حالیہ واقعات اور منظم دہشت گردانہ کارروائیوں نے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے تسلسل میں سامنے آئیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں امریکی حکومت کی روش کی حقیقی نوعیت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں رائے عامہ کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا حکومتیں بغیر کوئی قیمت چکائے ہوئے دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت جاری رکھ سکتی ہیں؟