہزاروں گھر ویران ہوئے، ہزاروں سرمائے برباد ہوئے، ہزاروں آرزوئیں دفن ہوگئيں، ایک پوری قوم کے ہزاروں رات اور دن تلخی، مصیبت، رنج و غم، دربدری،آوارہ وطنی اور سسکیوں اور آنسووں کے ساتھ اردن اور لبنان کے کیپموں میں بسر ہوئے یا مقبوضہ وطن میں دشمن کے بوٹوں اور سنگینوں کے سائے میں گزرے۔ ہزاروں انسان بغیر کسی جرم کے زمانے کی سخت ترین عقوبت میں مبتلا ہوئے اور ہزاروں ایسے  ناگفتہ بہ غم کہ جنہیں ان کے علاوہ کوئی اور درک نہیں کرسکتا جنہوں نے اپنے غصب شدہ وطن  کے قریب  کیمپوں میں یا ان گھروں میں جن کے سرپرست غیر تھے، سخت ایام بسر کئے ہیں۔ یہ سب اس بڑی خیانت کا نتیجہ ہے جو دیگر  خیانتیں بھی اپنے ساتھ لائی۔ اور خیانتوں کے ان لہروں نے کتنی فضیلتوں کو ختم کردیا، کتنے جذبات مردہ کردیئے، اور کتنے شعلوں کو خاموش کردیا۔     ہر وہ فرد جو اس دن کچھ کرسکتا تھا اور اس بڑے ظلم کو دفع کرنے کی راہ میں قدم اٹھا سکتا تھا، لیکن کچھ نہ کیا کوئی قدم نہ  اٹھایا، وہ فلسطین کی ان دو نسلوں کی  لعنت اور بددعا، موجودہ اور مستقبل کی تاریخ کے سخت اور ٹھوس فیصلے،اور روز قیامت خدا کے عذاب کا مستحق ہے۔اور اس سلسلے میں سیاستدانوں، ماہرین اقتصادیات، ثقافتی وادبی شخصیات اورماہرین جنگ و مجاہدت میں کوئی فرق نہیں ہے۔    آج ایک بار پھر فصیلہ کن وقت اور عام امتحان کی گھڑی  سامنے  ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ امریکا اس چیز کے درمیان جس کو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کامیابی کا نام دیا جارہا ہے، اس علاقے کے بعض ملکوں پر طاری وحشت آمیز سکوت کی برکت اور خلیج فارس میں غاصبانہ فوجی موجودگی کے بھروسے، اپنا اور غاصب صیہونیوں کا مسئلہ حل کرلینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ عرب اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کرلیں اور فلسطین کا دعوا ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔     عرب حکومتوں کی مخالفت کے خدشے سے اسرائیل کی نجات،  سب سے پہلے امریکا کی  تیارکردہ اس غاصب حکومت کو اس کے اصلی فریضے یعنی اس علاقے میں  اسلامی تحریکوں کے جو امریکا کے لئے سخت ترین خطرہ شمار ہوتی ہیں، مقابلے کے لئے آمادہ کرے گی، دوسرے اس حیاتی اہمیت کے علاقے کے ملکوں  میں امریکا کے نفوذ کو یقینی بناکرعلاقے کو امریکا کے لئے پرامن بنادے گی اور   مشرق وسطی کااختیار بغیر کسی پریشانی کے امریکا کو مل جائے گا اور تیسرے اسرائیل مقبوضہ علاقوں کی توسیع اور نیل سے فرات تک آرزو پوری کرنے کے لئے ایک اور مضبوط مورچہ فتح کرلے گا۔   دشمن فلسطین کو پیکر عالم اسلام سے الگ کردینا اور مسلمانوں کے گھر میں صیہونیت کے شجرۂ ملعونہ کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔ امریکا غاصب حکومت کو مستحکم کرکے، اس حساس علاقے کی زندگی کی تمام رگوں کو اپنے قبضے میں لینا اور خود کو مشرق وسطی اور افریقا میں اسلامی بیداری کی تشویش سے نجات دلانا چاہتا ہے۔ دشمنان اسلام چاہتے ہیں کہ اسلام کی ساری دشمنی یہاں نکال لیں اورحالیہ برسوں کے دوران مسلمانوں کی بیداری سے انہیں جو شکستیں ہوئی ہیں، ان کا بدلہ لے لیں۔ یہ واقعہ حالیہ چند برسوں کے دوران مشرق وسطی کے بارے میں کی جانے والی کسی بھی سازش سے قابل موازنہ نہیں ہے۔ یہاں ایک ملک کے غصب، ایک قوم کی مستقل اور ابدی دربدری اور عالم اسلام کے پارہ تن، عظیم اسلامی وطن کے جغرافیائی مرکز اور مسلمانوں کے قبلۂ اول کو الگ کردینے کی  بات ہے۔   اس خطیر وقت میں مسلمین عالم اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کا جو فریضہ ہے اس کو پہچانیں۔ ایک طرف اسلامی سرزمین کی حفاظت کا فریضہ ہے، جو مسلمانوں کی فقہ کی ضروریات میں سے ہے اور دوسری طرف ایک مظلوم قوم کی فریاد کا جواب دینے کا مسئلہ ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو مسلمانوں کی فریاد کو سنے اور اس کا جواب نہ دے، وہ مسلمان نہیں ہے، اور آج ایک فرد کی فریاد نہیں ہے بلکہ پوری قوم فریاد کررہی ہے۔ آج مسلم حکومتیں ذمہ داری کا احساس کریں۔ مسلمان حکومتوں کی طاقت، اگر متحد اور ایک آواز ہوں، تو امریکا کی طاقت سے زیادہ ہے۔ یہ علاقہ امریکا کا محتاج نہیں ہے بلکہ  امریکا اس علاقے کا زیادہ محتاج ہے۔ حکومتوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ مسلم اقوام چاہتی ہیں کہ یہ سب ملکر امریکا اور اسرائیل کے مستکبرانہ مطالبے کا جواب نفی میں دیں۔ یہ خود حکومتوں کی بقا اور اسلامی ملکوں کے عزت و شرف کی حفاظت کا قابل اطمینان ترین اقدام ہے۔امریکا کی لالچ، اس کی دھمکیوں اور صیہونی جرائد کے تشہیراتی دباؤ میں نہ آئيں اور اپنے قومی اور اسلامی فریضے کا تقاضا پورا کریں۔ مسلم اقوام بھی جان لیں کہ وہ بھی خدا اور تاریخ کے سامنے اتنی ہی جواب دہ ہیں جتنامسلم حکومتیں جواب دہ  ہیں۔آپ حکومتوں کو استکباری دباؤ کے سامنے مزاحمت پر مجبور کرسکتے ہیں اور اس راہ میں ان کی مدد کرسکتے ہیں اور جو حکومتیں اس یقینی فریضے سے فرار کریں ان کے لئے بڑے خطرات وجود میں لاسکتے ہیں۔ اسلامی ملکوں کے یونیورسٹی طلبا، قلمکار اور روشنفکر حضرات، اور علمائے اسلام' آپ کا فوری فریضہ ہے۔ آپ اقوام کو اس بڑی مصیبت سے جو امریکا اور اسرائیل عالم اسلام کے لئے تیار کررہے ہیں، آگاہ کرسکتے ہیں اور اس کے مقابلے کے لئے عظیم قومی طاقت کو متمرکز کرسکتے ہیں۔ جو حکومتیں اس خیانت میں شریک ہونے کے لئے تیار ہورہی ہیں انہیں اپنی اقوام کے غیض و غضب کے خطرے کو محسوس کرنا چاہئے۔ اس حساس اور سنگین مجاہدت کا محور، فلسطین کی بہادر اور مظلوم قوم ہے جس نے پورے وجود سے مصیبتوں کو محسوس کیا ہے اور اس وقت اسلام سے تمسک کی برکت سے، اپنے غصب شدہ وطن کے اندر، عظیم مجاہدت سے دشمن کے لئے عظیم خطرات  خلق کردیئے ہیں۔بڑی سامراجی سازش یہ ہے کہ اس مجاہدت کو ختم کردے۔ لیکن خدا کی قدرت اور قوت، بہادر فلسطینیوں کی ہمت اور مسلم اقوام اور حکومتوں کی مدد سے اس شعلے کو روز بروز بلند تر ہونا چاہئے تاکہ دشمن کی تمام کھوکھلی بنیادوں کو نگل لے۔  یہ ہوگا ان پر نصرت الہی نازل ہوگی: "ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز" (2) دشمن کو معلوم ہونا چاہئے کہ فلسطینی اقدار سے روگردانی کرنے والے فلسطینیوں کو امریکی کانفرنس میں شریک کرنے جیسی کوئی بھی چال ان مومنین کو جنہوں نے فلسطین کی نجات کے لئے جہاد کو اپنا اسلامی فریضہ سمجھا ہے، اس برحق مجاہدت سے نہیں ہٹاسکتی  اور امریکا، اس کا ساتھ دینے والوں اور اس کے حواریوں کی خواہش کے برخلاف، فلسطینی قوم کا جہاد جاری رہے گا اور پٹھو  فلسطینی اور عرب سیاستدانوں کی خیانت سے یہ شعلہ خاموش نہیں ہوگا۔ امریکا کی سازش کا علاج مقبوضہ فلسطین کے اندر اور فلسطینی مجاہدین کے توانا ہاتھوں میں ہے لیکن تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ اس جہاد میں شرکت کریں اور فلسطینیوں کی مالی، فوجی، سیاسی، انٹیلیجنس اطلاعات اور وسائل کی مدد کریں۔ فلسطینی قوم کو تنہائی کا احساس نہیں ہونا چاہئے۔ صیہونی اور وہ لوگ جو فلسطینی مجاہدین کے قتل اور انہیں ايذائیں دینے میں ملوث ہیں، دنیا میں کہیں بھی خود کو محفوظ محسوس نہ کریں۔ پوری دنیا میں حکومتوں اور اقوام کو فلسطینی مجاہدین کی مدد کے لئے فنڈ اور مراکز قائم کرنا چاہئے۔ غاصب حکومت کا بائیکاٹ اور اس کو سرکاری طور پر تسلیم نہ کرنا تمام مسلمان حکومتوں کا فریضہ ہے اور اقوام کو اس مسئلے میں حساسیت کا مظاہرہ کریں اور ان وسائل اور تمام ممکن وسائل سے کام لیکر موجودہ سازشوں کا مقابلہ کریں اور اس کی تاثیر کو روکیں۔ بہرحال مسئلۂ  فلسطین کی ایک سے زیادہ راہ حل نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ پوری سرزمین فلسطین میں فلسطینی حکومت قائم ہو۔     تمام مسلمان حکومتوں اور اقوام کے لئے خدا کی ہدایت و نصرت کا دعا کرتا ہوں اور ہمیشہ ان کی کامیابی چاہتاہوں۔ والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ علی الحسینی الخامنہ ای          پچیس مہرماہ سن ایک ہزار تین سو ستر (شمسی)  مطابق آٹھ ربیع الثانی چودہ سو بارہ ہجری (قمری) 1- سورۂ حج : 39 و 40 2- سورۂ حج: 40
1991/10/17

سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلی عہدہ داروں، افسروں اور جوانوں سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب کے زمینی شعبے کے کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے معائنے کے موقع پر سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈروں اعلی عہدہ داروں اور جوانوں سے خطاب کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے سپاہ پاسداران کو قوم کا حفاظتی قلعہ ہونے کے ساتھ ہی عالم انسانیت کی حفاظت کے اہداف کی حامل فورس قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے سپاہ پاسداران انقلاب فورس کو دین اسلام کی خدمت گزار فورس قرار دیا اور ساتھ ہی اس ادارے کی انقلابی ماہیت کے باقی رہنے پر تاکید فرمائي۔ آپ نے ایرانی قوم کی جانب سے کی جانے والی اسلام کی خدمت کو بہت گراں قدر اور بے مثال قرار دیا۔ آپ کے بقول دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمان حاکم اقتدار میں تو آئے لیکن انہوں نے اسلام کی حکومت قائم کرنے کی کبھی فکر نہیں کی۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں فرمایا کہ سامراجی طاقتیں خواہ ظاہر نہ کریں لیکن حقیقت میں اسلام اور اسلامی بیداری سے ہراساں ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی کے بقول جہاں قوم کی توجہ سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب مرکوز ہی وہیں دوسری جانب عالمی سامراجی طاقتیں بھی اس فورس پر نظریں گاڑے ہوئے اپنی سازشوں میں مصروف ہیں لہذا اس فورس کو بہت زیادہ محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
1991/10/15

