ٹھوس زمینی شواہد اور باضابطہ بیان بخوبی عیاں کرتے ہیں کہ آٹھ سے دس جنوری کی دہشت گردانہ کارروائیاں، بغیر پلاننگ کے پیدا ہونے والی بدامنی نہیں تھیں بلکہ یہ امریکا اور صہیونی حکومت کی خفیہ معلومات، میڈیا اور آپریشنل حمایت سے عمل میں لائی جانے والی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھیں۔ مجرمانہ عناصر کی ٹریننگ، انھیں اسلحوں کی فراہمی اور ان کی رہنمائی، براہ راست تشدد کی ترغیب اور ایران کی داخلی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جنھوں نے ان واقعات کو ایک پرامن داخلی احتجاج کی سطح سے ہٹا کر انھیں ایک دہشت گردانہ کارروائی کے ساتھ ہی سنجیدہ بین الاقوامی قوانین کے پہلو‌ؤں والے ایک موضوع میں تبدیل کر دیا ہے۔

داخلی تخریب کاری سے لے کر سفارتی مراکز پر حملے تک

جو نقصان ہوا ہے وہ صرف عوام کی جان و مال تک محدود نہیں رہا۔ مساجد، تعلیمی مراکز، بینکوں، ہسپتالوں، بجلی کے انفراسٹرکچر اور عمومی شاپنگ سینٹرز کی توڑ پھوڑ کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کی شہادت اور بے گناہ شہریوں کے قتل نے یہ ظاہر کر دیا  کہ فتنہ گروں کا مقصد عمومی نظم و نسق کو مفلوج کرنا اور سماج میں خوف پیدا کرنا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر کچھ ممالک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی اور سفارتی مراکز پر حملے، 1961 اور 1963 کے ویانا کنوینشنس برائے سفارتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور سفارتی ریڈ لائنز کو عبور کرنے کی واضح علامت ہیں۔

امریکی عہدیداروں کے سرکاری اور مصدقہ موقف اور بیانات، خاص طور پر فتنہ گروں کی کھلی حمایت اور ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں، بین الاقوامی قوانین کے تسلیم شدہ اصولوں اور لازمی اور نافذ العمل اصولوں کی خلاف ورزی کی واضح مثال ہیں۔ ان اصولوں میں، حکومتوں کے داخلی معاملات میں مداخلت پر پابندی، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی پر پابندی شامل ہیں، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2، پیراگراف 4، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 24 اکتوبر 1970 کی قرارداد نمبر 2625، اسی طرح 1981 کے بیانیۂ الجزائر اور دہشت گردی کے خلاف اس حکومت کے بین الاقوامی وعدے جیسے اصول شامل ہیں۔ دریں اثنا امریکی صدر کی جانب سے رہبر انقلاب کو، جو ایک خود مختار ملک کے سب سے اعلیٰ سرکاری عہدیدار ہیں، کھلم کھلا اور بار بار دی جانے والی دھمکیوں کو بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت اور ملکوں کے سربراہان پر حملے پر پابندی جیسے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جو مروجہ بین الاقوامی قانون کے تسلیم شدہ اصول ہیں اور یقیناً اس کے وسیع قانونی اور سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔

ایران کا قانونی اقدام، بین الاقوامی نظام کے لیے واضح پیغام

ایران کی وزارت خارجہ، اپنے فرائض کی انجام دہی اور ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کے تناظر میں، مسلط کردہ 12 روزہ جنگ اور حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے معاملے میں امریکی حکومت کو قانونی اور بین الاقوامی لحاظ سے جوابدہ بنانے پر سنجیدگی اور تسلسل سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ مداخلتوں اور دشمنانہ اقدامات کو دستاویزی شکل دینے کا کام جاری ہے اور ضروری قانونی تمہیدات تیار ہو چکی ہیں تاکہ متعلقہ داخلی اور بین الاقوامی اداروں میں ان شکایتوں اور مقدمات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ کام پوری سنجیدگی سے جاری رہے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ، ایرانی قوم کے ہر فرد کے حقوق سے سمجھوتہ نہیں کرے گی اور دہشت گردی کی حمایت کو بین الاقوامی نظام میں ایک بغیر خرچ والی روش میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دیے گی۔ امریکا کو اپنے اقدامات کے لئے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

 

تحریر: سید عباس عراقچی، وزیر خارجہ ایران