انقلاب اسلامی کے آغاز سے لے کر آج تک، ایران پر امریکی تسلط کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ وہ اب بھی اس فکر میں ہیں کہ ایران کو دوبارہ اپنے فوجی، سیاسی اور معاشی تسلط میں لے آئیں۔ یہ معاملہ صرف موجودہ امریکی صدر تک محدود نہیں، بلکہ یہ امریکا کی پالیسی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر حکومت ایران فلاں کام کرتی ہے تو میں آ کر بلوائیوں کی حمایت کروں گا۔ بلوائی اس پر خوش ہیں! حالانکہ اگر اس میں صلاحیت ہے تو اپنا ملک سنبھالے۔
امیر المومنین کی عدالت کے بارے میں تو کوئی لب کشائی ہی نہیں کر سکتا۔ عدل علی کی توصیف ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کا ایک جملہ ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: "اگر مجھے سخت ترین ایذائیں دیں، میرے برہنہ جسم کو کانٹوں پر گھسیٹیں تب بھی یہ سب میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں قیامت کے دن خدا سے اس حال میں ملوں کہ کسی پر مجھ سے ظلم ہوا ہو! آپ غور کیجیے کہ یہ باتیں کون کر رہا ہے؟ وہ جس کی حکومت دریائے جیحون سے دریائے نیل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یعنی ایران، افغانستان، عراق اور مصر اس میں شامل تھے۔ یہ امیر المومنین کا عدل ہے۔
امام خامنہ ای
25 جون 2024
"دشمن سے مقابلے کا جذبہ" بہت اہم ہے۔ جب ایک جوان میں، اپنی جوانی کی سمجھ پیدا ہوتی ہے- یعنی جب وہ لڑکپن اور نوجوانی کی سرحدوں سے آگے نکل جائے- تو وہ محسوس کرتا ہے کہ ملک کے تعلق سے اس پر ایک فریضہ ہے جسے انجام دے، ایسے افراد ہیں جو اس گھات میں بیٹھے ہیں کہ اس کےگھر کو، اس کے ملک کو، اس کے ثقافتی اور مدنی سرمایہ کو، اس کی پایدار وراثتوں کو چھین لیں، تو وہ ان کے مقابلے میں ڈٹنا چاہتا ہے؛ یہ انسان کے اندر موجود ایک جذبہ ہے۔
امام خامنہ ای
16 دسمبر 2025
صوبہ البرز کے شہیدوں پر سیمینار کے منتظمین سے ملاقات
آپ نے اظہار عقیدت کے پروگراموں کی تفصیل کے دوران اچھی باتیں پیش کیں...کتاب کے لئے کوئی پڑھنے والاہونا، جس فلم کے لئے کوئی دیکھنے والا ہونا چاہئے، اس کے لئے کوشش کی ضرورت ہے؛ یعنی اگر آپ اپنے کام کو ہوشیاری سےانجام نہ دیں، اس کی پیروی نہ کریں، کام کے مختلف زاویوں کو مدّنظر نہ رکھیں، تویہ جو کوشش انجام پائي ہے، وہ اپنے نتیجے تک نہیں پہنچے گی...کسی اچھے کام کو کرنےکی سوچ اور اسے انجام دینے کی منصوبہ بندی، اس کام کا آدھا حصّہ ہے؛ باقی آدھاحصّہ جو زیادہ اہم ہے، وہ پیروی ہے، اس کام کے لئے عمل کرنا ہے اور آپ کو اسے انجام دینا ہے۔
امام خامنہ ای
16 دسمبر 2025
صوبہ البرز کے شہیدوں پر سیمینار کے منتظمین سے ملاقات
اگر ہم شہداء کے کام کی عظمت کو صرف جذبات میں اٹھائے گئے قدم تک محدود کر دیں تو ہم نے ظلم کیا ہے۔
امام خامنہ ای
16دسمبر 2025
صوبہ البرز کے شہیدوں پر سیمینار کے منتظمین سے ملاقات
ہمارے آج کے نوجوان بہت اچھے اور تیار ہیں، ہمارا پروگرام اس طرح کا ہو کہ ہم ان اقدار کو جن سے یہ شہادتیں وجود میں آئیں، ایرانی قوم میں یہ ایثار اور عظمت پیدا ہوئی، بیان کر سکیں اور آئندہ نسل میں منتقل کر سکیں تاکہ وہ ان شاء اللہ ملک کو آگے لے جا سکیں معاشرے کو آگے لے جا سکیں۔
امام خامنہ ای
16 دسمبر 2025
صوبہ البرز کے شہیدوں پر سیمینار کے منتظمین سے ملاقات
ایک نظریے کے مطابق صیہونی حکومت نے اس جنگ کے لیے بیس برس تک منصوبہ بندی اور تیاری کی تھی۔ بیس سال سے منصوبہ بندی اس لیے کہ ایران میں جنگ چھیڑی جائے، عوام کو بھڑکایا جائے کہ وہ اسلامی نظام کے خلاف محاذ آرا ہو جائیں مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور وہ پوری طرح ناکام ہو گئی۔
امام خامنہ ای
27 نومبر 2025
اگر آپ دیکھتے ہیں کہ خداوند عالم نے آپ کے خمیر کو اعلیٰ قرار دیا ہے تو وہ اس لیے ہے کہ وہ جانتا تھا کہ یہ ہستی عالم مادہ میں، بشری دنیا میں، امتحان میں سرخرو رہے گی۔ امتحنک اللہ الذی خلقک قبل ان یخلقک فوجدک لما امتحنک صابرۃ (خالق کائنات نے آپ کی خلقت سے قبل آپ کا امتحان لیا اور اس میں آپ کو صابرہ پایا۔) بات یہ ہے۔ اگر خداوند عالم اس ہستی کے خمیر کی تیاری میں خاص لطف سے کام لیتا بھی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جانتا ہے کہ وہ کس طرح امتحان میں کامیاب ہوگی۔ ورنہ بہت سے لوگ ہیں جن کا خمیر اچھا تھا لیکن کیا ان میں سے ہر ایک امتحان میں کامیاب رہا؟ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا یہ حصہ وہی ہے جس کی ہمیں اپنی نجات کے لیے ضرورت ہے۔
امام خامنہ ای
24 نومبر 1994
اسلام، حضرت فاطمہ کو عورت کے آئیڈیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ ان کی ظاہری زندگي، وہ ان کا جہاد، وہ ان کی جدوجہد، وہ ان کا علم، وہ ان کی تقریر، وہ ان کی ملکوتی شخصیت، وہ ان کی روحانیت کی درخشندگی، المختصر وہ ان کا امیر المومنین اور پیغمبر کے ہم وزن اور ہم پلہ ہونا۔
امام خامنہ ای
16 جنوری 1990
اسلام کی نظر میں عورت کے تشخص کا جامع روڈ میپ یہ ہے؛ اچھی ماں، اچھی زوجہ، اللہ کی راہ کی مجاہد اور ساتھ ہی خاتون خانہ، گھر چلانے والی اور اسی کے ساتھ عابد اور خداوند عالم کی کنیز۔
امام خامنہ ای
3 فروری 2021
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بظاہر ایک انسان اور ایک خاتون ہیں اور وہ بھی جوان خاتون لیکن بباطن وہ ایک عظیم حقیقت، ایک درخشاں نور الہی، اللہ کی ایک صالح کنیز اور ایک ممتاز اور برگزیدہ انسان ہیں۔
امام خامنہ ای
16 جنوری 1990
یہ روحانی منزلت، یہ وسیع میدان اور یہ اونچی چوٹی کائنات کی تمام خواتین کے سامنے ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس عظیم چوٹی کی بلندی پر کھڑی ہیں اور دنیا کی تمام خواتین کو اسے سر کرنے کی دعوت دے رہی ہیں۔
امام خمینی
16 جنوری 1990
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عالی مرتبت بیٹی ہیں، ایسی بیٹی کہ جن کے ہاتھوں کو پیغمبر بوسہ دیتے ہیں، ان کے آنے پر تعظیم کو سروقد کھڑے ہو جاتے ہیں، جب بھی سفر درپیش ہوتا ہے تو وہ آخری گھر جہاں آنحضرت جاتے ہیں اور وہاں سے سفر شروع کرتے ہیں، حضرت زہرا کا گھر ہوتا ہے، سفر سے لوٹنے پر وہ پہلی جگہ جہاں آپ تشریف لے جاتے ہیں اور سلام کرتے ہیں، حضرت فاطمہ کا گھر ہے، وہ ایسی بیٹی ہیں۔
امام خامنہ ای
3 فروری 2021
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں انسان جتنا زیادہ سوچے اتنا ہی زیادہ حیرت زدہ ہوتا جائے گا۔ انسان نہ صرف اس پہلو سے متعجب ہو جاتا ہے کہ کس طرح ایک انسان نوجوانی میں مادی و روحانی کمالات کے اس درجے پر فائز ہو سکتا ہے بلکہ اس پہلو سے بھی اسے حیرت ہوتی کہ اسلام نے کتنی حیرت انگیز طاقت سے اپنے تربیتی پہلو کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ ایک نوجوان خاتون، ان دشوار حالات میں اس اعلیٰ درجے پر فائز ہو سکتی ہے! اس عظیم انسان کی عظمت بھی متحیر کر دیتی ہے اور اس مکتب کی عظمت بھی حیرت میں ڈال دیتی ہے جس نے اس عظیم منزلت والے انسان کو وجود عطا کیا ہے۔
امام خامنہ ای
16 دسمبر 1992
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آئیڈیل اسلامی خاتون کی بالاترین سطح پر ہیں، یعنی ایک رہبر کی سطح پر لیکن یہی خاتون، جو اپنے اندر پائے جانے والے فضائل و مناقب کے لحاظ سے پیغمبر ہو سکتی تھی، ماں کا کردار ادا کرتی ہے، زوجہ کا کردار ادا کرتی ہے، گھر کے کام کرتی ہے، ان چیزوں کو سمجھنا چاہیے۔
امام خامنہ ای
19 مارچ 2017
پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہم امریکہ سے ہمیشہ تعلقات منقطع رکھیں گے؟ امریکہ کا استکباری مزاج سرینڈر کے سوا کسی اور چیز کو قبول ہی نہیں کرتا۔ امریکہ کے موجودہ صدر نے یہ زبان سے کہہ کر درحقیقت امریکہ کی حقیقت بے نقاب کی ہے۔ ایران جیسی عظیم قوم کے لیے سرینڈر ہونے کا کیا مطلب ہے؟
1956 میں کفر قاسم گاؤں میں صیہونیوں کے ہاتھوں قتل عام کی برسی اس خونخوار حکومت کی درندگي کو بخوبی عیاں کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس قتل عام میں 48 یا 49 افراد شہید ہوئے۔ اس تعداد میں فرق کی وجہ ایک حاملہ عورت کی شہادت تھی جس کے بچے کی شہادت بعد میں رجسٹر ہوئی!
امریکی صدر کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردی سے لڑ رہے ہیں۔
بیس ہزار چار سال اور پانچ سال کے اور نوزائیدہ بچوں کو تم نے مار ڈالا!
یہ دہشت گرد تھے؟ دہشت گرد تم ہو!
امام خامنہ ای
20 اکتوبر 2025
آج ہم یورینیم کی افزودگي کے لحاظ سے ایک اونچی سطح پر ہیں۔ دنیا کے دو سو سے زائد ملکوں میں صرف دس ملک ہیں جو یورینیم کی افزودگي کر سکتے ہیں، ان دس میں سے ایک اسلامی مملکت ایران ہے۔ ہم اس صنعت کے حامل دس ملکوں میں سے ایک ہیں۔ (2025/9/23) وہ (امریکی صدر) فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے ایرانی سائنسدانوں کو قتل کر دیا، تم نے طہرانچی اور عباسی جیسے سائنسدانوں کو قتل کر دیا لیکن تم ان کے علم کو قتل نہیں کر سکتے۔ (2025/10/20)
بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کے فوجیوں نے 29 جنوری 2024 کو غزہ کے تل الہوا محلے میں ایک گاڑی پر، جس میں چھے سالہ فلسطینی بچی ہند رجب موجود تھی، 335 گولیاں ماریں اور اسے قتل کر دیا۔
اس وقت عالمی انسانی حقوق کے اعلانیے کا امتحان ہو رہا ہے۔ یہ اعلانیہ، جو مغربی مفکرین کے ہاتھوں اور دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا پر ان کا تسلط قائم ہو جانے کے بعد تحریر کیا گیا تھا، آج غزہ میں روزانہ صیہونیوں کے ذریعے روندا جا رہا ہے۔ اور "عالمی برادری" خاموش رہ کر، نہ صرف اپنے ہی لکھے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کی حمایت کر رہی ہے بلکہ صیہونیوں کو مالی اور عسکری امداد بھی فراہم کر رہی ہے۔
امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو امریکا پر ہمارا جوابی حملہ بہت حساس قسم کا تھا۔ جب ان شاء اللہ سینسرشپ ختم ہوگی، تب واضح ہوگا کہ ایران نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے۔
جو بھی امریکا اور بعض دوسرے ملکوں میں انسانی حقوق کی حمایت کے دعووں کے جھوٹے ہونے کو آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے وہ سریبرینیتسا کے واقعات کو دیکھے۔ جو بھی سلامتی کونسل کی نااہلی کو دیکھنا چاہے، جو اقوام کی سیکورٹی کے نام پر وجود میں آئي ہے، وہ سریبرینیتسا کو دیکھے۔
امام خامنہ ای
جولائي 1995
فلسطین پر قابض مجرم صیہونی گینگ نے ناقابل یقین درندگي اور عدیم المثال بے رحمی اور شر انگيزی کے ساتھ غزہ کے المیے کو ایک ناقابل یقین حد تک پہنچا دیا ہے۔ اس انسانی المیے کے سامنے کسے کھڑا ہونا چاہیے؟ بلاشبہ یہ فریضہ سب سے پہلے اسلامی حکومتوں پر عائد ہوتا ہے اور پھر اقوام پر جو اپنی حکومتوں سے اس فریضے کی انجام دہی کا مطالبہ کریں۔
امام خامنہ ای کے پیغام حج سے اقتباس
30 مئی 2025
دشمنوں نے یورینیم افزودگی کو ہی نشانہ بنایا ہے۔ اگر افزودگی کی صلاحیت نہ ہو تو جوہری صنعت بے کار ہے کیونکہ پھر ہمیں اپنے پلانٹس کے ایندھن کے لیے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑے گا۔
امام خامنہ ای
4 جون 2025
یہ کہ صدر شہید رئیسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرآن ہاتھ میں اٹھائيں یا شہید سلیمانی کی تصویر اپنے ہاتھ میں لیں، یہ قوم کے لیے شرف ہے۔
امام خامنہ ای
20 مئي 2025
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امن کے لیے طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ امریکا نے کب، امن کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے؟
امام خامنہ ای
17 مئی 2025
کون کہہ سکتا ہے کہ ان وحشیانہ مظالم اور خونریزی کے سامنے انسان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ کون یہ بات کر سکتا ہے؟ ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
امام خامنہ ای
12 مئی 2025
خداوند عالم نے انبیاء اور اولیاء کو بھی نعمت عطا کی ہے اور بنی اسرائيل کو بھی۔ "مغضوب علیھم" یعنی جن پر خدا کا غضب ہوا اور "ضالّین" یعنی گمراہ لوگ بھی ان میں شامل ہیں جنھیں اللہ نے اپنی نعمت عطا کی ہے۔ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ خدا کچھ لوگوں کو نعمت عطا کرتا ہے اور کچھ کو گمراہ کرتا ہے اور ان پر غضب کرتا ہے، ایسا نہیں ہے۔ "المَغضوبِ عَلَيھِم"، "اَنعَمتَ عَلَيھِم" کی صفت ہے۔ تاہم جن لوگوں کو خدا نے نعمتیں عطا کی ہیں، وہ دو طرح کے ہیں: ایک وہ جنھوں نے اپنے عمل سے، اپنی تساہلی سے، اپنی گمراہی سے نعمت کو برباد کر دیا۔ دوسرے وہ جنھوں نے کوشش اور شکر کے ذریعے نعمت کو باقی رکھا۔ بنی اسرائیل بھی ان لوگوں میں سے تھے جنھیں خدا نے بڑی نعمت عطا کی تھی جس کے سبب انھیں دوسروں پر فضیلت مل گئی تھی لیکن وہ اللہ کے غضب کا نشانہ بن گئے۔ ہماری کسوٹی اور ہمارا معیار، سیدھے راستے کا وہ راہرو ہونا چاہیے جسے اللہ نے نعمت عطا کی ہو اور جو اس کے غضب کا نشانہ نہ بنا ہو۔
امام خامنہ ای
10 جولائی 2013
پہلی خصوصیت یہ ہے کہ ان پر اللہ نے انعام و احسان کیا ہو۔ قرآن میں کہا گيا ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء کو بھی، صدیقین کو بھی، شہداء کو بھی اور صالحین کو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، انھوں نے راہ حق کو تلاش کر لیا، گمراہ بھی نہیں ہوئے اور غضب الہی کا نشانہ بھی نہیں بنے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے بھرپور نعمت عطا کی، ان پر غضب نہیں کیا اور وہ لوگ اپنی پاکیزہ سیرت اور ثابت قدمی کی وجہ سے ذرہ برابر بھی گمراہی کی طرف نہیں بڑھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اہلبیت اور ائمہ علیہم السلام ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا چاہیے۔ اب اگر دنیا کی اکثریت دوسری طرح بات کرتی ہے، دوسری طرح عمل کرتی ہے تو ہمیں ہدایت الہی کو تسلیم یا مسترد کرنے کے لیے اپنی عقل اور اپنے دین کی کسوٹی بنانا چاہیے۔ مومن اور مسلم امت، وہ امت ہے جو قرآن مجید سے، ہدایت الہی سے معیار حاصل کرتی ہے۔ یہی ٹھوس معیار ہے۔
امام خامنہ ای
10 جولائی 2013
سورۂ حمد میں ہمیں صراط مستقیم پر چلنے والوں کی نشانیاں بتائی گئی ہیں: صِراطَ الَّذينَ اَنعَمتَ عَلَيھِم۔ صراط مستقیم یا سیدھا راستہ، ان لوگوں کا راستہ ہے جنھیں تو نے نعمت عطا کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ نعمت کھانا، پینا نہیں ہے، ہدایت الہی کی نعمت ہے ... معنوی نعمت ہے جو سب سے بڑی الہی نعمت ہے۔ یہ ان لوگوں کی راہ ہے جنھیں تو نے نعمت عطا کی ہے، ان پر غضب نہیں کیا ہے اور وہ گمراہ بھی نہیں ہوئے۔ یہ تین خصوصیات ہونی چاہیے: خدا نے انھیں ہدایت کی نعمت عطا کی ہو، انھوں نے اپنے برے اعمال سے اس نعمت کو غضب الہی میں تبدیل نہ کیا ہو اور گمراہ بھی نہ ہوئے ہوں۔ اس راہ کے مصادیق آپ اپنے زمانے میں، گزشتہ زمانے میں، اسلام کے ابتدائي زمانے میں اور تاریخ میں بڑی آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔
امام خامنہ ای
11 جون 1997