ایک امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ سی آئی اے اور موساد نے اپنے تمام وسائل میدان میں اتار دیے تھے، مطلب یہ کہ فتنے کی سازش بیرون ملک تیار کی گئی تھی، باہر سے اس پر عمل کرایا جا رہا تھا، احکامات دیے جا رہے تھے۔
جس چیز نے فتنے کی آگ کو اپنے پیروں تلے راکھ بنا دیا، وہ عوام تھے۔ اس کے بعد بھی، اللہ کی مدد سے، اگر ملک میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اللہ کی مدد سے عوام، کام تمام کر دیں گے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے 12بہمن مطابق یکم فروری 2026 کو اسلامی انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کے جشن، عشرہ فجر کے آغاز کے موقع پر عوام کے مختلف طبقات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انقلاب، امام خمینی کی قیادت، ملک کے تازہ حالات اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے بارے میں اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
ایک دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ فتنہ، بغاوت کی طرح تھا۔ یعنی دنیا میں بعض لوگوں نے اس فتنے کو جو رونما ہوا، فتنے سے تعبیر کیا۔ کہا کہ ایران میں ایک بغاوت ہوئی، جس کی سرکوبی کر دی گئي۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اتوار 1 فروری 2026 کی صبح اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سینتالیسیوں سالگرہ کے جشن شروع ہونے کی مناسب سے مختلف عوامی طبقات کے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے 17 جنوری 2026 کو عید بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مناسبت سے انتہائی اہم خطاب میں بعثت کے انتہائی عمیق پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے ملک میں فتنہ و آشوب کے واقعات اور اس میں امریکی کردار کے بارے میں گفتگو کی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی اور بارہ جنوری کو دسیوں لاکھ کی تعداد میں ایک کارنامہ کر کے بارہ جنوری کو گیارہ فروری کی طرح ایک تاریخی دن بنا دیا اور اپنے افتخارات میں ایک اور افتخار کا اضافہ کیا۔
یہ ایک امریکی فتنہ تھا۔ بہت واضح تھا۔ امریکیوں نے سازش تیار کی، کام کیا، امریکیوں کا ہدف، یہ بات میں پورے وثوق سے، کھل کر اور اسلامی جمہوریہ میں چالیس پینتالیس سال کے تجربے سے کہہ رہا ہوں، امریکا کا ہدف ایران کو نگلنا ہے۔