شہید پرور قوم کے مختلف طبقات کے اجتماع سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سترہ مہر سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق نو اکتوبر سنہ انیس سو اکانوے عیسوی کو مختلف عوامی طبقات کے اجتماع میں ایرانی قوم کو مثالی قوم قرار دیا۔ آپ نے ماضی میں ایران کی درخشاں علمی کارکردگی کا حوالہ دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے علاقے میں سامراجی طاقتوں کی موجودگی پر نکتہ چینی کی اور ان طاقتوں کو علاقے کی مشکلات کی وجہ قرار دیا۔ خطاب کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛
1991/10/09

نماز جمعہ کے خطبوں میں اہم دینی و سیاسی امور کا جائزہ

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ نے پانچ مہر سنہ تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق ستائیس ستمبر انیس سو اکانوے عیسوی کو تہران کی مرکزی نماز جمعہ کے خطبوں میں پیغمبر اسلام کی زندگی کے بعض اہم ترین پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ قائد انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے اتحاد پر خاص تاکید فرمائی۔ آپ نے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے سلسلے میں بھی بعض اہم نکات بیان کئے۔ نماز جمعہ کے خطبوں کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛
1991/09/27

عالمی اہلبیت کانسل کے ارکان سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے چار مہر تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق چھبیس ستمبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو عالمی اہلبیت کونسل کے اراکین کے اجتماع سے اپنے خطاب میں اس ادارے کی عالمی سطح کی کارکردگی کے سلسلے میں انتہائی اہم ہدایات دیں۔ تفصیلی خطاب مندرجہ ذیل ہے؛
1991/09/25

ہفتہ دفاع مقدس کے موقع پر خطاب اہم قومی، علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 3 مہر 1370 ہجری شمسی مطابق 25 ستمبر 1991 عیسوی کو ہفتہ دفاع مقدس میں سپاہیوں، بسیجیوں (عوامی رضاکاروں) شہیدوں کے اہل خاندان اور اعضائے بدن کا نذرانہ دینے والے جانبازوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ 17 ربیع الاول یعنی یوم ولادت با سعادت حضرت ختمی مرتبت اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیھم السلام کے موقع پر منعقد ہونے والے اس اجتماع میں قائد انقلاب اسلامی نے اہم قومی اور عالمی مسائل پر گفتگو اور سامراجی طاقتوں کی پالیسیوں کو ہدف تنقید قرار دیا۔ تفصیلی خطاب مندرجہ ذیل ہے
1991/09/24

انجمن تقریب مذاہب اسلامیہ کی اعلا کونسل کے پہلے اجلاس سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پہلی مہر سن تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق تیئیس ستمبر سن انیس سو اکیانوے عیسوی کو اسلامی مکاتب فکر کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے تشکیل پانے والی انجمن تقریب مذاہب اسلامیہ کی اعلی کونسل کے ارکان سے ملاقات میں صحیح سمت میں اٹھائے جانے والے اس مفید قدم کی تعریف کی اور مذاہب کو ایک دوسرے کے قریب لانے سے متعلق اہم ہدایات دیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں دشمنوں کی جانب سے جاری سازشوں کا ذکر بھی کیا اور تاریخ کے پس منظر میں حکمرانوں کے اسلامی مذاہب کو ایک دوسرے سے دور کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔
1991/09/22

