ایپسٹین جزیرے پر منظم جرائم کا کیس صرف ایک جنسی رسوائی یا کچھ دولت مندوں کی جنسی بے راہ روی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ کیس اب مغربی انسانی حقوق کے نظریات کی تاریخی مذمت میں ایک مکمل دستاویز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں مغرب کے سیاستدانوں، سرمایہ داروں، میڈیا سیلیبریٹیز اور دانشوروں کا ایک نیٹ ورک، جو برسوں تک خود کو "انسانی حقوق" اور "خواتین کے حقوق" کا علمبردار بتاتا رہا ہے، آج جنسی استحصال، لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی غلامی کے سیاہ ترین مقدمات میں سے ایک میں، ان کا نام براہ راست یا بالواسطہ طور پر سامنے آ چکا ہے۔ جو کچھ شائع شدہ دستاویزات، فلائٹس کی فہرست اور باقی ماندہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے، وہ محض جنسی بدعنوانی کا ایک نیٹ ورک نہیں بلکہ اس نظام کی حقیقی تصویر ہے جو کئی عشروں سے خواتین کے حقوق اور آزادی کا علمبردار ہونے کا دعویدار رہا ہے۔