اہل قم کا تاریخی قیام بڑے بت کے پیکر پر ابراہیمی کلہاڑی کی پہلی ضرب

اہل قم کا تاریخی قیام بڑے بت کے پیکر پر ابراہیمی کلہاڑی کی پہلی ضرب

8 جنوری کے قیام کو، بڑے بت پر ابراہیمی کلہاڑی کی پہلی ضرب سمجھا جا سکتا ہے۔  یہ اس کلہاڑی کا پہلا وار تھا جو قم کے عوام نے امریکا کے بڑے بت پر لگایا۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور آج آپ امریکا کی حالت دیکھ رہے ہیں۔ بڑے بت کی آج کی حالت اور صورتحال آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس کی ڈیموکریسی ہے، یہ اس کی انتخابی فضحیت ہے۔
بیس فیصدی گریڈ کی  یورینیم ‏افزودگی کا دلچسپ واقعہ

بیس فیصدی گریڈ کی  یورینیم ‏افزودگی کا دلچسپ واقعہ

بیس فیصدی کے قضیئے میں دنیا کی ‏بڑی طاقتوں اور ان میں سر فہرست ‏امریکہ کی عیاری کا واقعہ، سننے ‏سے تعلق رکھتا ہے۔  ‏
وہ دن جب ملت ایران نے اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کے  پیکر میں نئی روح پھونکی

وہ دن جب ملت ایران نے اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کے پیکر میں نئی روح پھونکی

سنہ 2009 میں ایران میں بھی دیگر ممالک کی طرح صدارتی انتخابات ہوئے۔ مگر استعماری طاقتوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ملک کے اندر کچھ عناصر کو ورغلایا اور اپنے مشن پر کام شروع کر دیا۔ لیکن پھر جب ملت ایران نے بیرونی سازشوں کو محسوس کرکے جواب دیا تو ایک تاریخ رقم ہو گئی۔ 
شہید سلیمانی کے قاتلوں سے انتقام کے مناسب موقع کی تلاش میں ہیں

شہید سلیمانی کے قاتلوں سے انتقام کے مناسب موقع کی تلاش میں ہیں

ایران میں جو جلوس جنازہ نکلا وہ واقعی عجیب اور نا قابل فراموش تھا۔ اسی طرح عراق میں دسیوں لاکھ لوگوں کی شرکت سے جو تشییع جنازہ ‏ہوئی، در حقیقت یہ جلوس جنازہ اور اس کے بعد ان کی یاد میں جو پروگرام ہوئے ‏انھیں دیکھ کر استکبار کے سافٹ وار کے ماہرین ششدر رہ گئے۔ ان کی شہادت کے واقعے سے جو صورت حال رونما ہوئی وہ امریکہ پر ‏پڑنے والا پہلا طمانچہ تھا۔
فرانسیسی صدر میکرون یا تو سادہ لوح انسان ہیں یا امریکیوں سے ملے ہوئے ہیں

فرانسیسی صدر میکرون یا تو سادہ لوح انسان ہیں یا امریکیوں سے ملے ہوئے ہیں

فرانسیسی صدر کہتے ہیں کہ امریکی صدر سے ایک ملاقات کر لیجئے تو ایران کی ساری مشکلات حل ہو جائیں گی!  امام خامنہ ای 
شہید سلیمانی کی خصوصیات: ‏غیر معمولی ذہانت، دور اندیشی، انسان دوستی کا جذبہ، اخلاص و روحانیت

شہید سلیمانی کی خصوصیات: ‏غیر معمولی ذہانت، دور اندیشی، انسان دوستی کا جذبہ، اخلاص و روحانیت

‏بہت ذہین انسان تھے۔ اس سلسلے میں بہت سے نکات ہیں۔ یہ جو ایک بظاہر مذہبی تنظیم کے ابھرنے کا مسئلہ ہے، جو خاص مسلک کی جانب مائل ہے جو مزاحمتی محاذ ‏کے خلاف ہے، انھوں نے اس کی پیش بینی پہلے ہی کر ‏دی تھی اور مجھے بتایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں دنیائے اسلام کے حالات میں جو ‏کچھ دیکھ رہا ہوں۔ انھوں نے کچھ ملکوں کا نام بھی لیا تھا، اس سے لگتا ہے ‏کہ ایک تنظیم معرض وجود میں آ رہی ہے۔ کچھ عرصہ بعد داعش سامنے آ گئی۔
ٹرمپ کے امریکہ اور اوباما کے امریکہ میں کوئی فرق نہیں

ٹرمپ کے امریکہ اور اوباما کے امریکہ میں کوئی فرق نہیں

دشمن پر اعتماد نہ کیجئے۔ یہ تاکید کے ساتھ میری نصیحت ہے۔ دشمن پر ‏بھروسہ نہ کیجئے۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ٹرمپ کے امریکہ نے اور اوباما کے ‏امریکہ نے آپ کے ساتھ کیا کیا۔ البتہ یہ صرف ٹرمپ تک محدود نہیں ہے کہ مثلا یہ فرض کر لیجئے کہ ٹرمپ کا دور ‏ختم ہوا تو یہ کہا جائے کہ دشمنی ختم ہو گئی۔ نہیں، اوباما کے امریکہ نے بھی آپ کے ساتھ بدی کی، ملت ایران کے ساتھ بدی کی، تین ‏یورپی ممالک کا بھی وہی حال ہے۔
دیدار کو بے قرار

دیدار کو بے قرار

حقیر کے لئے اس پوری مدت میں عوام سے ملاقات بڑی مسرت بخش رہی ہے اور عوام الناس سے ملاقات میرے لئے بڑی پرکشش ہوتی ہے کہ لوگوں کی باتیں سنوں، اپنی بات کہوں۔ مختلف عوامی طبقات سے ملاقات کروں۔ یہ حقیر اور خطرناک دشمن، یعنی کورونا وائرس جو بہت حقیر اور چھوٹا بھی ہے لیکن بہت خطرناک بھی ہے، اس نے رکاوٹ ڈال دی ہے۔ دوسری بہت سی دلچسپی کی چیزوں کی مانند یہ موقع بھی ہم سے سلب کر لیا۔
سلیمانی نے اپنی زندگی میں بھی اور شہادت کے بعد بھی امریکہ کو شکست ‏دی

سلیمانی نے اپنی زندگی میں بھی اور شہادت کے بعد بھی امریکہ کو شکست ‏دی

شہید سلیمانی نے اپنی زندگی میں بھی استکبار کو ‏شکست دی اور اپنی شہادت کے ذریعے بھی اسے ‏شکست سے دوچار کیا۔ یہ صرف دعوی نہیں ہے۔ یہ ثابت شدہ حقائق ہیں۔
1992 میں رہبر انقلاب نے نیلسن منڈیلا سے کیا کہا تھا؟

1992 میں رہبر انقلاب نے نیلسن منڈیلا سے کیا کہا تھا؟

اپارتھائیڈ رژیم سرنگوں ہو گئی۔ یہ بھی سرنگوں ہوگی، یہ رژیم بھی واقعی نسل پرست، اپارتھائیڈ دروغگو، خبیث صیہونی حکومت ہے، یہ بھی سرنگوں ہوگی۔