پاسداران انقلاب میں ولی امر مسلمین کے نمائندوں اور کمانڈروں سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ستائیس شہریور تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق اٹھارہ ستمبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈروں اور اس ادارے میں ولی امر مسلمین کے نمائندوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاسداران انقلاب فورس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آپ نے مختلف مواقع پر اس فورس کی جانفشانی اور بے مثال کارکردگی کو امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی دور اندیشی کا آئینہ بتایا۔ آپ نے اس فورس کے نظم و نسق کے تعلق سے بعض معیارات کی جانب اشارہ بھی کیا۔
1991/09/17

ساتویں کل ایران ائمۂ جمعہ کا نفرنس کے افتتاحیہ اجلاس سے قائد انقلاب کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 25 شہریور 1370 ہجری شمسی مطابق 16 ستمبر 1991 عیسوی کو ساتویں کل ایران آئمہ جمعہ کانفرنس کی افتتاحیہ تقریب سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں امت اسلامیہ کے خلاف سامراجی طاقتوں کی باہمی سازباز کا ذکر کیا اور اس کی بابت ہوشیار رہنے کی ضرورت پر تاکید کی۔ قائد انقلاب اسلامی نے ملک کے ائمہ جمعہ کی سماجی، دینی، ثقافتی اور دیگر شعبوں کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی۔ تفصیلی خطاب پیش نظر ہے:
1991/09/15

شہیدوں کے بچوں اور ٹیچرس ٹریننگ یونیورسٹی کے اساتذہ سے خطاب

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تیرہ شہریور سن تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق چار ستمبر انیس سو اکیانوے عیسوی کو ملک کے شہدا کے اہل خاندان اور ٹیچرس ٹریننگ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے اس خطاب میں ملک کے لئے شہدا کی قربانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شہدا کے بچوں کو اسی راہ پر گامزن رہنے کی سفارش کی جس راہ میں ان کے والد نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اساتذہ کو خلوص کے ساتھ تعلیم دینے اور زیور اخلاق سے آراستہ رہنے نیز طلبہ کو اس سے مزین کرنے کی سفارش کی۔
1991/09/03

ہفتہ حکومت کی مناسبت سے کابینہ کے اراکین سے ملاقات میں خطاب

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تین شہریور تیرہ سو ستر ہجری شمسی مطابق پچیس اگست انیس سو اکیانوے عیسوی کو ہفتہ حکومت کی مناسبت سے صدر ہاشمی رفسجانی اور ان کی کابینہ کے ارکان سے ملاقات میں اجرائی امور سے متعلق اہم ترین ہدایات دیں۔ آپ نے اعلی عہدہ داروں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی انجام دہی کے اچھے اسلوب بیان کئے۔ تفصیلی خطاب پیش نظر ہے؛
1991/08/24
  • » ابتدائی
  • › گزشتہ
  • …
  • 114
  • 115
  • 116
  • 117
  • 118
  • 119
  • 120
  • 121
  • 122
  • اگلا>
  • آخری »

آخری فتح جو زیادہ دور نہیں، فلسطینی عوام اور فلسطین کی ہوگی۔

2023/11/03
خطاب
  • تقاریر
  • فرمان
  • خطوط و پیغامات
ملٹی میڈیا
  • ویڈیو
  • تصاویر
  • پوسٹر
  • موشن گراف
سوانح زندگی
  • سوانح زندگی
  • ماضی کی یاد
فورم
  • فیچرز
  • مقالات
  • انٹرویو
نگارش
  • کتب
  • مقالات
مزيد
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • امام خمینی
  • استفتائات و جوابات
All Content by Khamenei.ir is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.