دشمن پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آ گیا ہے، خطے میں فوجی سازوسامان کی ترسیل سے لے کر سیاسی دھمکیوں اور بڑبولے پن تک اور شاید سب سے وسیع اور پیچیدہ، بے تحاشا اور ہمہ گير نفسیاتی اور میڈیا آپریشنز تک۔ طریقے اور اسٹریٹیجیز مختلف ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں لیکن ہدف ایک ہی ہے؛ سامراجی پالیسیاں مسلط کرنا اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔ وہی چیز جس کا اعلان امریکی صدر نے بارہ روزہ جنگ کے دوران "غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے" کی صورت میں کیا تھا اور اس کا خواب دیکھا تھا لیکن آخر کار ایران کی مسلح فورسز کی مردانہ وار استقامت اور ایرانی عوام کی مزاحمت و قومی اتحاد کے نتیجے میں دشمن کو پسپائی اختیار کرنے اور جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔
انسانوں کے سلسلے میں امیر المومنین کا احساس بے نظیر ہے، صرف مسلمانوں اور اپنے پیروکاروں کے ہی بارے میں نہیں بلکہ سبھی انسانوں کے بارے میں آپ کا احساس اوج پر ہے۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت اور شہید سلیمانی کی برسی پر شہید سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے اہل خانہ اور بارہ روزہ جنگ میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے 3 جنوری 2026 کی اپنی ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے خطاب کرتے ہوئے مولائے کائنات کی جائے پیدایش اور حضرت ہی عظیم صفات پر گفتگو کی۔ انہوں نے شہید سلیمانی کی شخصیت اور خصوصیات پر روشنی ڈالی ساتھ ہی در پیش مسائل و حالات کا جائزہ لیا۔
خطاب حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی نے مولی الموحدین امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے یوم ولادت با سعادت اور الحاج قاسم سلیمانی، ابو مہدی المہندس اور ان کے دیگر ساتھیوں کی چھٹی برسی کے موقع پر سنیچر 3 جنوری 2026 کی صبح بارہ روزہ جنگ میں شہید ہونے والوں (شہدائے اقتدار) کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت پر سنیچر 3 جنوری 2026 کی صبح شہید قاسم سلیمانی کے اہل خانہ، ان کے ہمراہ شہید ہونے والے ان کے ساتھیوں کے اہل خانہ اور شہدائے اقتدار کے بعض اہل خانہ نے حسینیۂ امام خمینی میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔
امیر المومنین کی عدالت کے بارے میں تو کوئی لب کشائی ہی نہیں کر سکتا۔ عدل علی کی توصیف ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کا ایک جملہ ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: "اگر مجھے سخت ترین ایذائیں دیں، میرے برہنہ جسم کو کانٹوں پر گھسیٹیں تب بھی یہ سب میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں قیامت کے دن خدا سے اس حال میں ملوں کہ کسی پر مجھ سے ظلم ہوا ہو! آپ غور کیجیے کہ یہ باتیں کون کر رہا ہے؟ وہ جس کی حکومت دریائے جیحون سے دریائے نیل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یعنی ایران، افغانستان، عراق اور مصر اس میں شامل تھے۔ یہ امیر المومنین کا عدل ہے۔
امام خامنہ ای
25 جون 2024
امیرالمومنین علیہ السلام کا سیاسی طرز عمل ان کے معنوی و اخلاقی طرز عمل سے الگ نہیں ہے۔ امیرالمومنین کی سیاست، روحانیت و اخلاقیات سے آمیختہ ہے بلکہ یہ (سیاست) علی کی معنویت و روحانیت اور ان کے اخلاق سے ہی ماخوذ ہے۔
