بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
الحمد للہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطہرین المنتجبین الہداۃ المہدیّین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین.
یہاں تشریف فرما تمام عزیز بھائيوں اور بہنوں، پوری ایرانی قوم، دنیا کے تمام مسلمانوں اور دنیا کے حریت پسندوں کی خدمت میں بعثت کی اس مقدس اور عظیم عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ اس دن کی یاد، دلوں کو منور کرے، ہمیں راستہ دکھائے اور ہم بعثت کی حقیقت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا دن بہت اہم دن ہے، یعنی انسانی تاریخ میں اس سے زیادہ اہم دن کوئی نہیں ہے۔ یوم بعثت، درحقیقت، قرآن کا یوم پیدائش ہے، وہ قرآن جو سراپا حکمت اور سراپا نور ہے، امیرالمؤمنین کے الفاظ میں یہ "نور ساطع" کا دن ہے، آپ فرماتے ہیں "النور الساطع"(1) یہ انسان کامل کی تربیت کا دن ہے، یعنی اسی دن سے، انسان کامل کی تربیت کا پروگرام، جس کا اعلیٰ ترین مصداق ائمہ ہدیٰ علیہم السلام ہیں، مہیا ہوا۔ یہ تمدن اسلامی کا روڈ میپ تیار ہونے کا دن ہے، یعنی درحقیقت اسی دن اسلامی تمدن کا آغاز ہوا اور اس کا عظیم، تاریخی اور پائیدار پروگرام جو آج بھی ہماری اور آپ کی دسترس میں ہے، اسی دن منصۂ ظہور و وجود پر آیا۔ یہ دن عدل، مساوات اور اخوت کا پرچم بلند کرنے کا دن ہے اور اسی طرح کی دیگر اہم خصوصیات۔ یوم بعثت کی فضیلتوں کو ہم لوگ بیان نہیں کر سکتے، یعنی ہماری عقل، ہماری زبان، ہمارا دل اس سے کہیں چھوٹا، اس سے قاصر ہے کہ ہم پیغمبر کی بعثت کی اہمیت بیان کر سکیں۔ ہاں، امیرالمؤمنین بیان کر سکتے ہیں اور انھوں نے بیان بھی کیا ہے۔ آپ نہج البلاغہ کا مطالعہ کریں، نہج البلاغہ کا دوسرا خطبہ، پیغمبر کی بعثت کے بارے میں ہے کہ (خداوند عالم) نے انھیں کیسے مبعوث کیا، کن حالات میں اور کس صورتحال میں مبعوث کیا۔ نہج البلاغہ کے بعض دوسرے خطبات میں بھی یہ چیز بیان ہوئی ہے۔
میں بعثت کے بارے میں صرف ایک نکتہ عرض کروں گا جو آج، ہماری دوسری باتوں سے زیادہ ہمارے کام کا ہے اور وہ یہ ہے کہ پیغمبر کی بعثت، حقیقی انسانی تمدن کا مظہر ہے، یعنی اگر انسانیت بہترین طریقے سے زندگی گزارنا چاہتی ہے تو اسے بعثت میں پیش کیے گیے پروگرام کے مطابق (زندگی گزارنی چاہیے)، اسی پروگرام کے ذریعے وہ اچھی زندگی گزار سکتی ہے۔
یہ واقعہ، یہ حادثہ، کہاں پر رونما ہوا؟ بعثت کہاں اور کن حالات میں (رونما ہوئی)؟ بعثت تصور کیے جانے والے بدترین حالات میں رونما ہوئی، ایسے لوگوں کے درمیان رونما ہوئی جو اخلاقی، عملی، فکری، قلبی لحاظ سے اس وقت کے معاشروں میں بدترین، سب سے بدبخت، سب سے ضدی، سب سے متعصب، سب سے ظالم اور سب سے منہ زور افراد شمار ہوتے تھے، جزیرۃ العرب ایسا ہی تھا۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اس وقت کے حالات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ "فالہدیٰ خامل والعمیٰ شامل"(2) ہدایت کی مشعل بالکل بجھی ہوئی تھی، یعنی عالم وجود کے پاکیزہ حقائق کی طرف کوئی ہدایت تھی ہی نہیں، والعمیٰ شامل، اندھاپن عام تھا، یعنی امیرالمؤمنین مکے اور مدینے کے لوگوں کی ایسی حالت کی تصویر کشی کرتے ہیں جہاں پیغمبر مبعوث ہوئے۔ وہ لوگ جاہل تھے، ان پڑھ تھے، ضدی تھے، متعصب تھے، فاسد تھے، متکبر تھے، ان تمام بری صفات کے ساتھ جو ان میں موجود تھیں، تکبر بھی تھا، وہ ظالم تھے، ان میں طبقاتی اختلاف تھا۔ ان کا بڑا بھی برا تھا، چھوٹا بھی برا تھا، ان کا ظالم بھی، ان کا مظلوم بھی، ان کا غلام بھی، ان کا آقا بھی۔ ایک ایسے ماحول میں بعثت وجود میں آئی، اسلام نے جنم لیا، قرآن نازل ہوا، ایک ایسے ماحول میں۔
اسلام کی بنیاد عقل اور ایمان ہے۔ تمام اسلامی پروگراموں کو عقل اور ایمان کی کسوٹی پر پرکھنا، سمجھنا اور عمل میں لانا چاہیے۔ ان کے پاس نہ عقل تھی، نہ ایمان۔ پیغمبر اس معاشرے میں آئے، یعنی ان الہی بیانات کو، وحی الہی کو، کلام خدا کو اس طرح کے لوگوں کے سامنے پیش کیا اور تیرہ سال کے عرصے میں، اور تیرہ سال (کوئی لمبا) عرصہ نہیں ہے، انھوں نے ان ہی لوگوں میں سے عمار بنایا، ابوذر بنایا، مقداد بنایا، ان ہی لوگوں میں سے!
کوئی ٹیچر ایک ایسی کلاس میں پہنچے، جہاں سارے بچے سرکش، غافل، بے توجہ، کند ذہن، پڑھائی میں دلچسپی نہ رکھنے والے ہوں اور پھر وہ ایک معینہ مدت میں باسلیقہ، آمادہ، پڑھے لکھے، سمجھدار بچے تیار کر دے، آپ اس بات کا تصور کریں، پھر اسے ہزار گنا بڑھا دیں، تو پیغمبر کی بعثت اور مکے کی حالت بن جاتی ہے، یعنی اسلام کی طاقت، الہی دین کی طاقت، الہی احکام و معارف کی طاقت اتنی ہے کہ وہ اس طرح کے انسانوں میں سے، ایسی بے مثال شخصیتوں کو وجود میں لا سکتا ہے۔ ابوذر معمولی انسان نہیں ہیں۔ یہی ابوذر زمانۂ جاہلیت میں اُس طرح کے تھے، عمار ایک دوسری طرح کے تھے، کوئی دوسرا، ایک اور طرح کا تھا۔
یہ بات ہمارے آج اور اس وقت کے لیے اہم ہے۔ میں یہ دعویٰ کرنا چاہتا ہوں، یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج بھی اسلام میں یہی طاقت موجود ہے۔ آج بھی انسانی معاشرے انہی بری صفات میں مبتلا ہیں، بس ایک دوسری طرح سے اور دوسری روش سے، وہی ظلم جو اُس وقت تھا، آج بھی ہے، وہی نخوت، آج بھی ہے، وہی بدعنوانی، آج بھی ہے۔
آپ گزشتہ کچھ مہینوں سے دنیا کی خبروں میں سنتے ہی ہیں: بے راہ روی کا جزیرہ بنانا،(3) کوئی مذاق ہے؟ اخلاقی بے راہ روی، عملی برائیاں، ظلم، منہ زوری، طاقت کا استعمال، مداخلت، جو ہاتھ آ جائے اسے مار دینا، جہاں پر ان کا بس چل جائے، جہاں ممکن ہو پنجے مارنا، انسان وہی انسان ہے بس اس کا طریقۂ کار بدلا ہے، اس کا ظاہر بدل گیا ہے۔ آج وہ پرفیوم، ٹائی، کوٹ پتلون اور خوبصورت لباس کے ساتھ میدان میں آتا ہے، وہی لوگ ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آج انسانیت کی، البتہ یہ جو میں کہہ رہا ہوں، وہ پوری انسانیت کے بارے میں نہیں ہے، بہت سے معاشرے، خاص طور پر مغربی معاشرے اس میں مبتلا ہیں، حق تلفی ہوتی ہے، کمزوروں کو دبایا جاتا ہے۔
وہی ابوجہل آج بھی ہے، وہی ابن مغیرہ مخزومی آج بھی ہے۔ "اِنَّہُ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ" یہ ابن مغیرہ کے بارے میں ہے؛ اِنَّہُ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ * فَقُتِلَ کَیفَ قَدَّرَ، "قُتِلَ" یعنی اس پر لعنت۔ "فَقُتِلَ کَیفَ قَدَّرَ * ثُمَّ قُتِلَ کَیفَ قَدَّرَ * ثُمَّ نَظَرَ * ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَر"(4) الخ۔ آج بھی وہی لوگ ہیں؛ وہی لوگ ہیں جو کروڑوں انسانوں پر حکمرانی کر رہے ہیں، اپنے ماتحتوں کو بھی اپنے ساتھ جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں۔ قرآن فرعون کے بارے میں فرماتا ہے: یَقدُمُ قَومَہُ یَومَ القِیامَۃِ فَاَورَدَہُمُ النّار(5) فرعون روز قیامت، جیسا اس دنیا میں اپنی قوم کا سرغنہ تھا، وہاں بھی سرغنہ ہے، پیش رو ہے، اسے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور اس کے پیچھے چلنے والوں کو (بھی) جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ یہ لوگ خود جہنم کی طرف جا رہے ہیں، یہ لوگ خود حقیقی اور ملکوتی معنوں میں جہنم میں ہیں اور اپنی قوم کو بھی جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں۔ تو یہ آج کی دنیا ہے۔
اسلام وہی اسلام ہے، یہ اسلام، آج کی دنیا کو پوری طرح بدل سکتا ہے، یقیناً کر سکتا ہے۔ ہم کر سکتے ہیں، ہم کا مطلب صرف میں اور آپ نہیں، یہ اسلام کے طرفدار، اسلام پر عمل کرنے والے، اسلام پر ایمان رکھنے والے، دنیا کو بے راہ روی اور برائی کی ڈھلان سے نیکی، نجات اور عزت کی چوٹیوں کی طرف لا سکتے ہیں، جہنم کی طرف سے جنت کی طرف لا سکتے ہیں، یہ آج بھی ممکن ہے۔ آج بھی ممکن ہے لیکن ایک شرط ہے: "وَ لَا تَہِنُوا وَ لَا تَحْزَنُوا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ، "اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ" یہی ہے: آپ دنیا کو اپنے پیچھے چلا سکتے ہیں، لیکن کب؟ "اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ"(6) ایمان ضروری ہے۔ تو میں اور آپ بحمد اللہ کچھ ایمان رکھتے ہیں، خدا کا شکر، لیکن یہ ایمان، ابوذر کا ایمان نہیں ہے، ہمیں اپنے عمل کو درست کرنا ہوگا، اپنے کام کو درست کرنا ہوگا، اپنے دل کو درست کرنا ہوگا۔ اگر ہم یہ کام کر سکے، قرآن کی نصیحت، اسلام کی نصیحت، پیغمبر کی نصیحت پر عمل کر سکے، نہج البلاغہ کو اہمیت دے سکے اور عمل کر سکے تو ہمارے پاس بھی وہی چیز ہوگی جو اس دن پیغمبر کے پاس تھی، ہم وہی کام کر سکیں گے جو پیغمبر نے اس دن کیا تھا، ہم دنیا کو خیر اور بھلائی کی طرف موڑ سکتے ہیں، ان برے لوگوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے معاشروں کو انسان ساز پیشرفتہ معاشرے میں تبدیل کر سکتے ہیں، اگر ان شاء اللہ "اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ" عملی جامہ پہن لے۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے، جو کچھ ہم جانتے ہیں اس پر عمل کریں، گناہ سے بچیں۔ آج ہمارا ایمان ابوذر بنانے والا ایمان نہیں ہے۔ البتہ بحمد اللہ اسلامی جمہوریہ میں، انفرادی طور پر، ابوذر جیسے افراد رہے ہیں؛ (جیسے) یہی عظیم، نامور اور کچھ گمنام شہداء، یہ ہیں لیکن معاشرے کو بدلنا ہوگا، خیر اور بھلائی کو پورے معاشرے پر چھا جانا چاہیے۔
تو، بعثت کا دن ایسا دن ہے، ایسا ایمان پیش کیا گیا اور جنھوں نے اسے قبول کیا، ان میں سے ایک امیرالمؤمنین تھے، علی بن ابی طالب (علیہ السلام) نے یہ ایمان قبول کیا، جناب خدیجہ نے یہ ایمان قبول کیا، پہلے درجے میں ان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں تھا۔ تو یہ کچھ باتیں بعثت کے بارے میں تھیں جو ہم نے عرض کیں۔
میں اس حالیہ فتنے کے بارے میں کچھ جملے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ایک فتنہ رونما ہوا، اس نے عوام کو تکلیف پہنچائی، ایذا پہنچائی، ملک کو نقصان پہنچایا، فتنہ ایسا ہی ہوتا ہے، پھر اللہ کی توفیق سے عوام کے ذریعے اور وقت شناس اور اپنا کام بخوبی جاننے والے ذمہ داران اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے، بحمدللہ یہ فتنہ کچل دیا گیا۔ فتنے کو پہچانیے۔ میں یہاں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں: سب سے پہلے یہ کہ ہم فتنے کی ماہیت کو سمجھیں، آخر یہ فتنہ کیا تھا؟ کیوں وجود میں آیا تھا؟ دوسرے یہ کہ اس فتنے کو انجام دینے والے عناصر کیا تھے، کون لوگ تھے، ظاہر میں دیکھیں تو ایک نوجوان ہے، لیکن اصل معاملہ کیا ہے؟ اور ایک بات اس بارے میں (ہے) کہ اس کام کے مقابلے میں جو ہمارے دشمن نے ہمارے ساتھ کیا، ہم کیا موقف اختیار کرتے ہیں اور کیا اقدام کرتے ہیں۔ میں ان باتوں کو مختصراً عرض کروں گا۔
سب سے پہلے فتنے کی ماہیت کی بات، یہ ایک امریکی فتنہ تھا۔ بہت واضح تھا۔ امریکیوں نے سازش تیار کی، کام کیا، امریکیوں کا ہدف، یہ بات میں پورے وثوق سے، کھل کر اور اسلامی جمہوریہ میں چالیس پینتالیس سال کے تجربے سے کہہ رہا ہوں، امریکا کا ہدف ایران کو نگلنا ہے۔ انقلاب کی شروعات سے اب تک، ملک پر ان کا جو تسلط تھا وہ امام خمینی کی قیادت میں لوگوں کے ذریعے، جوانوں کے ذریعے، پورے عوام کے ذریعے، ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ پہلے دن سے یہ لوگ اس چکر میں ہیں کہ اس تسلط کو لوٹا دیں۔ یعنی ایران کو ایک بار پھر اپنے فوجی تسلط میں، اپنے سیاسی تسلط میں، اپنے معاشی تسلط میں لے آئيں۔ ہدف یہ ہے۔ اس کا تعلق صرف امریکا کے موجودہ صدر(7) سے نہیں ہے! یہ اس شخص سے متعلق نہیں ہے جو اس وقت امریکا کا صدر ہے، اس کا تعلق امریکی سیاست سے ہے۔ امریکا کی اسٹیٹ پالیسی یہ ہے کہ ایسی خصوصیات والا، ایسے حساس جغرافیائی خطے میں واقع، اتنے سارے وسائل و ذخائر رکھنے والا، اتنے بڑے رقبے والا، اتنی آبادی والا ملک، ایک ایسے ملک کو یہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے، ایسی پیشرفت والا، سائنس، ٹیکنالوجی اور مختلف شعبوں میں ایسی پیشرفت کرنے والا ملک۔ یہ امریکیوں کے لیے قابل برداشت نہیں ہے۔ وہی اِنَّہُ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ * فَقُتِلَ کَیفَ قَدَّرَ، اس نے بیٹھ کر سوچا کہ کیا کرے۔ وہ لوگ یہ بات برداشت نہیں کر سکتے۔ تو یہ ان سے متعلق بات ہوئی۔
البتہ ماضی میں جب اس طرح کا کوئی فتنہ ہوتا تھا، ہمارے ملک میں متعدد فتنے رونما ہو چکے ہیں، تو زیادہ تر امریکی اور یورپی ممالک کے میڈیا والے یا دوسرے درجے کے سیاستداں مداخلت کرتے تھے۔ یہ اس فتنے کی خصوصیت تھی کہ خود امریکی صدر بذات خود، اس فتنے میں کود پڑا، بات کی، بیان دیا، دھمکی دی۔ فتنہ پھیلانے والوں کو ترغیب دلائی، ان لوگوں کو، جن کے بارے میں، میں بتاؤں گا کہ کون تھے، امریکا سے پیغام دیا کہ آگے بڑھو، ڈرو نہیں آگے بڑھو۔ کہا کہ ہم تمھاری حمایت کریں گے، عسکری حمایت کریں گے۔ یعنی خود امریکی صدر فتنے میں کود گیا اور وہ فتنے کا حصہ ہے۔ اس نے لوگوں کی ایک تعداد کو، جنھوں نے تخریب کاری کی، آگ لگائی، خلاف قانون کام کیے، لوگوں کو قتل کیا، اس نے ایسے لوگوں کو ایرانی قوم بتایا۔ یعنی ایرانی قوم پر بہت بڑی تہمت لگائی۔ اس نے کہا کہ یہ ایرانی عوام ہیں اور میں ایرانی قوم کا بچاؤ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سب جرم ہے، یہ سب جرم ہے۔ یہ دلیلیں جو میں نے پیش کیں، یہ ٹھوس دلائل ہیں، یعنی ان میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، اس نے کھل کر کہا، کھل کر بات کی اور کھل کر ترغیب دلائی۔ ہمارے پاس بہت سے ٹھوس دلائل ہیں انھوں نے مدد کی، انھوں نے بھی اور صیہونی حکومت نے بھی۔ ان کی مدد کے بارے میں بھی اختصار سے عرض کروں گا۔ ہم امریکی صدر کو مجرم مانتے ہیں، جانی نقصان کے لیے بھی، مالی نقصان کے لیے بھی اور اس تہمت کے لیے بھی جو اس نے ایرانی قوم پر لگائی۔
دوسری بات فتنے میں شامل افراد کے بارے میں ہے اور جو لوگ میدان میں آئے تھے کہ وہ کون تھے؟ یہ دو طرح کے لوگ تھے: ایک وہ، جنھیں امریکا اور اسرائیل کی خفیہ تنظیموں نے بہت سوچ سمجھ کر منتخب کیا تھا، انھیں تلاش کیا تھا، ان میں سے زیادہ تر کو بیرون ملک لے گئے تھے، بعض کو یہیں ملک کے اندر ٹریننگ دی تھی کہ کس طرح آگے بڑھنا ہے، کس طرح آگ لگانی ہے، کس طرح خوف پیدا کرنا ہے، کس طرح پولیس سے بچنا ہے۔ انھیں کافی زیادہ پیسے بھی دیے گئے تھے۔ ایک طرح کے لوگ تو یہ تھے جو اس بھیڑ کے سرغنہ تھے، وہ اپنے آپ کو "لیڈر" کہتے ہیں، ہم ان لوگوں کے لیڈر ہیں، سرغنہ، ایک تو یہ لوگ تھے۔ بحمد اللہ ان کی بڑی تعداد پکڑی جا چکی ہے، گرفتار ہو گئے ہیں، پولیس اور سیکورٹی فورسز نے اس سلسلے میں اچھا کام کیا ہے۔ ان خبیث اور مجرم، یہ لوگ مجرم ہیں، عناصر کی بڑی تعداد گرفتار ہو گئی۔
