اسلامی گھرانہ

2026 February
جب تک خدیجۂ کبریٰ، فاطمۂ زہرا اور زینب کبریٰ جیسی درخشاں شخصیات ہیں، تب تک خواتین مخالف قدیم و جدید حربے ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہماری ہزاروں کربلائی خواتین نے نہ صرف ظاہری ظلم و ستم کی سیاہ لکیروں کو درہم برہم کردیا ہے بلکہ خواتین پر کیے جانے والے ماڈرن مظالم کو ذلیل و رسوا اور بے آبرو کرکے رکھ دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ خواتین کی الہی عظمت و کرامت، عورت کے حقوق میں وہ عظیم ترین حق ہے، جس سے ماڈرن دنیا ہرگز آشنا نہیں ہے اور اب اس سے آشنائی کا وقت آچکا ہے۔ امام خامنہ ای 6 مارچ 2013
2026/02/07
January
 ظلم، امتیازی سلوک، توہین ہر حال میں غلط ہے۔ اگر آپ دنیا کے سب سے اچھے مرد ہوں اور آپ کی زوجہ مثال کے طور پر تعلیم اور معلومات کے لحاظ سے ایک کم تعلیم یافتہ خاتون ہو یا ایک نچلے طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو، تب بھی آپ کو اس پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنے یا اس کی تھوڑی سی بھی توہین کرنے کا حق نہیں ہے، زوجہ وہی زوجہ ہے ابد تک کے لیے۔ شوہر کو زوجہ کی ذرہ برابر بھی توہین کا حق نہیں ہے۔ عورت کو بھی شوہر کی اہانت کا حق نہیں ہے۔ کبھی خاتون ایک پڑھی لکھی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت ہوتی ہے جس کی شادی مثال کے طور پر ایک مزدور سے ہوئي ہے۔ اسے بھی شوہر کی توہین و تذلیل کا حق نہیں ہے۔ مرد بہرحال اس کے لیے سہارا ہے۔ اسے اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 21 فروری 2000
2026/01/31
شادی کی عمر کا مسئلہ بھی، جس پر اسلامی کتابوں میں زور دیا گیا ہے کہ شادی کی عمر کہیں بہت زیادہ نہ ہوجائے اور جوانوں کو جلدی شادی کرلینی چاہیے، جنسی کشش کے خطرے سے حفاظت کی وجہ سے ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچوں کی شادی کر دی جائے، جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، جی نہیں، نوجوان اور جوان لڑکے اور لڑکیاں، مرد اور عورت جہاں تک ہو سکے بروقت شادی کرلیں تو یہ اسلام کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہے، خود ان کے لیے بھی یقیناً بہت بہتر ہے اور معاشرے کے لیے بھی بہت اچھا ہے۔ امام خامنہ ای 27 دسمبر 2023
2026/01/24
اگر گھرانے میں عورت کو نفسیاتی اور اخلاقی تحفظ حاصل ہو، سکون اور اطمینان ہو تو حقیقت میں شوہر اس کے لیے لباس سمجھا جاتا ہے جیسا کہ وہ شوہر کے لیے لباس ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے درمیان محبت، مودت اور رحمت رہے اور اگر گھرانے میں "لھنّ مثل الذی علیھنّ" (عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔ سورۂ بقرہ، آيت 228) کی پابندی کی جائے تو پھر  گھر سے باہر کے مسائل عورت کے لیے قابل برداشت ہو جائیں گے اور وہ انھیں کنٹرول کر لے گي۔ اگر عورت، اپنے گھر میں اپنے اصل محاذ پر اپنے مسائل کو کم کر سکے تو یقینی طور پر وہ سماجی سطح پر بھی یہ کام کر سکے گي۔ امام خامنہ ای 4/1/2012
2026/01/17
اگر نسلیں، اپنے ذہنی اور فکری نتائج بعد کی نسلوں تک منتقل کرنا چاہتی ہیں اور معاشرہ اپنے ماضی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو یہ صرف گھر اور خاندان کے ساتھ ممکن ہے۔ گھر کے ماحول میں ہی سب سے پہلے ایک انسان کی پوری شخصیت اس معاشرے کی تہذیبی بنیادوں پر شکل اختیار کر تی ہے اور یہ ماں باپ ہی ہیں جو بالواسطہ طور پر کسی بھی قسم کے تصنع کے بغیر بالکل قدرتی انداز میں انسان کے ذہن وفکر و عمل پر اثر مرتب کرتے اور اپنی معلومات، عقائد اور مقدسات وغیرہ اپنے بعد کی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2001
