اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی دفعہ 110 نے منتخب صدر کی صدارت کے حکمنامے پر دستخط کو رہبر معظم انقلاب کے فرائض و اختیارات کے دائرے میں رکھا ہے۔ تنفیذ (الیکشن میں صدر کو ملے عوامی مینڈیٹ کی توثیق) فقہی لحاظ سے ایک پرانی اور مشہور اصطلاح ہے اور اسلامی انقلاب کے بعد یہ لفظ ملک کے قانونی نصاب میں شامل ہو گيا ہے۔ سب سے پہلے "تنفیذ" کے قانونی مفہوم اور ماہیت کی طرف اشارہ کیا جائے گا اور پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے آئين کے قوانین کی رو سے اس سلسلے میں پائے جانے والے اہم ترین سوالوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ جیسے یہ سوال کہ تنفیذ کے عمل کا اعتبار کہاں تک اور کس طرح کا ہے؟ کیا تنفیذ محض ایک پروٹوکول ہے جو ولی فقیہ کی جانب سے انجام دیا جاتا ہے یا یہ ایک قانونی اقدام ہے؟ تنفیذ کے کیا قانونی اثرات ہیں؟
ان لوگوں نے جو کام کیا ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ یہ لوگ دکھاوے کو کنارے رکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور میدان میں آ گئے ہیں۔ دنیا میں ان کی فضیحت ہو گئی ہے، ان کی باتوں کو جھٹلایا جا رہا ہے، یہ سب بڑے اہم واقعات ہیں۔
(غزہ کے) اس مسئلے میں امریکا یقینی طور پر مجرمین کا شریک جرم ہے، یعنی اس جرم میں امریکا کا ہاتھ کہنیوں تک مظلوموں اور بچوں کے خون میں ڈوبا ہوا ہے، دراصل امریکا ہی (اس جرم کو) مینیج کر رہا ہے۔
امام خامنہ ای
25 اکتوبر 2023
رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای اسلامی جمہوریہ ایران کے شہید وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان کی قبر پر گئے۔ شہر رے میں حضرت عبد العظیم حسنی کے مزار کی زیارت کرتے وقت رہبر انقلاب شہید وزیر خارجہ کی قبر پر گئے اور فاتحہ خوانی کی۔
توضیح و تشریح کا اقدام، دشمن کی چال اور اس کے قدم کو ناکام بنانے والا ہے۔ آپ میں سے ہر ایک، ایک ذمہ داری کے طور پر ایک چراغ کی طرح، ایک نور کی طرح اپنے آس پاس کے ماحول کو روشن کر دے۔
سنہ 1990 کے عشرے میں مسئلۂ فلسطین کے طویل ہو جانے کے سبب امریکا کی قیادت میں مغربی ملکوں نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں دو ریاستی فارمولا پیش کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس تناظر میں اس وقت کے صیہونی حکومت اور پی ایل او کے سربراہان کے درمیان سنہ 1993 میں اوسلو معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اوسلو معاہدہ ایک طے شدہ فارمولے کو نافذ کرنے کی کوشش تھی جو اسرائيل اور فلسطین کے تنازع کے مکمل حل پر منتج ہو۔ پچھلے 30 سال کے عرصے نے یہ عیاں کر دیا کہ اس معاہدے کے تمام وعدے جھوٹے تھے اور اس کا اہم ترین نتیجہ، بیت المقدس کو یہودی شہر بنانا اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی کالونیوں میں اضافہ تھا۔ ایڈورڈ سعید عالمی سطح پر فلسطینی کاز کے حامیوں میں سے ایک رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود دو ریاستی فارمولے کی حمایت میں پیش پیش رہنے والوں میں سے ایک تھے۔ غیر قانونی یہودی بستیوں کے سلسلے میں صیہونی حکومت کی پالیسیوں کے پیش نظر انھوں نے اپنی عمر کے آخری حصے میں کھل کر کہا تھا کہ اس فارمولے پر عمل درآمد ناممکن ہے۔(1) اور آج بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے اسرائيل کے اقدامات کو، دو ریاستی فارمولے کے سلسلے میں غلط قدم بتایا ہے۔(2)
ذیل کی تحریر میں قاری کو یہ حقیقت سمجھانے کی کوشش کی گئي ہے کہ صیہونی حکومت صرف ایک ہدف کے حصول کے درپے ہے اور وہ ہے مقبوضہ علاقوں میں اپارتھائيڈ جیسی ایک صیہونی حکومت کا قیام اور دو ریاستی راہ حل، خطے میں اس حکومت کی گھٹیا چال پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
1. اوسلو معاہدے کے بعد صیہونی حکومت کے اقدامات
اس وقت مقبوضہ علاقوں میں جو فلسطینی علاقے ہیں، ان میں غرب اردن ہے جس کا کنٹرول پی ایل او کے ہاتھ میں ہے جبکہ دوسرا علاقہ غزہ پٹی ہے جس کا انتظام حماس کی حکومت چلاتی ہے۔ اگر اوسلومعاہدے کے بعد صیہونی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ یہ حکومت کسی بھی صورت، دو ریاستی فارمولے کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھی کیونکہ اس فارمولے کے سلسلے میں صیہونی حکام کی اسٹریٹیجی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ پہلے بعض فلسطینی سربراہوں اور عرب ملکوں کی جانب سے اپنی قانونی حیثیت اور جواز حاصل کر لیں، اس وقت (اسّی کی دہائي کے اواخر اور نوّے کی دہائي کے اوائل میں) رائے عامہ کی نظروں میں اپنی مثبت شبیہ بنا لیں اور پھر فلسطینیوں کے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر غاصبانہ قبضے کے لیے وقت حاصل کر لیں۔ اس سلسلے میں نقشہ نمبر 1 اس بات کو واضح کرتا ہے کہ غرب اردن کا علاقہ بھی پوری طرح، صیہونی حکومت سے صلح اور اسے قانونی حیثیت دینے کی خواہاں خودمختار فلسطینی انتظامیہ کے ہاتھوں میں نہیں دیا گيا جبکہ اوسلو معاہدے اور دو ریاستی فارمولے کے تحت اس کا کنٹرول اسے دیا جانا چاہیے تھا۔
صیہونی حکومت کے ہاتھوں غرب اردن کے علاقوں پر قبضہ بڑھانے کا ایک راستہ اس علاقے میں صیہونی کالونیاں کی تعداد بڑھانا اور یہاں یہودیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں 28 مارچ 2023 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے جس میں کہا گيا ہے کہ یہودی کالونیوں میں رہنے والی غیر قانونی آبادی کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ سنہ 1993 میں یہی آبادی، ڈھائي لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔(3) صیہونی حکومت کے ذریعے مقبوضہ علاقوں کو ہڑپنے کی ایک اور چال مختلف بہانوں سے زمینوں کو سرکاری اراضی بنا دینا ہے۔ اس سلسلے میں ہفنگٹن پوسٹ(4) اور لی مونڈ(5) جیسے اخباروں کی رپورٹوں پر نظر ڈالی جا سکتی ہے۔ ہفنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک سرکاری دستاویز کے مطابق اسرائيلی حکومت نے درۂ اردن کے قریب 1270 ہیکٹیر زمین پر قبضے کی توثیق کی ہے اور اوسلو معاہدے کے بعد اس قسم کے اقدام کی کوئي مثال نہیں ملتی۔ اسی طرح لی مونڈ اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پیس ناؤ (6) تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 کے ابتدائي چھے مہینوں میں صیہونی حکام نے 2370 ہیکٹیر زمین کو سرکاری زمین ڈکلیئر کر دیا ہے جس سے انھیں اس بات کی اجازت مل گئی ہے کہ وہ ان زمینوں کو صرف یہودی کالونیوں میں رہنے والوں (Settlers) کو کرائے پر دے دیں۔
غزہ کے علاقے میں، جو صیہونی حکومت کی منہ زوریوں کے مقابلے میں مزاحمت کر رہا ہے، صیہونی حکومت کی اسٹریٹیجی کچھ الگ ہے۔ صیہونی حکومت نے سنہ 2007 سے لے کر اب تک غزہ کے علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں غزہ کے عوام بنیادی ترین انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ دوسرے الفاظ میں غزہ کے لوگوں کو دوسرے ممالک کی جانب بھگانے کے مقصد سے ان کے خلاف اپارتھائيڈ حکومت والی پالیسیاں اختیار کی گئي ہیں۔ اس سلسلے میں نقشہ نمبر 2 اس موضوع کی عکاسی کرتا ہے کہ سنہ 2007 سے لے کر سنہ 2023 تک صیہونی حکومت نے اس خطے پر پانچ فوجی حملے کیے ہیں۔
سنہ 2023 کی جنگ اور پچھلے پانچ حملوں کے درمیان جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ یہ جنگ "ضاحیہ ڈاکٹرین"(7) کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔ یہ وہ حکمت عملی ہے جس کا ہدف غزہ کے لوگوں کو زبردستی اس علاقے سے باہر نکالنا، اس علاقے کو پوری طرح باشندوں سے خالی کروانا اور پھر صیہونی حکومت کی جانب سے اس پر آسانی سے قبضہ کر لینا ہے۔ ضاحیہ ڈاکٹرین ایک طرح کی فوجی اسٹریٹیجی ہے جس کے تحت ایک غیر مساوی شہری جنگ میں فوج، جان بوجھ کر غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتی ہے تاکہ غیر فوجی افراد پر دباؤ بڑھا کر اور ان پر سختیاں مسلط کر کے اپنی ڈیٹرنس کو بڑھایا جائے۔(8) یہ رپورٹ لکھے جانے تک اور جنگ کو 9 مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بعض ذرائع نے اس جنگ میں مارے جانے والوں کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ بتائی ہے جبکہ The Lancet جیسے میڈیکل جرائد نے اپنی رپورٹ میں بالواسطہ طور پر مرنے والوں کی تعداد 1 لاکھ 86 ہزار سے زیادہ بتائي ہے۔ اگر انفراسٹرکچر کی بات کی جائے تو سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر اقوام متحدہ نے 31 مئي 2024 کو اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ کا 55 فیصد انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ (نقشہ نمبر 3) اور پوری غزہ پٹی میں تقریبا 65 فیصد سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔(9) (نقشہ نمبر 4)
دو ریاستی فارمولا، وقت حاصل کرنے کی ایک چال
اوسلو معاہدے اور دو ریاسی فارمولا پیش کیے جانے کو کئي عشرے گزر جانے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 181 جو فلسطین کے پارٹیشن پلان کے نام سے بھی مشہور ہے، 29 نومبر 1947 کو پاس ہوئي لیکن صیہونی حکومت نے، اس بات کے پیش نظر کہ سنہ 1980 کے عشرے کے اواخر میں اسے عالمی برادری میں قانونی جواز کے بحران کا سامنا رہا تھا، اس بات کی کوشش کی کہ 1948 کی جنگ، 1967 کی چھے روزہ جنگ یا 1973 کی جنگ کے برخلاف جن میں وہ خانہ جنگي کی کیفیت اور عرب ملکوں کی جانب سے تیل کی سپلائی روک دیے جانے کی وجہ سے مغربی ملکوں کی عدم حمایت والی پچھلی جنگوں کے برخلاف فلسطینی آبادی والے باقیماندہ علاقوں پر قبضے کے لیے ایک نئي حکمت عملی اختیار کرے۔ اس کے نتیجے میں دو ریاستی فارمولا ایک طرف تو صیہونی حکومت کے لیے وقت حاصل کرنے اور اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کا ایک حربہ اور دوسری طرف فلسطینی کاز کی پیٹھ میں ایک خنجر سمجھا جاتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج صیہونی حکام اسی فارمولے کو اپنے زیادہ بڑے اہداف کے حصول کے لیے پیمان ابراہیم (Abraham Accords) کے ڈھانچے میں آگے بڑھانے کی کوشش میں تھے لیکن طوفان الاقصیٰ آپریشن نے اس منصوبے کو شروع میں ہی ناکام بنا دیا۔ دوسرے الفاظ میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای 3 جون 2024 کے اپنے خطاب میں کہتے ہیں: "آپریشن طوفان الاقصیٰ علاقے کی ضرورت کے عین مطابق تھا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ امریکا، صیہونی عناصر، ان کی پیروی کرنے والوں اور علاقے کی بعض حکومتوں نے ایک منصوبہ تیار کیا تھا جس میں طے پایا تھا کہ علاقے کے تعلقات، معاملات اور توازن کو تبدیل کر دیا جائے۔ علاقے کی حکومتوں کے ساتھ صیہونی حکومت کے روابط خود اس حکومت کی مرضی کے مطابق ترتیب دیے جس کا مطلب یہ تھا کہ مغربی ایشیا بلکہ پوری اسلامی دنیا کی سیاست اور معیشت پر صیہونی حکومت کا مکمل تسلط ہو۔"
ہر آزاد منش انسان جو قومی اور مذہبی تعصب کے بغیر مسئلۂ فلسطین پر غور کرے، وہ مقبوضہ علاقوں میں امن و ثبات کا واحد حل تمام اقوام و مذاہب کی شرکت سے فلسطین میں ایک ریفرنڈم کو مانے گا۔ اس سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای نے پہلی مئي سنہ 2024 کو کہا تھا: "مشکل اس وقت حل ہوگی جب فلسطین اس کے اصلی مالکین یعنی فلسطینی عوام کو واپس مل جائے۔ فلسطین، فلسطینی عوام کا ہے، ان میں مسلمان بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں، یہودی بھی ہیں۔ فلسطین ان کا ہے۔ فلسطین انھیں واپس کر دیں، وہ اپنی حکومت، اپنا نظام تشکیل دیں، اس کے بعد یہ نظام فیصلہ کرے کہ صیہونیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ انھیں باہر نکالا جائے یا رہنے دیا جائے ... یہ وہ راہ حل ہے جس کا اعلان ہم نے کچھ برس قبل کیا تھا ... جب تک یہ نہیں ہوگا مغربی ایشیا کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔"
1. Yi LI (2011) Edward Said’s Thoughts and Palestinian Nationalism, Journal of Middle Eastern and Islamic Studies (in Asia), 5:3, 105-120, DOI: 10.1080/19370679.2011.12023187 (P. 118)
2. https://www.leparisien.fr/international/israel/israel-5-minutes-pour-comprendre-les-nouvelles-implantations-de-colonies-en-cisjordanie-05-07-2024-BEDGKFVFWVH3VKXY7Y2OHUZ3LI.php
3. https://www.un.org/unispal/document/human-rights-council-hears-that-700000-israeli-settlers-are-living-illegally-in-the-occupied-west-bank-meeting-summary-excerpts/
4. https://www.huffingtonpost.fr/international/article/en-cisjordanie-israel-approuve-la-plus-grosse-saisie-de-terres-depuis-30-ans_236417.html
5. https://www.lemonde.fr/idees/article/2024/07/06/l-avancee-de-la-colonisation-en-cisjordanie-doit-cesser_6247358_3232.html
6. Peace Now
7. Dahiya Doctrine
8. https://www.theguardian.com/commentisfree/2023/dec/05/israel-disproportionate-force-tactic-infrastructure-economy-civilian-casualties
9. https://unosat.org/products/3883
غزہ کا مسئلہ بدستور عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی وہی پہلے دن جیسی اہمیت اب بھی ہے بلکہ اس سے زیادہ۔ مزاحمت کی طاقت روز بروز پہلے سے زیادہ خود کو نمایاں کر رہی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے 21 جولائی 2024 کو بارہویں پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اراکین سے خطاب میں قانون سازی، پارلیمنٹ کی ذمہ داریوں، مجریہ کے ساتھ تعمیری تعاون اور عالمی مسائل میں سنجیدہ کردار ادا کرنے جیسے نکات پر گفتگو کی۔ (1)
خطاب حسب ذیل ہے:
حکومتوں کے ساتھ جو مختلف چیلنجز ہوتے ہیں، فطری طور پر حکومت کے سامنے مختلف مسائل میں کچھ چیلنجز ہو سکتے ہیں، ایسے میں پارلیمنٹ حکومت کو بھرپور سہارا دے سکتی ہے۔
غزہ کا مسئلہ بدستور عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا کے لوگ اب درحقیقت غاصب خبیث حکومت کے خلاف فیصلہ کر رہے ہیں۔ مسئلہ ختم نہیں ہوا ہے، مسئلہ بدستور جاری ہے۔
اگر منتخب صدر ملک کا انتظام چلانے میں کامیابی حاصل کریں تو ہم سب نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی کامیابی، ہم سب کی کامیابی ہے۔ اس بات پر ہمیں دل کی گہرائي سے یقین رکھنا چاہیے۔
بارہویں پارلیمنٹ، مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر اور اراکین اتوار 21 جولائي 2024 کی صبح حسینیۂ امام خمینی میں رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کریں گے۔
18 جولائی نیلسن منڈیلا کا یوم پیدائش ہے۔ انھیں ساٹھ کے عشرے میں ایک دہشت گرد کی حیثیت سے جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور سنہ 2008 تک امریکا کی دہشتگردوں کی لسٹ میں ان کا نام باقی رہا۔ ان کا جرم ایک ایسی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنا تھا جس میں باہر سے آئی ہوئی جارح اقلیت، ہتھیاروں کے زور پر مقامی اکثریت کا استحصال کر رہی تھی۔ یہ حکومت، جسے قائم کرنے والے خود ہی "اپارتھائیڈ" کہتے تھے مغربی بلاک کی حمایت سے برسوں تک اپنی کسی بھی طرح کی مخالفت کی بدترین طریقے سے سرکوبی کرتی رہی اور حریت پسندوں کو دہشت گرد بتا کر جیلوں میں ٹھونستی رہی۔
آج 18 جولائی 2024 کو حماس کے مجاہدین کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کو 9 مہینے سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ حماس کے مجاہدین کی پیشانی پر بھی سنہ 1997 سے دہشتگرد کا عنواں چسپاں ہے۔ ان کا جرم، ایسی حکومت سے جدوجہد کرنا ہے جس میں باہر سے آنے والے حملہ آور اسلحے کی طاقت کے بل پر مقامی لوگوں کے خاتمے اور پورے علاقے پر قبضے کے درپے ہیں۔ یہ حکومت، جو دنیا بھر کے یہودیوں کے لیے ایک ملک کی تشکیل کے وعدے کے ساتھ وجود میں لائی گئی اور اسے بنانے والوں نے اسے اسرائیل کا نام دیا، مغربی بلاک کی حمایت سے برسوں سے نسل کشی اور مقامی لوگوں کو محدود کر کے نسلی تصفیے کے اپنے پروجیکٹ کو آگے بڑھا رہی ہے۔
اسرائیل اور اپارتھائیڈ دو سگے بھائی
اسرائیلی حکومت دینی و نسلی امتیاز کی بنیاد پر اور اپارتھائیڈ حکومت نسلی امتیاز کی بنیاد پر تشکیل پائی ہے لیکن ان دونوں کی پشت پر جو طاقت کام کر رہی ہے وہ مغرب کا سامراج ہے جو دیگر اقوام کے ذخائر پر زیادہ سے زیادہ تسلط کی راہ میں کسی بھی طرح کے ظلم سے دریغ نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کی بڑی طاقتوں نے اس وقت تک اپارتھائیڈ کی حمایت نہیں چھوڑی جب تک اس کی حمایت کا خرچ، اس کے منافع سے بڑھ نہیں گیا اور آج بھی وہی ممالک بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے صیہونی حکومت کے جرائم کا جواز پیش کرتی ہے۔ اپارتھائیڈ حکومت کی عمر کے آخری برسوں میں اس کی مذمت اور اس وقت صیہونی حکومت کی حمایت کے سلسلے میں یہی دوہرا معیار، مغربی طاقتوں کی ریاکاری کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ ان دونوں حکومتوں کے قوانین اور کردار سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے درمیان پوری طرح شباہت پائی جاتی ہے۔
سب سے پہلی اور سب سے اہم شباہت، مقامی لوگوں کی زمینیں ہڑپنا اور ان پر غاصبانہ قبضہ کرنا ہے۔ سفید فام اپارتھائیڈ حکومت نے جنوبی افریقا کے 80 فیصد سے زیادہ علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے بعد "بنتوستان" کے نام سے کچھ علاقے معین کر دیے تھے اور سیاہ فام باشندوں کو صرف انھی علاقوں میں رہنے کا حق تھا۔ اس کا صرف ایک نمونہ یہ ہے کہ سیاہ فاموں کی زمین کے ایک بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے بعد اپارتھائیڈ حکومت نے "ڈسٹرکٹ 6" کے نام سے موسوم ایک علاقے کو خالی کرنے کا حکم دیا اور اس علاقے کے 60 ہزار سیاہ فاموں کو بے گھر کر دیا۔
صیہونی حکومت نے بھی سنہ 1948 میں اپنی تشکیل کے وقت سے ہی، فلسطینیوں کو بری طرح بے گھر کرنا شروع کر دیا تھا۔ یوم النکبہ کے نام سے موسوم دن میں ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھر، گاؤں اور شہر سے نکال باہر کیا گیا اور انھیں ہمسایہ ممالک یا پناہ گزیں کیمپوں میں جا کر رہنے پر مجبور کیا گیا۔ سنہ 1967 میں بھی صیہونی فوج نے غرب اردن، غزہ پٹی اور بیت المقدس سے لاکھوں فلسطینیوں کو باہر نکال دیا اور فلسطینیوں کے 80 فیصد سے زیادہ علاقوں پر قبضے کی راہ ہموار کر دی۔ اپنی تشکیل کے بعد کے برسوں میں صیہونی حکومت نے لگاتار فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کر کے اور ان کی زرعی زمینیوں کو تباہ کر کے ان کی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کیا اور ان میں صیہونیوں کے لیے کالونیاں تعمیر کی ہیں۔
رفت و آمد کو محدود کرنا، نفسیاتی اور معاشی جنگ کے حربے
ایک دوسرا حربہ جسے اپارتھائیڈ اور صیہونی حکومت مقامی لوگوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے اور صیہونی حکومت اب بھی استعمال کر رہی ہے، ان کی رفت و آمد کو محدود کرنا ہے۔ جنوبی افریقا میں سیاہ فام باشندوں کو بنتوستانوں سے باہر نکلنے کے لیے پرمٹ لینے کی ضرورت ہوتی تھی اور بغیر پرمٹ کے بنتوستان سے نکلنے پر انھیں گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ صیہونی حکومت نے بھی اونچی اونچی دیواریں تعمیر کر کے اور تفتیشی چوکیاں بنا کر مقبوضہ فلسطین کو کئی علاقوں میں بانٹ دیا ہے اور ان علاقوں میں فلسطینیوں کی رفت و آمد کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے دیے جانے والے پرمٹ سے مشروط کر دیا ہے۔ اہم بات یہ جاننا ہے کہ اس محدودیت سے ان حکومتوں کو کیا فائدے حاصل ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ صیہونی حکومت مقبوضہ فلسطین میں لوگوں کی زرعی زمینوں اور ان کے گھروں، تعلیم کے حصول یا کام کے مقاموں کے درمیان رکاوٹیں پیدا کر کے انھیں معاشی اور سماجی طور پر مفلوج کرنے کا کام کر رہی ہے۔ اس محدودیت میں مقدس مقامات تک آمد و رفت بھی شامل ہے جو فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ ہی عیسائیوں پر بھی لگائی گئی ہے۔ اس طرح کے بڑھتے ہوئے دباؤ طویل مدت میں دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔ جنوبی افریقا میں بھی سیاہ فاموں کی آمد و رفت کو کنٹرول کیے جانے کی وجہ سے ان سے ان کی معاشی پیشرفت کے مواقع چھین لیے گئے اور اس سے سفید فاموں کی معاشی برتری کو یقینی بنایا گیا کیونکہ اچھی اور زرخیز زمینیں عام طور پر بنتوستانوں سے باہر ہوتی تھیں۔
قانونی تفریق
جنوبی افریقا میں سنہ 1970 میں پاس ہونے والے "سیاہ وطن" کے قانون کی رو سے سیاہ فام لوگ اس ملک کے باشندے شمار نہیں ہوتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ رائے دہی اور اپنے مستقبل کے تعین کے حق سے محروم تھے۔ ان کی شہریت چھیننے سے ان کی سرکوبی اور انھیں اپنی مرضی کی سزا دینے کی راہ ہموار ہوتی تھی۔ اپارتھائیڈ کے کنٹرول والے جنوبی افریقا میں کسی سیاہ فام کو بغیر پرمٹ کے بنتوستان سے نکلنے پر بغیر کسی عدالتی کارروائی کے لمبے عرصے تک حراست میں رکھنا بھی ممکن تھا۔ ایسی ہی قانونی تفریق مقبوضہ فلسطین میں موجود ہے جہاں غرب اردن میں دو طرح کے قانونی سسٹموں کو استعمال کیا جاتا ہے: اسرائیلی شہریوں کے لیے شہری قانون اور فلسطینی شہریوں کے لیے فوجی قانون۔ اسی طرح صیہونی حکومت کے قانون میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ فلسطینیوں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے چھے مہینے تک حراست میں رکھا جائے اور اس حراست کی تجدید بھی کی جا سکتی ہے۔
ایک بنیادی فرق
جنوبی افریقا کی اپارتھائیڈ حکومت اپنی معاشی پیشرفت کے لیے سیاہ فام افرادی قوت کو استعمال کرتی تھی۔ اگرچہ نسلی امتیاز اور امتیازی سلوک تعلیم و تربیت اور نقل و حمل جیسے بنیادی ضرورت کے شعبوں میں بھی جاری تھا لیکن اس افرادی قوت کی شدید ضرورت کے پیش نظر جنوبی افریقا کے عوام نے متعدد میدانوں میں سول نافرمانی کر کے اور ہمہ گیر مظاہرے کر کے اس حکومت کو گرا دیا۔ اگرچہ اپارتھائیڈ حکومت بھی سنہ 1960 میں شارپ ولے قتل عام، سنہ 1976 میں سوویٹو کے قیام کی سرکوبی، اپنے مخالفین کو جیل میں ڈالنے، انھیں موت کی سزا دینے یا عوامی مخالفتوں کو کچلنے جیسے اقدامات کر رہی تھی لیکن اس کا موازنہ صیہونی حکومت کی درندگی اور سفاکیت سے نہیں کیا جا سکتا۔ صیہونی حکومت، سر زمین فلسطین کو اس کے باشندوں کے بغیر چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اپنی ناجائز تشکیل کے زمانے سے ہی فلسطینی عوام کے خلاف انتہائی سفاکانہ اور خونریز حملے کیے ہیں اور وہ کھل کر فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے باہر نکالنے کے اپنے ارادے کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اپارتھائیڈ حکومت اور صیہونی حکومت کے درمیان یہ فرق اس بات کا سبب بنا ہے کہ ان دونوں حکومتوں کے خلاف جدوجہد بھی دو الگ الگ طریقوں سے کی جائے۔ اگر نیلسن منڈیلا، برسوں تک جیل میں رہ کر اس نسلی امتیاز سے اپنے عوام کی آزادی کی راہ میں قدم اٹھا سکے تو فلسطین میں یہ قدم زیر زمینی سرنگوں میں گرمی اور زندگی کا دباؤ برداشت کر کے اور صیہونی فوج سے جنگ کر کے اٹھایا جاتا ہے۔ اگر آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو کے جلوس، اپارتھائیڈ کے جسم پر وار کرتے تھے تو غزہ کے فلسطینیوں کی واپسی کی ریلی اور ان کی سفارتی کوششوں کے تلخ تجربے نے دکھا دیا ہے کہ صیہونی حکومت پر وار، مظاہروں کے ذریعے نہیں بلکہ اس طفل کش حکومت کے وحشیانہ حملوں پر صبر کر کے اور استقامت کرنے والی ایک نسل کی پرورش کر کے کیا جا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے مسئلۂ فلسطین کا حل، صیہونی حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد تمام فلسطینیوں کے درمیان کرائے جانے والے ایک ریفرنڈم کو بتایا ہے: "فلسطینی قوم کی ہمہ گیر مجاہدتیں، سیاسی مجاہدتیں، فوجی مجاہدتیں، اخلاقی اور ثقافتی مجاہدتیں جاری رہنی چاہئے، یہاں تک کہ وہ لوگ جنھوں نے فلسطین پر قبضہ کیا ہے، فلسطینی عوام کی مرضی کے سامنے جھک جائیں۔ سبھی فلسطینی عوام سے، چاہے وہ مسلمان، عیسائی یا یہودی فلسطینی ہوں، وہ لوگ بھی جنھیں فلسطین سے باہر جلاوطن کر دیا گیا ہے، وہ بھی فلسطینی ہیں، ان سب کے درمیان ریفرنڈم کرایا جائے اور وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ فلسطین میں کس نظام کی حکمرانی ہو اور سب اس کو تسلیم کریں، اس وقت تک جدوجہد جاری رہنی چاہیے اور جاری رہے گی اور خدا کے لطف و کرم سے، توفیق الہی سے اور نصرت الہی سے اس پُرامن انسانی مجاہدت میں، جس کو دنیا کے سبھی عقلاء تسلیم کرتے ہیں، فلسطینی قوم غالب ہوگی اور ملک فلسطین، فلسطینی عوام کو واپس ملے گا۔" (5 جون 2019)
بدھ کے روز رہبر انقلاب اسلامی کی موجودگي میں امام زین العابدین علیہ السلام کی شب شہادت میں ہوئي جس میں رہبر انقلاب اسلامی اور حسینی عزاداروں نے شرکت کی۔ یہ مجالس عزا کے سلسلے کی آخری مجلس تھی۔
سید الشہداء حضرت ابی عبد اللہ الحسین علیہ السلام اور اہلبیت کے کچھ شیدائيوں نے حسینیۂ امام خمینی میں رہبر انقلاب اسلامی کی موجودگي میں آل اللہ کی شام غریباں کی عزاداری کی۔
امام حسین علیہ السلام کے کارنامے کی روح یہ تھی کہ وہ حق بات اور حق کی راہ کا نفاذ کریں اور ان تمام طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ جائيں جو اس راہ میں ایک دوسرے کے ساتھ آ گئي تھیں۔
24 ستمبر 1985
حسینیۂ امام خمینی میں چھے محرم سے شروع ہونے والے مجلس عزا کے سلسلے کی تیسری مجلس منعقد ہوئی جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اور عزاداروں نے شرکت کی۔
شہید مطہری انقلاب سے برسوں پہلے چیخ چیخ کے کہتے تھے: "آج کے دور کا شمر –اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم کا نام لیتے تھے- فلاں ہے۔" حقیقت امر بھی یہی ہے۔ ہم شمر پر لعنت بھیجتے ہیں تاکہ شمر بننے اور شمر جیسا عمل کرنے کی جڑ اس دنیا میں کاٹ دی جائے۔
9 جنوری 2008
وہ قوم جو کمزوری اور ذلت کو تسلیم کر لے اور مقدس اہداف کی راہ میں اپنے کسی فرد کی انگلی کٹانے کے لیے بھی تیار نہ ہو اس کا زوال یقینی ہے اور ذلت و خواری اس کا مقدر ہے۔
30 مارچ 1985
غزہ کی جنگ نے فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے اپنے تمام تر مصائب و آلام اور ہر آزاد منشن انسان کے لیے تمام تر دکھوں کے ساتھ ہی یورپ اور امریکا کے بہت سے نعروں اور مفاہیم کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ مغرب کے جمہوریت، انسانی حقوق اور سب سے بڑھ کر اظہار رائے کی آزادی جیسے مفاہیم غزہ کی جنگ کی وجہ سے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ آزادئ اظہار رائے جس کی سب سے بڑی دعویدار پچھلی دہائیوں میں مغربی حکومتیں رہی ہیں اور انھوں نے ہمیشہ ہی پابندیوں، بیانوں اور عالمی اداروں میں تشویش ظاہر کرنے جیسے ہتھکنڈوں کے ساتھ اسے دیگر اقوام کے خلاف دباؤ کے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا ہےغزہ میں مغرب کا ڈھونگ بن کر رہ گئی ہے۔ غزہ کی جنگ نے دکھا دیا ہے کہ اس سے پہلے تک غلط طریقے سے فریادی اور ملزم کی جگہ بدل دی گئي تھی اور یہ لبرل ڈیموکریسی ہے جسے آزادئ اظہار رائے کی خلاف ورزی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔ پچھلے 9 مہینوں میں دنیا میں جو کچھ ہوا ہے وہ بخوبی اس دعوے کی دلیل ہے۔
7 اکتوبر اور طوفان الاقصیٰ آپریشن کے اگلے کچھ ہی دنوں میں ہم نے غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم پر بہت سے اخبار نویسوں اور صحافیوں کے سخت احتجاج کا مشاہدہ کیا تھا۔ اس احتجاج پر مغربی حکومتوں اور ان کے ذرائع ابلاغ کے صیہونی مالکوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ امریکی میڈیا وائس نیوز کے خبر نگار لاما آریان نے لکھا: "میں نے آف دی ریکارڈ اپنے بہت سے ساتھیوں سے سنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کے بارے میں ٹویٹ کرنا بھی انھیں بے روزگار بنا سکتا ہے، اسی وجہ سے وہ لوگ خاموش ہیں۔"(1) مغرب میں اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کی تعداد جتنی بڑھتی جا رہی تھی، اتنی ہی روز بروز کام سے نکالے جانے والے اخبار نویسوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ مشہور جریدے Elife(2) کے مدیر اعلیٰ مائیکل آئزن سے لے کر اخبار نیویارک ٹائمز(3) کے فوٹوگرافر حسام سلام تک فلسطین کی حمایت کے سبب اپنی نوکری سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
پچھلے کچھ ہفتے پہلے ہی امریکی یونیورسٹیوں میں فلسطین کی حمایت میں اسٹوڈنٹس کے احتجاج کے اوج کے دنوں میں ایک بار پھر مغرب کی اظہار رائے کی آزادی کے دعوے کی پول کھل گئي۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں اس احتجاج کے دوران 3200 لوگ جن میں سے تقریبا 100 پروفیسر اور باقی سب یونیورسٹیوں کے اسٹوڈنٹس تھے، پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے حراست میں لے لیے گئے۔(4) اسی طرح پچھلے کچھ مہینوں کے دوران میڈیا میں خبریں آئي ہیں کہ بہت سے اسٹوڈنٹس اور پروفیسروں کو فلسطین کی حمایت کے جرم میں یونیورسٹیوں سے نکال دیا گيا ہے۔ ان میں سے ایک واقعہ کچھ ہی دن پہلے کا ہے جس میں کولمبیا یونیورسٹی کے تین پروفیسروں کو، صیہونیت مخالف ایس ایم ایس بھیجنے کے بہانے نوکری سے معطل کر دیا گيا۔(5) یہ یونیورسٹی آزادی کی خلاف ورزی کا ایک طویل ماضی رکھتی ہے اور سات اکتوبر کے بعد اس یونیورسٹی میں "JVP" یا Jewish Voice for Peace جیسے گروہوں تک کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئي۔(6)
اس کے علاوہ مغرب میں آرٹ اور اسپورٹس کی دنیا کے سیلیبریٹیز بھی اظہار رائے کی آزادی سے لبرل ڈیموکریسی کی کھلی جنگ کے گزند سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ مشہور فلم سیریز اسکریم (Scream) میں مرکزی کردار ادا کرنے والی میلیسا بریرا کو صرف اس وجہ سے اس فلمی پروجیکٹ سے باہر کا راستہ دکھا دیا گيا کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر غزہ کی حمایت میں کچھ باتیں پوسٹ کی تھیں۔(7) یا ہالینڈ کے فٹبالسٹ انور الغازی کو غزہ میں صیہونیوں کے جرائم پر صرف اعتراض کرنے کی وجہ سے جرمنی کے مائنز فٹبال کلب کی ٹیم سے باہر نکال دیا گيا۔(8)
دلچسپ بات یہ ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کی دعویدار لبرل ڈیموکریسی، مغرب کے ان انگشت شمار سیاستدانوں کو بھی برداشت نہیں کرتی جو غزہ میں صیہونی فوج کے بھیانک جرائم پر اعتراض کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی کچھ مہینے پہلے ہی امریکی کانگریس کی فلسطینی نژاد رکن رشیدہ طلیب کے صیہونیت مخالف بیان کی، کانگریس کے 234 اراکین کے ووٹوں سے مذمت کی گئي اور بہت سے اراکین نے کانگریس میں ان کی رکنیت ختم کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔(9)
حالیہ کچھ مہینوں میں ٹیکنالوجی کی کچھ بڑی کمپنیوں کے اقدامات نے بھی یہ بات بخوبی عیاں کر دی ہے کہ مغرب میں پرائیویٹ سیکٹر بھی آزادئ اظہار رائے کو محدود کرنے کے معاملے میں حکومتوں سے کچھ زیادہ الگ نہیں ہے۔ گوگل کمپنی سے لے کر، جس نے فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے اور صیہونی کمپنیوں سے تعاون کے خلاف دھرنے میں شرکت کی وجہ سے اپنے 20 ملازمین کو نوکری سے نکال دیا،(10) میٹا کمپنی تک جس نے ابھی کچھ ہی دن پہلے اپنے پلیٹ فارمز پر "صیہونی" لفظ کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔(11)
ایسا لگتا ہے کہ اس بار مغرب والوں نے ظاہری تکلف کو بھی برطرف کر دیا ہے اور بہت سے شہروں میں عوام کی جانب سے چفیہ (Keffiyeh) جیسے مزاحمت کے سمبل کے استعمال کو بھی جرم قرار دے دیا ہے۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ جرمن پارلیمنٹ نے کچھ روز پہلے غزہ کی جنگ میں فلسطینیوں کی مزاحمت و استقامت کا مظہر سمجھے جانے والے "لال مثلث" کے استعمال پر پابندی کے بل کو بھی منظوری دے دی ہے!
رہبر انقلاب اسلامی نے کچھ دن پہلے یورپ میں اسٹوڈنٹس کی اسلامی انجمنوں کی یونین کی 58ویں نشست کے نام اپنے پیغام میں "آزادئ اظہار رائے پر عملدرآمد میں لبرل ڈیموکریسی کی ناتوانی کی طرف اشارہ کیا تھا۔ یہ ناتوانی غزہ کی جنگ کے بعد سب کے لیے پوری طرح عیاں ہو گئي ہے اور اب مغرب، ماضی کی طرح مختلف اقوام پر اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی کا الزام نہیں لگا سکتا۔ اب دنیا اچھی طرح سمجھ چکی ہے کہ مغرب والوں کی آزادئ اظہار رائے کوئي بڑی چیز نہیں ہے اور یہ لبرل ڈیموکریسی ہے جو دنیا میں اظہار رائے کی آزادی کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرتی ہے۔
تحریر:
محمد مہدی عباسی؛ امریکی مسائل کے محقق
[1] https://twitter.com/lalarian/status/1717951032343376222?t=GraWFIeYS3besn5C9FFtPA&s=19
2 https://www.nbcnews.com/science/science-news/firing-science-journal-editor-gaza-post-sparks-free-speech-rift-rcna122128
3 https://thecradle.co/articles-id/2564
4 https://theappeal.org/prosecutors-charges-protesters-arrested-gaza-colleges-april/
5 https://www.aljazeera.com/news/2024/7/9/columbia-ousts-deans-over-texts-with-antisemitic
6 https://www.columbiaspectator.com/news/2023/11/10/columbia-suspends-sjp-and-jvp-following-unauthorized-thursday-walkout/
7 https://www.bbc.com/news/entertainment-arts-67494374
8 https://aje.io/56dh9m
9 https://www.theguardian.com/us-news/2023/nov/07/house-vote-censure-rashida-tlaib-palestine-criticize-israel
10 https://www.instagram.com/p/C6HFrT3P_Zw/?igsh=MTdicnIzY2E3bnd2ag%3D%3D
11 https://edition.cnn.com/2024/07/09/tech/meta-posts-zionists-hate-speech/index.html
شہید مطہری انقلاب سے برسوں پہلے چیخ چیخ کے کہتے تھے: "آج کے دور کا شمر –اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم کا نام لیتے تھے- فلاں ہے۔" حقیقت امر بھی یہی ہے۔ ہم شمر پر لعنت بھیجتے ہیں تاکہ شمر بننے اور شمر جیسا عمل کرنے کی جڑ اس دنیا میں کاٹ دی جائے۔
9 جنوری 2008
شہید مطہری انقلاب سے برسوں پہلے چیخ چیخ کے کہتے تھے: "آج کے دور کا شمر - اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم کا نام لیتے تھے - فلاں ہے۔" حقیقت امر بھی یہی ہے۔ ہم شمر پر لعنت بھیجتے ہیں تاکہ شمر بننے اور شمر جیسا عمل کرنے کی جڑ اس دنیا میں کاٹ دی جائے۔
9 جنوری 2008
رہبر انقلاب اسلامی نے یورپ میں اسٹوڈنٹس کی اسلامی انجمنوں کی یونین کی 58ویں نشست میں دنیا کے اہم مسائل اور نئے پرانے زخموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ان مسائل اور زخموں میں "معاشی و سماجی انصاف کے موضوع سے لبرل ڈیموکریسی کی مرگ بار خاموشی" کو سب سے عبرت انگیز مسئلہ بتایا۔ سوال یہ ہے کہ لبرل ڈیموکریٹک سیاسی نظاموں میں سماجی انصاف کا مقام کیا ہے اور اس سے غفلت کیوں مرگ بار ہے؟
بہت سارے سیاسی نظاموں میں لبرل ڈیموکریسی کو سب سے اچھے سیاسی نظام کے طور پر سراہا جاتا ہے اور اس نے انفرادی آزادی، سیاسی نمائندگي اور معاشی پیشرفت جیسی کچھ کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں لیکن اس ظاہری چکاچوندھ کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئي ہے: سماجی انصاف کے نام کی کلیدی حقیقت سے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے کی جانے والی غفلت۔ یہ صرف ایک عام سی بے توجہی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری آگہی سے کیا گيا ایک انتخاب ہے جس کے ریشے اس سسٹم میں پھیلائے گئے ہیں۔
مساوات کا فسانہ
لبرل ڈیموکریسی کے حامی قانون کے مقابلے میں انفرادی حقوق اور مساوات کے احترام پر فخر کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ عملی طور پر اکثر اس وسیع عدم مساوات کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں جو ان کے معاشروں کو تکلیف پہنچاتی ہے۔ اسے صرف عدم توجہ کا نام نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ موجودہ حالت زار کو جاری رکھنے کے لیے ایک آگاہانہ انتخاب ہے، ایسی صورتحال جو مالدار اور تمام عیش و آرام کی مالک اقلیت کے حق میں اور تہی دست اکثریت کے نقصان میں ہے۔ اکثر لبرل ڈیموکریٹک ممالک میں معاشی عدم مساوات دہشت ناک ہے۔ لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے پاس دولت و ثروت اور ذخائر کا زیادہ بڑا حصہ ہے جبکہ کروڑوں لوگ اپنی روزانہ کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ یہ صرف بازار کی صورتحال کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو دولت مندوں اور کمپنیوں کے حق میں اور زیادہ تر مزدوروں، غریبوں اور حاشئے پر دھکیل دیے گئے گروہوں اور سوسائٹیوں کے نقصان میں اپنائي جاتی ہیں۔ دولتمندوں کے لیے ٹیکس میں کمی، صنعتوں کے لیے قانون میں سہولیات اور غریبوں کو متاثر کرنے والے غیر منصفانہ سخت اقدامات، اس حقیقت کے نمونے ہیں کہ کس طرح سسٹم جان بوجھ کر معاشی عدم مساوات کو وجود میں لایا ہے اور اسے جاری رکھنے پر بضد ہے۔
"مساوات" جیسے بڑے بڑے اور جاذب نظر نعروں کے باوجود لبرل ڈیموکریسی والے ملکوں میں بدستور نسل، قومیت، جنسیت اور دوسری سماجی پہچانوں کی بنیاد پر منظم طریقے سے امتیازی سلوک جاری ہے۔ یہ صرف انفرادی تعصب کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اداروں اور معاشرے کے ڈھانچوں تک میں یہ اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے اور با اقتدار لوگوں کے ذریعے، جو موجودہ صورتحال کے جاری رہنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، باقی اور جاری رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں سے بہت سے معاشروں میں عدالتی سسٹم تناسب کے اصول کی پابندی کیے بغیر اقلیتی افراد کو اپنا ہدف بناتا ہے اور انھیں سزائيں دیتا ہے۔ کبھی کبھی ان معاشروں میں "اقلیت" لفظ کا اطلاق، کسی ایک سماجی گروہ کی تعداد کے کم یا زیادہ ہونے پر نہیں ہوتا۔ جس کی مثال ریاستہائے متحدہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں دیکھی جا سکتی ہے۔ سیاہ فام، تعداد کے لحاظ سے امریکا کے بہت سے دوسرے سماجی گروہوں سے زیادہ ہیں۔ یہی صورتحال تھوڑی کم یا زیادہ شدت کے ساتھ لبرل ڈیموکریسی کے تعلیمی نظام میں بھی دکھائي دیتی ہے۔ یہ سسٹم زیادہ تر، سبھی کو مساوی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ سماجی انصاف سے جان بوجھ کر کی جانے والی اس غفلت نے ایک ایسے معاشرے کو جنم دیا ہے جس میں کسی فرد کی آئندہ زندگي، اس کی صلاحیت اور کوشش پر نہیں بلکہ بڑی حد تک اس کی پیدائش کے حالات سے طے ہوتی ہے۔
غفلت کی تاریخی جڑیں
سماجی انصاف سے یہ جان بوجھ کر کی جانے والی غفلت کوئي نئي بات نہیں ہے۔ اس کی جڑیں سامراج کے تاریخی ورثے، بردہ داری اور منظم مظالم میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ ان ورثوں نے گہری عدم مساوات کی کیفیت پیدا کر دی ہے جو اب بھی مغربی معاشروں کو تکلیف پہنچا رہی ہے اور یہ زیادہ تر ان افراد کے توسط سے جاری رہتی ہے جنھیں طاقت اور اقتدار ورثے میں ملا ہے۔ نوآبادیاتی علاقوں کے لوگوں سے مشقت والے کام کروانا، افریقا میں بردہ داری اور خواتین اور اقلیتوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک، یہ ساری چیزیں اس اندھیری تاریخ کا حصہ ہیں جو آج تک مغربی انسان کی روزمرہ کی زندگي پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ بیسویں صدی کے اواخر میں نیو لبرلزم کے سامنے آنے سے ان مسائل میں شدت آ گئي۔ بڑے صنعتکاروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے قوانین میں ڈھیل، سرمایہ داروں اور دولتمندوں کو سہولیات کی فراہمی اور کمزور طبقوں کے لیے سختی جیسی باتیں پرامن سماجی نیٹ ورک کے بکھر جانے اور سماجی خدمات میں عمومی سرمایہ کاری میں جان بوجھ کر کمی کا سبب بنی ہیں۔ ترجیحات میں یہ تبدیلی بری طرح سماج کے سب سے کمزور طبقوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئي اور اس نے امیر اور غریب کے درمیان کی خلیج مزید بڑھا دی۔ یہ سرمائے کے مفادات کو ترجیح دینے اور عوامی رفاہ کی ترجیح کو ختم کرنے کا ایک آگاہانہ انتخاب تھا جو ایک ایسے معاشرے کی تشکیل پر منتج ہوا جس میں امیر، زیادہ امیر اور غریب، زیادہ غریب بنتا جاتا ہے۔
اگرچہ عالمگيریت، معاشی ترقی اور ملکوں کی سرنوشت ایک دوسرے سے جڑ جانے کا سبب بنی لیکن اس نے مذکورہ بالا مشکل کو بھی بڑھا دیا۔ منافع پر مبالغے کی حد تک توجہ زیادہ تر مزدروں کے استحصال، ماحولیات کی تباہی اور مزدوری نیز کام کے حمایتی معیارات میں کمی کے کمپیٹیشن کا سبب بنی ہے۔ اسے عالمگیریت کا صرف ایک ناگوار سائڈ افیکٹ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ عوام کے بجائے منافع کو ترجیح دینے کے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور حکومتوں کے آگاہانہ انتخاب کا نتیجہ ہے۔ بہت سے ملکوں میں نوکریوں کی آؤٹ سورسنگ، مزدور یونینوں کی سرکوبی اور ماحولیات کے کمزور قوانین اس بات کا نمونہ ہیں کہ کس طرح سسٹم جان بوجھ کر سماجی انصاف کو پیروں تلے روندتا ہے اور اسے معاشی فوائد کی بلی چڑھا دیتا ہے۔
خاموش قاتل: سماجی بے انصافی لبرل ڈیموکریسی کے نظام میں ایک مرگبار کمی
ماڈرن تمدن کے قلب میں ایک خاموشی بحران اپنے پیر پھیلاتا اور مغربی معاشروں کی بنیاد کو کھوکھلا بناتا جا رہا ہے۔ یہ بحران نہ تو یوکرین کی جنگ سے زیادہ بڑی کوئي جنگ ہے، نہ کوئي قدرتی آفت ہے اور نہ ہی کورونا سے زیادہ خطرناک کوئي متعدی بیماری بلکہ یہ لبرل ڈیموکریسی کے بظاہر عیش و آرام والے اور مستحکم ڈھانچوں میں سماجی انصاف کو دھیرے دھیرے کھانے والی دیمک ہے۔ یہ عدم توجہ صرف ایک اخلاقی شکست نہیں ہے بلکہ ایک مہلک زہر ہے جو سیاست کے جسم میں اتر چکا ہے اور جس کے اثرات کنارے لگا دیے گئے گروہوں کے مصائب و آلام سے کہیں بڑھ کر ہیں۔
اس بحران کے مرکز میں عدم مساوات کا مسلسل بڑھتا اضافہ ہے۔ غریب اور امیر کے درمیان کا فرق بدستور بڑھتا جا رہا ہے اور ثروت مندوں اور تہیدستوں کا ایک معاشرہ تشکیل دے رہا ہے۔ یہ نہ صرف معاشی عدم توازن ہے بلکہ سماجی بدامنی کی آگ کے لیے تیل کے جیسا ہے۔ جب آبادی کا ایک اچھا خاصا بڑا حصہ یہ محسوس کرنے لگے کہ وہ معاشی پیشرفت کے پھلوں سے محروم ہے تو عدم اطمینان شدت اختیار کر لیتا ہے اور سماجی اتحاد و یکجہتی کو فنا کر دیتا ہے۔
