عورتوں کے جھوٹے ہمدرد: جزیرے میں شیطان کے غلام

اس کیس کا سب سے اہم پہلو عورتوں کے معاملے میں مغرب کی "اخلاقی قیادت" کا مکمل طور پر خاتمہ ہے۔ برسوں سے، نام نہاد سیاستدان، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سرکاری پلیٹ فارمز سے "عورتوں کی حالت" کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر خود مختار ممالک کی مذمت کرتی رہی ہیں۔ وہی سیاستداں جو ایپسٹین کے نیٹ ورک سے تعاون اور لین دین کر رہے تھے، وہی میڈیا جس نے اس مقدمے کا یا تو بائیکاٹ کر دیا یا پھر اسے نظر انداز کر دیا، وہی دولت مند، جن کے گندے سرمائے سے "انسانی حقوق" کی تنظیمیں قائم ہوئیں، کئی عشروں سے "مظلوم ایرانی عورت" کے پروجیکٹ کی تشکیل اور تشہیر کر رہے ہیں۔ یہ وہ پروجیکٹ ہے جس کے نام پر، ایران میں شورش، بدامنی اور عدم تحفظ کو آخری ہدف کے طور پر حاصل کیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، انسانی حقوق کی تنظیموں کی آڑ میں کام کرنے والے حفاظتی اداروں سے وابستہ تنظیموں کو بھاری بجٹ فراہم کیا گیا اور آزادی کا نسخہ ان تھنک ٹینکوں میں تیار کیا گیا جو ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی خدمت میں ہیں۔ میڈیا کو ایک متحد بیانیہ تیار کرنے کے لیے اپنے کنٹرول میں لیا گیا اور ہر اس آواز کو، جو اس پیچیدہ جھوٹ اور سازش کے نیٹ ورک کے خلاف اٹھتی ہے، فوری طور پر دبا دیا گیا۔ جھوٹ، پردہ پوشی، سازش اور لوگوں کو گمراہ کرنا، یہ ان مجرموں کے شیطانی ہتھکنڈے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے تمام منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ ایپسٹین کے جزیرے سے لے کر تہران کی سڑکوں تک۔ رہبر انقلاب اسلامی کے الفاظ میں: "اسلامی جمہوری نظام کے دشمن بہت جلد سمجھ گئے کہ ہارڈ وئير طریقوں سے انقلاب کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ وہ سافٹ وئير ہتھکنڈے استعمال کرنے لگے۔ وہ سمجھ گئے کہ جنگ، بمباری، فتنہ انگیز فورسز اور نسل پرستی وغیرہ سے ایران اسلامی کو وہ توڑ نہیں سکتے، اسے جھکا نہیں سکتے۔ تو وہ سافٹ ہتکھنڈے استعمال کرنے لگے۔ سافٹ ہتھکنڈے پروپیگنڈہ ہے، ورغلانا ہے، دروغگوئی ہے جو ان کے نعروں میں پائي جاتی ہے جسے انسان دیکھتا ہے۔ نام رکھتے ہیں، موسوم کرتے ہیں عورت کے دفاع کے نام پر، عورتوں کے معاشرے کے دفاع کے نام پر، عورتوں کے ایک گروہ کے دفاع کے نام پر، ایک عورت کے دفاع کے نام پر، ایک عورت کے دفاع کے نام پر کسی ملک میں ہنگامے کرا دیتے ہیں۔"(1) یہ بدنامی، مغرب والوں کے دوغلے رویے کو آشکار کرنے اور مغربی دانشوروں کی قیادت کے خاتمے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ جس طرح سے کہ پوری تاریخ میں انھوں نے جنگ، ملکوں کا شیرازہ بکھیرنے، بدامنی پھیلانے اور استحصال کو انھوں نے "آزادئ نسواں" کے خوبصورت نعرے کی آڑ میں پھیلایا ہے۔

دریں اثنا صیہونی حکومت کے سربراہوں اور اسرائیلی لابیوں کے کردار کی طرف سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ ایپسٹین کے اسکینڈل اور اس جنسی رسوائی کے منظر عام پر آنے سے برسوں پہلے، "اعضائے جسمانی کی اسمگلنگ کے بنیادی مرکز" کے طور پر صیہونی حکومت کا نام سامنے آ چکا تھا۔(2) اور اب اس کیس میں صیہونی حکومت کی شہریت رکھنے والے طاقتور افراد کے نام اس حد تک دوہرائے جا رہے ہیں کہ شک کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی: ان دستاویزات کے تمام صفحات میں، صیہونی حکومت کے مفادات کی حفاظت کے نشان دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے عالم میں ہے کہ جب امام خامنہ ای نے برسوں پہلے اس بارے میں خبردار کیا تھا: دنیا میں انتہائی تیز رفتاری سے فروغ حاصل کرنے والی تجارت، عورتوں کی تجارت اور عورتوں کی اسمگلنگ ہے۔ اس سلسلے میں کچھ بدترین ممالک ہیں، منجملہ صیہونی حکومت ہے۔ عورتوں اور لڑکیوں کو کام فراہم کرنے، شادی کرانے اور اسی قسم کے دوسرے بہانوں سے غریب و نادار ملکوں سے، لاطینی امریکا سے، ایشیا کے بعض ملکوں سے، یورپ کے بعض غریب ملکوں سے اکٹھا کرتے ہیں اور انھیں لے جا کر انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں ان مراکز کے حوالے کر دیتے ہیں جن کے تصور اور ان کے نام سے ہی انسان کا جسم لرز اٹھتا ہے۔ یہ سب کچھ اس غلط زاویۂ نگاہ کا نتیجہ ہے جو سماج میں عورت کے مقام و منزلت کے سلسلے میں قائم کر لیا گیا ہے۔(3)

مسلمان خواتین کو نجات دینے کا منصوبہ: ایک لاعلاج بیماری کا دفاعی میکینزم

اس مسئلے کا نفسیاتی تجزیہ ایک زیادہ گہری حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے۔ طبی نفسیات میں، "پروجیکشن (Projection) ایک ایسا دفاعی میکینزم ہے جس میں انسان اپنے عیب کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی سے نجات کے لیے، اپنے اس عیب کی نسبت دوسروں کی طرف دیتا ہے اور دوسروں میں اس عیب کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ گویا "مسلمان عورت کو آزاد کرانے پر مغرب کا اصرار" دراصل "خود اپنی نجات" اور اپنی تباہ شدہ شناخت کو بحال کرنے کی مغرب کی خواہش ہے۔ 

یہ ذہنی وسواس، اس حقیقت کو چھپانے کا ایک "دفاعی میکینزم" ہے کہ مغربی نظام، اپنی سرحدوں کے اندر خواتین کی حمایت سے قاصر ہے۔ "مظلوم مسلمان عورت" کی تصویر کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے تاکہ رائے عامہ کی توجہ ایپسٹین جزیرے میں قربانی بننے والی امریکی عورت سے ہٹا دی جائے۔ درحقیقت وہ مسلمان خواتین کی آزادی کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے پریشان ضمیر کو پرسکون کرنے کے خواہاں ہیں، ایسا ضمیر جو اپنی ہی خواتین کے خلاف کیے گئے جرائم سے انھیں کچوکے لگا رہا ہے۔

یہ تضادات اور سازشیں کس چیز کو برملا کرتی ہیں؟ 

اس صورتحال میں، یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ "خواتین کے حقوق کا دفاع" اس گھناؤنے نیٹ ورک کا حصہ بننے کے لیے کبھی تیار نہ ہونے والے معاشروں کے خلاف بیانیوں کی جنگ میں ایک سامراجی ہتھیار ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ ہمیشہ خود کو دوسری قوموں کی خواتین کے بارے میں فکرمند ظاہر کرنے کا حقدار سمجھتے تھے، وہ اپنے ہی معاشروں میں بچوں کی جنسی غلامی کے نیٹ ورکس کو برداشت کریں اور انھیں چلانے والوں کا ساتھ دیں؟ جو لوگ اپنے ملک کے بچوں اور خواتین کو جنسی جرائم کے نیٹ ورک سے بچانے میں ناکام رہے، وہ اچانک مسلمان خواتین کو نجات دلانے کے لیے کیونکر فکرمند ہو گئے؟ یہ تضاد ایک فکری نظام کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ مغربی نظام "مذہب پر مبنی اخلاق" کو کنارے رکھ کر اور اس کی جگہ "منافع اور لذت کے اصول" کو اپنا کر، نہ صرف یہ کہ خواتین کے تحفظ کی صلاحیت نہیں رکھتا بلکہ مجبوراً جنسی استحصال کا سب سے بڑا کارٹل بن گیا ہے۔ جب "آزادی" دولت مندوں کی کبھی نہ ختم ہونے والی لذت جوئی، ہوس اور شہوانیت کا حربہ بن جائے تو اسی نظام کے حاشیے پر بے سہارا لڑکیاں اشیائے صرف کا ایک حصہ بن جاتی ہیں۔ ایسا نظام، مسلمان ایرانی خواتین کے لیے، جو مقدس شریعت اور الہی قوانین کے حفاظتی دائرے میں زندگی گزار رہی ہیں، کس طرح سے کوئی نسخہ تجویز کر سکتا ہے؟ اخلاقی قیادت اس کا حق ہے جو کمزور کی حفاظت کر سکے، اس کا نہیں جو اپنے نجی جزیرے میں سب سے کمزور افراد کو اپنی حیوانی لذت کا شکار بنا دے۔

زہرا شافعی، ثقافتی امور کی محقق

 

  1. https://urdu.khamenei.ir/news/7909
  2. https://english.almayadeen.net/articles/analysis/the-global-zionist-organ-trafficking-conspiracy
  3. https://urdu.khamenei.ir/news/3824