2026/01/10
بہت سی بیویاں ہیں جو اپنے شوہروں کو جنتی بنا دیتی ہیں اور بہت سے شوہر ہیں جو اپنی بیوی کو حقیقی معنی میں سعادتمند کردیتے ہیں اور اس کا الٹا بھی ہے ممکن ہے (شادی سے پہلے) مرد اچھے ہوں اور ان کی بیویاں ان کو جہنمی بنا دیں۔ یا بیویاں اچھی رہی ہوں کہ جن کو ان کے شوہروں نے جہنمی بنا دیا ہو۔ چنانچہ اگر شوہر اور زوجہ دونوں اس بات پر توجہ دیں تو وہ اچھی نصیحتوں کے ذریعے اور اچھے باہمی تعاون سےگھر کے اندر دین و اخلاق کی باتیں کرکے اور وہ بھی زبانی باتوں کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے عمل وکردار کے ذریعے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ایسی صورت میں زندگی واقعی مکمل اور خوبصورت ہوجائے گی۔ امام خامنہ ای 2 مارچ 1999
2026/01/03
2025 December
عورت کی ایک اہم ترین ذمہ داری گھر کی خانہ داری ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ میرا یہ ماننا نہیں ہے کہ عورتوں کو سیاسی اور سماجی کاموں سے دور رہنا چاہیے، نہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر اس کے معنی یہ لیے جائيں کہ ہم "خانہ داری" کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تو یہ گناہ ہوگا۔ خانہ داری، ایک کام ہے، بڑا کام ہے، اہم ترین و حساس ترین کام ہے، مستقبل ساز کام ہے۔ افزائش نسل ایک عظیم مجاہدت ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئی 2013
2025/12/27
اسلام نے حقیقی معنیٰ میں خواتین کا بہت زیادہ احترام کیا ہے۔ اگر اس نے گھر کے اندر ماں کے کردار اور ماں کے احترام پر زور دیا ہے یا گھر کے دائرے میں رہ کر ایک خاتون کے گھریلو کردار، اثرات، حقوق و فرائض اور حد بندیوں پر تاکید ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسلام ایک خاتون کو سماجی مسائل میں شرکت، سماجی جدوجہد میں حصہ لینے اور عوامی سرگرمیوں میں مشغولیت سے منع کرتا ہے۔ عورت کو ایک اچھی ماں اور اچھی بیوی بھی ہونا چاہیے اور سماجی امور میں بھی شرکت کرنا چاہیے۔ حضرت جناب فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) اسی طرح کی سماجی شخصیت کا مظہر ہیں، زینب کبریٰ (سلام اللہ علیھا) میں مختلف پہلوؤں کا اکٹھا ہونا ایک اور نمونہ ہے۔ امام خامنہ ای 27 جولائی 2005
2025/12/20
پرانے زمانے میں زیادہ تر کہا جاتا تھا کہ لڑکی کو نبھانا چاہیے، جیسے وہ اس بات کے قائل تھے ہی نہیں کہ لڑکے کو بھی نبھانا چاہیے۔ نہیں! اسلام یہ بات نہیں کہتا؛ اسلام کہتا ہے کہ شوہر اور زوجہ دونوں کو نبھانا چاہیے، دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بنا کر رکھنا چاہیے اور یہ طے کرنا چاہیے کہ گھریلو زندگی ایک دوسرے سے عشق و محبت کے ساتھ، پورے اطمینان و سکون اور شفاف طریقے سے گزاریں گے، جاری رکھیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ اگر ایسا ہو گیا جو کہ انشاء اللہ اسلامی تربیت کے ساتھ کرنا مشکل بھی نہیں ہے تو یہ گھرانہ وہی صحیح سالم گھرانہ ہوگا جیسا اسلام چاہتا ہے۔ امام خامنہ ای 2 اگست 1995
2025/12/13
بیرون خانہ اپنی مصروفیات کے سبب جو خواتین بچوں کی پیدائش سے گریز کرتی ہیں اور انسانی فطرت کے برخلاف زنانہ احساسات کا گلا گھونٹتی ہیں، خداوند عالم ان کے اس عمل سے راضی نہیں ہے۔ جو خواتین اولاد کی پیدائش، اولاد کی پرورش، بچے کو دودھ پلانے اور مہرومحبت کے ساتھ اسے اپنی آغوش میں پالنے اور بڑا کرنے پر دیگر امور کو، جو ان کے بغیر بھی ممکن ہیں، ترجیح دیتی ہیں، ایک بڑی غلطی کا شکار ہیں۔ انسان کے بچے کی تربیت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مہرومحبت کے ساتھ ماں کی آغوش میں اس کی پرورش ہو۔ امام خامنہ ای 10 مارچ 1997
2025/12/06