دوسری طرح کے لوگ وہ ہیں جن کا صیہونی حکومت کی کسی خفیہ تنظیم سے کوئی ربط نہیں تھا، ایک ناپختہ نوجوان ہے، اس سے بات کرتے ہیں، اسے متاثر کرتے ہیں، اس کے لیے ہیجان پیدا کر دیتے ہیں، جوان تو ہیجانی ہوتے ہی ہیں، نوجوان میں ہیجان پایا ہی جاتا ہے، وہ آ کر میدان میں گھس جاتے ہیں، ایسے کام کرتے ہیں جو انھیں نہیں کرنے چاہیے، ایسے غلط کام کرتے ہیں جو انھیں نہیں کرنے چاہیے۔ یہ پیادے ہیں، ان کا کام یہ ہے کہ جا کر کسی جگہ حملہ کریں، ایک پولیس چوکی، ایک گھر، ایک آفس، ایک بینک، ایک صنعتی مرکز، بجلی کا ایک مرکز، ایسی جگہوں پر حملے کریں، انھیں یہ کام دیا گیا ہے۔ وہ سرغنہ انھیں اکٹھا کرتا ہے، ان میں سے ہر ایک، دس، بیس، پچاس افراد کو اکٹھا کرتا ہے، انھیں آرڈر دیتا ہے کہ "اس جگہ جاؤ، یہ کام کرو اور جرم کرو۔" اور افسوس کہ وہ کرتے ہیں۔ بہت زیادہ جرائم کیے گئے۔ اس فتنے میں، انہی نادان اور بے خبر افراد نے ان خبیث اور تربیت یافتہ ایجنٹوں کی سربراہی میں برے کام کیے، بڑے جرائم کیے۔ 250 مساجد کو تباہ کیا، 250 سے زیادہ تعلیمی اور سائنسی مراکز کو نقصان پہنچایا، تباہ کر دیا، بجلی کی صنعت کو نقصان پہنچایا، بینکوں کو نقصان پہنچایا، علاج معالجے کے مراکز کو نقصان پہنچایا، عوام کی بنیادی ضروریات اور راشن کی دکانوں کو نقصان پہنچایا، عوام کو نقصان پہنچایا۔ انھوں نے کئی ہزار افراد کو قتل کیا، کچھ کو انتہائی غیر انسانی طریقے سے، یعنی بالکل وحشیانہ طریقے سے قتل کیا۔ ایک مسجد پر حملہ کرتے ہیں، کچھ نوجوان اس مسجد کے دفاع کے لیے اندر جاتے ہیں، وہ مسجد کا دروازہ بند کر دیتے ہیں، مسجد کو آگ لگا دیتے ہیں، مسجد اور وہ چند نوجوان آگ میں جل جاتے ہیں! میں عرض کروں گا کہ یہ خود سازش ہے، یہ کام کی تفصیلات ایک پہلے سے تیار کردہ، فراہم کردہ عمومی سازش کا حصہ ہیں، جس میں پہلے سے طے ہے کہ اس طرح کام کرنا اور اس طرح آگے بڑھنا۔ کوچہ و بازار کے عام لوگوں، بے گناہ لوگوں کو، تین سال کی بچی(8) کو، مرد کو، نہتھی اور بے قصور عورت کو قتل کیا۔ ان کے پاس ہتھیار تھے، نہ صرف آتشیں ہتھیار تھے، بلکہ (تلوار، کلہاڑی اور چاقو جیسے) عام ہتھیار بھی تھے، انھیں دیے گئے تھے۔ یہ ہتھیار باہر سے آئے تھے، اسی لیے آئے تھے کہ بلوائیوں میں تقسیم کیے جائیں اور یہ جرائم کیے جائیں۔ تو یہ ہوئے فتنے کے عناصر، فتنے کے عناصر یہ ہیں۔
البتہ ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی۔ ایرانی قوم نے بارہ جنوری کو دسیوں لاکھ کی تعداد میں ایک کارنامہ کر کے، کہ بارہ جنوری کا دن، گیارہ فروری کی طرح ایک تاریخی دن بن گیا۔ یعنی بارہ جنوری کا کارنامہ ایرانی قوم نے رقم کیا۔ اپنے افتخارات میں ایک اور افتخار کا اضافہ کیا۔ ایرانی قوم نے تہران میں دسیوں لاکھ کی تعداد میں اور مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں اکٹھا ہو کر، بڑبولے دعویداروں کے منہ پر ایک زبردست مکّا رسید کیا۔ بحمد اللہ عوام نے یہ کام کیا، فتنے کو کچل دیا، یہ ایرانی قوم کا کام تھا۔