تاریخ ایسے سماجوں سے بھری پڑی ہے جو شدید عدم مساوات کی وجہ سے بکھر گئے۔ انقلاب فرانس، انقلاب روس اور بہت سے دوسرے تغیرات، ان لوگوں کے غصے اور مایوسی کا نتیجہ تھے جو معاشی پیشرفت سے پیچھے رہ گئے تھے مگر اس کا انھیں کوئي فائدہ حاصل نہیں ہوا تھا۔ ہمارے عہد میں وال اسٹریٹ پر قبضے کی تحریک، عدم مساوات کی تباہ کن طاقت کا ایک نمونہ ہے۔ لبرل ڈیموکریسی والے ملکوں میں سماجی سمجھوتہ مساوی مواقع اور ذخائر کی منصفانہ تقسیم پر مبنی ہے۔ جب یہ سمجھوتہ ٹوٹ جاتا ہے تو سیاسی نظام کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ یہ چیز جمہوری اداروں پر سے یقین اٹھ جانے کا سبب بن سکتی ہے اور اقتدار پرستی اور شدت پسندی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، یہ وہ چیز ہے جو بہت سے مغربی ممالک میں سامنے آنے لگي ہے۔
معاشی عدم استحکام، ریت پر بنا گھرا
عدم مساوات، سماجی بدامنی تو پیدا کرتا ہی ہے ساتھ ہی معاشی استحکام کو بھی کمزور بنا دیتا ہے۔ جب دولت، معدودے چند لوگوں کے ہاتھوں میں محدود ہو جاتی ہے تو صارفین کی ڈیمانڈ کم ہو جاتی ہے اور معاشی پیشرفت مندی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ چیز مزید کساد بازاری، بے روزگاری اور سماجی بدامنی پر منتج ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ عدم مساوات، ذخائر کے طے شدہ استعمال کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ جب سیاسی و معاشی فیصلوں پر دولت مند طبقے کا حد سے زیادہ رسوخ ہوتا ہے تو زیادہ تر سرمایہ کاری، پورے سماج کے حق میں کام کرنے والے شعبوں میں نہیں بلکہ قیمتی اشیاء کی تجارت میں ہونے لگتی ہے۔ یہ چیز مالی بحرانوں، سرمائے کے غلط استعمال کا سبب بن سکتی ہے اور طویل مدت معاشی پیشرفت میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔
سیاسی پولرائزیشن
سماجی انصاف کی طرف عدم توجہ، سیاسی پولرائزیشن میں بھی شدت پیدا کر دیتی ہے۔ جب کسی ملک کے شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی تشویشوں پر سیاسی مشینری کی طرف سے توجہ نہیں دی جا رہی ہے تو وہ جمہوری عمل کی طرف سے بددل ہونے لگتے ہیں۔ یہ چیز عوام کو فریب دینے والے سیاستدانوں کا کام آسان کر دیتی ہے کہ وہ سماجی عدم اطمینان سے اپنے ذاتی مفادات کے لیے غلط فائدہ اٹھائيں۔
سماجی انصاف کی طرف سے لبرل ڈیموکریسی کی غفلت کے برے نتائج، صرف سیاسی و معاشی شعبوں تک محدود نہیں ہیں۔ عدم مساوات کا عمومی صحت و سلامتی پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ معاشی و سماجی صورتحال اور لوگوں کی صحت و سلامتی کے درمیان بڑا واضح اور مضبوط رشتہ ہے۔ جو لوگ غربت میں زندگي گزارتے ہیں وہ بیماریوں کی زد میں زیادہ آتے ہیں، زندگي کے سلسلے میں ان کی امید کم ہوتی ہے اور حفظان صحت سے متعلق سہولیات تک ان کی دسترسی دوسروں سے کم ہوتی ہے۔
یہ لوگوں کی بدقسمتی نہیں ہے بلکہ یہ ایک سسٹم کی ناکامی ہے۔ جب کوئي سماج اپنے سب سے کمزور ارکان کی صحت اور آرام و آسائش کی طرف سے غفلت کرتا ہے تو وہ اس کی قیمت، حفظان صحت کے اخراجات میں اضافے کی صورت میں چکاتا ہے۔
ہونا یا نہ ہونا مسئلہ یہ ہے
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سماجی انصاف کے سلسلے میں لبرل ڈیموکریسی کی بے توجہی کوئي عقدۂ لا ینحل نہیں ہے۔ ان کے خیال میں اس مشکل کے حل کے لیے کچھ اہم قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، جیسے تعلیم، حفظان صحت اور سستی رہائش کے شعبوں میں سرمایہ کاری، سبھی کے لیے معاشی مواقع کی فراہمی اور اسی طرح کے چھوٹے بڑے قدم اٹھا کر اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور یہ وہ قدم ہیں جنھیں عملی طور پر آزمایا بھی جا چکا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام آزمائشوں کا نتیجہ غلط ہی رہا ہے۔ لبرل ڈیموکریسی کی مشکل، اس کے طریقے اور وسائل نہیں بلکہ اس کی ماہیت ہے۔ ان تمام اقدامات کو مختلف علاقوں اور مختلف حالات میں آزمایا جا چکا ہے لیکن موجودہ فاصلوں کے مزید بڑھنے کے علاوہ ان کا کوئي نتیجہ نہیں نکلا۔ مشکل یہ ہے کہ لبرل ڈیموکریسی انہی فاصلوں کی وجہ سے زندہ ہے۔ سماجی گروہوں کے درمیان یہی فاصلہ اور یہی فرق، مالدار طبقے کو اپنی سہولیات کی حفاظت کی امید میں معاشی شعبے میں اپنی مشارکت جاری رکھنے کے لیے ترغیب دلاتا ہے اور اس کے مقابلے میں غریب اور تہی دست طبقے کو مختلف طرح کے حربوں کے ذریعے اس بات کے لیے پرامید رکھتا ہے کہ شاید کسی دن، ایک بہتر زندگی کے لیے ان کی مستقل تگ و دو کا خاتمہ ہوگا اور ثروت مند طبقے سے اس کا فاصلہ کچھ کم ہو جائے گا۔ آج اور ماضی میں صرف یہ فرق ہے کہ مغربی رائے عامہ اس حقیقت کو سمجھ چکی ہے کہ لبرل ڈیموکریسی کے پاس اب کوئي چال اور حربہ باقی نہیں رہ گيا اور معاشرے کی اکثریت کے سامنے اس کا ناکارآمد ہونا پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔ اس وقت معدودے چند ثروت مندوں کے علاوہ سبھی کے لیے مسئلہ، ڈھانچوں کی اصلاح یا انھیں پھر سے تیار کرنے کا نہیں بلکہ ہونے یا نہ ہونے کا ہے۔ لبرل ڈیموکریسی اپنا سب سے اہم سرمایہ کھوتی جا رہی ہے: ڈھانچے کے کارآمد ہونے کے سلسلے میں غریبوں اور تہی دستوں کی امید۔
حسینیۂ امام خمینی میں جمعہ 6 محرم کی شب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزا منعقد ہوئی جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی شرکت کی۔