صدر مسعود پزشکیان نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: تدبر اور دور اندیشی، ظلم کے خلاف پامردی اور استقامت، امام خمینی اور اسلامی انقلاب کے اہداف سے وابستگی، شفقت اور محبت، علم اور حلم، صداقت اور پروردگار متعال پر خالصانہ ایمان نے امام خمینی (رحمت اللہ علیہ) کے ساتھ ہم عصر تاریخ کی بلندیوں پر عظیم الشان شہید امام خامنہ ای کا ایک لازوال اور لافی نام چھوڑا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ایران اسلامی کے عظیم الشان رہبر اور ملک کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے قتل کی صورت میں امریکا اور صہیونی حکومت کی دہشت گردانہ کارروائی، ملک کی سالمیت اور قومی خودمختاری کے خلاف فوجی جارحیت کی شکل میں، انسانی معاشرے کے تمام تسلیم شدہ اصولوں اور اخلاقی بنیادوں کے خلاف بے مثال جارحیت اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی بنیادی دفعات کی سب سے صریح خلاف ورزی ہے۔

مجلس خبرگان کے سربراہ آیت اللہ موحدی کرمانی نے اپنے پیغام میں زور دیا: آج ہم اس رہبر کے سوگ میں بیٹھے ہیں جس نے اپنے سینتیس سالہ فرایض منصبی کے دوران، اسلامی طرز حکمرانی کا ایک نیا باب رقم کیا اور ہم اس عظیم شخصیت کی جدائی کے سوگ میں بیٹھے ہیں جو روح کی پاکیزگی، ایمان کی مضبوطی، امور کی تدبیر، مستکبرین کے سامنے بہادری اور فی سبیل اللہ جہاد میں اپنے عہد کی بے مثال شخصیت تھا۔

مراجع تقلید میں سے ایک آيت اللہ جعفر سبحانی نے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا: حضرت آيت اللہ خامنہ ای اس فرمان کی حقیقی مثال تھے کہ "انما الحیاۃ عقیدۃ و جہاد" نوجوانی سے لے کر اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات تک، وہ قلم، بیان اور جان و دل سے، اسلام کی تعلیمات کی تشریح اور ملک کی حکیمانہ قیادت کے لیے کوشاں رہے۔

مراجع تقلید میں سے ایک آیت اللہ مکارم شیرازی نے اپنے پیغام میں کہا: ملت ایران اور عالم اسلام، انقلاب کے شہید رہنما کا انتقام لیں گے۔ اس جرم کے اصل ذمہ دار ظالم امریکا اور منحوس صہیونی حکومت ہیں اور یہ انتقام لینا، دنیا کے تمام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے تاکہ ان جرائم پیشہ افراد کے شر کو دنیا سے مٹایا جا سکے۔

مراجع تقلید میں سے ایک، آیت اللہ نوری ہمدانی نے اپنے پیغام میں کہا: ایران کے اسلامی انقلاب کے حکیم اور بہادر رہنما حضرت آیت اللہ خامنہ ای (رضوان اللہ تعالی علیہ) کی شہادت، ایک طویل عرصے تک اخلاص، مجاہدت اور بندگی کا صلہ تھی کہ پروردگار عالم نے انھیں ان کی دائمی آرزو اور ان کی دعاؤں میں ہمیشہ طلب کی جانے والی چیز سے ہمکنار کر دیا۔

تشخیص مصلحت نظام کونسل کے چیئرمین آیت اللہ صادق آملی لاریجانی نے اپنے بیان میں کہا: بے شک یہ ملکوتی عروج، سالہا سال کی خالصانہ بندگی، مسلسل مجاہدت اور سچے اسلام کے اہداف کے حصول اور عظیم الشان امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے نورانی راستے کو جاری رکھنے میں حکیمانہ صبر کا صلہ تھا۔

امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے پوتے سید حسن خمینی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا: خامنہ ای عزیز، باعظمت تھے اور باعظمت رہے اور سرخ موت کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ایران کے عوام اور دنیا کے مسلمانوں کے ہیرو رہیں گے۔

عراق کے مشہور مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی نے اپنے پیغام میں کہا: اس بزرگوار کا بلند مقام اور کئی برسوں تک اسلامی جمہوری نظام کی قیادت میں ان کا منفرد کردار سب پر عیاں ہے۔ بے شک دشمن انھیں شہید کر کے اور ملک پر وسیع پیمانے پر فوجی حملے کر کے عزیز ایران کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس سرزمین کی عظیم قوم سے توقع ہے کہ وہ ان مشکل اور حساس حالات میں، قومی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھ کر، حملہ آوروں کو ان کے برے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دے گی۔

