"نماز" حقیقی معنیٰ میں دین کا عمود یعنی ستون ہے۔ عمود اور ستون کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو چھت ڈھے جائے گي، عمارت، عمارت نہیں رہے گي، نماز یہ ہے۔ لہٰذا دین کا پورا ڈھانچہ نماز پر ٹکا ہوا ہے۔ کون سی نماز اس ڈھانچے کی حفاظت کرسکتی ہے؟ وہ نماز جو مطلوبہ خصوصیات کی حامل ہو: جو تمام برائیوں اور ممنوعہ چیزوں سے روکے، جو ذکر پروردگار کے ہمراہ ہو۔ میری نظر میں مسجدوں کے محترم ائمہ جماعت کے لیے ایک اہم کام لوگوں کے سامنے نماز کے مسئلے کو بیان کرنا ہے کہ ہم نماز کی قدر و منزلت کو سمجھیں۔ اگر یہ (کام) ہو گیا تو نمازوں کا معیار بہتر ہو جائے گا۔ حقیقت امر یہ ہے کہ عموماً ہماری نمازیں یا تو معیار سے عاری ہوتی ہیں یا ان میں ضروری معیار نہیں ہوتا۔ ہمیں نماز کے اذکار کی گہرائیوں تک پہنچنا چاہیے۔
امام خامنہ ای
21 اگست 2016