امام خامنہ ای
11 ستمبر 2009
امیر المومنین علیہ السلام تاریک اور اندھیری رات میں پیغمبر کے بستر پر سونے کے لیے تیار ہو گئے تاکہ پیغمبر اس گھر اور اس شہر سے باہر نکل جائيں۔ اس رات، اس بستر پر سونے والے کا مارا جانا، قریب قریب یقینی اور قطعی تھا۔
18 ذی الحجہ سنہ 10 ہجری کا دن، اعلان غدیر اور امیر المومنین کی جانشینی کے اعلان کا دن وہ دن ہے جب کفار مایوس ہو گئے۔اس بارے میں کہ وہ دین مبین اسلام کا کبھی قلع قمع کر سکیں گے۔ اس دن سے پہلے تک انہیں یہ امید تھی کہ ایسا کر لے جائیں گے۔ لیکن اس دن ان کی امید مر گئی۔
امام خامنہ ای
دنیا کے لوگ جتنا امیرالمومنین کے انصاف، شجاعت اور ظلم سے مقابلے کو پسند کرتے ہیں، عملی میدان میں خود کو بھی ان خصوصیات سے اتنا ہی قریب کرتے – چاہے ایک قدم ہی سہی – تو دنیا گلستان بن جاتی۔
امام خامنہ ای
31/12/1999
میں آپ کے جشن عبادت پر آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، امیر المومنین علیہ السلام کی ولادت با سعادت کا بھی اپنی عزیز بچیوں کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں۔
ماہ رجب کے بابرکت ایام میں اور امیر المومنین علیہ السلام کی شب ولادت کے موقع پر اسکولی طالبات کے جشن عبادت کا پروگرام، جمعے کی شام کو رہبر انقلاب کی موجودگي میں امام خمینی امام بارگاہ میں منعقد ہوا۔
ایک انسان جن صفات اور اقدار کا احترام کرتا ہے، وہ سب علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اندر اکٹھا ہیں۔ جس شخص کا کوئی دین نہ ہو، وہ بھی جب امیر المومنین سے آشنا ہو جاتا ہے تو ان کے سامنے سر جھکا دیتا ہے۔
امیر المومنین علیہ السلام نے (اپنی حکومت کی) اس مدت میں دکھا دیا کہ ان اسلامی اصولوں اور اسلامی اقدار کو، جو اسلام کی گوشہ نشینی کے دور میں اور چھوٹے سے اسلامی معاشرے میں وجود میں آئي تھیں، اسلامی سماج کی توسیع، آسودگي اور مادی ترقی و پیشرفت کے دور میں بھی عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ ہم اس نکتے پر توجہ کریں، یہ بہت اہم ہے۔ ہمارا آج کا مسئلہ بھی یہی ہے۔ اسلامی اصول، اسلامی عدل و انصاف، انسان کا احترام، جہاد کا جذبہ، اسلام کے تعمیری اقدار، اسلام کی اخلاقی بنیادیں، یہ سب چیزیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں وحی کے ذریعے نازل ہوئيں اور جہاں تک ممکن تھا، پیغمبر کے ذریعے انھیں اسلامی معاشرے میں نافذ کیا گيا۔
امام خامنہ ای
5/11/2004
امیر المومنین اپنے ان چچا، بھائي اور چچا زاد بھائي کے ساتھ بیٹھے اور ایک بات کا عہد کیا کہ ہم شہادت حاصل ہونے تک جہاد کرتے رہیں گے۔ اس کے بعد امیر المومنین فرماتے ہیں کہ یہ لوگ یعنی میرے تین ساتھی مجھ سے آگے بڑھ گئے اور میں انتظار کی گھڑیاں گن رہا ہوں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے منگل 16 جولائی 2019 کو ملک کے ائمہ جمعہ سے خطاب میں نماز جمعہ کو حد درجہ اہمیت کی حامل قرار دیتے ہوئے اسے بصیرت افروز اور عالی مضامین کی بحثوں کا مقدمہ قرار دیا۔
شب قدر، دعا و مناجات اور ذکر پروردگار میں ڈوب جانے کی شب ہے۔ پورا ماہ رمضان المبارک بالخصوص شبہائے قدر، ذکر پروردگار اور خضوع و خشوع کی بہار ہے۔ اسی طرح یہ بہترین موقع ہے اپنے ذہن و دل کو امیر المومنین، سید المتقین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ملکوتی مقام و منزلت سے آشنا کرنے اور درس لینے کا۔