رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے پیر کی صبح امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی پینتیسویں برسی کے پروگرام میں ایک عظیم عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام خمینی کے افکار و نظریات میں مسئلۂ فلسطین کی اہمیت کی تشریح کی اور کہا کہ فلسطین کے بارے میں امام خمینی کی پچاس سال پہلے کی پیشگوئی رفتہ رفتہ عملی جامہ پہن رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ معجزے جیسے طوفان الاقصیٰ آپریشن نے خطے اور عالم اسلام پر تسلط کی دشمن کی بڑی سازش کو ناکام بناتے ہوئے صیہونی حکومت کو زوال کے راستے پر ڈال دیا ہے اور غزہ کے عوام کی ایمانی اور قابل تحسین مزاحمت کے سائے میں، صیہونی حکومت دنیا والوں کی نظروں کے سامنے پگھلتی جا رہی ہے۔
انھوں نے اسی طرح شہید صدر رئیسی کی خصوصیات اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اور شہیدان خدمت کے جلوس جنازہ میں قوم کی زبردست اور معنی خیز شرکت کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کے انتہائی اہم الیکشن میں عوام کی بھرپور شرکت، شہیدان خدمت کو الوداع کہنے کے قوم کے بے مثال کارنامے کا تتمہ ہوگی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے پہلے حصے میں امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے افکار و نظریات میں مسئلۂ فلسطین کی اہمیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اسلامی تحریک کے آغاز کے پہلے دن سے ہی مسئلۂ فلسطین کو اہمیت دی اور دقت نظر اور مستقبل پر گہری نگاہ کی بنیاد پر فلسطینی قوم کے سامنے ایک راستے کی تجویز رکھی اور امام خمینی کا یہ انتہائی اہم نظریہ رفتہ رفتہ عملی جامہ پہن رہا ہے۔
انھوں نے اسلامی تحریک کے آغاز میں ہی ایران کی ظالم و جابر طاغوتی حکومت کی سرنگونی اور اسی طرح سوویت حکومت کی حکمرانی اور دبدبے کے دور میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کی پیشگوئی کو امام خمینی کی بصیرت کے دو دوسرے نمونے قرار دیا۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے صیہونی حکومت سے مفاہمت کے مذاکرات سے کوئی امید نہ رکھنے، میدان عمل میں فلسطینی قوم کے اترنے، اپنا حق حاصل کرنے اور تمام اقوام بالخصوص مسلم اقوام کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت کو، فلسطینی قوم کی فتحیابی کے لیے امام خمینی کے نظریات کا خلاصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ عظیم واقعہ بھی اس وقت عملی جامہ پہن رہا ہے۔
انھوں نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی وجہ سے صیہونی حکومت کے میدان کے گوشے میں پھنس جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکا اور بہت سی مغربی حکومتیں بدستور اس حکومت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ بھی جانتی ہیں کہ غاصب حکومت کی نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے خطے کی اہم ضرورت کی تکمیل اور مجرم حکومت پر کاری ضرب کو طوفان الاقصیٰ آپریشن کی دو اہم خصوصیات بتایا اور کہا کہ امریکا، عالمی صیہونزم کے ایجنٹوں اور بعض علاقائی حکومتوں نے خطے کے حالات اور روابط کو بدلنے کے لیے ایک بڑی اور دقیق سازش تیار کر رکھی تھی تاکہ صیہونی حکومت اور خطے کی حکومتوں کے درمیان اپنے مدنظر روابط قائم کروا کر مغربی ایشیا اور پورے عالم اسلام کی سیاست اور معیشت پر منحوس حکومت کے تسلط کی راہ ہموار کر دیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ منحوس چال عملی جامہ پہننے کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی کہ الاقصیٰ کا معجزاتی طوفان شروع ہو گیا اور اس نے امریکا، صیہونزم اور ان کے پٹھوؤں کے تمام تاروپود بکھیرے دیے، اس طرح سے کہ پچھلے آٹھ مہینے کے واقعات کے بعد اس سازش کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے ظالم حکومت کے عدیم المثال جرائم اور حد سے زیادہ شقاوت و سفاکیت اور امریکی حکومت کی جانب سے اس درندگی کی حمایت کو، خطے پر صیہونی حکومت کو مسلط کرنے کی بڑی عالمی سازش کے نقش بر آب ہو جانے پر بوکھلاہٹ اور تلملاہٹ والا ردعمل قرار دیا۔
انھوں نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی دوسری خصوصیت یعنی صیہونی حکومت پر کاری اور ناقابل تلافی ضرب لگانے کی تشریح کرتے ہوئے امریکی و یورپی تجزیہ نگاروں اور ماہرین یہاں تک کہ خود منحوس حکومت کے پٹھوؤں کے اعترافات کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ غاصب حکومت اپنے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود ایک مزاحمتی گروہ سے بری طرح شکست کھا چکی ہے اور آٹھ مہینے کے بعد بھی اپنے کسی کم ترین ہدف کو بھی حاصل نہیں کر سکی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اکیسویں صدی کو بدلنے کے لیے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی طاقت کے بارے میں ایک مغربی تجزیہ نگار کے تبصرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے تجزیہ نگاروں اور مؤرخین نے بھی صیہونی حکومت کی سراسیمگی اور بدحواسی، الٹی ہجرت کی لہر، مقبوضہ علاقوں میں رہنے والوں کی حفاظت میں ناتوانی اور صیہونیت کے پروجیکٹ کے آخری سانسیں لینے کی طرف اشارہ کیا ہے اور زور دے کر کہا کہ دنیا، صیہونی حکومت کے خاتمے کے شروعاتی مرحلے میں ہے۔
انھوں نے مقبوضہ فلسطین سے الٹی ہجرت کی لہر کے سنجیدہ ہونے کے بارے میں ایک صیہونی سیکورٹی تجزیہ نگار کے تبصرے کی طرف اشارہ کرتے کہا کہ اس صیہونی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی حکام کی بحثوں اور ان کے درمیان اختلافات کی باتیں میڈیا میں آ جائیں تو چالیس لاکھ لوگ اسرائیل سے چلے جائیں گے۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے مسئلۂ فلسطین کے دنیا کے پہلے مسئلے میں بدل جانے اور لندن اور پیرس میں اور امریکی یونیورسٹیوں میں صیہونیت مخالف مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی و صیہونی میڈیا اور پروپیگنڈہ مراکز نے برسوں تک مسئلۂ فلسطین کو بھلا دیے جانے کے لیے کوشش کی لیکن طوفان الاقصیٰ اور غزہ کے عوام کی مزاحمت کے سائے میں آج فلسطین، دنیا کا پہلا مسئلہ ہے۔
انھوں نے چالیس ہزار لوگوں کی شہادت اور پندرہ ہزار بچوں اور نومولود و شیر خوار بچوں کی شہادت سمیت غزہ کے لوگوں کے مصائب کو صیہونیوں کے چنگل سے نجات کی راہ میں فلسطینی قوم کے ذریعے ادا کی جانے والی بھاری قیمت بتایا اور کہا کہ غزہ کے لوگ، ایمان اسلامی اور قرآنی آیات پر عقیدے کی برکت سے بدستور مصائب برداشت کر رہے ہیں اور حیرت انگیز استقامت کے ساتھ مزاحمت کے مجاہدین کا دفاع کر رہے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مزاحمت کے عظیم محاذ کی توانائیوں کے بارے میں صیہونی حکومت کے غلط اندازے کو، اس حکومت کے ڈیڈ اینڈ کورویڈور میں پہنچ جانے کا سبب بتایا جو اسے لگاتار شکستوں سے رو بہ رو کرا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی مدد و نصرت سے اس بندگلی سے نکلنے کی اس کے پاس کوئی راہ نہیں ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ مغرب کے پروپیگنڈوں کے باوجود صیہونی حکومت، دنیا کے لوگوں کی نظروں کے سامنے پگھلتی اور ختم ہوتی جا رہی ہے اور اقوام کے ساتھ ہی دنیا کی بہت سی سیاسی شخصیات یہاں تک کہ صیہونی بھی اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں عزیز اور محنتی صدر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے جانگداز سانحے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے ساتھیوں میں سے ہر ایک شخص، اپنے آپ میں ایک گرانقدر شخصیت تھا۔
انھوں نے شہید رئیسی کی نمایاں اور ممتاز خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سبھی نے اعتراف کیا کہ کام، عمل، خدمت اور صداقت والے انسان تھے اور انھوں نے عوام کی خدمت کا ایک نیا نصاب تیار کیا تھا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اتنی زیادہ، اتنی مقدار میں، اس سطح کی خدمت اور ایسی صداقت و محنت ملک کے خادموں کے درمیان نہیں رہی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں بہت زیادہ اور بابرکت فعالیت، مواقع کا بہترین استعمال اور دنیا کی اہم سیاسی شخصیات کی نظر میں ایران کو نمایاں کرنا، شہید رئیسی کی کچھ دوسری خصوصیات تھیں۔ انھوں نے دشمنوں اور انقلاب کے مخالفوں کے درمیان واضح حدبندی اور دشمن کی مسکراہٹ پر بھروسہ نہ کرنے کو شہید رئیسی کی دیگر سبق آموز خصوصیات بتایا۔
انھوں نے اسی طرح شہید امیر عبداللہیان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انھیں ایک فعال، محنتی اور جدت عمل والا وزیر خارجہ اور مضبوط، ذہین اور اصولوں کا پابندہ مذاکرات کار بتایا۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے شہیدان خدمت کے جلوس جنازہ میں عوام کی دسیوں لاکھ کی تعداد میں شرکت کو ایک نمایاں اور قابل تجزیہ کارنامہ بتایا اور اسے انقلاب کی تاریخ میں تلخ اور سخت حوادث کے مقابل ایرانی قوم کے تاریخ رقم کرنے والے کارناموں کا ایک نمونہ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ اس کارنامے نے دکھا دیا کہ ایرانی قوم، ایک پرعزم، ثابت قدم اور زندہ قوم ہے جو مصیبت سے نہیں ہارتی بلکہ اس کی استقامت اور جوش و جذبے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے عوام کی زبردست شرکت کا ایک اور پیغام، انقلاب کے نعروں کی طرفداری بتایا اور کہا کہ مرحوم رئیسی صراحت کے ساتھ انقلاب کے نعروں کو بیان کرتے تھے اور وہ خود انقلاب کے نعروں کا مظہر تھے۔
انھوں نے اپنے خطاب کے ایک دوسرے حصے میں آئندہ الیکشن کو ایک بڑا اور اہم نتائج والا کام بتایا اور کہا کہ اگر یہ الیکشن اچھی طرح اور پرشکوہ طریقے سے منعقد ہو جائے تو ایرانی قوم کے لیے ایک بڑا کارنامہ ہوگا اور دنیا میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخر میں الیکشن میں عوام کی بھرپور شرکت کو شہیدان خدمت کو الوداع کہنے کے قوم کے بے مثال کارنامے کا تتمہ قرار دیا اور کہا کہ ایرانی قوم کو پیچیدہ بین الاقوامی معامالات میں اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی اسٹریٹیجک گہرائی کے استحکام کے لیے ایک فعال، آگاہ اور انقلاب کی بنیادوں پر ایمان رکھنے والے صدر کی ضرورت ہے۔
"زیادہ تر لوگ غلطی سے (تہران کے قبرستان) بہشت زہرا میں امام خمینی کی تقریر کو پندرہ سال کی جلاوطنی سے وطن واپسی کے بعد ان کی پہلی تقریر سمجھتے ہیں لیکن رہبر کبیر انقلاب نے پہلی تقریر مہرآباد ائيرپورٹ پر ان کا استقبال کرنے آئے لوگوں کے درمیان کی تھی۔ شروع میں ایک نوجوان قاری نے قرآن مجید کی کچھ آیتوں کی تلاوت کی، پھر ایک گروپ نے "خمینی اے امام" نامی جاوداں ترانہ پڑھا اور اس کے بعد امام خمینی نے ایک مختصر سا خطاب کیا اور کہا جا سکتا کہ اس مختصر تقریر کا سب سے اہم نکتہ اتحاد کی اہمیت اور تفرقہ پھیلانے کی سازش کی طرف سے انتباہ ہے۔ انھوں نے اس تقریر میں دو بار واضح الفاظ میں "وحدت کلمہ" یا اتحاد کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کا سبب بتایا اور کہا کہ ہمیں قوم کے سبھی طبقوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ یہاں تک یہ کامیابی اتحاد کے ذریعے ہی رہی ہے۔ تمام مسلمانوں کا اتحاد، مسلمانوں سے تمام مذہبی اقلیتوں کا اتحاد، دینی مدارس سے یونیورسٹیوں کا اتحاد، سیاسی دھڑوں سے علمائے دین کا اتحاد۔ ہم سبھی کو یہ بات سمجھ جانا چاہیے کہ اتحاد، کامیابی کا راز ہے اور ہمیں کامیابی کے اس راز کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے اور خدانخواستہ شیطان، آپ کی صفوں میں تقرفہ نہ ڈال دیں۔
