ایران کے حالیہ واقعات کا صرف سماجی یا معاشی مطالبوں کے تناظر میں تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ہر معاشرے کو داخلی مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور احتجاج، سیاسی حیات کا ایک حصہ شمار ہوتا ہے لیکن جو چیز موجودہ حالات میں نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے وہ زمینی سرگرمیوں اور بیرونی سازشوں کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا ہے جس کا ہدف، پالیسیوں کی تبدیلی سے بالکل الگ ہے۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ان سرگرمیوں کے غیر ملکی منصوبہ سازوں کا اصل ہدف، قومی اتحاد کی جڑوں کو کمزور کرنا اور آخر میں ایران کے حصے بخرے کرنا ہے۔
سامراجیوں نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ جب تک لوگوں کے درمیان مہدویت کا عقیدہ رائج رہے گا، تب تک ہم انھیں اپنے کنٹرول میں نہیں لے سکتے! دیکھیے! مہدویت کا عقیدہ کتنا اہم ہے! وہ لوگ کتنی غلطی کرتے ہیں جو روشن فکری اور تجدد پسندی کے نام پر اسلامی عقائد پر، بغیر مطالعے کے، بغیر اطلاع کے اور یہ جانے بغیر کہ وہ کیا کر رہے ہیں، سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
امام خامنہ ای
1997/01/07
میری پیشگوئی ہے کہ شام میں بھی ایک مضبوط اور باشرف گروہ سامنے آئے گا۔ شام کے جوان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اسے عزم کی طاقت کے ساتھ ان لوگوں کے مقابلے میں جنھوں نے اس بدامنی کی سازش تیار کی ہے اور جنھوں نے اس پر کام کیا ہے، ڈٹ جانا چاہیے اور ان شاء اللہ وہ ان پر غلبہ حاصل کر کے رہے گا۔
مامون کی اس سیاسی اور مکارانہ چال کے مقابلے میں امام رضا علیہ السلام نے ایک مدبرانہ اور الہی پروگرام تیار کیا اور سازش کو پوری طرح سے حق و حقیقت کے مفاد میں پلٹ دینے میں کامیاب رہے۔