وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈیٹرنس والے ہتھیار ہونے چاہیے، اسی طرح پرامن ایٹمی صنعت نہیں ہونی چاہیے، تم سے اس کا کیا تعلق ہے؟ اس کا تعلق ایرانی قوم سے ہے۔
اپنے آپ کو اہل تقوا کے ظاہر جیسا نہ بناؤ کہ تمھارا باطن بے خبر ہو لوگ اس وجہ سے تمھاری عزت و توقیر کریں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت متقی آدمی ہے حالانکہ تمھارا دل گناہ کرنے والا ہے۔
اگر واقعی کوئی گفتگو ہونی ہے، حالانکہ اس مسئلے میں مذاکرات کی گنجائش نہیں ہے تاہم اگر یہ طے ہو کہ مذاکرات ہوں تو پہلے سے مذاکرات کے نتائج کا تعین ایک غلط اور احمقانہ کا ہے۔
وہ بار بار کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑہ بھیج دیا ہے۔ مانا کہ بحری بڑا ایک خطرناک وسیلہ ہے لیکن اس بیڑے سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس بیڑے کو سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے۔
میں اپنے ملک سے محبت کرتا ہوں اور یہ سرزمین کسی کو نہیں دوں گا، ہم خاک ہو جائیں گے لیکن اپنی خاک کسی کو نہیں دیں گے۔ ہم نے آٹھ سالہ مقدس دفاع میں پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ ہم نے اپنی ایک بالشت سرزمین بھی نہیں دی۔
آپ نے کل 22 بہمن (11 فروری 2026) کو ایک عظیم کارنامہ سر انجام دیا، آپ نے ایران کو سربلند کر دیا، وہ دشمن جو اپنے بیانوں میں اور اپنی منصوبہ بندیوں میں، ایرانی قوم سے گھٹنے ٹکوانے کے خواہاں ہیں، مایوس ہو گئے۔
امام خامنہ ای
11 فروری 2026
اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے وطن، ملک اور رہبر کے لیے کھڑے ہیں۔ ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہیں، ہماری آنکھیں اور کان آپ کے اشارے کے منتظر ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ سی آئی اے اور موساد نے اپنے تمام وسائل میدان میں اتار دیے تھے، مطلب یہ کہ فتنے کی سازش بیرون ملک تیار کی گئی تھی، باہر سے اس پر عمل کرایا جا رہا تھا، احکامات دیے جا رہے تھے۔
جس چیز نے فتنے کی آگ کو اپنے پیروں تلے راکھ بنا دیا، وہ عوام تھے۔ اس کے بعد بھی، اللہ کی مدد سے، اگر ملک میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اللہ کی مدد سے عوام، کام تمام کر دیں گے۔
ایران اور امریکا کا مسئلہ کیا ہے؟ یہ جو ٹکراؤ ہے، چالیس پینتالیس سال سے ایران اور امریکا کی دشمنی ہے، یہ مسئلہ کیا ہے۔ دو لفظوں میں اسے بیان کیا جا سکتا ہے۔ وہ الفاظ یہ ہیں کہ امریکا، ایران کو نگلنا چاہتا ہے، ایران کی شجاع قوم اور اسلامی جمہوریہ اس میں رکاوٹ ہے۔
ایک دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ فتنہ، بغاوت کی طرح تھا۔ یعنی دنیا میں بعض لوگوں نے اس فتنے کو جو رونما ہوا، فتنے سے تعبیر کیا۔ کہا کہ ایران میں ایک بغاوت ہوئی، جس کی سرکوبی کر دی گئي۔
ہم جنگ شروع نہیں کریں گے۔ لیکن جو حملہ کرنا چاہتا ہو، تکلیف پہنچانا چاہتا ہو، اسے ایرانی قوم ایک زبردست مکّا رسید کرے گی۔ البتہ امریکی یہ بھی جان لیں کہ اگر اس بار انھوں نے جنگ شروع کی تو وہ جنگ، ایک علاقائی جنگ ہوگی۔
اللہ کبھی بھی مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا ... وہ کہ جن سے منافقوں نے کہا کہ لوگوں نے تمھارے خلاف بڑا لشکر اکٹھا کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا۔ اور انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے۔
