8 سے 10 جنوری تک، مسلح تخریب کار میدان میں آئے۔ پہلی بار احتجاج میں آتشیں ہتھیار دیکھے گئے۔ جو کچھ ہوا، وہ اب احتجاج نہیں رہا، یہ کھلم کھلا تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور منظم طور پر عوامی املاک کی تباہی کے ساتھ مسلحانہ شورش تھی۔