شہید رئیسی عوامی، کبھی نہ تھکنے والے، متواضع، اہل دعا اور انقلابی و دینی موقف صریحی انداز میں بیان کر دینے والے تھے اور پر وقار خارجہ پالیسی کی روش پر چلتے تھے۔
7 جولائی 2024
دو شہیدوں کے باپ جناب الحاج سید جواد حجازی کے انتقال پر رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای نے ان کے بیٹے کے نام تعزیتی پیغام جاری کیا۔
پیغام حسب ذیل ہے:
"ہم غزہ کا مکمل محاصرہ کریں گے، نہ تو وہاں بجلی ہوگي، نہ کھانا، نہ پانی اور نہ ہی ایندھن۔ غزہ کے لوگوں پر ہر چیز بند ہوگي۔"(1) صیہونی حکومت کے وزیر جنگ یوآف گالانت نے غزہ پٹی کے خلاف اس حکومت کی وحشیانہ جارحیت شروع ہونے کے کچھ ہی دن بعد یہ بات کہی تھی۔ اس جارحیت کو شروع ہوئے نو مہینے سے زیادہ ہو چکے ہیں اور غزہ کے حالات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ صیہونیوں نے، غزہ پٹی کے لوگوں کے ساتھ بالکل وہی رویہ اختیار کیا ہے جو گالانت نے کہا تھا۔ بے قصور لوگوں کو جان بوجھ کر پیاسا رکھنا، غزہ کی جنگ کے ان نو مہینوں میں اس غیر انسانی اور مجرمانہ رویے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے کہ جس کے نتیجے میں غزہ کے لوگ، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، تھوڑے سے صاف پانی کے حصول کے لیے، جو ان کی ضرورتیں پورا نہیں کر پا رہا ہے، کافی لمبا راستہ پیدل طے کرنے پر مجبور ہیں۔
فلسطینیوں کے خلاف عام تباہی پھیلانے والا ایک نیا ہتھیار
اسرائيل نے اکتوبر 2023 کی جنگ کی شروعات سے غزہ پٹی میں پانی منتقل کرنے والی تمام پائپ لائنوں کو بند کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔ یہ بے قصور شہریوں کو مارنے کی ایک منظم سازش ہے۔ غزہ پٹی کے مظلوم لوگوں کے خلاف پانی کی جنگ اتنی واضح ہے کہ صیہونی میڈیا بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک صیہونی میڈیا 972+ نے "تل ابیب نے پانی کو غزہ میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار میں بدل دیا ہے" سرخی کے تحت ایک رپورٹ میں لکھا: "اسرائيل نے جنگ کی شروعات سے ہی غزہ پٹی کے فلسطینیوں کو صاف پانی سے محروم کر کے ایک ایسا بحران پیدا کر دیا ہے جس کی ہمیں کوئي نظیر نہیں ملتی۔ اسرائیل نے جنگ کے آغاز سے ہی اس اقدام کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ایک اصل حکمت عملی کے طور پر ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔"(2)
جنگ کی شروعات سے لے کر اب تک غزہ میں پانی کی سپلائي اور پانی کی نکاسی کے زیادہ تر انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر اپنے ہوائي حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ بجلی کی سپلائي کٹ جانا اور غزہ تک ایندھن نہ پہنچنے دینا بھی، پانی فلٹر کرنے والے یونٹس کے بند ہو جانے کا سبب رہا ہے۔(3) ان کارروائيوں نے غزہ کو، جو جنگ سے پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا کر رہا تھا، اب پانی کی کمی اور پانی کے خاتمے کے ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جس کی کوئي مثال نہیں ہے۔ صاف پانی کے ایک گلاس کے حصول کے لیے جنگ اور جدوجہد غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے روزمرہ کے کاموں میں سے ایک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق پانی حاصل نہیں کر سکتے اور وہ تھوڑا سا پانی جو وہ لمبی لمبی قطاروں میں لگ کر حاصل کرتے ہیں، اپنی انتہائي اہم ضرورتوں کے لیے، جن میں سب سے اوپر بچوں کی ضروریات ہیں، خرچ کرتے ہیں۔
غزہ شہر کے مغرب میں بے گھر لوگوں کے لیے بنائے گے ایک عارضی مرکز میں رہنے والی فلسطینی خاتون آلاء حمید، اس شہر میں صاف پانی کے بحران کی اس طرح منظر کشی کرتی ہیں: "حقیقت یہ ہے کہ میں اپنی پوری فیملی کے لیے پانی حاصل نہیں کر سکتی۔ میں صرف اپنے بچوں کے لیے تھوڑا سا پانی حاصل کر پاتی ہوں۔ بڑے لوگ وہ پانی استعمال کرتے ہیں جو صاف نہیں ہوتا۔ ہم جانتے ہیں یہ کام ایسا رسک ہے جس کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں لیکن ہمارے پاس اپنی زندگي بچانے کے لیے اس کے علاوہ کوئي آپشن نہیں ہے۔" ایک دوسری فلسطینی خاتون، آمنہ الحرتانی بھی، جو پانی کی قلت اور پانی کے خاتمے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تشویش ناک صورتحال سے تنگ آ چکی ہیں، کہتی ہیں: "ہم ہر دن پانی کے ٹینکر کے پیچھے پیچھے اس سڑک سے اس سڑک پر جاتے ہیں اور پھر بھی ہمیں صاف پانی نہیں ملتا۔ پانی کی قلت، وہ سب سے بڑا بحران ہے، جس کا ہمیں سامنا ہے۔ پینے کے صاف پانی کا حصول ہمارے لیے بہت زیادہ مشقت آمیز کام ہے۔"(4)
سمندر کے پانی کا استعمال اور ناشناس بیماریاں
غزہ کے کنوؤں، پانی کی سپلائي اور نکاسی کے مراکز اور پائپ لائنوں کی تباہی کی طے شدہ پالیسی نے اس خطے کے لوگوں کو سمندر کے پانی کے استعمال پر مجبور کر دیا ہے۔ در حقیقت انھیں پیاس اور پانی کی قلت کے بحران سے بچنے کا واحد راستہ سمندر کے پانی میں نظر آیا۔ یہ وہ کام ہے جو بے گھر افراد انجام دیتے ہیں کیونکہ ایک گیلن پانی حاصل کرنے کے لیے بھی انھیں بہت زیادہ سختیاں اٹھانی پڑتی تھیں۔ البتہ پیاس سے بچنے کے لیے سمندر کے پانی کا استعمال، غزہ کے لوگوں خاص طور پر عورتوں اور بچوں کے لیے بہت سے برے نتائج بھی لایا اور ان میں سے زیادہ تر سمندر کا پانی استعمال کرنے کی وجہ سے جلد کی نامعلوم بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔(5)
اکرم سلطان، غزہ کے ان ہزاروں بے گھروں میں سے ایک ہیں جن پر اور جن کی فیملی پر پانی کی قلت کے بحران نے عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں: "ہم غزہ میں بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، وہ بھی ایسی حالت میں جب غاصب حکومت، عام شہریوں کے لیے جان بوجھ کر بحران پیدا کرتی جا رہی ہے۔ سمندر کا پانی آج بے گھروں کے لیے پانی کے بحران سے نجات کے واحد حل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بہت سے بے گھر کوشش کرتے ہیں کہ اپنے خیمے ساحل کے قریب نصب کریں تاکہ سمندر کے پانی تک رسائي رہے۔ ہم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔" بہرحال جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا، سمندر کے پانی کے استعمال نے غزہ کے لوگوں کو ناگوار حالات میں مبتلا کیا اور اب بھی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک فلسطینی ڈاکٹر سائد محمود جو غزہ کے ایک چھوٹے سے میڈیکل سینٹر میں کام کرتے ہیں، کہتے ہیں: "آج ہمیں جس چیز کا سامنا ہے وہ غزہ میں فلسطینی بے گھروں کا بڑی تیزی سے جلدی امراض میں مبتلا ہونا ہے۔ ہمیں تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ صاف صفائي اور نہانے دھونے کے لیے ضروری مقدار میں پانی کی عدم دستیابی اور سمندر کے نمکین اور آلودہ پانی کا لگاتار استعمال، ان خطرناک جلدی امراض میں فلسطینیوں کے مبتلا ہونے کے اصل اسباب میں سے ایک ہے۔"(6)
پیاس کی جنگ، غزہ میں نسلی تصفیہ جاری رکھنے کا اسرائيل کا حربہ
جو چیز واضح طور پر دکھائي دے رہی ہے وہ یہ ہے کہ اسرائيل، غزہ میں نسل کشی جاری رکھنے کے لیے "پیاس کی جنگ" کو ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے مراکز نے بھی اس تلخ حقیقت کی تصدیق کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صیہونیوں نے جان بوجھ کر یہ حربہ اختیار کیا ہے۔(7) اس کے نتیجے میں اگر غزہ کے مظلوم عوام، آلودہ پانی استعمال کر کے موت کے چنگل سے نجات بھی پا جائیں تب بھی یقینی طور پر وہ جلد، سانس اور گردے کی مختلف قسم کی خطرناک بیماریوں سے بچ نہیں پائيں گے(8) اور ان کی مستقبل کی زندگي ان خطرناک اور ناشناس بیماریوں کی وجہ سے بہت سخت ہوگي جیسا کہ اس وقت بھی یہ چیز سامنے آ رہی ہے۔
1 https://www.aljazeera.net/politics/2024/1/18/%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84%D9%8A%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84-%D8%AD%D9%88%D9%84%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%8A%D8%A7%D9%87