البتہ دنیا میں صیہونیوں سے وابستہ میڈیا میں، جن میں سے اکثر خبر رساں ایجنسیاں صیہونیوں کی ہیں، ان معمولی تعداد والے بلوائیوں کو بڑا کر کے دکھایا گیا اور کہا گیا کہ یہی ایرانی عوام ہیں، (لیکن) تہران اور دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں نکلنے والے عوام کا تو کچھ نے نام ہی نہیں لیا، کچھ نے کہا کچھ ہزار افراد! ان کی عادت یہی ہے، انھیں (ایسا ہی) کرنا پڑتا ہے، کوئی بات نہیں۔ حقیقت کچھ اور ہے، حقیقت وہی ہے جو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اپنے شہر میں یا تہران میں دیکھ رہے ہیں۔
جہاں تک ہمارے رویے کی بات ہے تو ایرانی قوم نے امریکا کو شکست دی۔ امریکیوں نے ڈھیروں تمہیدوں کے ساتھ یہ فتنہ شروع کیا تھا، کچھ زیادہ بڑے مقاصد کے لیے جن کی طرف میں نے پہلے اشارہ کیا۔ یہ فتنہ، زیادہ بڑے کاموں کا پیش خیمہ تھا۔ ایرانی قوم نے (امریکا کو) دھول چٹا دی۔ آج سے کچھ مہینے پہلے اس کچھ دن کی جنگ کے بعد، جس میں اس نے امریکا اور صیہونی حکومت کو شکست دی تھی، آج بھی ایرانی قوم نے اللہ کے فضل سے امریکا کو دھول چٹائی لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ امریکا کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ہمارے مختلف اداروں کو، وزارت خارجہ اور دیگر مختلف اداروں سے لے کر اس کام سے متعلق اداروں تک کو اس معاملے پر کام کرنا ہوگا۔ ہم ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جائیں گے، ہمارا ارادہ ملک کو جنگ کی طرف لے جانے کا نہیں ہے لیکن ہم داخلی مجرموں کو چھوڑیں گے بھی نہیں۔ داخلی مجرموں سے بھی بدتر، بین الاقوامی مجرم ہیں، ہم انھیں بھی نہیں چھوڑیں گے۔ اپنے طریقوں سے، صحیح روش سے، اس کام کو انجام دینا چاہیے، اس پر کام کرنا چاہیے اور اللہ کی توفیق سے ایرانی قوم جس طرح فتنے کی کمر توڑ چکی ہے، فتنہ گروں کی کمر بھی توڑے گی۔
میری آخری بات۔ اس واقعے میں، اس امریکی اور صیہونی فتنے سے مقابلے میں، پولیس، سیکورٹی فورسز، سپاہ اور بسیج (رضاکار فورس) کے ذمہ داروں نے واقعی جانفشانی کی، حقیقت میں جانفشانی کی، رات کو رات اور دن کو دن نہیں سمجھا، ان سے جہاں تک ممکن تھا اس فتنے کو، جو دشمن کی طرف سے بہت پیسوں اور تیاریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا تھا، مکمل طور پر دبا دیا اور ختم کر دیا۔ ملک کے ذمہ داران نے بھی پورا تعاون کیا۔ ایرانی قوم نے آخری کام کیا اور فیصلہ کن طور پر فتنے کو ختم کر دیا لیکن اتحاد کے ساتھ۔ میں اپنی ہمیشہ کی سفارش پھر سے دوہرانا چاہتا ہوں: اول تو عوام کے درمیان اتحاد کو محفوظ رکھا جائے، جماعتی، سیاسی، نظریاتی اور دوسرے جھگڑے عوام میں پھیلنے نہ پائیں۔ آپس میں متحد رہیے، اسلامی نظام کے دفاع میں، ایران کے دفاع میں، عزیز ایران کے دفاع میں، سب ایک ساتھ رہیے، ایک دوسرے کے ساتھ رہیے۔
