زندگی کا میدان جدوجہد کا میدان ہے، جہاں انسان مستقل طور پر ایک طرح کے اضطراب سے دوچار رہتا ہے یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے۔ اگر یہ آرام و سکون صحیح طریقے سے میسر آجائے تو زندگی کامرانیوں کا مخزن بن جاتی ہے۔
امام خامنہ ای
پوری اسلامی دنیا کو چاہئے کہ فلسطین کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھے۔ یہ بڑی پر اسرار کنجی ہے جس سے ملت اسلامیہ کی گشائش کے دوازے کھل سکتے ہیں۔ فلسطین ملت فلسطین کو واپس ملنا چاہئے۔
14 اپریل 2006
صیہونیوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔ آج کی غاصب صیہونی حکومت پر حتمی طور پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے، ان کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
امام خامنہ ای
متعدد اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کی ان ایام کی پالیسیاں امریکی تیار کر رہے ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے امریکیوں کی پالیسیوں کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس صورت حال کے ذمہ دار امریکی ہیں۔
امام خامنہ ای
ان دنوں جو پالیسی چل رہی ہے، یعنی حالیہ ہفتے میں صیہونی حکومت کے اندر جو پالیسی چل رہی ہے، اسے امریکی طے کر رہے ہیں، مطلب یہ کہ پالیسی میکر وہ ہیں اور جو یہ کام ہو رہے ہیں، وہ امریکیوں کی پالیسی کے تحت ہیں۔۔
امام خامنہ ای
فلسطین کے مسئلے میں جو چیز ساری دنیا کی نگاہوں کے سامنے ہے وہ غاصب حکومت کے ہاتھوں ہونے والے نسلی صفایا ہے۔ یہ یہ چیز ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔
امام خامنہ ای
ان ہی چند دنوں میں غزہ کے کئي ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ جرم دنیا کے تمام لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ صیہونیوں پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ آج کی غاصب صیہونی حکومت پر قطعی طور پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔
امام خامنہ ای
غزہ کے کئي ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، ان ہی چند دنوں میں۔ یہ جرم دنیا کے تمام لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ آج کی غاصب صیہونی حکومت پر حتمی طور پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔
امام خامنہ ای
خدا کے حلم سے ایک انسان کا غلط فائدہ اٹھانا، گناہ پر گناہ کرتے جانا اور خدا کے عذاب سے خود کو محفوظ سمجھنا یہ سب کچھ خدا کے مقابل خود فریبی ہے۔
امام خامنہ ای