2 https://www.aljazeera.net/politics/2024/1/18/%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84%D9%8A%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84-%D8%AD%D9%88%D9%84%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%8A%D8%A7%D9%87
3 https://www.aljazeera.net/politics/2024/7/5/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D9%84-%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D9%83%D9%81%D8%A7%D8%AD-%D9%8A%D9%88%D9%85%D9%8A-%D9%84%D9%84%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84-%D8%B9%D9%84%D9%89-%D9%83%D9%88%D8%A8-%D9%85%D8%A7%D8%A1
4 https://www.aljazeera.net/politics/2024/7/5/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D9%84-%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D9%83%D9%81%D8%A7%D8%AD-%D9%8A%D9%88%D9%85%D9%8A-%D9%84%D9%84%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84-%D8%B9%D9%84%D9%89-%D9%83%D9%88%D8%A8-%D9%85%D8%A7%D8%A1
5 https://www.alquds.co.uk/%D8%B3%D9%83%D8%A7%D9%86-%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D9%8A%D9%84%D8%AC%D8%A3%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%84%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%AA%D8%AF%D9%85%D9%8A%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D9%84/
6 https://www.alquds.co.uk/%D8%B3%D9%83%D8%A7%D9%86-%D8%BA%D8%B2%D8%A9-%D9%8A%D9%84%D8%AC%D8%A3%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%84%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%AA%D8%AF%D9%85%D9%8A%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D9%84/
7 https://euromedmonitor.org/ar/article/6392/%D8%BA%D8%B2%D8%A9:-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B9%D8%B7%D9%8A%D8%B4-%D9%85%D9%86-%D8%A3%D8%B3%D9%84%D8%AD%D8%A9-%D8%A5%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%8A%D9%84-%D9%81%D9%8A-%D8%AC%D8%B1%D9%8A%D9%85%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A9-%D9%88%D9%81%D8%B1%D8%B6-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B9%D8%A9
8 https://www.wafa.ps/pages/details/81895
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے ایک حکمنامے کے تحت حجت الاسلام الحاج شیخ احمد مطہری اصل کو صوبۂ مشرقی آذربائيجان میں ولی فقیہ کے نئے نمائندے اور تبریز کے امام جمعہ کے طور پر منصوب کیا ہے۔
دین اسلامی کی بقا، راہ خدا کی بقا، خدا کے بندوں کی جانب سے اس راہ پر چلتے رہنے پر منحصر ہے، اس راہ نے حسین ابن علی علیہ السلام اور زینب کبریٰ کے کام سے مدد اور توانائي حاصل کی ہے۔
8 فروری 2010
یہ ایک واضح اور روشن راستہ ہے، جو امیر المومنین علیہ السلام نے ترسیم کیا ہے۔ رئيسی صاحب اسی راہ پر چلتے تھے، اسی پر گامزن تھے، یہ بہت گرانقدر ہے، واقعی آئيڈیل ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اتوار 7 جولائي 2024 کی صبح ایکٹنگ پریسیڈنٹ جناب مخبر اور تیرہویں کابینہ کے اراکین سے ملاقات کی۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای نے 7 جولائی 2024 کو تیرہویں کابینہ کے ارکان سے الوداعی ملاقات میں صدر رئیسی مرحوم کی پالیسیوں، شخصیت اور طرز عمل کی خصوصیات بیان کیں۔ (1)
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے تمام امیدواروں اور الیکشن کے میدان میں سرگرم افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے منتخب صدر کو عوام کی فلاح اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی بے پناہ صلاحیتوں سے استفادے کی سفارش کی اور شہید رئیسی کی راہ کو جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیارے اسٹوڈنٹس!
