دعا کی حکمت عملی اور گریے کی حکمت عملی، مکمل باتیں نہیں ہیں، جی ہاں! امام سجاد علیہ السلام نے دعا کے پیرائے میں معارف بیان کیے، واقعۂ عاشورا کے استحکام کے لیے بارہا انھوں نے لوگوں کے سامنے اس واقعے کو بیان کیا اور گریہ کیا لیکن امام علیہ السلام کی حکمت عملی، امامت کی حکمت عملی سے عبارت ہے یعنی اسلام کی تشریح، امامت کی تشریح، ائمہ کے حقیقی مددگاروں کو اکٹھا کرنا جو اس وقت کے شیعہ تھے۔
امام خامنہ ای
26 ستمبر 1986
قافلہ لوٹ کر مدینے آیا۔ مردوں میں فقط امام زین العابدین بچے تھے۔ آپ کے علاوہ وہ بیبیاں تھیں جنہوں نے اسیری برداشت کی اور غم اٹھائے۔ امام حسین ساتھ نہیں تھے۔ یہاں تک کہ شیر خوار بچہ بھی قافلے میں اب نہیں تھا۔ اگر یہ لوگ نہ گئے ہوتے تو سب زندہ ہوتے لیکن حقیقت فنا ہو جاتی، روحیں ختم ہو جاتیں، ضمیر مردہ ہو جاتے، پوری تاریح میں عقل و منطق مٹ جاتی اور اسلام کا نام تک باقی نہ رہتا۔