ایک تاریخی اور متمدن ملک کی حیثیت سے ایران ہمیشہ تسلط پسند طاقتوں کے دلخواہ نظام کی راہ میں ایک سنجیدہ رکاوٹ رہا ہے۔ ایک قابل توجہ آبادی، وسیع وسائل و ذخائر اور ممتاز جیو پولیٹکل پوزیشن والے متحد ملک کو اتنی آسانی سے علاقائی معاملات میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے ایران کے خلاف براہ راست دباؤ کے بجائے اندر سے تھکا دینے کی اسٹریٹیجی اختیار کی گئی ہے۔ اس تناظر میں سڑکوں پر بلوے اور ہنگامے، ایک ہدف نہیں بلکہ ایک وسیلہ سمجھے جاتے ہیں۔

علاقائي کھلاڑیوں میں صیہونی حکومت، ایران کے سلسلے میں سب سے زیادہ حساس ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے جس نے اپنی فوجی برتری اور ہمسایوں کی بہت زیادہ کمزوری پر اپنی سلامتی کی بنیاد رکھی ہے اور ایک طاقتور اور خودمختار ایران سے اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ متحد اور عمیق حکمت عملی کے ساتھ علاقائی اثر و رسوخ رکھنے والا ایران، غاصب صیہونی حکومت کے سیکورٹی کے حساب کتاب کو درہم برہم کر دیتا ہے اور اس حکومت کو علاقے کا مضبوط کھلاڑی بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی وجہ سے تل ابیب کی نظر میں ایران کو جڑ سے کمزور کرنا، فوجی ٹکراؤ سے ممکن نہیں ہے بلکہ یہ ہدف، اس ملک کی قومی وحدت کا شیرازہ بکھیر کر اور گہرے قومی و سماجی اختلافات پیدا کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس راہ پر امریکا بھی صیہونی حکومت کے ساتھ چل رہا ہے۔ پچھلے تجربات نے دکھایا ہے کہ واشنگٹن، خطے کے طاقتور اور خود مختار ممالک کو برداشت نہیں کرتا۔ ایران جیسے تمام دیگر ممالک میں ایک ہی پیٹرن دکھائی دیتا ہے جس میں سب سے پہلے تو حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑے کیے جاتے ہیں اور پھر داخلی اختلافات میں شدت پیدا کر دی جاتی ہے اور آخر میں ملکوں کا ڈھانچہ بکھر جاتا ہے۔ اس سازش میں ایران کو ایک خاص مقام حاصل ہے کیونکہ اس کی تقسیم، پورے مغربی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔

اس دوران معاشی خوشحالی، حتمی ہونے سے زیادہ، رائے عامہ کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ایران کے دشمنوں کی جانب سے محض ایک نعرہ ہے۔ سازش تیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ ایک طاقتور اور متحد کھلاڑی کی حیثیت سے ایران کو زمیں بوس کر دینا ہے۔ اگر ایران، متحد اور طاقتور باقی رہ گیا تو ان کے خیال میں خطرہ ختم نہیں ہوگا۔ بنابریں تشخص کے اختلافات پر توجہ مرکوز کرنا اور قومی و لسانی سرحدوں کو نشانہ بنانا، ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

اس سازش میں غیر ملکوں میں رہنے والے بعض ایرانی افراد اور گروہوں کا کردار ناقابل انکار ہے۔ یہ افراد، جن کا ملک کے اندر زندگی کے حقائق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، غیر ملکی طاقتوں کے آلۂ کار ہیں۔ ان کے کنٹرول والا میڈیا، ایسے گڑھیے بیانیے کو پھیلاتے ہیں جن کا نتیجہ، آپسی اختلافات کے مزید بڑھنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ صیہونی اور امریکی فیصلہ ساز مراکز سے ان کا آشکارا اور پوشیدہ تعاون بتاتا ہے کہ ان افراد اور گروہوں کا اصل مسئلہ، عوام کی راحت نہیں بلکہ ایک معینہ سیاسی سناریو کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ معاشی یا سماجی مسائل پر اعتراض سے انکار کرنے سے، مسائل کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی لیکن ملک کے عوام کے مطالبوں اور غیر ملکی سازشوں کے درمیان ایک واضح سرحد ہے۔ جب اعتراض اور احتجاج، ایران کے خاتمے اور اس کی ارضی سالمیت پر سوال کھڑے کرنے کی سمت میں بڑھایا جانے لگے تو خطرے کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس پر ایران کے دشمنوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کے سرحدی صوبوں کے عوام نے دشمنوں کی سازش کے مقابلے میں زبردست استقامت دکھائی ہے اور انھیں آئندہ بھی اپنی یہ استقامت قائم رکھنی چاہیے۔ جیسا کہ بارہ روزہ جنگ میں ائير اسپیس فورسز نے جارح دشمن کو جواب دینے کے اپنے مشن کو بخوبی انجام دیا، اسی طرح سرحدی شہروں کے لوگوں کو بھی ملک کی تقسیم کے خواہاں دشمنوں اور ان کے ایجنٹوں کے سلسلے میں چوکنا رہنا چاہیے اور انھیں ریشہ دوانی کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ پوری تاریخ میں بارہا تقسیم کا خطرہ ایران کے سامنے آیا ہے اور ہر بار اس نے مشترکہ تشخص اور قومی یکجہتی کے سہارے، اسے دھول چٹا دی ہے۔ آج بھی ایک متحد اور طاقتور ایران کی حفاظت، سرحدوں سے باہر تیار کی گئی سازشوں کا سب سے اہم جواب ہے۔ عمومی آگہی اور احتجاج اور تقسیم کی سازش سے فرق کو سمجھنا، اس سازش کو ناکام بنا دے گا۔ ایران کا درخشاں مستقبل، ہنگامہ آرائی سے بھری سڑکوں پر نہیں بلکہ قومی اتحاد و یکجہتی کی حفاظت اور ملکی طاقت کی تقویت سے رقم ہوگا۔