8 سے 10 جنوری تک، مسلح تخریب کار میدان میں آئے۔ پہلی بار احتجاج میں آتشیں ہتھیار دیکھے گئے۔ جو کچھ ہوا، وہ اب احتجاج نہیں رہا، یہ کھلم کھلا تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور منظم طور پر عوامی املاک کی تباہی کے ساتھ مسلحانہ شورش تھی۔
ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی اور بارہ جنوری کو دسیوں لاکھ کی تعداد میں ایک کارنامہ کر کے بارہ جنوری کو گیارہ فروری کی طرح ایک تاریخی دن بنا دیا اور اپنے افتخارات میں ایک اور افتخار کا اضافہ کیا۔
یہ ایک امریکی فتنہ تھا۔ بہت واضح تھا۔ امریکیوں نے سازش تیار کی، کام کیا، امریکیوں کا ہدف، یہ بات میں پورے وثوق سے، کھل کر اور اسلامی جمہوریہ میں چالیس پینتالیس سال کے تجربے سے کہہ رہا ہوں، امریکا کا ہدف ایران کو نگلنا ہے۔
زبردست اور فولادی عزم سے مملو ان ریلیوں نے غیر ملکی دشمنوں کی اس سازش کو ناکام بنا دیا جسے ملک کے اندر ان کے ایجنٹوں کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا رہا تھا۔
آج ایرانی قوم، اُس وقت سے زیادہ لیس اور زیادہ مسلح ہے، آج ہمارے معنوی ہتھیار بھی اُس وقت سے زیادہ مضبوط، زیادہ ٹھوس اور زیادہ تیار ہیں اور ہمارے ہارڈ وئير، ظاہری، مادی اور رائج ہتھیاروں کا بھی اُس وقت سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔
اس چالیس پینتالیس سال کے عرصے میں ان سے جو بھی ہو سکا، انھوں نے کیا، یعنی ایک ملک کے خلاف ایسا کوئي بھی ممکنہ معاندانہ کام نہیں تھا جو انھوں نے نہ کیا ہو لیکن شکست کھائی۔
وہ لاطینی امریکا میں ایک ملک کا محاصرہ کرتے ہیں، کارروائیاں کرتے ہیں، انھیں شرم بھی نہیں آتی، پوری ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تیل کے لیے ہے اور ہم یہ کام تیل کے لیے کر رہے ہیں!
ہمارے دشمنوں نے ایران کو نہیں سمجھا اور غلط منصوبے بنائے، وہ آج بھی ایران کو نہیں جانتے اور غلط منصوبے بناتے ہیں، اُس وقت غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے وہ شکست کھا گئے، امریکا آج بھی اپنی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے شکست کھائے گا۔
وہ شخص بھی جو وہاں بیٹھ کر غرور و نخوت سے پوری دنیا کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے، وہ بھی جان لے کہ فرعون، نمرود، رضا خان اور محمد رضا (پہلوی) وغیرہ جیسے ظالم و آمر اس وقت سرنگوں ہوئے جب وہ اپنے غرور کے اوج پر تھے، یہ بھی سرنگوں ہوگا۔
انسانوں کے سلسلے میں امیر المومنین کا احساس بے نظیر ہے، صرف مسلمانوں اور اپنے پیروکاروں کے ہی بارے میں نہیں بلکہ سبھی انسانوں کے بارے میں آپ کا احساس اوج پر ہے۔
وہ لوگ بھی جو کہتے تھے کہ ملک کے مسائل کا حل امریکا سے گفتگو ہے، انھوں نے بھی دیکھ لیا کہ کیا ہوا۔ امریکا سے مذاکرات کے درمیان، ایرانی حکومت، امریکا سے مذاکرات میں مصروف تھی، امریکی حکومت پردے کے پیچھے جنگ کا منصوبہ تیار کر رہی تھی۔
شہید سلیمانی ایمان، اخلاص اور عمل والے انسان تھے۔ جو کام وہ کرتے تھے اس پر ایمان رکھتے تھے، نام و نمود، تعریف اور لوگوں کے درمیان امیج حاصل کرنے کے لیے کام نہیں کرتے تھے۔
اعتراض بجا ہے لیکن اعتراض، ہنگامہ آرائی سے الگ ہے۔ ہم اعتراض کرنے والے سے بات کرتے ہیں، لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والے سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ہنگامہ برپا کرنے والے کو اس کی جگہ بٹھا دینا چاہیے۔