زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
اسلامی گھرانہ: بیوی کا کردار عشق و سکون کا ہے

اسلامی گھرانہ: بیوی کا کردار عشق و سکون کا ہے

گھرانے میں عورت، کبھی بیوی کے کردار میں سامنے آتی ہے، کبھی ماں کے کردار میں سامنے آتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی اپنی خصوصیات ہیں، بیوی کے کردار میں عورت سب سے پہلے آرام و سکون کا مظہر ہے کیونکہ زندگی تلاطم اور الجھنوں سے بھری ہوئي ہے۔ مرد اس دریائے زندگی میں کام کاج کی مشغولیت اور پریشانیوں سے الجھا ہوتا ہے۔ وہ جب گھر آتا ہے تو اسے آرام و سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اطمینان اور راحت چاہتا ہے۔ یہ چین اور سکون گھر میں بیوی پیدا کرتی ہے۔ مرد عورت کے پہلو میں آرام و سکون کا احساس کرے۔ عورت آرام وسکون کا سرچشمہ ہے ۔ عورت، بیوی کی حیثیت سے مکمل عشق اور آرام و سکون ہے۔ امام خامنہ ای 2 فروری 2023
آخری فرج کا انتظار

آخری فرج کا انتظار

ایک انتظار، آخری فرج کا انتظار ہے، وہ عدل وانصاف کی حکومت کے قیام سے عبارت ہے اور وہ (نجات دہندہ) آئے گا۔
پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو

پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو "فلسطین پر ریفرنڈم" کتاب تحفے میں دی گئی

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مسئلۂ فلسطین کے حل کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے بیانوں پر مشتمل کتاب "فلسطین پر ریفرنڈم" کا اردو نسخہ پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو پیش کیا۔
درس اخلاق: شریعت اور قرآنی معارف بشریت کے دکھوں کا علاج

درس اخلاق: شریعت اور قرآنی معارف بشریت کے دکھوں کا علاج

ظلمات وہ تمام چیزیں ہیں جنھوں نے پوری تاریخ میں انسان کی زندگی کو تاریک اور تلخ کر دیا ہے، زہر آلود کر دیا ہے۔ یہ سب ظلمات ہیں۔ جہالت ظلمت یعنی تاریکی ہے، غربت تاریکی ہے، ظلم تاریکی ہے۔ امتیازی سلوک تاریکی ہے، شہوات میں ڈوب جانا تاریکی ہے، اخلاقی برائیاں اور سماجی نقائص یہ سب ظلمات ہیں۔ یہ وہ تاریکیاں ہیں جنھوں نے پوری تاریخ میں بشریت کو رنج اور دکھ دیے ہیں۔ پیغمبر اعظم نے ان تمام مسائل کا حل، فکری حل بھی اور عملی حل بھی بشریت کے سامنے پیش کیا ہے۔ اگر ان مسائل سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو علاج یہ ہیں۔ یہ پیغمبر کی شریعت اور قرآنی تعلیمات، بشریت کے مسائل کا علاج ہیں۔ یہ پیغمبر اسلام نے بشریت کو پیش کیا ہے۔ امام خامنہ ای 3 اکتوبر 2023
تہران میں امریکی سفارتخانہ، انقلاب کے خلاف سازش کا مرکز تھا

تہران میں امریکی سفارتخانہ، انقلاب کے خلاف سازش کا مرکز تھا

امریکی سفارت خانے کا معاملہ یہ تھا کہ وہ انقلاب کے خلاف سازش کا مرکز تھا۔ لوگوں سے ملیں، لوگوں کو ورغلائيں، گروہ بنائيں، پچھلی حکومت کی ناخوش باقیات کو استعمال کریں اور اگر ممکن ہو تو فوج کو ایک ساتھ اکٹھا کریں اور انقلاب کے خلاف کارروائي کریں۔
اسلامی جمہوریہ اور امریکا کا اختلاف، بنیادی ہے

اسلامی جمہوریہ اور امریکا کا اختلاف، بنیادی ہے

امریکا کی سامراجی فطرت اور انقلاب کی خود مختارانہ فطرت آپس میں میل نہیں کھاتی تھی۔ اسلامی جمہوریہ اور ایران کا اختلاف ایک ٹیکٹکل اختلاف نہیں ہے، ایک جزوی اختلاف نہیں ہے، بلکہ ایک بنیادی اختلاف ہے۔
امریکا کا سامراجی مزاج سرینڈر کے علاوہ کسی چیز کو نہیں مانتا

امریکا کا سامراجی مزاج سرینڈر کے علاوہ کسی چیز کو نہیں مانتا

پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہم امریکہ سے ہمیشہ تعلقات منقطع رکھیں گے؟ امریکہ کا استکباری مزاج سرینڈر کے سوا کسی اور چیز کو قبول ہی نہیں کرتا۔ امریکہ کے موجودہ صدر نے یہ زبان سے کہہ کر درحقیقت امریکہ کی حقیقت بے نقاب کی ہے۔ ایران جیسی عظیم قوم کے لیے سرینڈر ہونے کا کیا مطلب ہے؟
کیا ایران اور امریکا کے تعلقات ابد تک منقطع رہیں گے؟

کیا ایران اور امریکا کے تعلقات ابد تک منقطع رہیں گے؟

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم امریکا کے سامنے نہیں جھکے لیکن کیا امریکا سے ہمارے تعلقات بھی ابد تک نہیں ہوں گے؟ جواب یہ ہے کہ اول تو امریکا کی سامراجی ماہیت، سرینڈر کے علاوہ کسی بات کو تسلیم نہیں کرتی۔

"امریکا مردہ باد" کے نعرے کو اسلامی جمہوریہ اور امریکا کے اختلاف کی وجہ سمجھنا سادہ لوحی ہے

کوئی اگر یہ سوچتا کہ چونکہ ایک قوم امریکا مردہ باد کا نعرہ لگاتی ہے اس لیے وہ دشمن بھی مثال کے طور پر اس طرح سے دشمنی کر رہا ہے تو یہ سادہ لوحی ہے۔
ایران-امریکا تعاون کی شرطیں کیا ہیں؟

ایران-امریکا تعاون کی شرطیں کیا ہیں؟

اگر امریکا پوری طرح سے صیہونی حکومت کی پشت پناہی ختم کر دے، اس علاقے سے اپنی فوجی اڈوں کو ختم کر دے، اس خطے میں مداخلت بند کر دے تب اس مسئلے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