عراق کے صدر عبداللطیف رشید نے ایک بیان میں ایرانی قوم سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی، اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کی ایک کلیدی شخصیت ہیں۔

عراق کی حکومت نے بھی ایک بیان میں زور دے کر کہا ہے کہ سید شہید حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی ایرانی عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دی اور آخر میں شہادت کا تاج پہن لیا۔ وہ ہمیشہ حقیقت کی راہ پر چلے اور عالم اسلام اور پوری انسانیت کی خدمت کے لیے کوشاں رہے۔ ہم پورے عراق میں تین دن کے عام سوگ کا اعلان کرتے ہیں۔

عراق میں صدر دھڑے کے رہنما مقتدی صدر نے بھی ایک پیغام میں رہبر انقلاب کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم خداوند عالم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری طرف سے اس قربانی کو شہداء اور صدیقین کے درمیان قبول فرمائے، شہید کو غریق رحمت کرے اور انھیں ان کے اجداد کے ساتھ بہشت کے اعلی مقام میں محشور کرے۔ ہم عراق میں تین دن کے عام سوگ کا اعلان کرتے ہیں۔

عراق کے حکمت ملی دھڑے کے رہنما سید عمار حکیم نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ہم سے جدا ہونے والا یہ عظیم رہبر علم و دین کا مظہر اور صبر و استقامت کا ایک جلوہ تھا جس نے اپنی عمر علم دین کے حصول اور اسلام کے بلند اصولوں کو پھیلانے میں صرف کر دی۔ انھوں نے اپنی امت کے مسائل کو دور کرنے کی کوشش کی اور وہ اصولوں پر قائم رہنے اور پائیداری کے طرز عمل کے بانی تھے۔

عراق کے الحشد الشعبی دھڑے کے سربراہ فالح فیاض نے بھی ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ شہید امام خامنہ ای کئی عشروں سے ثابت قدمی، پائیداری اور تسلط پسندی اور سامراجی سازشوں کے مقابلے میں ایک مستحکم قیادت کے مظہر تھے۔ وہ کبھی بھی اپنی راہ سے نہیں ہٹے اور انھوں نے کبھی بھی امت کے اصولوں کا سودا نہیں کیا یہاں تک کہ انھوں نے اس راہ پر چلتے چلتے اپنی منزل یعنی شہادت کو پا لیا جسے وہ ہمیشہ افتخار کا سب سے بڑا میڈل سمجھتے تھے۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہیں اور ان کی یاد، ان کی زندگي اور ملت فلسطین کی حمایت میں ان کی کوششوں بھری راہ، منصفانہ اہداف اور شجاعانہ مزاحمت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک نے بھی ایک بیان جاری کر کے رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی ایک جنگی جرم ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن نے تمام انسانی اور اخلاقی معیاروں کو نظر انداز کر دیا ہے۔

فلسطین کی تحریک مجاہدین نے بھی رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایثار، جہاد اور عالمی سامراج سے مقابلے کی راہ پر مسلسل چلنے کے بعد انھیں یہ منزل حاصل ہوئی جس میں انھوں نے ایک ایسی مزاحمت کی قیادت کی جس نے امت کے بنیادی مسائل اور ان میں سرفہرست مسئلۂ فلسطین کی حیثیت اور اعتبار کو لوٹا دیا۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ میں ایسے عالم میں جب میں اس عظیم عالم اور رہبر ربانی کی شہادت کے سوگ میں بیٹھا ہوں، میرا دل درد و زخم سے بھرا ہوا ہے اور روح غم و اندوہ سے لبریز ہے لیکن اسی کے ساتھ مجھے بہت فخر و افتخار کا احساس بھی ہو رہا ہے کہ امت کا رہبر، اس کا رہنما اور سرپرست، سب سے بڑے مہینے اور بہترین دنوں یعنی ماہ رمضان میں، اس حال میں کہ وہ امریکی اور اسرائیلی ظالموں اور طاغوتوں کے خلاف جہاد و مزاحمت کی قیادت کر رہا تھا، اپنے پروردگار کی رحمت و رضوان کی طرف پرواز کر گیا۔

حزب اللہ لبنان نے بھی ایک بیان جاری کر کے رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ حتمی فتح کے حصول تک بدستور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اور دشمنوں کے مقابلے میں کھڑی رہے گی۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ رہبر ایران کا قتل تمام اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح اور گھناؤنی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے مزید کہا: رہبر ایران، روس میں ایک ممتاز سیاستداں کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنھوں نے روس اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات کی پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