بعض لوگ مختلف تجزیوں میں، مسئلے کو عجیب و غریب طرح سے سمجھتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک، سلامتی میں رہے تو ہمیں بڑی طاقتوں کو ناراض کرنے والے وسائل کے قریب نہیں جانا چاہیے؛ مثال کے طور پر "کیا ضروری ہے کہ ہمارے پاس فلاں رینج کا میزائیل ہو کہ وہ لوگ حساس ہو جائيں!" وہ سوچتے ہیں کہ اس طرح، اس شکل میں وہ ملک کی سلامتی کو فراہم کر سکتے ہیں، مطلب یہ کہ دراصل وہ یوں سوچتے ہیں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک پرامن رہے تو کمزور رہیے، اپنے لیے طاقت کے وسائل فراہم نہ کیجیے، بعض لوگ اسی طرح سے سوچتے ہیں؛ یہ غلط ہے۔
سیکورٹی یقینی بنانے کا راستہ طاقت ہے۔ ہم ایرانی قوم اور ملک کے ذمہ داران کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے۔ مضبوط ایران ہی خود کا دفاع کر سکتا ہے، اپنی سلامتی اور پیشرفت کو یقینی بنا سکتا ہے، اس پیشرفت اور طاقت کی برکت سے دوسروں کی بھی مدد کر سکتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اتوار 27 اکتوبر 2024 کو ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض شہیدوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
یہ ایران کو نہیں جانتے، ایران کے جوانوں کو نہیں جانتے، ایرانی قوم کو نہیں جانتے۔ ابھی وہ ایرانی قوم کی طاقت، توانائي، جدت عمل اور عزم کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھ سکے ہیں۔ یہ بات ہمیں انھیں سمجھانی ہوگي۔