آج اپارتھائيڈ صیہونی حکومت کے ہاتھوں جاری نسل کشی، پچھلے دسیوں سال سے چلے آ رہے شدید ظالمانہ برتاؤ کا ہی تسلسل ہے۔
فلسطین کے حامی با ضمیر امریکی یونیورسٹی طلبہ کے نام امام خامنہ ای کا خط
25 مئی 2024
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے 3 جون 2024 کو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی 35ویں برسی پر امام خمنیی کے مزار پر عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بانی انقلاب اسلامی کے مکتب فکر اور ان کے دروس کا جائزہ لیا۔ (1)
میں یہ خط ان جوانوں کو لکھ رہا ہوں جن کے بیدار ضمیر نے انھیں غزہ کے مظلوم بچوں اور عورتوں کے دفاع کی ترغیب دلائي ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا کے جوانوں اور اسٹوڈنٹس کے نام
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے خط سے اقتباس
25/05/2024
ریاستہائے متحدہ امریکا کے عزیز نوجوان اسٹوڈنٹس! آج آپ نے عظیم مزاحمتی محاذ کا ایک حصہ تشکیل دیا ہے، مزاحمت کا بڑا محاذ آپ سے دور ایک علاقے میں، آپ کے آج کے انہی احساسات و جذبات کے ساتھ، برسوں سے جدوجہد کر رہا ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا کے جوانوں اور اسٹوڈنٹس کے نام
امام خامنہ ای کے خط سے اقتباس
25/05/2024
ریاستہائے متحدہ امریکا کے عزیز نوجوان اسٹوڈنٹس! یہ آپ سے ہماری ہمدلی اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ اس وقت آپ تاریخ کی صحیح سمت میں، جو اپنا ورق پلٹ رہی ہے، کھڑے ہوئے ہیں۔
امام خامنہ ای
25 مئي 2024
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے جمعرات کو شام کے صدر جناب بشار اسد اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں مزاحمت کو شام کا نمایاں تشخص بتایا اور کہا کہ خطے میں شام کی خاص پوزیشن بھی اس نمایاں تشخص کی وجہ سے ہے اور اس اہم خصوصیت کو باقی رہنا چاہیے۔
ایرانی قوم کو تعزیت پیش کرنے کے لیے تہران آنے والے شام کے صدر جناب بشار اسد نے اپنے ہمراہ وفد کے ساتھ جمعرات 30 مئي 2024 کو رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میں یہ خط ان جوانوں کو لکھ رہا ہوں جن کے بیدار ضمیر نے انھیں غزہ کے مظلوم بچوں اور عورتوں کے دفاع کی ترغیب دلائي ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا کے عزیز نوجوان اسٹوڈنٹس! یہ آپ سے ہماری ہمدلی اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ اس وقت آپ تاریخ کی صحیح سمت میں، جو اپنا ورق پلٹ رہی ہے، کھڑے ہوئے ہیں۔
آج آپ نے مزاحمتی محاذ کا ایک حصہ تشکیل دیا ہے اور اپنی حکومت کے بے رحمانہ دباؤ کے باوجود، جو کھل کر غاصب اور بے رحم صیہونی حکومت کا دفاع کر رہی ہے، ایک شرافت مندانہ جدوجہد شروع کی ہے۔
مزاحمت کا بڑا محاذ آپ سے دور ایک علاقے میں، آپ کے آج کے انہی احساسات و جذبات کے ساتھ، برسوں سے جدوجہد کر رہا ہے۔ اس جدوجہد کا ہدف اُس کھلے ہوئے ظلم کو رکوانا ہے جو صیہونی کہے جانے والے ایک دہشت گرد اور سفاک نیٹ ورک نے برسوں پہلے فلسطینی قوم پر شروع کیا اور اُس کے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد اُسے سخت ترین دباؤ اور ایذا رسانیوں کا شکار بنا دیا۔
آج اپارتھائيڈ صیہونی حکومت کے ہاتھوں جاری نسل کشی، پچھلے دسیوں سال سے چلے آ رہے شدید ظالمانہ برتاؤ کا ہی تسلسل ہے۔
فلسطین ایک خود مختار سرزمین ہے جو طویل تاریخ رکھنے والی اس قوم کی ہے جس میں مسلمان، عیسائي اور یہودی سب شامل ہیں۔
صیہونی نیٹ ورک کے سرمایہ داروں نے عالمی جنگ کے بعد برطانوی حکومت کی مدد سے کئي ہزار دہشت گردوں کو تدریجی طور پر اس سرزمین میں پہنچا دیا، جنھوں نے فلسطین کے شہروں اور دیہاتوں پر حملے کیے، دسیوں ہزار لوگوں کو قتل کر دیا یا انھیں پڑوسی ممالک کی طرف بھگا دیا، ان کے گھروں، بازاروں اور کھیتوں کو ان سے چھین لیا اور غصب کی گئي فلسطین کی سرزمین پر اسرائيل نام کی ایک حکومت تشکیل دے دی۔
اس غاصب حکومت کی سب سے بڑی حامی، انگریزوں کی ابتدائي مدد کے بعد، ریاستہائے متحدہ امریکا کی حکومت ہے جس نے اس حکومت کی سیاسی، معاشی اور اسلحہ جاتی مدد لگاتار جاری رکھی ہے، یہاں تک کہ ناقابل معافی بے احتیاطی کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ بھی اس کے لیے کھول دی اور اس سلسلے میں اس کی مدد کی ہے۔
صیہونی حکومت نے پہلے ہی دن سے نہتے فلسطینی عوام کے خلاف جابرانہ روش اختیار کی اور تمام انسانی و دینی اقدار اور قلبی احساس کو پامال کرتے ہوئے اس نے روز بروز اپنی سفاکیت، قاتلانہ حملوں اور سرکوبی میں شدت پیدا کی۔
امریکی حکومت اور اس کے حلیفوں نے اس ریاستی دہشت گردی اور لگاتار جاری ظلم پر معمولی سی ناگواری تک کا اظہار نہیں کیا۔ آج بھی غزہ کے ہولناک جرائم کے سلسلے میں امریکی حکومت کے بعض بیانات، حقیقت سے زیادہ ریاکارانہ ہوتے ہیں۔
مزاحمتی محاذ نے اس تاریک اور مایوس کن ماحول میں سر بلند کیا اور ایران میں اسلامی جمہوری حکومت کی تشکیل نے اسے فروغ اور طاقت عطا کی۔
بین الاقوامی صیہونزم کے سرغناؤں نے، جو امریکا اور یورپ کے زیادہ تر ذرائع ابلاغ کے یا تو مالک ہیں یا یہ میڈیا ہاؤسز ان کے پیسوں اور رشوت کے زیر اثر ہیں، اس انسانی اور شجاعانہ مزاحمت کو دہشت گردی بتا دیا۔ کیا وہ قوم، جو غاصب صیہونیوں کے جرائم کے مقابلے اپنی سرزمین میں اپنا دفاع کر رہی ہے، دہشت گرد ہے؟ کیا اس قوم کی انسانی مدد اور اس کے بازوؤں کی تقویت، دہشت گردی کی مدد ہے؟
جابرانہ عالمی تسلط کے سرغنا، انسانی اقدار تک پر رحم نہیں کرتے۔ وہ اسرائيل کی دہشت گرد اور سفاک حکومت کو، اپنا دفاع کرنے والا ظاہر کرتے ہیں اور فلسطین کی مزاحمت کو جو اپنی آزادی، سلامتی اور مستقبل کے تعین کے حق کا دفاع کر رہی ہے، دہشت گرد بتاتے ہیں۔
میں آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آج صورتحال بدل رہی ہے۔ ایک دوسرا مستقبل، مغربی ایشیا کے حساس خطے کے انتظار میں ہے۔ عالمی سطح پر بہت سے ضمیر بیدار ہو چکے ہیں اور حقیقت، آشکار ہو رہی ہے۔
مزاحمتی محاذ بھی طاقتور ہو گيا اور مزید طاقتور ہوگا۔
تاریخ بھی اپنا ورق پلٹ رہی ہے۔
ریاستہائے متحدہ کی دسیوں یونیورسٹیوں کے آپ اسٹوڈنٹس کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی یونیورسٹیاں اور عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پروفیسروں کی جانب سے آپ اسٹوڈنٹس کا ساتھ اور آپ کی پشت پناہی ایک اہم اور فیصلہ کن واقعہ ہے۔ یہ چیز، حکومت کے جابرانہ رویے اور آپ پر ڈالے جانے والے دباؤ کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔ میں بھی آپ جوانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور آپ کی استقامت کی قدردانی کرتا ہوں۔
ہم مسلمانوں اور دنیا کے تمام لوگوں کو قرآن مجید کا درس ہے، حق کی راہ میں استقامت: فاستقم کما اُمرت۔ اور انسانی روابط کے بارے میں قرآن کا درس یہ ہے: نہ ظلم کرو اور نہ ظلم سہو: لاتَظلمون و لاتُظلمون۔
مزاحمتی محاذ ان احکام اور ایسی ہی سیکڑوں تعلیمات کو سیکھ کر اور ان پر عمل کر کے آگے بڑھ رہا ہے اور اللہ کے اذن سے فتحیاب ہوگا۔
