سنیچر 9 مارچ 2026 کی صبح امریکی و صیہونی دہشت گردانہ اور بزدلانہ حملے میں رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہو گئے۔ دنیا کی معروف سیاسی جماعتوں، تحریکوں اور شخصیات نے اس تلخ اور جانکاہ صدمے پر ردعمل کا اظہار کیا۔
یہ وہ راستہ ہے جس پر خوف و حزن نہیں ہے، ڈر اور غم نہیں ہے، خدا کی راہ ہے نا، اس راہ میں ثابت قدم رہنا چاہیے، اپنے اتحاد، اپنے جذبے، اپنی کوشش کو بڑھا دینا چاہیے، ہمارے لیے شہیدوں کا پیغام یہ ہے۔
یہ تصویریں اس رہبر کے سادہ سے گھر کی ہیں جس کی ہیبت سے سپر طاقتیں لرزہ براندام ہو جاتی ہیں اور اب وہ اپنی دیرینہ آرزو یعنی شہادت کو حاصل کر چکا ہے۔
یہ سادہ سا گھر ان کے اہل خانہ کا مسکن تھا اور زندگی کے جذبے سے لبریز تھا۔
آیت اللہ خامنہ ای ایک سادہ لیکن جوش و جذبے سے لبریز گھر میں ضروریات زندگی کے وسائل کے ساتھ اس طرح ظالموں کے مقابلے میں ڈٹ جاتے تھے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں اور مستضعفوں کو عزت و وقار عطا کرتے تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا للہ و انا الیہ راجعون
عظیم ملت ایران!
ایران کی عظیم قوم کے رہبر اور امت مسلمہ کے علمبردار حضرت امام خامنہ ای کی عظیم روح، رمضان کے مبارک مہینے میں شہادت کا شیریں شہد نوش کر کے ملکوت اعلی سے متصل ہو گئی۔
اس سلسلے میں سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے ایک بیان جاری کیا ہے، جو حسب ذیل ہے:
ہر انسان خدا کا لحاظ کرے اور جانے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کہا ہے: جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر بولنے والے کی زبان کے نزدیک (حاضر) ہے۔
اگر کوئی جوان، دنیوی خواہشات اور دنیوی مشغلوں کو خدا کے لیے ترک کر دے اور اپنی جوانی کو عبادت خدا میں ادھیڑ عمر اور بڑھاپے تک پہنچا دے تو خداوند عالم اسے 72 صدیقوں کا اجر عطا فرمائے گا۔
فطری اعتبار سے مسجد کی زمین اور شراب خانے کی زمین میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن اس زمین کو اس زمین پر ترجیح حاصل ہے کیونکہ یہاں اللہ کی عبادت ہوتی ہے جبکہ وہاں گناہ ہوتا ہے۔ یہ کائنات کے تمام ذرات اور اجزاء پر انسان کے عمل کا اثر ہے۔
ہم نے ان کی بدعنوانیوں کے بارے میں جو کچھ سنا تھا وہ ایک طرف اور اس بدنام اور فاسد جزیرے کا معاملہ ایک طرف! یہ چیزیں در حقیقت مغربی تمدن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ جو ہم مغربی تمدن، مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ یہ ہے۔ دو سو سال، تین سو سال کام کرتے ہیں، اس کا نتیجہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے۔ یہ جزیرہ ایک نمونہ ہے، اس طرح کی باتیں بہت زیادہ ہیں۔ جس طرح سے یہ چیز آشکار نہیں تھی مگر سامنے آ ہی گئي، اسی طرح بہت سی دوسری چیزیں بھی ہیں اور وہ بھی سامنے آئيں گی۔
امام خامنہ ای
17 فروری 2026
دشمن پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آ گیا ہے، خطے میں فوجی سازوسامان کی ترسیل سے لے کر سیاسی دھمکیوں اور بڑبولے پن تک اور شاید سب سے وسیع اور پیچیدہ، بے تحاشا اور ہمہ گير نفسیاتی اور میڈیا آپریشنز تک۔ طریقے اور اسٹریٹیجیز مختلف ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں لیکن ہدف ایک ہی ہے؛ سامراجی پالیسیاں مسلط کرنا اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔ وہی چیز جس کا اعلان امریکی صدر نے بارہ روزہ جنگ کے دوران "غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے" کی صورت میں کیا تھا اور اس کا خواب دیکھا تھا لیکن آخر کار ایران کی مسلح فورسز کی مردانہ وار استقامت اور ایرانی عوام کی مزاحمت و قومی اتحاد کے نتیجے میں دشمن کو پسپائی اختیار کرنے اور جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔
ایران کی حکمت عملی، دفاعی ہے۔ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنی اسٹریٹیجی کو جامۂ عمل پہنانے کی خاطر اپنے دفاع کے لیے صرف دفاعی حکمت عملی استعمال کرے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو گزشتہ کچھ مہینوں میں ملک کے فوجی اور دفاعی حکام مختلف انداز میں بیان کر چکے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ سینتالیس سال ہو گئے کہ امریکا، اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر پایا، یہ اچھا اعتراف ہے۔ میں کہتا ہوں: تم بھی یہ کام نہیں کر پاؤ گے۔
ایپسٹین جزیرے پر منظم جرائم کا کیس صرف ایک جنسی رسوائی یا کچھ دولت مندوں کی جنسی بے راہ روی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ کیس اب مغربی انسانی حقوق کے نظریات کی تاریخی مذمت میں ایک مکمل دستاویز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں مغرب کے سیاستدانوں، سرمایہ داروں، میڈیا سیلیبریٹیز اور دانشوروں کا ایک نیٹ ورک، جو برسوں تک خود کو "انسانی حقوق" اور "خواتین کے حقوق" کا علمبردار بتاتا رہا ہے، آج جنسی استحصال، لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی غلامی کے سیاہ ترین مقدمات میں سے ایک میں، ان کا نام براہ راست یا بالواسطہ طور پر سامنے آ چکا ہے۔ جو کچھ شائع شدہ دستاویزات، فلائٹس کی فہرست اور باقی ماندہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے، وہ محض جنسی بدعنوانی کا ایک نیٹ ورک نہیں بلکہ اس نظام کی حقیقی تصویر ہے جو کئی عشروں سے خواتین کے حقوق اور آزادی کا علمبردار ہونے کا دعویدار رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈیٹرنس والے ہتھیار ہونے چاہیے، اسی طرح پرامن ایٹمی صنعت نہیں ہونی چاہیے، تم سے اس کا کیا تعلق ہے؟ اس کا تعلق ایرانی قوم سے ہے۔
امریکی دھمکی دیتے ہیں کہ ہم ایسا کر دیں گے، ہم ویسا کر دیں گے، آپ ایرانی عوام نے اس 22 بہمن (11 فروری) کو ان دھمکیوں کا جواب دے دیا، دکھا دیا کہ ان دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔
اپنے آپ کو اہل تقوا کے ظاہر جیسا نہ بناؤ کہ تمھارا باطن بے خبر ہو لوگ اس وجہ سے تمھاری عزت و توقیر کریں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت متقی آدمی ہے حالانکہ تمھارا دل گناہ کرنے والا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی اور قرآن مجید کے متعدد ملکی اور بین الاقوامی قاریوں کی شرکت سے 19 فروری 2026 کی شام حسینیۂ امام خمینی میں قرآن مجید سے انس کی محفل منعقد ہوئی۔ رہبر انقلاب نے اس قرآنی محفل میں کی جانے والی بہترین تلاوتوں پر قاریوں کا شکریہ ادا کیا۔
امریکی صدر بار بار کہتا ہے کہ میں نے ایران کی طرف جنگی بیڑا بھیج دیا ہے! ہاں ٹھیک ہے، بحری بیڑا ایک خطرناک وسیلہ ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک، وہ ہتھیار ہے جو اس بیڑے کو سمندر کی تہہ میں پہنچا سکتا ہے۔
امام خامنہ ای
17 فروری 2026
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 17 فروری 2026 کو صوبہ مشرقی آذربائیجان اور شہر تبریز کے عوام سے خطاب میں امریکہ سے مذاکرات، امریکیوں کی دھمکیوں سمیت متعدد موضوعات پر کلیدی نکات بیان کئے۔ یہ ملاقات تبریز کے عوام کے 29 بہمن (18 فروری 1978) کے قیام کی برسی کی مناسبت سے ہوئی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی نے منگل 17 فروری 2026 کو تبریز اور مشرقی آذربائیجان کے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی۔ انھوں نے اس ملاقات میں، جو تبریز کے عوام کے 18 فروری 1978 کے تاریخی قیام کی برسی کی مناسبت سے ہوئی، امریکی صدر کی دھمکی آمیز باتوں کو، ایرانی قوم پر تسلط کی امریکی حکام کی دیرینہ آروز کی عکاس بتایا۔
اگر واقعی کوئی گفتگو ہونی ہے، حالانکہ اس مسئلے میں مذاکرات کی گنجائش نہیں ہے تاہم اگر یہ طے ہو کہ مذاکرات ہوں تو پہلے سے مذاکرات کے نتائج کا تعین ایک غلط اور احمقانہ کا ہے۔
وہ بار بار کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑہ بھیج دیا ہے۔ مانا کہ بحری بڑا ایک خطرناک وسیلہ ہے لیکن اس بیڑے سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس بیڑے کو سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے۔
صوبۂ مشرقی آذربائیجان کے ہزاروں لوگوں نے تبریز کے عوام کے تاریخی قیام کی برسی پر منگل 17 فروری 2026 کو حسینیۂ امام خمینی میں رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبر انقلاب نے انتہائی اہم باتیں بیان کی ہیں جو جلد ہی پیش کی جائیں گی۔
میں اپنے ملک سے محبت کرتا ہوں اور یہ سرزمین کسی کو نہیں دوں گا، ہم خاک ہو جائیں گے لیکن اپنی خاک کسی کو نہیں دیں گے۔ ہم نے آٹھ سالہ مقدس دفاع میں پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ ہم نے اپنی ایک بالشت سرزمین بھی نہیں دی۔
آپ نے کل 22 بہمن (11 فروری 2026) کو ایک عظیم کارنامہ سر انجام دیا، آپ نے ایران کو سربلند کر دیا، وہ دشمن جو اپنے بیانوں میں اور اپنی منصوبہ بندیوں میں، ایرانی قوم سے گھٹنے ٹکوانے کے خواہاں ہیں، مایوس ہو گئے۔
امام خامنہ ای
11 فروری 2026
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے مقدس مشہد میں "شہدائے غریب اسارت" (غریب الوطنی میں قید کے دوران شہید ہونے والے سپاہیوں) کی قومی کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں، ان شہداء کو مقدس دفاع کے دوران، شجاعت، ایمان اور پائیداری کے ساتھ ساتھ، ایرانی قوم کی مظلومیت اور غریب الوطنی کا ایک گوشہ قرار دیا اور زور دے کر کہا ہے کہ اس طرح کی کانفرنسوں کا انعقاد استقامت کی تعظیم ہے۔
رہبر انقلاب کا پیغام، جو آج رات امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اطہر میں شہید فاؤنڈیشن میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین موسوی مقدم نے پڑھ کر سنایا گیا، حسب ذیل ہے: