ایپسٹین جزیرے پر منظم جرائم کا کیس صرف ایک جنسی رسوائی یا کچھ دولت مندوں کی جنسی بے راہ روی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ کیس اب مغربی انسانی حقوق کے نظریات کی تاریخی مذمت میں ایک مکمل دستاویز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں مغرب کے سیاستدانوں، سرمایہ داروں، میڈیا سیلیبریٹیز اور دانشوروں کا ایک نیٹ ورک، جو برسوں تک خود کو "انسانی حقوق" اور "خواتین کے حقوق" کا علمبردار بتاتا رہا ہے، آج جنسی استحصال، لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی غلامی کے سیاہ ترین مقدمات میں سے ایک میں، ان کا نام براہ راست یا بالواسطہ طور پر سامنے آ چکا ہے۔ جو کچھ شائع شدہ دستاویزات، فلائٹس کی فہرست اور باقی ماندہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے، وہ محض جنسی بدعنوانی کا ایک نیٹ ورک نہیں بلکہ اس نظام کی حقیقی تصویر ہے جو کئی عشروں سے خواتین کے حقوق اور آزادی کا علمبردار ہونے کا دعویدار رہا ہے۔
اپنے جوانوں، اپنے سائنسدانوں، اپنے ٹیکنالوجی کے ماہرین کی کوششوں کی برکت سے، آج ہارڈ ڈیفنس کے لحاظ سے، دشمن کے ہارڈ وئير خطروں سے نمٹنے کے لحاظ سے ہمیں کوئی تشویش اور مشکل نہیں ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی اور سپریم کمانڈر آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے "اقتدار 1403" نامی نمائش کا جس میں ملک کی دفاعی صنعت کے سائنسدانوں کے جدید ترین کارناموں اور صلاحیتوں کو پیش کیا گيا تھا، بدھ 12 فروری 2025 کی صبح ایک گھنٹے تک معائنہ کیا۔
ایران کی وزارت دفاع کے کچھ عہدیداروں اور دفاعی صنعت کے کچھ سائنسدانوں، ماہرین اور کارکنوں اور اسی طرح ملک کی دفاعی صنعت کے شہیدوں کے اہل خانہ نے بدھ 12 فروری 2025 کی صبح رہبر انقلاب سے ملاقات کی۔
اس بات پر بھی توجہ دیجیے کہ ان کی شہادت کتنی نمایاں اور اہم شہادت ہے اس وجہ سے کہ وہ سب سے خبیث دشمن کے مقابلے میں ملک کے دفاع کے لیے ڈٹ گئے، ان باتوں پر توجہ رکھیے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ائیر ڈیفنس کے ان شہیدوں کے اہل خانہ نے جو حال ہی صیہونی حکومت کے شیطانی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے، اتوار 3 نومبر 2024 کی دوپہر رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
جناب ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے سنیچر 26 اکتوبر 2024 کی شام KHAMENEI.IR ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مفادات اور ارضی سالمیت کی حفاظت اور دفاع میں ایران کے لیے کوئي حدبندی نہیں ہے اور خطے کے حالیہ دوروں میں ایران کی دفاعی طاقت اور ایران پر حملے کا ارادہ رکھنے والوں کے خلاف جوابی کارروائي کی اس کی توانائي سے غیر ملکی فریقوں کو آگاہ کر دیا گيا ہے۔ اس انٹرویو کا متن حسب ذیل ہے: