رہبر انقلاب اسلامی نے 22 بہمن (11 فروری) کو اسلامی انقلاب کی سینتالیسیوں سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں نکالی گئی ریلیوں میں عوام کی دسیوں لاکھ کی تعداد میں پرجوش شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک پیغام جاری کیا ہے۔
پیغام حسب ذیل ہے:
اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے وطن، ملک اور رہبر کے لیے کھڑے ہیں۔ ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہیں، ہماری آنکھیں اور کان آپ کے اشارے کے منتظر ہیں۔
اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے وطن، ملک اور رہبر کے لیے کھڑے ہیں۔ ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہیں، ہماری آنکھیں اور کان آپ کے اشارے کے منتظر ہیں۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کی مناسبت سے پیر 9 فروری 2026 کی صبح کو رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے ٹیلی ویژن پر قوم کے نام پیغام جاری کیا۔
اجتماعی حفظان صحت قومی ترقی کے اہم ترین اشاریوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا اشاریہ ہے جو نہ صرف عوام کے معیار زندگی کا تعین کرتا ہے بلکہ سماجی انصاف قائم کرنے اور عوام کو خدمات فراہم کرنے میں حکومتوں کی کارکردگی کی بھی عکاس کرتا ہے۔ ایران میں حفظان صحت اور میڈیکل کے شعبے کی موجودہ حالت اور اسلامی انقلاب سے قبل کی صورتحال سے اس کا موازنہ یہ بتاتا ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نہ صرف حفظان صحت اور میڈیکل کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ اس نے تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کے دوران حفظان صحت اور علاج معالجے کے شعبے میں انصاف اور خود انحصاری کا ایک مؤثر نمونہ بھی پیش کیا ہے۔ یہ ایک قابل ذکر تبدیلی ہے جسے مغرب کے دعوؤں کے برخلاف ٹھوس اعداد و شمار سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔
ہماری خواتین نے، فکری و تحقیقاتی مراکز میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ یقیناً تاریخ میں بے نظیر ہے۔ کسی بھی دور میں ایران میں اتنی خاتون سائنسداں اور مفکر نہیں رہی ہیں۔
امام خامنہ ای
3 دسمبر 2025
ایک امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ سی آئی اے اور موساد نے اپنے تمام وسائل میدان میں اتار دیے تھے، مطلب یہ کہ فتنے کی سازش بیرون ملک تیار کی گئی تھی، باہر سے اس پر عمل کرایا جا رہا تھا، احکامات دیے جا رہے تھے۔
جس چیز نے فتنے کی آگ کو اپنے پیروں تلے راکھ بنا دیا، وہ عوام تھے۔ اس کے بعد بھی، اللہ کی مدد سے، اگر ملک میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اللہ کی مدد سے عوام، کام تمام کر دیں گے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے 12بہمن مطابق یکم فروری 2026 کو اسلامی انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کے جشن، عشرہ فجر کے آغاز کے موقع پر عوام کے مختلف طبقات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انقلاب، امام خمینی کی قیادت، ملک کے تازہ حالات اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے بارے میں اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
ایران اور امریکا کا مسئلہ کیا ہے؟ یہ جو ٹکراؤ ہے، چالیس پینتالیس سال سے ایران اور امریکا کی دشمنی ہے، یہ مسئلہ کیا ہے۔ دو لفظوں میں اسے بیان کیا جا سکتا ہے۔ وہ الفاظ یہ ہیں کہ امریکا، ایران کو نگلنا چاہتا ہے، ایران کی شجاع قوم اور اسلامی جمہوریہ اس میں رکاوٹ ہے۔
ایک دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ فتنہ، بغاوت کی طرح تھا۔ یعنی دنیا میں بعض لوگوں نے اس فتنے کو جو رونما ہوا، فتنے سے تعبیر کیا۔ کہا کہ ایران میں ایک بغاوت ہوئی، جس کی سرکوبی کر دی گئي۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اتوار 1 فروری 2026 کی صبح اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سینتالیسیوں سالگرہ کے جشن شروع ہونے کی مناسب سے مختلف عوامی طبقات کے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی۔
ہم جنگ شروع نہیں کریں گے۔ لیکن جو حملہ کرنا چاہتا ہو، تکلیف پہنچانا چاہتا ہو، اسے ایرانی قوم ایک زبردست مکّا رسید کرے گی۔ البتہ امریکی یہ بھی جان لیں کہ اگر اس بار انھوں نے جنگ شروع کی تو وہ جنگ، ایک علاقائی جنگ ہوگی۔
مختلف عوامی طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے اسلامی انقلاب کی سینتالیسیوں سالگرہ کی جشن شروع ہونے کی مناسبت سے اتوار 1 فروری 2026 کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔
حالیہ ہفتوں میں امریکا کے مختلف عہدیداروں نے مختلف طریقوں سے ایران کے خلاف طرح طرح کی دھمکیاں دینے کی کوشش کی ہے۔ ان دھمکیوں کے جواب میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے فیصلہ کن رد عمل کے علاوہ، مغربی ایشیا کے خطے میں بھی ایران کی حمایت میں ایک وسیع لہر بلند ہو گئی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم، بحرین کے ممتاز عالم آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم، عراق کی حزب اللہ بریگیڈ وغیرہ جیسی شخصیات اور گروہوں نے ٹھوس اور فیصلہ کن انداز میں ایران اور رہبر انقلاب کے خلاف کسی بھی دھمکی کے مقابلے میں اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ حمایت کی یہ لہر ایران اور اس کے اطراف کے علاقے میں ایک گہرے اسٹریٹجیک رشتے کے استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کے دس روزہ جشن کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے پہلے دن، سنیچر پہلی فروری 2026 کو رہبر انقلاب نے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سینتالیسویں سالگرہ کا آغاز بانئ انقلاب اسلامی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مزار پر رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای کی حاضری سے ہوا ہے۔
اللہ کبھی بھی مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا ... وہ کہ جن سے منافقوں نے کہا کہ لوگوں نے تمھارے خلاف بڑا لشکر اکٹھا کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا۔ اور انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے۔
حالیہ واقعات اور منظم دہشت گردانہ کارروائیوں نے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے تسلسل میں سامنے آئیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں امریکی حکومت کی روش کی حقیقی نوعیت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں رائے عامہ کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا حکومتیں بغیر کوئی قیمت چکائے ہوئے دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت جاری رکھ سکتی ہیں؟
ان ریلیوں میں شرکت کرنے والوں کا اصل پیغام، جو وہ نیتن یاہو اور ٹرمپ تک پہنچانا چاہتے تھے، یہ تھا کہ عوام حکومت، رہبر انقلاب اور اسلامی نظام کے پیچھے کھڑے ہیں۔ جو دسیوں لاکھ لوگ سڑکوں پر آئے، وہ یہ کہنے کے لیے آئے کہ ایرانی قوم یہ ہے۔
دعا کی حکمت عملی اور گریے کی حکمت عملی، مکمل باتیں نہیں ہیں، جی ہاں! امام سجاد علیہ السلام نے دعا کے پیرائے میں معارف بیان کیے، واقعۂ عاشورا کے استحکام کے لیے بارہا انھوں نے لوگوں کے سامنے اس واقعے کو بیان کیا اور گریہ کیا لیکن امام علیہ السلام کی حکمت عملی، امامت کی حکمت عملی سے عبارت ہے یعنی اسلام کی تشریح، امامت کی تشریح، ائمہ کے حقیقی مددگاروں کو اکٹھا کرنا جو اس وقت کے شیعہ تھے۔
امام خامنہ ای
26 ستمبر 1986
حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت اور یوم جانباز کی مناسبت سے تہران میں تیرہ وفود نے رہبر انقلاب اسلامی کی نمائندگی میں جنگ میں اپنے اعضائے جسمانی کا نذرانہ پیش کرنے والے بعض جانبازوں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انھیں خراج تحسین پیش کیا۔
حضرت ابوالفضل العباس کے بارے میں ائمہ علیہم السلام کی بیان کردہ زیارات میں اور ان کے بارے میں جو فقرے ہم تک پہنچے ہیں، ان میں دو باتوں پر بہت تاکید کی گئی ہے: ایک بصیرت اور دوسرے وفا۔
امام خامنہ ای
14 اپریل 2000
وہ نرس تھی۔ ایک تین سالہ بچی کی ماں۔ اس کے رفقائے کار اس کی لامتناہی مہربانی کی باتیں کرتے ہیں اور اس پیشہ ورانہ ذمہ داری کا ذکر کرتے ہیں جس سے اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک منہ نہیں موڑا۔ اتنی گہری پیشہ ورانہ ذمہ داری کہ جب آگ کے شعلے، رشت شہر کے امام سجاد دواخانے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے، تب بھی وہ وہاں موجود مریضوں کو چھوڑ کر جانے پر تیار نہیں ہوئی۔ یہی وفاداری تھی جس نے ایک شہیدہ کے طور پر اس کا نام امر کر دیا۔ میں مرضیہ نبوی نیا کی بات کر رہی ہوں، رشت کی ایک جوان نرس جو بلوائيوں کے کینے کی آگ میں زندہ جل گئيں تاہم ان کی یاد کا چراغ بدستور روشن ہے۔
امت مسلمہ کو حسین ابن علی علیہ السلام کا درس یہ ہے کہ حق کے لیے، انصاف کے قیام کے لیے، ظلم سے مقابلے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور اپنا پورا سرمایہ میدان میں لے آنا چاہیے۔
امام خامنہ ای
12 جون 2013
8 سے 10 جنوری تک، مسلح تخریب کار میدان میں آئے۔ پہلی بار احتجاج میں آتشیں ہتھیار دیکھے گئے۔ جو کچھ ہوا، وہ اب احتجاج نہیں رہا، یہ کھلم کھلا تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور منظم طور پر عوامی املاک کی تباہی کے ساتھ مسلحانہ شورش تھی۔
"ہم کس حالت میں کھڑے ہیں؟" اگر ہم اس سوال کا صحیح جواب دینا چاہیں، تو ہمیں لازمی طور پر جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ایک وسیع تر خاکہ کھینچنا ہوگا۔ میری رائے میں بارہ روزہ جنگ اور موجودہ حالات سے اس کے تعلق کو جامع نظر سے دیکھ کر، واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہم اب بھی جنگ کی حالت میں ہیں۔ ایسی جنگ جو نہ صلح سے ختم ہوئی ہے اور نہ ہی صحیح قانونی اور سیاسی معنی میں جنگ بندی سے رکی ہے۔ جو کچھ ہوا وہ محض ایک دو طرفہ فائر بندی تھی، بغیر تحریری معاہدے، بغیر نگرانی کے طریقۂ کار اور بغیر نافذ العمل وعدوں کے۔ لہٰذا جنگ کی حالت سے باہر نکلنے کا تصور، ایک تجزیاتی غلطی ہے۔ ہم اب بھی جنگ کی حالت میں ہیں اور یہ حقیقت خاص ضروری تدابیر کی متقاضی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے ایک پیغام میں آيت اللہ العظمیٰ سیستانی کے برادر گرامی کی وفات پر انھیں تعزیت پیش کی ہے۔
رہبر انقلاب کا تعزیتی پیغام حسب ذیل ہے: