افسوس ناک ہے کہ مسئلہ فلسطین میں اسلامی حکومتیں صیہونی حکومت کی مدد کر رہی ہیں۔ صیہونی جب کسی ملک میں قدم رکھتے ہیں تو مچھر کی طرح اس ملک کا خون چوستے ہیں، اپنے فائدے کے لئے۔
امام خامنہ ای
مغربی حکومتوں نے اپنے فریضے پر عمل نہیں کیا۔ بعض نے زبانی کوئي بات کہہ دی۔ لوگوں کی حمایت میں لیکن عمل میں نہ صرف یہ کہ انھوں نے روکا نہیں بلکہ ان میں سے اکثر نے مدد بھی کی۔
امام خامنہ ای
یہ چیز کہ فلسطین کا مسئلہ لندن میں، پیرس میں اور واشنگٹن میں پہلے نمبر کا ایشو بن جائے معمولی بات نہیں ہے۔ اس کی نظیر نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ عالم اسلام میں ایک نئی تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔
امام خامنہ ای
جب صیہونی حکومت شام میں ایران کی کونسلیٹ پر حملہ کرتی ہے تو اس نے گویا ہماری سرزمین پر حملہ کیا ہے۔ خبیث حکومت نے غلطی کر دی، اسے سزا ملنی چاہئے اور سزا ملے گی۔
امام خامنہ ای
اور خود خبیث حکومت نے جو سر سے پیر تک خباثت، شر انگيزی اور حماقتوں سے بھری ہوئي ہے ایک اور حماقت اپنی حماقتوں کی فہرست میں بڑھا لی اور وہ شام میں ایران کے قونصل خانے پر حملہ تھا۔
امام خامنہ ای
رحمٰن، وہ عام رحمت الہی ہے جس کا دائرہ تمام موجودات تک پھیلا ہوا ہے لیکن کم عرصے کے لیے۔ رحیم یعنی اللہ کی وہ رحمت جو مومنوں سے مختص ہے اور کسی خاص وقت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہے۔
امام خامنہ ای