آپ کی مستحکم اور معروف یونین اور اس کی سرگرمیوں کا تسلسل ایک خوش خبری دینے والی حقیقت ہے۔ یہ اجتماعی موجودگي، اپنے اندازے کے مطابق، دنیا کے موجودہ پیچیدہ مسائل میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔بڑے مسائل پر اثر انداز ہونا، کسی بھی طرح کی تعداد سے زیادہ، سرگرم افراد کے جذبے، ایمان اور خود اعتمادی پر منحصر ہوتا ہے اور بحمد اللہ یہ گرانقدر سرمایہ آپ مومن اور انقلابی ایرانی جوانوں میں موجود اور قابل مشاہدہ ہے۔
آپ اہم مسائل اور نئے پرانے زخموں کو پہچانتے ہیں۔ ان میں سب سے تازہ مسئلہ، غزہ کا لاثانی المیہ ہے، ان میں سب سے نمایاں مسئلہ، مغرب، مغربی سیاستدانوں اور مغربی تمدن کی اخلاقی، سیاسی اور سماجی شکست ہے، ان میں سب سے عبرت آمیز مسئلہ، اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے میں لبرل ڈیموکریسی اور اس کے دعویداروں کی ناتوانی اور معاشی و سماجی انصاف کے سلسلے میں ان کی مرگ بار خاموشی ہے جبکہ یورپ اور امریکا میں عوامی احتجاج بالخصوص اسٹوڈنٹس کے احتجاج کی مدھم لیکن امید افزا روشنی کی کرن، اس وقت کے اہم تغیرات میں سے ایک ہے۔ مغربی ایشیا کے علاقے اور ہمارے وطن عزیز کو متعدد چھوٹے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔
یہ ساری چیزیں آپ کی یونین جیسے مبارک پلیٹ فارمز کے لیے سوچنے، کام کرنے اور جدت عمل کا میدان ہیں۔ میں خداوند عزیز و حکیم سے آپ کے لیے توفیقات کی دعا کرتا ہوں۔
سید علی خامنہ ای
5 جولائي 2024
ان شاء اللہ ہمارے عزیز عوام ووٹ دینے اور بہترین امیدوار کا انتخاب کرنے میں کامیاب ہوں گے اور اس راؤنڈ میں عوام کا عزم و حوصلہ زیادہ ہونا چاہیے تاکہ وہ اس کام کو مکمل کر سکیں اور ان شاء اللہ کل ملک کو ایک نیا صدر ملے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے جمعہ 5 جولائي 2024 کی صبح چودھویں صدارتی الیکشن کے دوسرے راؤنڈ میں رائے دہی کا وقت شروع ہوتے ہی صبح آٹھ بجے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے جمعہ 5 جولائي 2024 کو چودھویں صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں پولنگ کا وقت شروع ہوتے ہی حسینیۂ امام خمینی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے جمعہ 5 جولائي 2024 کو صدارتی الیکشن کے دوسرے راؤنڈ میں رائے دہی کا قانونی وقت شروع ہوتے ہی حسینیۂ امام خمینی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
انھوں نے ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد اپنے مختصر خطاب میں آج کے دن کو عوامی موجودگي اور عوامی مشارکت کا دن بتایا۔ رہبر انقلاب کے خطاب کا متن حسب ذیل ہے
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای نے 3 جولائی 2024 کو مدرسہ عالی شہید مطہری کے عہدیداروں اور اساتذہ سے خطاب میں اس تعلیمی ادارے کی خدمات اور صدارتی انتخابات کے بارے میں گفتگو کی۔ (1)
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے بدھ 3 جولائي 2024 کی صبح مدرسۂ عالی شہید مطہری کے عہدیداروں اور اساتذہ سے ملاقات میں، الیکشن کے سیکنڈ راؤنڈ کے بارے میں ایک مختصر بیان میں زور دے کر کہا کہ یہ الیکشن بہت اہم ہے اور جو بھی اسلام، اسلامی جمہوریہ، ملک کی پیشرفت، ملک کے حالات کی بہتری اور کمیوں کے خاتمے کو پسند کرتا ہے وہ جمعے کے دن الیکشن میں حصہ لے کر اپنی اس چاہت کا مظاہرہ کرے۔
الحاج قاسم سلیمانی نے قوموں کو مزاحمت کی نئی فکر اور جدوجہد کا نیا آئیڈیل دیا اور اسی لیے وہ حقیقی معنی میں ایک نمایاں ہستی اور اسلامی ہیرو کا ایک چہرہ ہیں۔
منگل کو عید غدیر کے دن تہران کے حسینیۂ امام خمینی میں "جشن ولایت و اخوت" کے نام سے ایک جشن کا انعقاد کیا گيا تھا جس میں ایران کے پانچ صوبوں کے لوگ مدعو تھے۔ اس جشن سے رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای خطاب کرنے والے تھے۔
19 جون 2024 کو پاسبانان حرم اور مزاحمتی محاذ کے شہیدوں کی عالمی کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب کا متن آج سنیچر کو اس کانفرنس کے انعقاد کے مقام یعنی امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں جاری کیا گيا۔
امامت کو پیغمبر اکرم فرمان الہی کے مطابق تسلسل عطا کرتے ہیں، البتہ اس امامت کے لئے ضروری ہے کہ حاکمیت اور فرمانروائی کے ہمراہ ہو۔ اسی لئے خلافت کا اعلان فرماتے ہیں، ولایت کا اعلان فرماتے ہیں: "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔"
امام خامنہ ای
ان انتخابات سے ملک کے آئندہ چند سال کا تعین ہوتا ہے۔ لیکن میری نظر میں اس کے ساتھ ہی ایک اور اہم موضوع ہے اور وہ عوام کی پرجوش شرکت اور رائے دہندگان کی کثرت اور تعداد میں اضافہ ہے۔
امام خامنہ ای
بسم اللہ الرحمن الرحیم، اسلامی انقلاب کے معظم، معزز اور دانا رہبر کی خدمت میں سلام و ادب اور تعظیم پیش کرتا ہوں۔ جناب عالی کی صبح ان شاء اللہ بخیر و عافیت اور صحت و سلامتی کے ساتھ ہو۔ ہم شہیدان خدمت بالخصوص شہید صدر عزیز رئیسی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جن کے انتقال کی وجہ سے چودھواں صدارتی الیکشن منعقد ہو رہا ہے۔
18 ذی الحجہ سنہ 10 ہجری کا دن، اعلان غدیر اور امیر المومنین کی جانشینی کے اعلان کا دن وہ دن ہے جب کفار مایوس ہو گئے۔اس بارے میں کہ وہ دین مبین اسلام کا کبھی قلع قمع کر سکیں گے۔ اس دن سے پہلے تک انہیں یہ امید تھی کہ ایسا کر لے جائیں گے۔ لیکن اس دن ان کی امید مر گئی۔
امام خامنہ ای
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے عید غدیر کے موقع پر پانچ صوبوں کے عظیم الشان اجتماع سے حسینیہ امام خمینی میں خطاب کیا۔ 25 جون 2024 کے اس خطاب میں رہبر انقلاب نے واقعہ غدیر اور امیر المومنین علیہ السلام کے فضائل کے بارے میں بصیرت افروز گفتگو کی اور انتخابات کے سلسلے میں سفارشات کیں۔
خطاب حسب ذیل ہے؛