فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ محمد اسماعیل درویش نے سنیچر 8 فروری 2025 کو ایک وفد کے ساتھ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔ جس میں فلسطین کے موجودہ حالات اور خطے کے مسائل کے سلسلے میں اہم گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد حماس کی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ نے رہبر انقلاب کی ویب سائٹ khamenei.ir کو خصوصی انٹرویو دیا جس کے اہم حصے پیش خدمت ہیں۔
اگر شہید سنوار جیسے لوگ سامنے نہ آتے جو آخری لمحے تک لڑتے رہتے تو خطے کا انجام کچھ اور ہوتا، اب جب ایسے لوگ سامنے آ چکے ہیں تو یہ انجام کسی اور طرح کا ہے۔
امام خامنہ ای
29 اکتوبر 2024
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے 17 دسمبر 2024 کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت اور یوم نسواں سے قبل پورے ملک کے مختلف شعبوں سے وابستہ خواتین سے ملاقات میں اہم خطاب کیا۔(1)
رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے 7 نومبر 2024 کو رہبر انقلاب کا انتخاب اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کرنے والے والی چھٹی ماہرین اسمبلی 'مجلس خبرگان رہبری' کے دوسرے سیشن کے اختتام پر اسمبلی کے اراکین سے خطاب کیا۔ (1)
رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب:
لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ شہید سید حسن نصر اللہ اور فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ شہید یحیی سنوار نے اپنی شہادت سے کافی پہلے کچھ وعدے کیے تھے جو "وعدۂ صادق" تھے۔ کچھ وعدے ان کی حیات میں ہی پورے ہوئے اور کچھ ان کی شہادت کے بعد۔ اس مقالے میں ان کے انہی سچے وعدوں پر ایک نظر ڈالی گئي ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے فرزندان تہران میں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے دفتر پہنچے اور اس مزاحمتی تحریک کو آيت اللہ خامنہ ای کا سلام پہنچانے کے ساتھ ہی فلسطین کے مجاہد کمانڈر اور حماس کے پولت بیورو کے سربراہ شہید یحییٰ سنوار کی شہادت پر تہران میں اس تحریک کے نمائندے کو تہنیت و تعزیت پیش کی۔
صیہونی حکومت نے 7 اکتوبر 2023 کو فوجی، سیکورٹی اور انٹیلیجنس کے لحاظ سے ناقابل تلافی شدید ضرب کھانے کے بعد غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف بھیانک جرائم اور ان کے نسلی تصفیے کو اپنا ایجنڈا بنا لیا۔
اگر شہید سنوار جیسے افراد نہ ہوتے جو آخری لمحے تک لڑتے رہتے تو خطے کا مستقبل کسی اور طرح کا ہوتا۔ اگر شہید سید حسن نصر اللہ جیسے باعظمت افراد نہ ہوتے تو حرکت کسی اور طرح کی ہوتی، اب جب ایسے لوگ ہیں تو، حرکت کسی اور طرح کی ہے۔