میں سفارش کرتا ہوں کہ قرآن سے آشنائي حاصل کیجیے۔
انسانی حقوق کے لئے گلا پھاڑ کے دنیا کے کان کے پردے پھاڑنے والے کہاں ہیں؟ انھیں کیوں نہیں دیکھتے؟ کیا یہ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کے حقوق نہیں ہیں؟
امام خامنہ ای
10 اپریل 2024
حج "امت مسلمہ کے عقیدے کے اظہار اور موقف کے اعلان کی ایک جگہ" ہے اور امت مسلمہ اپنے صحیح اور قابل قبول اور قابل اتفاق رائے موقف کو بیان کر سکتی ہے، قابل قبول اور قابل اتفاق رائے... اقوام، مسالک۔ ممکن ہے حکومتیں کسی اور طرح سوچیں، کسی اور طرح کام کریں لیکن اقوام کا دل، الگ چیز ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اقوام مختلف معاملات میں اپنے موقف کا اظہار کر سکتی ہیں۔ اگرچہ برائت، ابتدائے انقلاب سے ہی حج میں موجود رہی ہے لیکن غزہ کے بڑے اور عجیب واقعات کے پیش نظر خاص طور پر اس سال کا حج، حج برائت ہے۔ اور مومن حجاج کو اس قرآنی منطق کو پوری اسلامی دنیا میں منتقل کرنا چاہیے۔ آج فلسطین کو اسلامی دنیا کی پشت پناہی کی ضرورت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے ایک پیغام میں حجت الاسلام و المسلمین سید حسن نصر اللہ کی والدۂ گرامی کے انتقال پر انھیں تعزیت پیش کی ہے۔
رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لبنانی مزاحمت کے سربراہ عظیم مجاہد جناب حجت الاسلام و المسلمین الحاج سید حسن نصر اللہ دامت برکاتہ کی خدمت اقدس میں
سلام علیکم
آپ کی والدۂ ماجدہ کے انتقال پر میں دل کی گہرائيوں سے تعزیت پیش کرتا ہوں۔ مرحومہ کی عظمت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ مزاحمت کے کبھی نہ تھکنے والے سید، ان کے دامن سے نکلے ہیں۔ خدا کی رحمت و رضا ان کے شامل ہو اور اللہ کا سلام اور اس کی برکتیں آپ پر اور مزاحمت کے عظیم محاذ کے آپ کے مجاہد ساتھیوں پر ہو۔
سید علی خامنہ ای
27 مئي 2024
ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کا بارہواں ٹرم شروع ہونے کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کیا جو آج 27 مئی 2024 کو ایوان کے اندر پڑھا گیا۔
خداوند عالم ان شاء اللہ جناب رئيسی کے درجات بلند کرے۔ میں جتنا بھی سوچتا ہوں، خود میرے لیے بھی، ملک کے لیے بھی اور خاص طور پر ان کی فیملی کے لیے بھی اس کی تلافی نا ممکن نظر آتی۔ یعنی بہت بڑا نقصان ہے جس کی تلافی نہیں ہو سکتی، واقعی بہت سخت ہے، بہت بڑا صدمہ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ خداوند عالم ان کے درجات بلند کرے اور آپ لوگوں کو بھی صبر دے۔ مصیبت جتنی سخت اور بڑی ہوتی ہے، خدا کا اجر بھی اسی نسبت زیادہ بڑا اور زیادہ شیریں ہے، ان شاء اللہ۔
شہید صدر مملکت آیت اللہ رئیسی کی شہادت پر پاکستان کے رہنماؤں نے تعزیت پیش کی اور کہا کہ یہ ایران نہیں امت اسلامیہ کا نقصان ہے، ہم نے بہترین دوست کھو دیا۔ صدر رئیسی نے حال ہی میں پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا تھا اور بڑی اہم ملاقاتیں اور گفتگو ہوئی تھی۔
امام خامنہ ای
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے سنیچر کی صبح شہدائے خدمت کے اہل خانہ سے ملاقات میں عوام کے لیے کام، عوام کی خدمت اور عوامی ہونے کو ان شہیدوں کی سب سے نمایاں خصوصیت بتایا اور کہا کہ مرحوم شہید رئيسی کے لیے دن رات کا کوئي مطلب نہیں تھا اور وہ حقیقی معنی میں انتھک تھے۔
شہدائے خدمت؛ صدر مملکت حجت الاسلام و المسلمین سید ابراہیم رئيسی، وزیر خارجہ جناب ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیان، تبریز کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین آل ہاشم، مشرقی آذربائيجان صوبے کے گورنر مرحوم جناب ڈاکٹر مالک رحمتی، صدر مملکت کی محافظ ٹیم کے سربراہ بریگیڈیر جنرل سید مہدی موسوی اور ہیلی کاپٹر کے عملے کے افراد؛ بریگيڈیر جنرل پائلٹ سید طاہر مصطفوی، بریگيڈیر جنرل پائلٹ محسن دریانوش اور سیکنڈ کرنل فلائٹ انجینیر بہروز قدیمی کے ایصال ثواب پیش کرنے کے لیے سنیچر کی صبح حسینیۂ امام خمینی میں ایک مجلس عزا کا انعقاد ہوا جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے شرکت کی۔
سنیچر کی صبح حسینیۂ امام خمینی میں صدر مملکت اور ان کے معزز ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک مجلس عزا کا انعقاد ہوا جس میں رہبر انقلاب کے علاوہ ملکی حکام، غیر ملکی نمائندوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
25 می 2024
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے بدھ 22 مئی 2024 کی رات مرحوم حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے گھر پہنچ کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انھوں نے مرحوم صدر کو اسلامی انقلاب کے نعروں کا مصداق قرار دیا اور عوام کی جانب سے ان کے سلسلے میں عقیدت کے اظہار کو اسلامی جمہوریہ کے حق میں دنیا کے لیے ایک پیغام بتایا۔
صدر مملکت حجت الاسلام و المسلمین سید ابراہیم رئيسی، تبریز کے مرحوم امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین آل ہاشم، مرحوم وزیر خارجہ جناب ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائيجان صوبے کے مرحوم گورنر جناب ڈاکٹر مالک رحمتی، صدر مملکت کی محافظ ٹیم کے سربراہ بریگیڈیر جنرل سید مہدی موسوی اور ہیلی کاپٹر کے عملے کے افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی جانب سے سنیچر 25 مئي کو صبح ساڑھے نو بجے حسینیۂ امام خمینی میں ایک مجلس عزا کا انعقاد کیا گيا ہے۔
اس پروگرام میں سبھی لوگ شریک ہو سکتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے بدھ کی شام لبنان کے پارلیمنٹ اسپیکر جناب نبیہ بری سے ملاقات میں اس تلخ اور سنگین سانحے پر لبنانی حکومت اور قوم کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کے اظہار پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ لبنان میں عام سوگ کا اعلان، دونوں ملکوں کی زبردست ہمراہی کا عکاس ہے اور اپنے لبنانی بھائیوں اور جناب سید حسن نصر اللہ صاحب سے اپنی نسبت، رشتہ داری اور اخوت کی نسبت سمجھتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے بدھ کی شام تیونس کے صدر جناب قیس سعید اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں حالیہ سانحے کے بارے میں تیونس کے صدر کے برادرانہ اور دلی جذبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صدر اور ان کے ساتھ کئی اعلی عہدیداروں کو کھو دینے کا سانحہ سنگین ہے لیکن دور صدارت کے دوران ہم نے ہمیشہ اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ حکمت الہی کی بنیاد پر اور عوام کے صبر و پائیداری سے تلخ واقعات، پیشرفت اور ترقی کا سرچشمہ بنے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے بدھ 22 مئی کی شام امیر قطر شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں حالیہ تلخ سانحے پر قطر کی تعزیت اور ہمدلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے پیشرفت کی راہ پر آگے بڑھتے رہنے پر زور دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے بدھ کی شام پاکستان کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف اور ان کے ہمراہ آئے وفد سے ملاقات میں، برادر ملک پاکستان کی حکومت اور قوم کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی پیش کیے جانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور وہ پاکستان کو پوری طرح برادرانہ نظر سے دیکھتا ہے لیکن گزشتہ برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ اتار چڑھاؤ آئے ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت میں ان تعلقات کو دوبارہ اونچائی عطا کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔
حماس کے پولت بیورو کے چیف جناب اسماعیل ہنیہ نے اپنے وفد کے ساتھ بدھ کو دوپہر سے قبل رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی اور آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی قوم و حکومت کو تعزیت پیش کی۔
آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان نے بدھ 22 مئی 2024 کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی اور صدر رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت جیسی موت پر اپنی حکومت اور قوم کی جانب سے دکھ، غم اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
صدر مملکت حجت الاسلام و المسلمین رئيسی کی شہادت جیسی موت کے بعد عراق کے وزیر اعظم شیاع السودانی نے بدھ 22 مئي 2024 کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ انھوں نے اس موقع پر رہبر انقلاب سے کہا کہ اس غمزدہ ماحول میں، میں آپ سے ملاقات کے لیے آیا ہوں تاکہ عراقی حکومت اور قوم کا دکھ، حزن اور تعزیت ایرانی حکومت اور قوم کو پیش کروں۔ ہم نے ایران کے شہید صدر جناب رئیسی میں جو چیز دیکھی تھی وہ سچائي، اخلاق، پاکیزگي، کام، کوشش اور عوام کی خدمت کے علاوہ کچھ نہیں تھی۔
عراق کے وزیر اعظم نے اسی طرح ایران کے شہید صدر کے جلوس جنازہ میں دسیوں لاکھ افراد کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آج ٹی وی پر جو تصویریں دیکھی ہیں ان کے کچھ واضح پیغامات تھے جن میں سب سے اہم پیغام، تمام تر دباؤ اور پابندیوں نیز اس ناگوار سانحے کے باوجود اسلامی جمہوریہ میں حکام کے ساتھ عوام کے ٹھوس اور مضبوط رشتوں کی گہرائي ہے۔
جناب السودانی نے زور دے کر کہا کہ جلوس جنازہ میں دسیوں لاکھ افراد کی شرکت کا ایک دوسرا پیغام یہ ہے کہ عوام کی خدمت کرنی چاہیے اور یہ پرشکوہ جلوس جنازہ، عوام کی خدمت کا نتیجہ ہے اور یہ درس، عراق میں ہمارے لیے بھی سرمشق ہونا چاہیے۔
اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے غم میں شرکت کے لیے عراقی وزیر اعظم کے تہران کے سفر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک نمایاں شخصیت کو کھو دیا ہے۔ صدر مملکت بڑے اچھے بھائي، کارآمد، لائق، سنجیدہ اور دل سے کام کرنے والے عہدیدار تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت آئين کی رو سے جناب مخبر صاحب نے ایک سنگین ذمہ داری اٹھائي ہے اور ان شاء اللہ عراقی حکومت سے تعاون اور سمجھوتوں کا پہلے والا عمل جاری رہے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای نے بدھ 22 مئی 2024 کو تہران یونیورسٹی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ ڈاکٹر امیر عبداللہیان، صوبۂ مشرقی آذربائیجان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجت الاسلام آل ہاشم، مشرقی آذربائیجان صوبے کے گورنر ڈاکٹر رحمتی اور ہیلی کاپٹر کے سانحے کا شکار ہونے والے دیگر افراد کی نماز جنازہ پڑھائي۔
صدر اسلامی جمہوریہ ایران حجت الاسلام و المسلمین سید ابراہیم رئيسی، وزیر خارجہ ڈاکٹر امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائیجان صوبے میں ولی فقیہ کے نمائندے حجت الاسلام و المسلمین آل ہاشم، مشرقی آذربائيجان صوبے کے گورنر ڈاکٹر رحمتی اور ہیلی کاپٹر کے سانحے کا شکار ہونے والے دیگر افراد کے جلوس جنازہ اور رہبر انقلاب کی امامت میں نماز جنازہ کا پروگرام کل بدھ کی صبح ساڑھے سات بجے تہران یونیورسٹی میں منعقد ہوگا۔