ایپسٹین جزیرے پر منظم جرائم کا کیس صرف ایک جنسی رسوائی یا کچھ دولت مندوں کی جنسی بے راہ روی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ کیس اب مغربی انسانی حقوق کے نظریات کی تاریخی مذمت میں ایک مکمل دستاویز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں مغرب کے سیاستدانوں، سرمایہ داروں، میڈیا سیلیبریٹیز اور دانشوروں کا ایک نیٹ ورک، جو برسوں تک خود کو "انسانی حقوق" اور "خواتین کے حقوق" کا علمبردار بتاتا رہا ہے، آج جنسی استحصال، لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی غلامی کے سیاہ ترین مقدمات میں سے ایک میں، ان کا نام براہ راست یا بالواسطہ طور پر سامنے آ چکا ہے۔ جو کچھ شائع شدہ دستاویزات، فلائٹس کی فہرست اور باقی ماندہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے، وہ محض جنسی بدعنوانی کا ایک نیٹ ورک نہیں بلکہ اس نظام کی حقیقی تصویر ہے جو کئی عشروں سے خواتین کے حقوق اور آزادی کا علمبردار ہونے کا دعویدار رہا ہے۔
جس چیز نے فتنے کی آگ کو اپنے پیروں تلے راکھ بنا دیا، وہ عوام تھے۔ اس کے بعد بھی، اللہ کی مدد سے، اگر ملک میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اللہ کی مدد سے عوام، کام تمام کر دیں گے۔
میں ملک کے عہدیداران چوکنا رہیں، ان لوگوں کی خواہشات کے سامنے نہ جھکیں جو ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ کے کٹر دشمن ہیں، ایران کو تباہ شدہ دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کی آرزو رکھتے ہیں۔
رہبر انقلاب کے مشیر ڈاکٹر لاریجانی: یہ لوگ سوچ رہے تھے کہ وہ جیت گئے اور حزب اللہ کا کام تمام ہوگيا۔ بارہ تیرہ دن گزرنے کے بعد حالات بدل گئے۔ اس کے بعد تو وہ خود جنگ بندی کے لیے ہاتھ پیر جوڑنے لگے، پھر قرارداد تیار ہوئي۔ اس سے پہلے جو بھی قرارداد تیار ہوتی وہ اسے مسترد کر دیتے تھے۔
1973 کی جنگ میں رچرڈ نکسن کی جانب سے اسرائيل کی امداد، بائيڈن کی جانب سے اسرائيل کی امداد کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ عیسائيت اور کیتھولک ازم، امریکا کے صدر کے مذہب کا صرف ظاہری مظہر ہے اور صیہونیت ان کا اصلی مسلک ہے۔