اللہ کبھی بھی مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا ... وہ کہ جن سے منافقوں نے کہا کہ لوگوں نے تمھارے خلاف بڑا لشکر اکٹھا کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا۔ اور انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے۔
حالیہ واقعات اور منظم دہشت گردانہ کارروائیوں نے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے تسلسل میں سامنے آئیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں امریکی حکومت کی روش کی حقیقی نوعیت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں رائے عامہ کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا حکومتیں بغیر کوئی قیمت چکائے ہوئے دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت جاری رکھ سکتی ہیں؟
ان ریلیوں میں شرکت کرنے والوں کا اصل پیغام، جو وہ نیتن یاہو اور ٹرمپ تک پہنچانا چاہتے تھے، یہ تھا کہ عوام حکومت، رہبر انقلاب اور اسلامی نظام کے پیچھے کھڑے ہیں۔ جو دسیوں لاکھ لوگ سڑکوں پر آئے، وہ یہ کہنے کے لیے آئے کہ ایرانی قوم یہ ہے۔
دعا کی حکمت عملی اور گریے کی حکمت عملی، مکمل باتیں نہیں ہیں، جی ہاں! امام سجاد علیہ السلام نے دعا کے پیرائے میں معارف بیان کیے، واقعۂ عاشورا کے استحکام کے لیے بارہا انھوں نے لوگوں کے سامنے اس واقعے کو بیان کیا اور گریہ کیا لیکن امام علیہ السلام کی حکمت عملی، امامت کی حکمت عملی سے عبارت ہے یعنی اسلام کی تشریح، امامت کی تشریح، ائمہ کے حقیقی مددگاروں کو اکٹھا کرنا جو اس وقت کے شیعہ تھے۔
امام خامنہ ای
26 ستمبر 1986
حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت اور یوم جانباز کی مناسبت سے تہران میں تیرہ وفود نے رہبر انقلاب اسلامی کی نمائندگی میں جنگ میں اپنے اعضائے جسمانی کا نذرانہ پیش کرنے والے بعض جانبازوں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انھیں خراج تحسین پیش کیا۔
حضرت ابوالفضل العباس کے بارے میں ائمہ علیہم السلام کی بیان کردہ زیارات میں اور ان کے بارے میں جو فقرے ہم تک پہنچے ہیں، ان میں دو باتوں پر بہت تاکید کی گئی ہے: ایک بصیرت اور دوسرے وفا۔
امام خامنہ ای
14 اپریل 2000
وہ نرس تھی۔ ایک تین سالہ بچی کی ماں۔ اس کے رفقائے کار اس کی لامتناہی مہربانی کی باتیں کرتے ہیں اور اس پیشہ ورانہ ذمہ داری کا ذکر کرتے ہیں جس سے اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک منہ نہیں موڑا۔ اتنی گہری پیشہ ورانہ ذمہ داری کہ جب آگ کے شعلے، رشت شہر کے امام سجاد دواخانے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے، تب بھی وہ وہاں موجود مریضوں کو چھوڑ کر جانے پر تیار نہیں ہوئی۔ یہی وفاداری تھی جس نے ایک شہیدہ کے طور پر اس کا نام امر کر دیا۔ میں مرضیہ نبوی نیا کی بات کر رہی ہوں، رشت کی ایک جوان نرس جو بلوائيوں کے کینے کی آگ میں زندہ جل گئيں تاہم ان کی یاد کا چراغ بدستور روشن ہے۔
امت مسلمہ کو حسین ابن علی علیہ السلام کا درس یہ ہے کہ حق کے لیے، انصاف کے قیام کے لیے، ظلم سے مقابلے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور اپنا پورا سرمایہ میدان میں لے آنا چاہیے۔
امام خامنہ ای
12 جون 2013
8 سے 10 جنوری تک، مسلح تخریب کار میدان میں آئے۔ پہلی بار احتجاج میں آتشیں ہتھیار دیکھے گئے۔ جو کچھ ہوا، وہ اب احتجاج نہیں رہا، یہ کھلم کھلا تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور منظم طور پر عوامی املاک کی تباہی کے ساتھ مسلحانہ شورش تھی۔
"ہم کس حالت میں کھڑے ہیں؟" اگر ہم اس سوال کا صحیح جواب دینا چاہیں، تو ہمیں لازمی طور پر جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ایک وسیع تر خاکہ کھینچنا ہوگا۔ میری رائے میں بارہ روزہ جنگ اور موجودہ حالات سے اس کے تعلق کو جامع نظر سے دیکھ کر، واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہم اب بھی جنگ کی حالت میں ہیں۔ ایسی جنگ جو نہ صلح سے ختم ہوئی ہے اور نہ ہی صحیح قانونی اور سیاسی معنی میں جنگ بندی سے رکی ہے۔ جو کچھ ہوا وہ محض ایک دو طرفہ فائر بندی تھی، بغیر تحریری معاہدے، بغیر نگرانی کے طریقۂ کار اور بغیر نافذ العمل وعدوں کے۔ لہٰذا جنگ کی حالت سے باہر نکلنے کا تصور، ایک تجزیاتی غلطی ہے۔ ہم اب بھی جنگ کی حالت میں ہیں اور یہ حقیقت خاص ضروری تدابیر کی متقاضی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے ایک پیغام میں آيت اللہ العظمیٰ سیستانی کے برادر گرامی کی وفات پر انھیں تعزیت پیش کی ہے۔
رہبر انقلاب کا تعزیتی پیغام حسب ذیل ہے:
انقلاب اسلامی کے آغاز سے لے کر آج تک، ایران پر امریکی تسلط کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ وہ اب بھی اس فکر میں ہیں کہ ایران کو دوبارہ اپنے فوجی، سیاسی اور معاشی تسلط میں لے آئیں۔ یہ معاملہ صرف موجودہ امریکی صدر تک محدود نہیں، بلکہ یہ امریکا کی پالیسی ہے۔
ایران کے حالیہ واقعات کا صرف سماجی یا معاشی مطالبوں کے تناظر میں تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ہر معاشرے کو داخلی مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور احتجاج، سیاسی حیات کا ایک حصہ شمار ہوتا ہے لیکن جو چیز موجودہ حالات میں نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے وہ زمینی سرگرمیوں اور بیرونی سازشوں کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا ہے جس کا ہدف، پالیسیوں کی تبدیلی سے بالکل الگ ہے۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ان سرگرمیوں کے غیر ملکی منصوبہ سازوں کا اصل ہدف، قومی اتحاد کی جڑوں کو کمزور کرنا اور آخر میں ایران کے حصے بخرے کرنا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے 17 جنوری 2026 کو عید بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مناسبت سے انتہائی اہم خطاب میں بعثت کے انتہائی عمیق پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے ملک میں فتنہ و آشوب کے واقعات اور اس میں امریکی کردار کے بارے میں گفتگو کی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی اور بارہ جنوری کو دسیوں لاکھ کی تعداد میں ایک کارنامہ کر کے بارہ جنوری کو گیارہ فروری کی طرح ایک تاریخی دن بنا دیا اور اپنے افتخارات میں ایک اور افتخار کا اضافہ کیا۔
یہ ایک امریکی فتنہ تھا۔ بہت واضح تھا۔ امریکیوں نے سازش تیار کی، کام کیا، امریکیوں کا ہدف، یہ بات میں پورے وثوق سے، کھل کر اور اسلامی جمہوریہ میں چالیس پینتالیس سال کے تجربے سے کہہ رہا ہوں، امریکا کا ہدف ایران کو نگلنا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے عید بعثت نبوی کے موقع پر ملک کے مختلف عوامی طبقات کے ہزاروں لوگوں سے سنیچر 17 جنوری 2026 کی صبح ملاقات کی۔
عید بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے موقع پر ملک کے مختلف عوامی طبقات کے ہزاروں لوگوں نے سنیچر 17 جنوری 2026 کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
آج ہم مسلمانوں کا فریضہ ہے آگاہی حاصل کرنا اور دنیا کو حقائق سے روشناس کرانا۔ بعثت کا مطلب ہے انسان کی نجات اور بشر کی سعادت و کامرانی کے لیے برانگیختہ ہونا۔ بعثت کا مطلب ہے انسانی معاشرے کے اندر نیکی و بھلائی پر استوار نظام کی تشکیل۔
امام خامنہ ای
5 مئی 2016
یوم بعثت الوہی فطرت کی جانب رجوع کا دن ہے۔ انسان کی الوہی فطرت، حق کی طرفداری، عدل و انصاف کی حمایت، مظلومین کے حق کے لیے جدوجہد میں تعاون ہے۔ یہ ہے حقیقی انسانی فطرت۔
امام خامنہ ای
5 مئی 2016
وجہ؟! تجربہ! مشہد کے بلوؤں یا انہی کے الفاظ میں ایران کے دوسرے سب سے بڑے شہر کے مظاہرین (تخریب کار دہشت گردوں) کے ہاتھ میں ہونے کے بارے میں ٹرمپ کا یہی اظہار خیال۔ سڑک پر ہونے والے ایک بلوے کو کج فکر مشیروں نے، دہشت گردوں کے ذریعے شہر پر قبضے کا نام دے کر امریکی صدر کے سامنے پیش کر دیا۔
تہران کے پرشکوہ اور تاریخ ساز دن کم نہیں رہے ہیں۔ ایسے دن جب لوگوں نے محسوس کیا کہ ضروری ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، اپنی موجودگی سے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں اور غفلت میں مبتلا لوگوں کو بیدار کر دیں۔ تاہم 12 جنوری کی شام کو تہران میں جو کچھ ہوا وہ ماضی کے یادگار تاریخی کارناموں سے کہیں بڑھ کر اور اگر ایک لفظ میں کہا جائے ایک بے مثال "یوم اللہ" تھا۔ وہ لوگ، جن کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں اپنے ملک کا مقدس پرچم تھا، اس بڑے شہر کے ہر کوچہ و بازار سے نکلے اور شہر کے مرکز میں انسانی سیلاب میں بدل گئے، ایسا سیلاب جس نے گردوغبار کو بٹھا دیا اور دلوں کو پرسکون کر دیا۔
زبردست اور فولادی عزم سے مملو ان ریلیوں نے غیر ملکی دشمنوں کی اس سازش کو ناکام بنا دیا جسے ملک کے اندر ان کے ایجنٹوں کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا رہا تھا۔
بارہ جنوری کو پورے ایران میں امریکی و صیہونی دہشتگردی اور ملک میں تخریبی کارروائیوں کے خلاف عوام نے زبردست ریلیاں نکالیں۔ ان ریلیوں کی ایک تصویری رپورٹ۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے آج 12 جنوری کو پورے ملک میں زبردست ریلیاں نکالنے اور ایک تاریخ رقم کرنے کے عظیم الشان ایرانی قوم کے زبردست کارنامے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے زور دے کر کہا ہے کہ ایرانی قوم نے دشمنوں کو اپنا وجود، اپنا حوصلہ اور اپنا تشخص بخوبی دکھا دیا ہے اور یہ امریکی سیاستدانوں کے لیے ایک وارننگ تھی کہ وہ اپنی فریب کاریوں سے باز آ جائيں اور غدار ایجنٹوں سے آس نہ لگائیں۔
ایرانی قوم کے نام رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
امریکی صدر نے کہا کہ اگر حکومت ایران فلاں کام کرتی ہے تو میں آ کر بلوائیوں کی حمایت کروں گا۔ بلوائی اس پر خوش ہیں! حالانکہ اگر اس میں صلاحیت ہے تو اپنا ملک سنبھالے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر حکومت ایران فلاں کام کرتی ہے تو میں آ کر بلوائیوں کی حمایت کروں گا۔ بلوائی اس پر خوش ہیں! حالانکہ اگر اس میں صلاحیت ہے تو اپنا ملک سنبھالے۔
آج ایرانی قوم، اُس وقت سے زیادہ لیس اور زیادہ مسلح ہے، آج ہمارے معنوی ہتھیار بھی اُس وقت سے زیادہ مضبوط، زیادہ ٹھوس اور زیادہ تیار ہیں اور ہمارے ہارڈ وئير، ظاہری، مادی اور رائج ہتھیاروں کا بھی اُس وقت سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔
اس چالیس پینتالیس سال کے عرصے میں ان سے جو بھی ہو سکا، انھوں نے کیا، یعنی ایک ملک کے خلاف ایسا کوئي بھی ممکنہ معاندانہ کام نہیں تھا جو انھوں نے نہ کیا ہو لیکن شکست کھائی۔
وہ لاطینی امریکا میں ایک ملک کا محاصرہ کرتے ہیں، کارروائیاں کرتے ہیں، انھیں شرم بھی نہیں آتی، پوری ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تیل کے لیے ہے اور ہم یہ کام تیل کے لیے کر رہے ہیں!
ہمارے دشمنوں نے ایران کو نہیں سمجھا اور غلط منصوبے بنائے، وہ آج بھی ایران کو نہیں جانتے اور غلط منصوبے بناتے ہیں، اُس وقت غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے وہ شکست کھا گئے، امریکا آج بھی اپنی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے شکست کھائے گا۔