ذمہ داران نے بھی، مختلف شعبوں کے متعلقہ ذمہ داران نے بھی واقعی کام کیا۔ صدر محترم(9) اور عدلیہ اور مقننہ کے سربراہان نے کام کیا، وہ میدان کے بیچ میں تھے اور انھوں نے کام کیا۔ ایسا نہ ہو کہ چونکہ مجھے دوسرے کے کام کی خبر نہیں ہے تو میں بس مسلسل اعتراض کرتا رہوں کہ جناب ایسا کیوں اور ویسا کیوں ہے، نہیں، سب نے کام کیا۔ میں اس بات سے کہ ایسے اہم بین الاقوامی اور داخلی حالات میں ملک کے سربراہان، صدر محترم اور دوسروں کی توہین کی جائے، سخت پرہیز کرتا ہوں اور ایسا نہیں ہونے دیتا اور منع کرتا ہوں، لوگوں کو روکتا ہوں، وہ پارلیمنٹ میں ہو سکتے ہیں، پارلیمنٹ سے باہر ہو سکتے ہیں، کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم ان کی قدر کریں، ان ذمہ داران کی قدر کریں جو جب ملک پر ایسا وقت آتا ہے تو عوام سے دور نہیں رہتے۔ کبھی ہمارے ماضی میں ایسا ہوا ہے کہ عوام میدان میں تھے، ذمہ داران تماشا دیکھ رہے تھے، کبھی عوام کے خلاف کوئی بات بھی کر دیتے تھے۔ لیکن اس بار نہیں، ذمہ داران عوام کے ساتھ تھے، عوام کے درمیان تھے، عوام کے ساتھ چلے، اسی مقصد کے لیے کوشش کی، کام کیا۔ اس کی قدر دانی ہونی چاہیے، یہ بہت اہم ہے۔ میری صدر اور عدلیہ و مقننہ کے ذمہ داران، دیگر اداروں کے سربراہوں اور ملک کے سرگرم عہدیداروں کے بارے میں تاکید کے ساتھ سفارش ہے: انھیں ان کا کام کرنے دیجیے، کوشش کرنے دیجیے اور ان کے ذمے جو بڑی خدمت ہے، اسے انجام دینے دیجیے۔
البتہ معاشی صورتحال اچھی نہیں ہے، عوام کی معیشت واقعی مشکل میں ہے، مجھے یہ معلوم ہے۔ انھیں اس سلسلے میں دوگنا کام کرنا چاہیے۔ بنیادی ضرورت کی چیزوں، مویشیوں کے لیے ضروری چیزوں، کھانے پینے کی ضروری اشیاء اور عوام کی عمومی ضروریات کے لیے سرکاری عہدیداروں کو ہمیشہ سے دوگنا کام کرنا چاہیے، زیادہ سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ان کے بھی کچھ فرائض ہیں، ہم عوام کے بھی کچھ فرائض ہیں، ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا، تو خداوند متعال ہمارے کام میں برکت عطا فرمائے گا۔ پروردگارا! ہمارے کام میں یہ برکت عطا فرما۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
(1) نہج البلاغہ، خطبہ 2
(2) نہج البلاغہ، خطبہ 2
(3) امریکا کے ورجن جزائر کا ایک نجی جزیرہ جو نوجوان عورتوں اور نابالغ لڑکیوں کی اسمگلنگ اور ان کے جنسی استحصال کے لیے پناہ گاہ اور خفیہ جگہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس کے مالک کے بہت سے مہمان دنیا بھر سے اور معاشرے کے اعلیٰ ترین طبقوں میں سے ہوتے تھے۔
(4) سورہ مدثر، آیات 18 تا 22، "ہاں، (حق کے اس دشمن) نے سوچا اور تولا اور پرکھا، وہ مار دیا جائے! اس نے کیسے تولا اور پرکھا؟ (ہاں) وہ مار دیا جائے، اس نے کیسے تولا اور پرکھا۔ پھر اس نے غور کیا، پھر اس نے منہ بنایا اور چہرہ سکیڑ لیا۔"
(5) سورۂ ہود، آیت 98، فرعون اپنے پیروکاروں کے آگے آگے چلے اور انھیں (اپنے ساتھ) جہنم میں جھونک دے گا
(6) سورۂ آل عمران، آیت 139، "اور اگر تم مومن ہو تو سستی نہ کرو اور غمگین نہ ہو کیونکہ تم ہی فتحیاب ہو۔"
(7) ڈونلڈ ٹرمپ
(8) منجملہ کرمانشاہ کی تین سالہ بچی ملینا اسدی جو مسلح دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئی۔
(9) ڈاکٹر مسعود پزشکیان